قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا اسلام آباد میں رحمت کائنات فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام تقریب سے ولولہ انگیز خطاب
13 اگست 2026
جناب صدر محترم اسعد مکی صاحب، ہمارے مہمان مکرم جنوبی افریقہ سے تشریف لائے ہوئے ہمارے بزرگ مخدوم حضرت مولانا جمشید صاحب، سٹیج پر بیٹھے ہوئے اور پنڈال میں موجود اکابرین، میرے جوانو، میرے بھائیو! سب سے پہلے تو ہم شکر گزار ہیں رحمت کائنات فاؤنڈیشن کے اور اس فاؤنڈیشن کے سرخیل مولانا اسعد مکی صاحب کے جنہوں نے پورے ملک میں جناب رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کو فروغ دینے کے لئے اس طرح کے اجتماعات کا اہتمام کیا اور غالباً مزید شہروں میں بھی اسی نوعیت کے اجتماعات ہوں گے۔
یقیناً ضرورت اس امر کی ہے کہ امت کو اور امت کی نئی نسل کو جناب رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے آگاہی دی جاسکے۔ آپ لوگ بھی دیکھ رہے ہیں، ساری دنیا اس کا مشاہدہ کر رہی ہیں کہ نئی نسل دین سے دور ہو رہی ہے، وہ خود کو دین کی رہنمائی کے محتاج نہیں سمجھ رہے۔ اخلاق حسنہ وہ ناپید ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہمارے مدارس کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ دین کی تعلیم بھی دیں اور دینی تربیت بھی دیں، جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا، میں استاد بنا کر بھیجا گیا اور دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں بُعِثْتُ لِاُتَمِّم مَمَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ، میں بہترین اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ قیامت کے روز جو وزن اعمال ہوگا تو اسی کا ترازو بھاری ہوگا جس کے اخلاق اچھے ہوں گے۔ اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے اور اس پسندیدہ دین سے اللہ نے ہمیں نوازہ ہے اس سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے، جیسے کہ مولانا نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ہے، حسن سیرت بھی کمال کا اور حسن صورت بھی کمال کا، چنانچہ صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے جو رسول اللہ ﷺ کے شمائل بیان کیے ہیں اور آپ کی ذاتی حسن کا تذکرہ کیا ہے تو سب اس بات پر متفق ہیں کہ جو کچھ ہم نے آپ کی تصویر دنیا کو دی ہے وہ ہمارے ادراک کی قوت تک ہے، آپ کا ظاہری حسن، اس کا حقیقی ادراک کرنا یہ قوت بشری سے باہر ہے۔
یا صاحبَ الجمالِ، وَیا سَیِّدَ البَشَرِ
مِن وَّجْهِکَ المُنِیْرِ لَقَدْ نُوِّرَ القَمَرُ
لَا یُمْکِنُ الثَّنَاءُ کَمَا کَانَ حَقُّهُ
بَعْدَ خُدَا بُزُرْگْ تُوَئِی قِصَّہ مُخْتَصَرُ
ہمارے اکابر نے جن مدارس کا اہتمام کیا، ان مدارس میں جہاں دین کی تعلیم دی جانے لگی وہاں اس علم کے مطابق عملی زندگی گزارنے کی بھی تعلیم دی گئی اور اس میں اخلاقیات کا پہلو بھی ہے، اس میں عبادات کا پہلو بھی ہے، اس میں معاشرت کا پہلو بھی ہے، اس میں معیشت کا پہلو بھی ہے اور اس میں سیاست کا پہلو بھی ہے۔ ہر لحاظ سے امت کی تربیت کرنا، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ دینی مدارس کے حوالے سے انگریز کے زمانے میں بھی اور آج کے دور میں بھی عالمی سطح پر بھی اور ملک کے اندر بھی مدارس کے علماء اور طلباء کے اس طبقے کو کبھی دقیانوسی کہتے ہیں، کبھی اس کو پسماندہ طبقہ کہتے ہیں اور جتنا جتنا دین سے دور ہو، دین کی پیروی سے جتنا جتنا بے پرواہ ہو، انہیں کہتے ہیں یہ روشن خیال، جدید تہذیب کے حامل لوگ، اب آپ مجھے بتائیں کہ ہمارے عملی زندگی اور ہمارے عملی رویوں کے بارے میں قرآن کریم نے کیا معیار قائم کیا ہے؟ ظاہر ہے ہماری نظر میں وہی معیار معتبر ہے؛
