۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
12 August 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

مولانا فضل الرحمن مدظلہ کا مجلس اتحاد امت پاکستان مشاورتی اجتماع سے خطاب

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۲۲ دسمبر ۲۰۲۵

 قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن مدظلہ کا مجلس اتحاد امت پاکستان مشاورتی اجتماع سے خطاب

22 دسمبر 2025

بسم اللہ الرحمن الرحیم و صلی اللہ علی النبی الکریم وعلی الہ وصحبہ وبارک وسلم

صدر اجلاس حضرت شیخ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب، دیگر تمام اکابر علماء کرام! جو گفتگو اس مجلس کے ایجنڈے کے حوالے سے ہوئی اور جس طرح صورتحال پر دونوں مؤقر مفتی صاحبان نے روشنی ڈالی، اس اجلاس کے لیے میری نظر میں یہ رہنمائی کافی ہے۔

کچھ چیزیں جو پارلیمنٹ میں ہماری نظروں کے سامنے سے گزری میں چاہوں گا کہ مختصراً اس حوالے سے اپ کو اگاہ بھی کر سکوں اور مزید اس پر اپ کی رہنمائی بھی حاصل کرسکوں۔ چھبیسویں ائینی ترمیم اور ستائیسویں آئینی ترمیم میں بنیادی جوہری فرق یہ ہے کہ چھبیسویں ائینی ترمیم پر حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں تھی اور دو تہائی اکثریت سینیٹ میں بھی اور قومی اسمبلی میں بھی جمعیت علمائے اسلام کے ووٹوں سے پوری ہوسکتی تھی چنانچہ انہوں نے اس حوالے سے ہمارے ساتھ بات چیت شروع کی، پاکستان تحریک انصاف کو انہوں نے نظر انداز کرنے کی کوشش کی اور ان کی یہ بھی خواہش تھی کہ اپوزیشن میں بیٹھی جماعتیں وہ ایک دوسرے کے خلاف محاذ ارائی اختیار کر لیں لیکن ہم نے حزب اختلاف کی بڑی جماعت کو اپنے ساتھ رابطے میں رکھا اور روز مرہ کی جو بھی پیشرفت تھی اس سے مسلسل ہم ان کو اگاہ کرتے رہے، جہاں جہاں پر ان کو حکومت کی طرف سے دیے گئے مسودے پر اختلاف رائے تھا ان کے اختلاف رائے کو ہم نوٹ کرتے رہے، اگے جا کر ہم ان کی اختلاف رائے کی بھی وکالت کرتے رہے اور حکومت کو ان کے اپنے بنائے ہوئے ڈرافٹ کے 34 شقوں سے ہم نے حکومت کو دستبردار ہونے پر امادہ کیا، صرف 22 شقیں رہ گئی اور 22 شقوں کے بعد ہم نے کچھ اپنی شقیں ترمیم کے طور پر پیش کی جو قبول کی گئی۔ پہلی بات کہ یکم جنوری 2028 سے ملک کے اندر سودی نظام ختم ہو جائے گا اور یہ باقاعدہ اس میں لکھا گیا ہے۔ دوسری چیز جس کی طرف حضرت مولانا مفتی محمد تقی صاحب نے بھی اشارہ کیا کہ وفاقی شرعی عدالت، وفاقی شرعی عدالت میں کچھ کمزوریاں تھیں کہ اس کے کسی بھی فیصلے کے خلاف جب شریعت اپیلٹ بینچ میں اپیل دائر ہو جائے تو فیصلہ خود بخود معطل ہو جاتا ہے اور پھر کوئی حدود نہیں ہے کہ کب اس کے کیس کو سنا جاتا ہے اور اس کی اپیل پر فیصلہ دیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس ترمیم میں یہ واضح کر دیا گیا کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف جب وفاقی شریعت اپیلٹ بینچ میں اپیل جائے گی ایک سال کے اندر اندر اس اپیل پر فیصلہ لازم ہوگا ورنہ پھر شرعی عدالت کا فیصلہ موثر قرار دیا جائے گا۔

دوسرا یہ کہ وفاقی شرعی عدالت میں خود اس کا جج چیف جسٹس نہیں بن سکتا تھا، سو ائین میں ترمیم کر دی گئی کہ اب خود وفاقی شرعی عدالت کا کوئی جج ہی اس کورٹ کا چیف جسٹس بن سکے گا تو یہ تبدیلی دو طرح کی وفاقی شرعی عدالت کے حوالے سے ہوئی ائین میں اور تیسری چیز اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات، کے سفارشات اسمبلی میں پیش تو کیے جاتے ہیں اور پھر پتہ نہیں کہاں جا کر اس وزارت کے کس کمرے میں ڈھیر ہوتے ہوتے اب تک کہاں پہنچ گئے ہوں گے، اس میں لازم قرار دیا گیا کہ ہر سفارش اب اسمبلی کے سامنے بحث کے لیے پیش کی جائے گی۔ اب ظاہر ہے جب بحث کے لیے اسمبلی کے فلور پہ ا جائے گی تو پھر کسی نہ کسی جگہ پہ جا کر قانون سازی بھی کرنی پڑی گی۔

