۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
14 August 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

مولانا مولانا فضل الرحمن صاحب کا جامعہ قاسم العلوم ملتان میں فضلاء کنونشن سے خطاب

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۲۷ دسمبر ۲۰۲۵

قائد جمعیۃ مولانا مولانا فضل الرحمن صاحب کا جامعہ قاسم العلوم ملتان میں فضلاء کنونشن سے خطاب

27 دسمبر 2025

الحمد للہ رب العالمين والصلاة والسلام على اشرف الانبیاء والمرسلین وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدین۔ اما بعد

حضرات علماء کرام، مشائخ عظام، انتہائی قابل قدر فضلائے کرام، بزرگان دین، میرے دوستو اور بھائیو! جامعہ قاسم العلوم ملتان کا یہ اجتماع اپنے فضلاء کی دستار بندی کے لیے منعقد ہوا ہے۔ ظاہر ہے جس نے دین کا علم حاصل کیا وہ خود بھی اور ان کے والدین بھی، اس کا خاندان بھی زندگی کے کسی خوشی کو اس خوشی کے برابر نہیں سمجھتی۔ میں ذاتی طور پر آپ کے ساتھ اس خوشی میں اس طرح شریک ہوں کہ میرا بھتیجا بھی قاسم العلوم سے اس سال فارغ ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ان کے اور آپ سب کے علم و عمل میں برکتیں نصیب فرمائے۔

حضرت شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی گفتگو آپ نے سنی، ان کی باتیں اہل علم کے لیے ایک درس تھا، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے؛ إنما بُعثتُ مُعلِّمًا، میں ایک استاد بنا کر بھیجا گیا ہوں اور پھر آپ ہی نے فرمایا صلی اللہ علیہ وسلم؛ بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الأَخْلَاقِ، میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ تو ایک حیثیت میں آپ معلم تھے اور دوسری حیثیت میں آپ مربی تھے اور دین اسلام علم و عمل کا نام ہے، علم ہو اور عمل نہ ہو تو اس علم کی مثال ایک کھوٹے سکے کی ہے، جیب میں وہ بوجھ ہے، لیکن بازار میں کسی سودا سلف کے قابل نہیں، کوئی قیمت اس کی مارکیٹ میں نہیں ہوتی۔

تو ہمارے حضرات نے اور ہمارے اکابر نے جو مدارس قائم کیے اس میں علم دین کا انتظام بھی تھا اور وہ اس علم کے عملی نمونہ بھی تھے۔ میں نے اپنے بزرگوں سے سنا جس خانقاہ سے ہمارا تعلق ہے، جب دارالعلوم دیوبند کا نام آیا تو ہمارے خانقاہ اس سے ناواقف تھی۔ اس خانقاہ میں درس کا ایک نظام ہوتا تھا، بڑے بڑے جید علماء کرام وہاں پڑھاتے تھے، تو ایک دو علماء کو جو وہاں استاد تھے ان کو بھیجا دارالعلوم دیوبند، کہ ایسا ایک مدرسے کا نام ہم نے سنا ہے ذرا معلوم کر لو یہ کیا مدرسہ ہے، وہاں کیا پڑھایا جاتا ہے، ان کے خیالات و افکار کیا ہیں، کس قسم کے لوگ ہیں۔ تو وہ علماء وہاں گئے اور دو تین مہینے وہاں رہے اور ان کے دروس میں جا کر بیٹھے، ان کو سنا ان کو دیکھا، ان کے شب روز کو دیکھا، اس کا مشاہدہ کیا اور جب واپس تشریف لائے تو رپورٹ دی کہ علم دین کے حوالے سے پورے کرہ ارض پر ان سے بڑے علماء موجود نہیں ہیں، یہ ایک بات کی، اور دوسری بات یہ کہ کہ پورے کرہ ارض پر ان سے زیادہ متبع سنت کسی کو نہیں دیکھا۔