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطَا
ہم نے تمہیں ایک میانہ رو امت بنایا ہے، یہ میانہ روی کہاں سے آئی؟ انسان اپنی خلقت میں انتہا پسند ہے، وہ جانور بننے پہ آئے تو کوئی جانور اس انسان کا مقابلہ نہیں کر سکتا، کوئی بہیما اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، یہ شیطانت پہ آئے شیطان کو وہ شیطانی نہیں سوچتی جو انسان کو سوچ جاتی ہے، ظلم اور قتل پہ آئے تو بھیڑیا اس کے سامنے کچھ نہیں ہے، حرص سے بھرپور، خواہشات سے بھرپور، ایک خلقت اللہ نے انسان کے صورت میں پیدا کی، تمام مخلوقات سے زیادہ کی خواہشات اسی انسان میں بھر دی، لیکن اس کو اعتدال کس نے دیا؟ جب قرآن نازل ہوا، اعتدال کب آیا؟ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اس امت کے سامنے آئے، تو قرآن کریم نے تو اعتدال کے لئے ایک معیار دے دیا ہے، اب اس معیار پر پورا اترنے والے اور سو فیصد پورا اترنے والے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام کی جماعت تھی، یہی وہ جماعت ہے جس پر براہ راست وحی آتی رہی اور براہ راست وحی سے ان کے زندگیاں بدلتی رہی، ان میں تبدیلیاں آتی رہی، لیکن اس سے پہلے کے زمانے کو، کہ جس میں قرآنی تعلیمات کا اتباع نہ تھا، ایک پیغمبر کی اتباع کا زمانہ نہیں تھا، حیوانیت کی ایک زندگی تھی، اس زمانے کو آج بھی ہم دور جاہلیت سے تعبیر کرتے ہیں، تو یہ کیا بات ہے کہ پیغمبر اسلام کی مبعوث ہونے سے پہلے اور قرآن کریم کے نزول سے پہلے جب معاشرہ کسی تعلیم کا پابند نہیں تھا، کسی نظام کا پابند نہیں تھا، تو اس معاشرہ کو جاہلیت کا معاشرہ کہا جاتا ہے۔ آج کے دور میں اگر معاشرہ وہ قرآن سننے سے دور ہو جاتا ہے، صحابہ کرام کی زندگی سے دور ہو جاتا ہے وہ کس طرح روشن خیال کہلا سکتا ہے؟ کس طرح وہ مہذب کہلا سکتا ہے؟ یہ بھی تو جاہلیت کا شکار ہے۔
تو میرے نوجوانوں! احساس کمتری بھی مبتلا ہونے کے کوئی ضرورت نہیں ہے، جس طرح رسول اللہﷺ کی بعثت سے اس اللہ کے دین سے بے نیاز لوگ جاہلیت کے دور سے منصوب کیں جاتے ہیں، آج بھی جتنا جتنا اس سے دور ہوں گے لوگ وہی جاہل کہلائیں گے، جتنا جتنا قریب ہوں گے اتنا ہی وہ امت و سطا کی تعبیر بنیں گے، کیونکہ معیار صحابہ کرام ہیں۔
تو آج ہم نے پرکھنا ہے کہ جو اپنی عملی زندگی میں درجہ بہ درجہ صحابہ کرام کی زندگی کے قریب تر ہیں، جو جو بھی عملی زندگی میں صحابہ کرام کی زندگی کے قریب تر ہوگا وہ امت و سطا کی تعبیر ہوگا، جتنا جتنا ان کی زندگی سے دور ہوگا اتنا ہی وہ دور جاہلیت سے تعبیر کیا جائے گا۔
لیکن یا انگریز کا زمانہ تھا جب ان مدارس میں پڑھنے والے لوگوں کو پتہ نہیں کس کس القاب سے پکارا گیا اور یہ آج پاکستان ہے کہ اناسی سال پورے ہو رہے ہیں اور آج پاکستان میں بھی دینی علوم سے وابستہ لوگوں کے بارے میں وہی رویے ہیں جو کسی زمانے میں فرنگی کی ہوا کرتے تھے۔ ہم مانتے ہیں کہ انیس سو سینتالیس میں ہم آزاد ہوئے، اناسی سال گزر گئے انگریز چلا گیا لیکن ذرا تاریخ کو تو پڑھو، اٹھارہ سو تین سے لے کر انیس سو سینتالیس تک اس آزادی کے لئے قربانیاں دینا، کہیں بالاکوٹ میں شہداء کا خون بہہ رہا ہے، کہیں شاملی کے میدان میں علماء کا خون بے رہا ہے، دہلی اور گرد و نواح میں ہزاروں مسلمان شہید ہو رہے ہیں اس آزادی کے خاطر، یہ میرے اکابر کی تاریخ ہے تمہاری تاریخ نہیں ہے، پھانسیوں کو اگر چوما ہے اس آزادی کے لئے میرے اکابر نے اور میرے بزرگوں نے چوما ہے اور ایک انگریز خود کہتا ہے کہ جب ہم نے ان مجاہدین کو توپوں کے سامنے کھڑا کر کے اڑانے کا فیصلہ کیا تو ہزاروں لوگوں میں ایک ایک سے ہم نے پوچھا تنہائی میں، کہ اتنا کہہ دو کہ میرا اس تحریک سے کوئی تعلق نہیں آپ کی جان بچ جائے گی، ہزاروں کے لوگ اڑ گئے لیکن کوئی بندہ ہمیں نہیں ملا جس نے کہا ہو کہ میرا اس تحریک سے تعلق نہیں۔
