جامعہ مفتاح العلوم مستونگ بلوچستان کے تقریب ختم بخاری شریف سے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا آن لائن خطاب
16 دسمبر 2025
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ الحمدللہ، الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ ومن بھدھم اھتدی۔
حضراتِ علماءِ کرام، طلبہ عزیز، عمائدین و معززین علاقہ، بزرگانِ محترم، میرے دوستو اور بھائیو! میرے لیے بڑی سعادت کی بات ہے کہ آج جامعہ مفتاحُ العلوم مستونگ کی تکمیل بخاری کی اس تقریب میں میں آپ کے ساتھ ریڈیائی لہروں کے ذریعے شریک ہو رہا ہوں۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جامعہ مفتاحُ العلوم کی جو بھی خدمات ہیں اور جو فضلاء تیار ہو رہے ہیں، جو آگے جا کر دین اور علم کی خدمت کریں گے، یہ سب حضرت مولانا مفتی عبدالستار صاحب رحمہ اللہ کے لیے صدقہ جاریہ ہیں۔ حضرت مفتی صاحبؒ نے ساری زندگی علم کی خدمت اور دین کے نظام کی ترویج کے لیے جدوجہد میں گزار دی۔
میں بہت شکر گزار ہوں کہ جامعہ کی انتظامیہ نے مجھے اس تقریب میں شرکت کی سعادت بخشی۔ اور یہاں پر جو بھی لوگ تشریف لائے ہیں، اور مختلف جماعتوں کی نمائندگی بھی ہے، علاقے کے تمام معززین کی نمائندگی بھی ہے، میں ان سب کی خدمت میں اپنا سلام پیش کرتا ہوں۔
برادران محترم! یہ ہمارے اکابر کی جاری کی ہوئی ایک جدوجہد ہے۔ اس محاذ پر قرآن و سنت، حدیث اور فقہ کے علوم کی حفاظت ہو رہی ہے۔ پوری دنیا میں دینی علوم کے حوالے سے آج برصغیر، اور بالخصوص پاکستان، نمبر ایک پر ہے۔ تمام شعبوں میں ہم دنیا میں بہت پیچھے ہیں، ہر لحاظ سے ہم پیچھے ہیں، یہاں تک کہ حکومت کے زیر انتظام تعلیم نظام بھی دنیا کا مقابلہ نہیں کر پا رہا، لیکن دینی مدارس میں جو علوم ہیں، یہاں سے جو اساتذہ پیدا ہوتے ہیں، یہ جب دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں تو دنیا میں نمبر ایک قرآن و حدیث کے علماء تسلیم کیے جاتے ہیں۔
آج کے ان حالات میں جب ہمارے نوجوان اور ہمارے بچے دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی جاتے ہیں، وہاں بھی امتحان دیتے ہیں اور مسلسل پورے بورڈ میں ٹاپ کر لیتے ہیں۔ اس قسم کا ذہین ٹیلنٹ شاید دنیا میں کہیں موجود ہو، لیکن افسوس کہ ہمارے ملکی نظام کے اندر اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اللہ کرے ان کے دلوں میں اس کی قدر و قیمت پیدا ہو۔
میرے محترم دوستو! یہی وجہ ہے کہ جب ہمارے حکمران قرآن و سنت سے تو ناواقف ہوتے ہی ہیں لیکن پاکستان کے آئین اور قانون کے جو تقاضے ہیں، ان کو بھی پورا نہیں کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے حال ہی میں جو آئینی ترامیم کی گئی ہیں اور جو قانون سازی کی گئی ہے، میں اس وقت اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، لیکن یہ بالکل قرآن و سنت اور حدیث کی نفی کرتی ہیں۔ اس سے ان کی دینی علوم اور قرآنِ کریم کے علوم سے ناواقفیت صاف نظر آتی ہے، ورنہ وہ اس قسم کی حماقت نہ کرتے جس طرح اسمبلی میں ان لوگوں نے حالیہ قانون سازی کی ہے۔
اس سلسلے میں، میں زیادہ تفصیلی گفتگو نہیں کر رہا، اور نہ ہی آپ اس وقت لمبی چوڑی گفتگو کی حالت میں بیٹھے ہوئے ہیں، بلکہ ایک فورم جو مجلس اتحاد امت کے نام سے ہے، اس کے تحت ہم تمام دینی مدارس کے مختلف مکاتب فکر کے نمائندگان اور اسی طرح دینی سیاسی جماعتوں کے مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں کا ایک اجتماع بائیس دسمبر کو کراچی میں کر رہے ہیں، تاکہ اس ساری صورتحال پر غور کیا جائے کہ ہمارا ملک کس رخ پر جا رہا ہے، پاکستان کا آئین کیا کہتا ہے، پاکستان کا قانون کیا کہتا ہے، اور ہمارے حکمران کس رخ پر سفر کر رہے ہیں۔ یہ الٹی گنگا بہا رہے ہیں۔
تو اس حوالے سے اس ساری صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ اسی طرح ہم ملک کی ترقی کے لیے بھی سوچیں گے۔ ہم نے صوبوں کے اندر عوام کے حقوق کی بات کرنی ہے، ہم نے چھوٹے صوبوں کے لوگوں کے حقوق کی بات کرنی ہے، ہم نے افغانستان اور ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کی بات کرنی ہے، اور اگر کوئی مشکلات درمیان میں آ گئی ہیں تو ان مشکلات کو دور کرنا ہے۔ جو ہمارے دوست ہیں، ان کی دوستی کو مزید تقویت دینی ہے، اور جہاں ہمیں کچھ شکایات ہیں، ان کے ازالے کے لیے تعمیری کام کرنا ہے۔
اس کے لیے، ان شاء اللہ، ملک کے اندر بہتری لانے کے لیے اور ملک سے باہر پاکستان کے امیج کو بلند کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس پر غور و فکر کیا جائے گا اور ان شاء اللہ ایک اجتماعی رائے قائم ہوگی۔ اس ملک میں دینی قوتیں قوم کی رہنمائی کریں گی۔
مجھے یقین ہے کہ جب یہ فیصلے سامنے آئیں گے تو آپ بھی اور پورے ملک کے عوام بھی ان کی تائید کریں گے، ان کی پیروی کریں گے اور ان کی حمایت میں میدان عمل میں اتریں گے۔
اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو قبول فرمائے، اس میں شریک تمام لوگوں کو شرکت کا اجر عطا فرمائے، انہیں عزتیں نصیب فرمائے، اور پورے ملک کے عوام کو بہتر اور ترقی کی راہ پر گامزن فرمائے۔ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائے اور پاکستان کے دوستوں میں اضافہ فرمائے۔
میں انہی کلمات پر آپ کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں اور رخصت کی اجازت چاہتا ہوں۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