آج ہم جس علمی درسگاہ میں بیٹھے ہیں سن 1946 میں کچہری روڈ کے قاسم العلوم کا افتتاح باقاعدہ طور پر حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نے کیا تھا اور 1950 میں حضرت والد صاحب رحمہ اللہ قاسم العلوم میں آئے اور ساری زندگی پھر یہاں پر گزاری پڑھاتے پڑھاتے، سیاسی مصروفیات نے یقیناً ان کے اس تعلیمی سلسلے کو متاثر کیا، لیکن جب بھی وقت ملا کتاب اٹھا کے درسگاہ پہنچ جاتے تھے۔

تو بنیادی چیز تعلیم ہے اور تربیت ہے، ہمارے مدارس نے جس طرح کی تعلیم دی اس طرح کا لباس بھی دیا، سنت کے مطابق لباس، سنت کے مطابق زندگی، تاکہ جو علم اس کے سینے میں ہے ظاہر میں بھی وہی نظر آئے۔ اب لوگوں نے پتہ نہیں کیا کیا نام دے دیے، اس مولوی صاحب کی قسمت میں بس ہر طرف سے آوازیں ہیں، ان پر کسے جا رہے ہیں، لیکن دنیا بھی یہ جان گئی ہے کہ ہم بھی بڑے ڈھیٹ ہیں۔

میرے محترم دوستو! ان مدرسوں میں جو تعلیم دی جاتی ہے یہ تعلیم انسان کی زندگی پہ اثر انداز ہوتی ہے، انسان اپنی ذات میں تو بَهِيمَة ہے ایک حیوان ہے، لیکن اگر اسے انسانیت کا شرف عطاء کرتا ہے اور انسانیت کے عظیم مقام پر اس کو فائز کرتا ہے تو یہ علوم ہے، جو یہاں پڑھائے جاتے ہیں اور کامل اور مکمل زندگی وہ ہے جو اعتدال کی زندگی ہو، اگر اعتدال نہیں ہے تو کمال نہیں ہے، اگر اعتدال نہیں ہے تو یا افراط ہے اور یا تفریط ہے۔ اور افراط اور تفریط دونوں نقص ہیں، وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا، ہم نے تمہیں ایک میانہ رو امت بنایا، یہ میانہ روی کہاں سے آئی؟ اس قرآن نے عطاء کی۔ اب ہمیں کہا جاتا ہے کہ تم انتہا پسند ہو، تمہارے اندر شدت ہے، تم معاشرے سے کٹے ہوئے لوگ ہو، مدرسوں سے شدت پسندی اٹھتی ہے۔

میرے محترم دوستو! ہمارے نزدیک اس اعتدال پسندی کا ایک معیار ہے، ایک کسوٹی ہے کہ جس پہ ہم اپنے طرز زندگی کو پرکھتے ہیں اور وہ ہے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی زندگی، اب جو انسان جتنا جتنا صحابہ کرام کی زندگی کے قریب ہوگا اتنا اتنا وہ وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا کی تعبیر بنے گا، اور جتنا جتنا صحابہ کرام کی زندگی سے وہ دور ہوگا، اتنا اتنا وہ اعتدال سے دور اور افراط و تفریط کا شکار ہوگا۔ یہ علم جب نہ تھا، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث نہیں ہوئے تھے، اس شریعت کی رہنمائی حاصل نہ تھی، تو اس زمانے کو ہم زمانہ جاہلیت سے تعبیر کرتے ہیں۔ حالانکہ دنیوی فنون تو اس وقت بھی تھے، دنیا کمانے کے طریقے تو ان لوگوں کو بھی آتے تھے، لیکن اس کے باوجود ہم اس سے پہلے کے دور کو دور جاہلیت کہتے ہیں سو پھر اج بھی جن لوگوں نے قران و حدیث پڑھا، فقہ کے علوم حاصل کیے، اس کے مطابق اپنی زندگی بنائی، تو آج بھی اگر معاشرے کا معتدل طبقہ ہے تو انہی کو کہا جائے گا، لیکن یہ ضروری ہے کہ تربیت ہونی چاہیے۔ علم تو حاصل ہو گیا لیکن تربیت نہیں ہے اور پھر ہم نے اپنے اعمال کو بھی دیکھنا ہے، ہمارا عمل اس علم کے مطابق ہے یا نہیں اور اگر مطابق ہے بھی تو اس میں اخلاص کتنا ہے؟ ہم اس میں کس قدر اللہ کی طرف متوجہ ہیں؟