کس بات پر تم میرے ساتھ مقابلہ کر رہے ہو؟ پاکستان اگر بنا ہے یہ میرے اکابر کی قربانیوں کی نتیجے میں بنا ہے، آپ اس کو نظرانداز نہیں کر سکتے، آپ اس کی بے توقیری نہیں کر سکتے، اور اپنا منہ کی کلی کر کے میرے اکابر کا نام لینا، شراب سے بدبودار تمہارا منہ میرے اکابر کے خلاف زبان کھولتا ہے، شرم نہیں آتی تم لوگوں کو، مذاق سمجھ رکھا ہے، یاد رکھو! یہ جو ہم بیٹھے ہیں یہ ان اکابر و اسلاف کے وارث ہیں، یہ ان مشن کے وارث ہیں جنہوں نے اگر انگریز کے سامنے سر نہیں جھکایا تو انگریز کے پالشیوں کے سامنے بھی ہم سر جھکانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
میرے محترم دوستو! پاکستان بنا، پاکستان کے اندر تین قسم کے لوگوں نے پاکستان کی تخلیق اور پاکستان کی وجود کے تین طرح کے تعبیر کئے ہیں، ایک طبقے نے کہا کہ پاکستان اس لئے بنا ہے کہ یہاں قرآن و سنت کا نظام ہوگا، نہ اب انگریز ہے نہ اب ہندو ہے مسلم اکثریتی ملک ہے اور یہاں اب شریعت ہوگا ایک تصور یہ تھا۔ کچھ لوگ تھے جنہوں نے اس تصور سے پاکستان کے آزادی کی تعبیر کی کہ ہماری معیشت آزاد ہوگی ہم کسی کے غلام نہیں ہوں گے۔ اور ایک طبقہ وہ تھا جس نے پاکستان کی وجود کو اس بات سے تعبیر کیا کہ یہ ایک جمہوری ملک ہوگا اور جمہوری ماحول میں ہم سانس لیں گے اور اپنے فیصلے خود کریں گے۔
اب اسلامی نظام کا قیام، شریعت کے مطابق زندگی، معاشی خوشحالی یا جمہوری نظام ان تینوں حوالوں سے ذرا آپ پاکستان کا آج اناسی سال کے بعد مطالعہ کرلیں یہاں شریعت کتنی ہے؟ قرآن و سنت کتنا ہے؟ معیشت کتنی خوشحال ہے ہماری؟ اور جمہوریت کا کیا حشر کر دیا؟ کون سا مقصد ہے جو پاکستان کی کسی ایک شہری کا مکمل ہوا ہو؟ قرآن و سنت کے طلبگار وہ بھی محرومیت کا اظہار کر رہے ہیں، معیشت کی بات کرنے والے وہ بھی محرومیت کا شکار ہیں اور جمہوریت کی بات کرنے والے وہ بھی مایوس بیٹھے ہوئے ہیں، اب اس ملک کے وجود کو اگر نفی کی ہے تو تمہارے رویوں نے کی ہے، سیاسیات تو ایک بڑا وسیع میدان ہے، بڑا توسع ہے اس میدان میں، یہاں تو آج قرآن و سنت کی بات کرنا ہمیں کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب اب قرآن و سنت کی باتیں چھوڑو، اب قرآن و سنت کی بات کرنے والا اور مذہب کی بات کرنے والے کا ملکی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں ہے آپ لوگوں کے لئے، ہم نے اگر ملکی سیاست میں گنجائش پیدا کی ہے تو اس میں تمہارا کیا کردار ہے؟ یہ مقام بھی ہمارے ان نوجوانوں اور کارکنوں نے اپنے قربانیوں سے حاصل کیا ہے اور بد سو شے کوئی کہ وہ ہمارے لئے دنیا تنگ کر دیں گے، ہمارے لئے گنجائش تنگ کر دیں گے، میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے لئے گنجائش تنگ کر رہے ہو، ہم نظریاتی لوگ ہیں اور اپنے نظریات کے لئے ایک تاریخ رکھتے ہیں، دو سو سالہ تاریخ ہماری پشت پر ہے، تمہارے پشت پر کیا ہے، انگریز کی غلامی، خوشامد، ان کے گھوڑوں کے خرخرے اور اس کے بدلے میں جاگیریں حاصل کرنا اور بڑے بڑے جاگیردار بن جانا یہ تمہاری تاریخ ہے اور قربانیاں دینا یہ ہماری تاریخ ہے۔ تم کس چیز میں ہمارا مقابلہ کر سکتے ہو؟
تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی سربلندی کے لئے میدان میں اترنا یہ ہمارا مشن ہے، یہ مدرسے یہ مولویوں کے مشین نہیں ہیں یہ بذات خود ایک مشن ہے اور مولوی کا کام کیا ہے یا امت کی امامت کرنا اور یا لوگوں کے جنازے پڑھانا، ہمیں قوم کی امامت کرنے کا طریقہ بھی آتا ہے اور تمہارے جنازے پڑھنے کا طریقہ بھی آتا ہے۔
