۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
14 August 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

مولانا فضل الرحمان کی جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک آمد، مولانا حامد الحق کی شہادت پر تعزیت اور خطاب

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۹ مارچ ۲۰۲۵

نوشہرہ: جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک آمد

 مولانا حامد الحق کی شہادت پر تعزیت اور خطاب

جامعہ حقانیہ کے منتظمین، اساتذہ، طلبہ اور ہم سب تعزیت کے مستحق ہیں، مولانا فضل الرحمان

مولانا سمیع الحق رحمہ اللہ کی شہادت کا غم ابھی تازہ تھا کہ اس جانکاہ سانحہ نے دل جنجھوڑ دیا، مولانا فضل الرحمان

میں عمرے کے سفر پر تھا وہاں پر یہ افسوس ناک خبر ملی ، جو صدمہ مجھے پہنچا اس کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا، مولانا فضل الرحمان

اللہ تعالیٰ مولانا حامدالحق سمیت تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے اور ہم سب کو صبر جمیل عطا فرمائے، مولانا فضل الرحمان

مولانا حامد الحق پر حملہ میرے گھر اور میرے مدرسہ پر حملہ ہے، مولانا فضل الرحمان 

مولانا حامد الحق ایک بے ضرر عالم دین تھے، حقانیہ سے نسبت ان کا جرم تھا، مولانا فضل الرحمان 

جو بندوق اسلام کے خلاف استعمال ہو یہ جہاد نہیں دہشتگردی ہے، مولانا فضل الرحمان 

نبی کریم ﷺ حدیث ہے کہ ایک انسان کا خون بیت اللہ سے زیادہ قابل تعظیم ہے، مولانا فضل الرحمان

بلوچستان میں دو دن قبل تروایح کے دوران مسجد میں ایک عالم دین کو نشانا بنایا گیا، مولانا فضل الرحمان

یہ کالی آندھیاں ہیں ، آکر گذر جائیں گے، یہ مدارس باقی رہیں گے، مولانافضل الرحمان 

اس طرح کی کاروائیاں کرنے والے سفاک اور دہشتگرد ہیں، مولانا فضل الرحمان 

میں اپنے اساتذہ کو شہید کہوں اور قاتل کو مجاہد بھی کہوں؟ یہ نہیں ہوسکتا، مولانا فضل الرحمان

اکابر کا عقیدہ اور اسکا منہج میرے پاس امانت ہے، اس کو نبھاؤں گا، مولانا فضل الرحمان

یہ مدارس ، مساجد اور علماء زندہ و سلامت رہیں گے اور دشمن پیشمان ہوگا، مولانا فضل الرحمان

علامہ راشد محمود سومرو، انجنئیر ضیاء الرحمان، مولانا عطاء الحق درویش و دیگر راہنما ہمراہ تھے۔

میڈیا سیل جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اگلی خبر افتخار چوہدری کی معطلی، وکلاء تحریک اور جمعیت... پچھلی خبر جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت کیوں ضروری؟ محمد...