میرے محترم دوستو! اللہ رب العزت فرماتے ہیں؛ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا، جو اللہ سے ملاقات اور اس کا سامنا کرنے کی خواہش رکھتا ہے، اس سے محبت کی خواہش رکھتا ہے، فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا، عام طور پر تو اللہ رب العزت کی عادت یہ ہے کہ پہلے توحید کی بات کرتا ہے، شرک سے روکتا ہے، ایک اللہ کی اطاعت کی بات کرتا ہے، پھر اس کے بعد عمل صالح کی بات کرتا ہے۔ لیکن یہاں پر تو اللہ تعالیٰ نے عمل صالح کا ذکر پہلے کیا اور شرک کی نفی بعد میں کی، اس شرک سے کیا مراد ہے، یعنی جو عمل آپ دنیا میں کر رہے ہیں اگر اس میں نمائش آگئی، دکھلاوا آگیا، دوسروں کو دکھانا اور سنانا یہ داخل ہو گیا اپ کے اعمال میں، تو یہ بھی ایک درجہ شرک ہے اور یہاں پر جو فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا اس لَا يُشْرِكْ سے مراد یہ کہ نمائش بھی مت کرو کہ اللہ کے ساتھ یہ بھی ایک شریک کرنے کی کوشش ہے۔

تو میرے محترم دوستو! آج ایک بار پھر ان مدارس کے بقا کا سوال پیدا ہوگیا ہے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ ہو یا ہماری داخلی، مدرسے کے خلاف ان کی سوچ میں ان کی پالیسیوں میں تسلسل ہے، حکمران گزرتے ہیں، ان کے درمیان اقتدار کی جنگ تو ہوتی ہے لیکن پالیسیوں کا تسلسل اگر برقرار ہے تو ہمیں تمہارے اقتدار کی جنگ میں کیا دلچسپی ہے، قانون سازیاں غلط کرتے ہو، اب ایک قانون سازی پچھلے سال ہوئی تھی اکتوبر میں، ایک مہینہ ایک ہفتہ مذاکرات رہے اور ان مذاکرات میں اس ترمیم پر اتفاق ہوا، ہم نے کیا کامیابیاں حاصل کی اس میں، اس میں اکتیس دسمبر دو ہزار ستائیس تک سودی نظام ختم کر دیا جائے گا، وفاقی شرعی عدالت کو طاقتور بنایا گیا کہ کس طرح اس کا فیصلہ اب موثر ہوگا اور اگر اس کے فیصلے کے خلاف اپیل ہو گئی، ایک سال کے اندر اندر فیصلہ دینا ہوگا ورنہ وہ فیصلہ خود بخود موثر ہو جائے گا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کو تقویت دی گئی، سن 73 سے لے کر آج تک ایک سفارش بھی بحث کے لیے ایوان میں پیش نہیں ہوئی، سو اب لازم قرار دیا گیا کہ کونسل کی سفارشات باقاعدہ بحث کے لیے پیش کی جائیں گی۔ ایک سال ہو گیا اب تک ایک سفارش بھی بحث کے لیے پیش نہیں کی گئی۔ دینی مدارس کے لیے رجسٹریشن کے لیے 1860 کے سوسائٹی ایکٹ کے تحت اس کی رجسٹریشن کا قانون بنایا گیا، آج کل آپ کبھی کبھی میڈیا پہ دیکھتے ہوں گے اتنے مدارس ہیں جو رجسٹرڈ نہیں ہیں، یعنی تاثر دیتے ہیں کہ مدرسے خلاف قانون چل رہے ہیں، رجسٹریشن نہیں کرا رہے، او نیک بختو تم رجسٹریشن میں خود رکاوٹ ہو، ہماری درخواستوں سے تمہارے دفتر بھرے ہوئے ہیں اور وہ رجسٹریشن آپ سے مانگ رہے ہیں، اور آپ ہیں کہ رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ پھر رجسٹریشن بھی آپ نہیں کراتے پھر پروپگینڈے بھی آپ ہمارے خلاف کرتے ہیں کہ اتنے مدرسے رجسٹرڈ نہیں۔ اور ہمیں بھی پتہ ہے تمہاری کمزوری کیا ہے، امریکہ اور مغربی دنیا مدرسے کے خلاف ہے اور اس کا دباؤ ہے تمہارے اوپر کہ ان مدرسے کو ختم کرو، یہ شدت پسندی کا سبب بنتے ہیں، یہ انتہا پسندی کا سبب بنتے ہیں، شدت پسندی ہو انتہا پسندی ہو اس کا سبب مدرسہ نہیں ہے اس کا سبب تمہارا رویہ ہے۔ تمہارے رویوں سے شدت پیدا ہوتی ہے۔ تمہارے رویوں سے ناراضگیاں پیدا ہو رہی ہیں اور مذہبی طبقے کو اشتعال دلانا، اس کو اپنے مقابلے میں لانا، ریاست کے مقابلے میں لاکے کھڑا کر دینا یہ تمہاری خواہش ہے، یہ امریکہ اور یورپ کی خواہش ہے اور الحمدللہ جمعیت علماء اسلام نے بھی اور وفاق المدارس العربیہ نے بھی اور تمام اتحاد مدارس دینیہ نے بھی آپ کی اس خواہش کو ناکام بنایا ہے۔