تو ملک کی مقاصد کو ذرا سمجھنا ہے ہم نے، آزادی کے جشن مناؤ لیکن جشن کی آڑ میں ملک کی بنیادی مقاصد سے آنکھیں چُرانا، آنکھیں بند کرنا یہ نہیں ہوگا ان شاءاللہ، تو ہم یہی سوچتے ہیں کہ ہم نے اس دین قویم کی تقویم کرنی ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کی امام تھے، سید الاولین بھی تھے اور سید الاخرین بھی تھے، تمام انبیاء کرام نے آپ کی امامت میں نماز پڑھیں اور تمام انبیاء کرام سے اللہ رب العزت نے جو ميثاق لیا؛
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ۔
تمام انبیاء سے اللہ تعالی نے عہد لیا کہ اگر نبی آخر الزمان کا زمانہ تمہیں ملا تو آپ نے ان پر ایمان بھی لانا ہے اور ان کی مدد بھی کرنی ہے، میرے بعد اگر حضرت موسیٰ بھی آتے تو میری اتباع کے علاوہ اس کے بعد کوئی راستہ نہ ہوتا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی نازل ہوں گے تو میری دین کی اتباع کریں گے، اب یہ دین مکمل ہے؛
اَلْيَوْمَ أَتْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِ وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔
آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے۔ ہمارے اکابر نے اس آیت کی تشریح یوں کی ہے کہ دین کامل بہ اعتبار تعلیمات اور احکامات کے ہے اور اتمام نعمت یہ اس کامل اور مکمل دین کی حاکمیت و اختیار کا نام ہے، اس نعمت کے حصول کی ہم جنگ لڑ رہے ہیں تاکہ اللہ کی نعمت واقعتاً تمام ہو جائے ہم پر، حضرت مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللّٰہ علیہ تو یہاں تک لکھتے ہیں؛
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، مبشرًا کے معنی کہتے ہیں اور اسلامی سلطنت کی بشارت دینے والا، تو اسلام کی حاکمیت اصل بڑی نعمت ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیض جب لائی گئی اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر ڈالی گئی، تو آنکھیں بینا ہوگئی، تو فوراً پوچھا! یوسف کو کہاں چھوڑ آئے ہو؟ کہا وہ مصر کا بادشاہ بن گئے ہیں، کوئی تعجب کا اظہار نہیں کیا کہ اس کو تو کنویں میں ڈالا گیا تھا، بھیڑیا کھا گیا تھا وغیرہ وغیرہ، لیکن اندازہ تھا کہ ہاں یہ سارا سفر یہی تک پہنچے گا، تو دوسرا سوال کیا کہ کس دین پہ چھوڑ کے آئے ہو؟ تو جواب دیا دین اسلام پہ، تو یعقوب علیہ السلام نے کہا اب نعمت تمام ہوگئی۔
تو اتمام نعمت اقتدار کا نام ہے، حاکمیت کا نام ہے، دین اسلام کی حاکمیت، اس مقصد کے لیے جدوجہد کرو یہی جہاد ہے، باقی ذرائع ہیں۔ ذرائع میں تو ہر زمانے میں تبدیلی آسکتی ہے۔ اب ہم تو ہمیشہ سے کہتے رہے ہیں کہ تمہارا نظام ناکام ہے، آج انہوں نے بھی کہہ دیا ہے کہ نظام ناکام ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ آپ ملک کو نہیں چلا سکتے، تمہاری وجہ سے ناکام ہے، جن لوگوں کو تم نے مہریں بنایا ہوا ہے ان کی وجہ سے ناکام ہے۔ تم ذرا خود داروں کے حوالے تو کرو پھر دیکھو ملک کیسے چلتا ہے، جو آزادی کے اصل قیمت کو جانتے ہیں، تم آزادی کے نام پر عیاشیاں جانتے ہو، غلامی جانتے ہو، اس غلامی سے آزادی ان شاءاللہ العزیز حقیقی معنوں میں یہ تحریک دے گی جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کرتی ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق دے، اس تحریک کو آگے بڑھانا ہے، کبھی احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہونا، پوری خود داری اور خود اعتمادی کے ساتھ ہم نے آگے بڑھنا ہے، اللّٰہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat
