۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
12 August 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

مولانا فضل الرحمان کا کشمیر میں جاری دھرنے کے حوالے سے عوامی ایکشن کمیٹی کے نام اہم پیغام

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۱۵ جولائی ۲۰۲۶

امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا کشمیر میں جاری دھرنے کے حوالے سے عوامی ایکشن کمیٹی کے نام اہم پیغام

15 جولائی 2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمده و نصلي على رسولِهِ الكریم۔

ضلع پونچھ کے صدر مقام راولا کوٹ اور گردونواح میں کشمیر کے عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں عوام کا ایک بڑا اجتماع ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہوئے دھرنا دیے ہوئے ہیں اور وہ اپنے مطالبات کے لیے بیٹھے ہیں، حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمارے مطالبات تسلیم کئیں جائیں لیکن تاہم اس دوران کچھ ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے جس نے کہ ماحول میں تلخی پیدا کی اور اس کے بعد یہ موضوع ہمارے پارلیمان میں اس کا تذکرہ ہوا اور اس کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی نے مجھے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے کہا جس کے لئے میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا۔

اس حوالے سے جمعیت علماء اسلام آزاد جموں کشمیر اور اس کے قائد جناب مولانا سعید یوسف خان صاحب میرے ساتھ رابطے میں رہے، راولا کوٹ کے علمی گھرانے کی اور وہاں پر ایک قبائلی شخصیت جناب کامران اعظم خان صاحب وہ میرے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے ہیں اور میں اس پر بھی شکر گزار ہوں کہ حکومت کے ساتھ رابطہ کرنے اور ان کے ساتھ بات چیت کرنے کیلئے انہوں نے متعدد بار اگلے اقدامات کے اعلان سے گریز کیا اور اگلے اقدامات کو انہوں نے ملتوی کرتے رہے۔

اس تسلسل میں آج میری گفتگو جناب بلاول بھٹو ذرداری سے ہوئی ہے وہ مظفر آباد میں ہے اور ان سے میری کوئی ہفتہ دس دن پہلے ملاقات ہوئی تھی، اس کے تسلسل میں آج میرا رابطہ ہوا جس پر انہوں نے اپنی کاوشوں کا تذکرہ کیا حکومت سے بات چیت کا تذکرہ کیا لیکن تاہم چونکہ وہ بھی ابھی کسی نتیجے پر پہنچے نہیں ہیں اور مجھ سے یہی بات کہتے رہے کہ میں مسلسل کوشش میں ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ خون خرابہ نہ ہو، کوئی وہاں پر فسادات نہ ہو اور بات چیت کے ذریعے سے کوئی مسئلہ کا حل ہم نکال سکیں تو انہوں نے کہا میں اس پر مصروف ہوں سو ان کو بھی حکومت سے بات کرنے کے لیے یا مسئلہ کے حل کے لیے کچھ مہلت چاہیے۔

اس موقع پر میں عوامی ایکشن کمیٹی سے ایک بار پھر یہ اپیل کروں گا کہ وہ فی الحال کسی بھی اگلے اقدام سے گریز کریں اور چند روز مہلت دیں تا کہ اگر اس حوالے سے کوئی کوشش ہو رہی ہے تو پیش رفت ہو سکے اور اگر پیش رفت ہوتی ہے اور مثبت پیش رفت ہوتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے بھی بہتر ہے، یہ کشمیر کے لیے بھی بہتر ہے اور کشمیری عوام اور پاکستانی عوام کے درمیان باہمی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے بھی اس کی ازحد ضرورت ہے۔ میں امید رکھوں گا کہ میری اپیل پر وہ مثبت جواب دیں گے۔

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین

ضبط تحریر: #محمدریاض

ممبر ٹیم جےیوآئی سوات و گلف ریجن

#teamJUIswat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اگلی خبر جمعیت کے وکلاء اب میدان میں اتریں، شرافت... پچھلی خبر مولانا فضل الرحمن کی للکار: قوم کی آواز...