قرآن ہم پڑھاتے ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ قرآن کا تقاضا کیا ہے، اس کا تقاضا اعتدال کی زندگی ہے، اس کا تقاضا اشتعال نہیں ہے، اس کا تقاضا خون ریزی نہیں ہے۔ تو جیسے کہ مولانا تقی عثمانی صاحب نے فرمایا کہ اس عمل سے ہمیں نفرت ہے اگر کوئی کرتا ہے مدارس اس کی ذمہ دار نہیں ہے، علماء نہیں ہے، ہم متفق ہیں اس بات پر کہ ریاست کے خلاف ہتھیار نہ اٹھایا جائے۔ لیکن ریاست بھی تو بندے دا پتر بنے نا، بندے دا پتر تو مونث نہیں ہے۔ ریاست تو مونث ہوتی ہے۔

تم اپنے رویے میں تبدیلی لاؤ، خیر خیریت ہے، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم نے ہر بات کے لیے مذاکرات کی بات کی ہے، او بات کرتے ہیں یا ہماری بات سمجھو اگر دلیل قوی ہے مانو اس کو یا پھر اپنی بات کہو ایسے کہ جو ماننے کے قابل ہو۔

میں یوں ہی دست و گریباں نہیں زمانے سے

میں جس جگہ پہ کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں

ہم بلا وجہ نہیں کہہ رہے ریاست ہماری محافظ ہے پھر میں اس سے خطرہ کیوں محسوس کرتا ہوں۔ اس کا خنجر ہے میری گردن پر جس محافظ نے میرے دشمن سے ڈھال بن کر مجھے بچانا تھا۔ ہم ریاست سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اعتدال کی طرف ائے، مدرسوں کے خلاف انتہا پسند تم ہو، مدرسہ آپ کے خلاف انتہا پسند نہیں ہے۔ مدرسوں کے خلاف تمہارے رویے غلط ہیں، تم اپنے رویوں کو ٹھیک کرو، ہماری طرف سے کوئی مشکل نہیں ہے۔

