۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
14 August 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۲۰ دسمبر ۲۰۲۵

 قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب

19 دسمبر 2025

الحمدللہ، الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ ومن بھدیھم اھتدی۔ أَمَّا بَعْدُ. فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ۔ صدق اللّٰہ العظیم

 حضرات علماء كرام، حضرت الشیخ الحافظ ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کے خلفاء، متوسلین، متعلقین اور اس معہد الفقیر کے ساتھ وابستہ میرے تمام بھائیوں، دوستوں، بزرگوں! حضرت رحمہ اللہ کے وصال کے بعد ماحول اداس لگ رہا ہے اور جس بزرگ کے ساتھ انسان کی پوری زندگی گزرتی ہے اس سے ایک ایسا انس پیدا ہو جاتا ہے کہ جب وہ انس فراق میں تبدیل ہوتا ہے تو اس فراق کا بہت زیادہ احساس ہوتا ہے۔ تو یہ ایک فطری چیز ہے، طبعی چیز ہے اور ہر انسان اس حوالے سے بے بس ہے اور بے اختیار ہے۔

حضرت نے اپنے پوری مبارک زندگی میں جو خدمات سر انجام دی ہے ایمان اور حسن عمل کی جو روشنی پھیلائی ہے، دلوں کی دنیا کو ایمان اور ذکر کے نور سے منور کیا اور یہ روشنی پوری دنیا میں پھیلائی یہ ان کے وہ خدمات جلیلہ ہیں کہ ہمیں اللہ پر ایمان ہے اور ہمارا حسن ظن یہ کہتا ہے کہ اللہ کے حضور ان کے تمام خدمات جلیلہ قبول ہیں اور میزان حسنات کے ثِقَل کا باعث ہے اور ان شاءاللہ آخرت میں عیشة الراضیة کا ذریعہ ہے۔ لیکن ہمیں اس بات پر بھی ایمان ہے کہ دنیا میں کوئی بھی ہمیشہ ہمیشہ رہنے کے لئے نہیں آیا ہے، بڑے سے بڑے لوگ یہاں تک کہ انبیاء کرام جو اللہ کے سب سے زیادہ مقرب بندے ہیں عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِمُ السَّلَامُ، وہ بھی دنیا میں آتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعد وصال کر جاتے تھے، لیکن ایسے لوگوں کی جو زندگی ہوتی ہے اس کا ایک نصب العین ہوتا ہے اور ان کی مقدس زندگی اس نصب العین کے لئے وقف ہوتی ہے زندگی بھر وہ اس نصب العین کے لئے کام کرتے ہیں محنت کرتے ہیں اور جب دنیا سے پردہ کر جاتے ہیں تو پھر وہ ذمہ داری زندہ لوگوں میں آجاتی ہے۔

حضرت نے اپنے زندگی میں اپنا کام اپنے متعلقین کے حوالے کیا ہے اور اب انہوں نے ہی اس کام کو چلانا ہے۔ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرام میں یہی سوال پیدا ہوا کہ اللہ رب العزت نے جو فرمایا “كنتم خیر امت اخرجت للناس” تو یہ تو ہمارے بارے میں فرمایا ہے اور پھر سب نکلے اور پوری دنیا میں پھیلے، چاہے دعوت کے ذریعے سے، چاہے جہاد کے ذریعے سے، چاہے تعلیم و تعلم کے ذریعے سے، انہوں نے پوری دنیا میں انسانیت کو اس روشنی کی طرف بلایا اور ہمارے بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ جہاں جہاں تک صحابہ کرام پہنچیں آج بھی عالمِ اسلام اسی کا نام ہے، بعد کے امت نے اضافہ نہیں کیا، شاید کچھ گھٹا دیا ہو لیکن بہرحال عالمِ اسلام جس کو کہا جاتا ہے یہ وہی حدود ہیں جہاں تک صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین پہنچیں۔

اب یہی چیز ہمارے لئے ایک درس ہے کہ ہمیں اپنے استاذ نے، اپنے بزرگ نے، اپنے شیخ نے جو تعلیم دی ہے ہم بھی ان کے بعد اب اس کام کو آگے پھیلائیں، دنیا میں اس نور کو پھیلائیں کہ آخرت میں یہی کام انے والی چیز ہے۔ دنیاوی رشتے یا تو آپ کو گھر سے خالی ہاتھ بھیجتے ہیں اور اگر کوئی رشتدار متعلقین وہ جنازے پہ آ جاتے ہیں تو قبر میں حوالے کرنے کے بعد واپس آ جاتے ہیں۔ آگے جانے کے لئے کوئی تیار نہیں ہوتا، بیٹا بھی تیار نہیں ہوتا، بھائی بھی تیار نہیں ہوتا لیکن یہی اعمالِ صالحہ ہیں کہ وہ وہاں بھی آپ کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہی قرآن وہاں آپ کا ساتھ دیتا ہے۔ جنابِ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات وہاں آپ کا ساتھ دیتی ہیں، پل صراط تک آپ کا ساتھ دیتی ہیں، میزان تک آپ کا ساتھ دیتی ہیں۔ تو پھر وہ چیز کیوں نہ اپنائی جائے، کیوں اُس چیز کو سینے سے نہ لگایا جائے، کیوں وہ زندگی نہ بنائی جائے کہ جس زندگی پر موت نہیں آتا، وہ زندگی قبر میں بھی ہے وہ زندگی آخرت میں بھی ہے وہ جنت تک لے جاتی ہے۔