تو میرے محترم دوستو! اب جو قانون سازی ہوئی ہے 27 ویں ترمیم میں، تو بغیر مشاورت کی ہوئی۔ ایک سال پہلے ان کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں تھی ائین میں ترمیم کرنے کے لیے، اب کہ ان کے پاس دو تہائی اکثریت بھی بن گئی، ایک سال میں دو تہائی اکثریت کہاں سے بنائی تم نے؟ ممبر تو تمہارے پاس نہیں تھے، تم تو جمیعت کے ووٹوں کے محتاج تھے، آج تم نے لوگوں کے اور ممبران اسمبلی کے اور پارلیمنٹ کے لوگوں کے ہاتھ مروڑ دیے گردن مروڑ کر ان کو مجبور کیا کہ ادھر ووٹ ڈالو، یہ جبر کی اکثریت ہے، یہ جبر کی دو تہائی ہے، جبر کی دو تہائی کو ہم جمہوریت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، جبر کی بنیاد پر آئینی ترمیم کو قبول کرنے کا تیار نہیں ہے، جبر کی بنیاد پر قانون سازی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

سو اب انہوں نے جو قانون سازی کی ہے اٹھارہ سال سے کم عمر نکاح نہیں کر سکتا اور اگر نکاح کرے گا تو اس کو جنسی زیادتی قرار دیا جائے گا اور یہاں تک کہ اس کو زنا بالجبر کہا جائے گا اور کسی زمانے میں انہوں نے قانون پاس کیا تھا آئین میں ترمیم کر کے حقوق نسواں کے نام سے جس میں انہوں نے زنا کے لیے راستے کھولے تھے۔ اب اس اسلامی جمہوریہ اور اس حکمرانوں پر ہم کیا کہیں، افسوس ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کا حکمران وہ زنا کے لیے تو آسانیاں پیدا کرتا ہے لیکن حق حلال نکاح کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے اور پھر کہتا ہے اگر یہ جرم کر بھی دیا اٹھارہ سال سے پہلے نکاح ہو گیا، اب وہ نکاح جنسی زیادتی بھی کہلائے گی، زنا بالجبر بھی کہلائے گا لیکن اگر اس سے اولاد ہو گئی تو اولاد جائز کہلائے گی اور کفالت والد کے سر پہ ہوگی اور وہ جیل میں بھی ہوگا، نکاح خواں بھی جیل میں ہوگا، جنہوں نے یہ رشتہ بنانے میں کوئی کردار ادا کیا ہوگا وہ بھی جیل میں ہوگا۔ ایک اسلامی ریاست میں اس طرح کی قانون سازی! وقف املاک کے حوالے سے ایک تجویز ہے ان کی ایک قانون لانے کی، تو جب میں نے وزیراعظم سے کہا کہ صاحب یہ قانون بالکل خلاف شریعت ہے، اچھا؛ یہ خلاف شریعت ہے؟ میں نے کہا خلاف شریعت نہیں یہ بین الاقوامی ایجنڈا ہے جس کے تحت آپ کر رہے ہیں، کہنے لگا نہیں نہیں ایسی بات تو نہیں ہے اور میں نے کہا پرسوں انڈیا کے پارلیمنٹ میں یہ قانون پیش ہوا ہے تمہارے قانون اور اس قانون میں کچھ فرق نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہاں پر آل انڈیا لکھا ہوا ہے یہاں پر پاکستان لکھا ہوا ہے۔ پوری عبارت اس قانون کی اور آپ کے قانون کی ایک جیسی ہے۔ تو وہاں پر بھی جو علماء ہیں وہ ایک تنقید کر رہے ہیں کہ وقف املاک کے بارے میں آپ یہ قانون پاس نہیں کر سکتے۔ تو وہاں کی حکومت اگر زبردستی جبر کرتی ہے وہ تو سیکولر سٹیٹ ہے ہم جو اسلامی قانون کے پابند ہیں وہ کیا جرم کر رہے ہیں، کیوں ایسا کر رہے ہیں۔

انہوں نے اسمبلی میں اقلیتوں کے لیے ایک کمیشن بنانے کا قانون لائے، وہ بڑا لمبا چوڑا قانون ہے۔ اور یہ اسمبلی میں نہیں تھا یہ پارلیمنٹ میں تھا یعنی مشترکہ اجلاس میں تھا۔ اب ہمیں پتہ نہیں ایجنڈا کیا ہے رات تک ایجنڈے کا پتہ نہیں تھا۔ صبح پھر میں نے پتہ کیا کہ بھئی کوئی ایجنڈا ہے اس کا، کیا ہے اس کے اندر؟ انہوں نے کہا بڑے خطرناک قانون ہے اس کے اندر، کہ اس کمیشن کے جو قوانین ہیں اس میں شق نمبر 35 ہے اور شق نمبر 35 میں کہا گیا ہے کہ اس کو تمام قوانین پر بالادستی ہوگی۔ تو میں بھی بروقت پہنچ گیا، ہمارے ساتھی بھی پہنچ گئے، تھے تو ہم تھوڑے سے لیکن اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتی ہی ہم نے سوال اٹھا لیا کہ اگر یہ قانون بالادست ہو تو باقی تو ہوگا سو ہوگا، یہ جو قادیانیوں کے خلاف قانون سازی ہوئی ہے وہ تو اس کا فائدہ اٹھائیں گے اور کہیں گے کہ آپ کی سٹیٹ ہمیں کافر کہتی ہے اور کافروں کے لیے جو کمیشن بنایا گیا ہے اس کمیشن کے قوانین سب پر جو ہے بالادست ہیں لہٰذا اس قوانین کو غیر موثر کر دیا جائے جو قادیانیوں کی خلاف بنے ہیں۔ اس کا فائدہ اٹھائیں گے، جب ہم نے یہ سوال اٹھا لیا اور وہ لاجواب تھے تو ہماری بڑی اپوزیشن تو پی ٹی آئی ہے تو وہ سب کھڑے ہو گئے اور نعرے لگانے شروع کر دیے حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے۔ میں نے کہا اب آئی اللہ کی مدد، اور ان کو واپس لینا پڑا۔

حضرت یہاں تک اس کمیشن کو اختیار دیا گیا تھا کہ یہ کسی بھی مسئلے کا از خود نوٹس لے سکے گا، از خود نوٹس، سو موٹو کر سکے گا۔ او اللہ کے بندو ابھی تو آپ نے پرسوں ترسوں سے 27 ویں ترمیم پاس کی ہے اور تم نے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کا اختیار سلب کر دیا ہے تو پرسوں تم نے سپریم کورٹ کے اختیار کو ختم کیا ہے اور آج ایک کمیشن کو آپ یہ اختیار دے رہے ہیں کوئی عقل بھی تمہاری اپنی جگہ پر تھی۔ بس انہوں نے کہا جی ہم واپس کرتے ہیں۔ تو 35 ایکٹ بھی ختم ہو گیا اور یہ جو سوموٹو والا تھا یہ بھی ختم ہوگیا۔

تو یہ ساری صورتحال حضرت اس وقت جس محاذ پہ ہم لڑ رہے ہیں، تو بس آپ حضرات کے سامنے رکھتا ہوں یہ سارے صورتحال، کہ اس وقت جمعیت علماء اسلام کے پشت کو مظبوط بنانے کا وقت ہے، سیاسی طور پر طاقتور بنو نا، یہ مدرسہ یہ شریعت بھی بتاتا ہے، یہ مدرسہ آپ کو طریقت بھی بتاتا ہے اور یہ مدرسہ، اس کا نصاب آپ کو سیاست بھی بتاتا ہے۔ یہ تینوں چیزیں بروقت نہ ہوں تو پھر انسان نامکمل رہ جاتا ہے۔ اب سیاست کا شعبہ ہم نے دین سے نکال دیا ہے، جیسے یہ دین کا حصہ ہی نہ ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کیا کرتے تھے، ایک نبی جاتا تھا دوسرا سیاسی نظام سنبھالتا تھا اور میں آخری نبی ہوں سیاسی نظام میرے ہاتھ میں ہے، میرے خلفاء آئیں گے نبی نہیں آئے گا۔