ہمارے اکابر نے یہی روشنی ہمیں دی ہے علمِ دین کی روشنی، قرآن کا علم، جنابِ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات، آپ کی سنت، سنت پر عمل کرنا، صحابہ کرام کی ساری محنتیں اور اُن کی پیروی یہی کامیابی کا ایک عمل ہے اور یہ قیامت تک برقرار ہے۔ ہمارے حضرات نے اکابر نے اُس کو زندہ رکھا ہے، اِس منہج کو اگر ہم اپنا لیتے ہیں تو ان شاءاللہ العزیز ہم اپنے اکابر کا حق ادا کرتے ہیں۔

ہمارے اکابر نے ہمیں عقیدہ بھی بتایا ہے اور اُس عقیدے کے لئے کام کرنے کا منہج اور رویہ بھی بتایا ہے۔ تو ایک علم ہے اور ایک حکمت ہے قرآنِ کریم الكتاب والحکمہ دو لفظ استعمال کرتا ہے یہی الكتاب والحکمہ جب رسول اللہ ﷺ کی عنوان میں آ کر اُترتا ہے تو الكتاب والسنة بن جاتا ہے، یعنی حکمت جنابِ رسول اللہ ﷺ کی سنت کا اتباع ہے۔ تو ان بزرگوں نے جو محنتیں کی ہیں ایک امانت ہم کے حوالے کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اِس دین کو امانت سے تعبیر کیا ہے:

إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا

نہ تو آسمانوں نے اِس امانت کو قبول کیا، نہ زمین نے، نہ پہاڑوں نے، کہ اتنا بھاری بھر امانت ہمارے بس کی بات نہیں ہے اور انسان تیار ہو گئے اِس کے لیے، اس کے تحمل کا فیصلہ کر لیا، کیونکہ انسان میں صلاحیت اور استعداد اللہ نے رکھی!

إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا

ظلوم اُسے کہتے ہیں کہ جس میں عدل کی استطاعت ہو، جہاں عدل کی استطاعت نہیں ہے وہ ظلوم بھی نہیں کہلاتا، آسمانوں میں عدل کی استطاعت نہیں، کسی نے کہا ہے جاہل آسمان، پہاڑوں میں نہیں ہے کسی نے کہا ہے جاہل پہاڑ، لیکن انسان کو کہا جاتا ہے تو بڑا جاہل ہے یعنی تیرے اندر علم حاصل کرنی کی استعداد موجود ہے، جہولا انسان کو کہا گیا ہے کہ انسان ہی ہے جس کے اندر علم کا استعداد موجود ہے۔

تو ظاہر ہے جب علم نہیں ہوگا اور عدل نہیں ہوگا تو برتن خالی ہوگا، تو خالی برتن کو برتن کے نام سے پکارا جاتا ہے، پیالا خالی ہے یہ پیالا لیجیے، گلاس خالی ہے گلاس لیجیے، پلیٹ خالی ہے پلیٹ لیجیے، دیگ خالی ہے دیگ لیجیے۔ لیکن جب وہ جس چیز سے بھر جائے پھر وہ ظرف مظروف کے نام سے پکارا جاتا ہے، یہ چائے لیجیے، یہ شربت لیجیے، یہ سالن لیجیے، یہ چاول لیجیے۔

تو انسان جب خالی ہے تو پھر ظلوم ہے، خالی برتن ہے تو پھر جہول ہے، لیکن اس کے اندر استعداد موجود ہے علم حاصل کرنے کی، عدل برپا کرنے کی تو اس کے لئے پھر محنت اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے، یہ کسبی چیزیں ہیں انبیاء کے لئے تو وہبی ہیں لیکن امت کے لئے یہ کسبی چیزیں ہیں۔

تو یہ امانت دیانت چاہتا ہے، حفاظت چاہتا ہے اور اب وہ ذمہ داری آپ کے اور ہمارے اوپر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآں ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کے لئے اللہ ہمیں اخلاص اور للہیت نصیب فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نمائش سے ہمیں محفوظ فرمائے، دنیا کے کمانے کا ذریعہ خدا نہ کرے کہ دین کا کام بن جائے، تو پھر اللہ کے ہاں قبول بھی ہے اور اس کے برکات بھی دنیا کو نظر آ رہی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز

#teamJUIswat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اگلی خبر قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا لیاری... پچھلی خبر مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی چکوال میں مقامی...