اب اس اعتبار سے جو ہم آپس میں مولوی صاحبان بھی یہ ختم نبوت کا مسئلہ بالکل غیر سیاسی مسئلہ ہے، سیاست سے بالاتر ہے، آؤ ختم نبوت کے مسئلے پہ اکٹھے ہو جائیں، بھئی آپ ضرور یہ بات کریں ہمیں آپ کی اس بات سے اختلاف نہیں ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لا نبی بعدی سیاست کے ذیل میں فرمایا اور پھر انبیاء کا عمل بتلایا اور آپ حضرات ہیں جو روزانہ پڑھاتے ہیں العلماء ورثۃ الانبیاء، علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ تو جو انبیاء کے ہم وارث ہیں اور ان کی ذمہ داری سیاسی تھی، ملک کا تدبیر و انتظام تھا، لوگوں کے حقوق کا تحفظ تھا، امن کا قیام تھا، معاشی خوشحالی تھی، تو پھر ہم نے اس کو اپنی زندگی سے کیوں باہر کر دیا۔ اس محاذ پر ہم انبیاء کے وارث کیوں نہیں بن رہے۔ پھر ہمارے ہی اکابر ہمیں پڑھاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دین کو کامل اور مکمل دین بنایا، اب یہ اکمال دین بہ اعتبار تعلیمات و احکامات کے ہیں اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اب اتمام نعمت اس کا خارج میں مصداق کیا ہوگا، اس کا خارج میں مصداق اس کامل مکمل دین کا اقتدار اور اس کی حکومت ہے۔ یہ اس کا کامل نقشہ ہے۔

ہمارے اکابر نے اس پر بالکل صراحت کے ساتھ آپ کو پڑھایا بتایا لیکن اب ہم ہیں کہ ہم نے نصاب سے یہ چیزیں نکال دی ہمیں کوئی نہ پڑھا رہا ہے نہ سکھا رہا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص لائی گئی اور یعقوب علیہ السلام کے چہرے پہ ڈالی گئی اور بینائی واپس آگئی تو پہلا سوال کیا کہ یوسف کو کہاں چھوڑا ہے؟ اس نے کہا ملک مصر، مصر کا بادشاہ بن گیا، پھر پوچھا آپ نے کس دین پر ان کو چھوڑا؟ تو بتایا کہ میں نے دین اسلام کو نافذ کرتے ہوئے ان کو دیکھا ہے اور اس حالت میں اس کو چھوڑ کے آیا ہوں، تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا؛ اب نعمت تمام ہوگئی۔ تو اتمام نعمت یہ اللہ کے دین کی حاکمیت کا نام ہے، اور یہ کامل فرد ہوگا اس کا، تو جب آپ اقتدار کی بات کریں گے تو آپ کے سامنے فوراً یہ سوال آئے گا کہ بھئی اسلام کس کو قبول ہے؟ حکمران بڑے جابر ہیں، ہم اقتدار کی بات کریں گے تو ان کو بری لگے گی، وہ چیلنج سمجھیں گے، ہم طاقت نہیں رکھتے وہ جابر ہیں، وہ ہمیں ماریں گے، تکلیف دیں گے، تو ایسی ہی مرحلے کے لیے اللہ نے فرمایا؛ وتواصو بالحق، کہ حق کا پرچار کیا کرو، پیچھے نہیں ہٹنا، اب حق سے کیا مراد ہے؛ یہ مولوی صاحب مجھ سے تگڑا ہے ابھی مجھے ڈانٹ دے گا تو کہے گا میں نے حق بولا، وہ کمزور کے سامنے حق بولنا یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، تو حق کو اپ پہچانے تُعْرَفُ الأَشْيَاءُ بِأَضْدَادِهَا، اس کی ضد کو پہلے سمجھو، ضد ہے باطل، اب باطل کا فرد کامل کیا ہے وہ ہے باطل کے اقتدار اور حکومت، تو یہاں پر بھی وتواصو بالحق کا معنی یہی ہوگا کہ باطل حکمران کے مقابلے میں کلمہ حق کا پرچار کرو اور اس کی دلیل ہے وتواصو بالصبر، یعنی یہ وہ حق ہے کہ اگر آپ حکمران کے مقابلے میں بولیں گے تو آزمائشیں آئیں گی، تو تکلیفیں آئیں گی، تو انبیاء کرام پر یہ تکلیفیں آئیں اور سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء پہ آئیں، اس کے بعد جو ان کی زندگی میں قریب رہا ہے، تو علماء کرام ہی تو کہتے ہیں العلماء ورثتہ الانبیاء، پھر ظاہر ہے کہ حق بولو گے حکمران کے مقابلے میں بولو گے تو آزمائشیں آئیں گی، تکلیفیں آئیں گی، اور اسی لیے اللہ نے فرما دیا ل؛ وتواصو بالصبر، کہ ساتھ ساتھ صبر و استقامت بھی پرچار کرو اس کا، یہ بھی لوگوں سے کہو کہ آزمائشیں آئیں گی، ڈٹ جاؤ ل، کھڑے رہو، سو اللہ سے ازمائش مانگو نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں؛ اللہ سے عافیت کا سوال کیا کرو اور دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو، لیکن اگر مقدر ہے امنا سامنا ہو گیا اب ڈٹ جاؤ۔

سو اس اعتبار سے آج یہ فضلاء کرام مدارس سے فارغ ہونے کے بعد ان کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے، کیا صحابہ کرام گھروں میں بیٹھے رہے،

كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ،

اس کے لیے تو میدان میں پھر نکلنا ہوگا اور آج ہم جس کو عالم اسلام کہتے ہیں اس کے حدود وہی ہیں جہاں تک صحابہ کرام پہنچے تھے۔ ہم نے کمی تو کی ہوگی لیکن اضافہ نہیں کیا۔ اس پہلو پہ غور کرنا ہے تو اس کے لیے مدارس کی بھی ضرورت ہے تعلیم اور تعلم کی بھی ضرورت ہے، تربیت کی بھی ضرورت ہے، اور اس دین کو پورے کامل اور مکمل طریقے سے سمجھنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی پہلو ہو، چاہے شریعت کا پہلو ہو علوم کے اعتبار سے چاہے، طریقت کا پہلو ہو تربیت کے اعتبار سے، چاہے سیاست کا پہلو ہو دین اسلام کے اقتدار اور حکومت کے اعتبار سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر عملی میدان میں کام کرنا ہے، گھروں میں بیٹھے رہو گے تو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔

تو اللہ تعالی ان تمام فضلاء کرام کو ان کے علوم میں اللہ برکت نصیب فرمائے۔ ہمارے استاد حضرت شیخ مولانا عبدالحق رحمہ اللہ جب ہم فارغ ہو رہے تھے تو نصائح کر رہے تھے تو فرماتے تھے کہ ان تم نے پگڑی باندھ دی اور یہ خیال کر لیا کہ اب میں عالم بن گیا ہوں، سو تم عالم نہیں بنے، اب تمہارے اندر عالم بننے کا استعداد پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے بعد اگر آپ عالم بننا چاہیں تو اب اپ بن سکتے ہیں۔

تو دین کو سمجھنا اور وحی کو سمجھنا اور پھر دوسرے کو سمجھانا اور اس طریقے سے اس کی حفاظت کرنا اور اس کو مقام اقتدار تک پہنچانا، اس کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے، گھر بیٹھے بیٹھے یہ چیزیں حاصل نہیں ہوتی، ہمارے اکابر کی ہڈیاں پگھل گئی اس کام کو کرتے کرتے، تمام راحتیں انہوں نے چھوڑ دی اس کام کو کرتے کرتے اور ہم راحتوں کے اندر بھی یہ کام نہیں کر سکتے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دو گے، اللہ کے بندوں حضرت شیخ الہند کو جواب نہیں دے سکو گے۔

تو اللہ تعالی ہم سب کی حفاظت فرمائے، جامعہ قاسم العلوم کی حفاظت فرمائے اور اس کو علم و دانش کا گہوارہ بنائیں، کل خیر المدارس کا اجتماع ہوگا وہاں پر بھی فضلاء سے بات چیت ہوگی۔ اللہ کرے کہ شائد تیرے دل میں اتر جائے میری بات

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اگلی خبر مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا ملتان جامعہ خیر... پچھلی خبر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی سالانہ اصلاحی روحانی...