تو یہ کچھ تبدیلیاں اس میں ہوئی لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو قانون سازیاں ہوئی ہیں اس میں قانون سازی صرف دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے یا بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے ہوئی اور ہمارا اصرار تھا کہ 1860 کے سوسائٹی ایکٹ کے تحت مدارس کے رجسٹریشن کا قانون پاس کیا جائے، چنانچہ جب جنرل مشرف صاحب کے ساتھ اس زمانے میں بات ہوئی تھی تو اس میں صرف ایک مشکل تھی کہ یہ تو صوبائی معاملہ ہے جبکہ وفاق المدارس کا نصاب تو پورے ملک کا ایک ہوتا ہے اور پورے ملک کی سطح پر ایک ہی امتحان لیا جاتا ہے تو اس میں شق نمبر 21 کا اضافہ کر کے دینی مدارس کو اس نظام سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔ 

اب یہ قانون جب تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوئی اور شہباز شریف صاحب کی قیادت میں اس وقت بقیہ مدت کے لیے حکومت قائم ہوئی تو اس وقت بھی کوئی ایک سال ہمیں لگا اس پر بات چیت کر کے وہاں پر یہ سوال ایا کہ کیا وہ جو دوسری تنظیمیں ہیں جو وزارت تعلیم کے ماتحت رجسٹر ہونا چاہتی ہیں کیا ان کو بھی اپ حق دیں گے کہ وہ بھی رجسٹریشن کر سکے اور مدارس کو اختیار ہو ادھر جائیں یا ادھر جائیں۔ تو ہم نے وہاں اس پر اتفاق کر لیا تھا کہ مدارس کو اختیار ہے وہ سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹر ہونا چاہتے ہیں یا وزارت تعلیم کے ڈائریکٹریٹ کے تحت رجسٹرڈ ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ قانون مکمل نہیں ہو سکا اور اس میں مختلف اداروں کی طرف سے مداخلت، انہوں نے یہ حشر کر دیا کہ پھر ہم دستبردار ہو گئے کہ ہم اس قسم کی قانون سازی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔

جب چھبیسویں ترمیم کے صورت میں ان کو ضرورت پڑی تو پھر وہ ائے واپس، اب حکومت الیکشن کے بعد کی ہے یعنی پچھلے سال اکتوبر میں، اس دوران میں جو اس پر قانون سازی ہوئی تو یہ ہم نے نہیں بنایا، ڈرافٹ حکومت نے بنایا، اسمبلی میں پیش حکومت نے کیا ہم نے تو ووٹ دیا اور پھر وہ پاس ہوا اگر وزارت تعلیم کے تحت ڈائریکٹریٹ کے اندر رجسٹریشن کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ہمارا کیا قصور ہے اس میں، ہم نے تو اس میں کوئی مداخلت نہیں کی تھی، ہمارے سامنے تو ہمارے منشاء کے مطابق ڈرافٹ ایا اور ہمارے منشاء کے مطابق ڈرافٹ پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں تھا، چنانچہ وہ پاس ہو گیا۔ اس کے بعد شور مچایا گیا کہ پھر ہم کدھر گئے۔ تو جب ہمارے سامنے یہ بات لائی گئی کہ وہ مدارس تو چیخ رہے ہیں تو ہم نے کہا چونکہ ہم اصولاً اس پر پہلے ایک اتفاق کر چکے ہیں اج بھی ہم اسی پر اتفاق کریں گے کہ مدارس کو اختیار ہے ادھر جائیں یا ادھر، ہم نے نیک نیتی کے ساتھ کہ ایک دفعہ ہمارا ہاں ہو چکا ہے اب وہاں سے ہم دوبارہ پسپائی اختیار نہیں کریں گے۔

اب ظاہر ہے یہاں اس بات کو ہمیں سمجھنا ہوگا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے قانون متوجہ ہے سوسائٹی ایکٹ کی طرف، ضمنا بعد میں ان کو شامل کیا گیا اور ہمارے حوالے سے کوئی ابہام موجود نہیں ہے۔ چنانچہ ارڈیننس ایا اس میں وزارت تعلیم کی ڈائریکٹریٹ کے حوالے سے شق داخل کیا گیا، اس کے بعد پارلیمنٹ کے اندر قانون سازی ہوئی اور وہ قانون پاس ہو گیا اب عملاً ابھی تک صرف اسلام اباد کے ایریا میں وہ قانون موجود ہے صوبوں میں قانون سازی نہیں ہے۔ لیکن اسلام اباد میں بھی اگر کوئی مدرسہ فائل لے کر جاتا ہے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں اور وہ سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے لیے کہتا ہے تو ڈپٹی کمشنر اسے کہتا ہے کہ نہیں اپ جائیں اور وزارت تعلیم کے تحت فائل بنا کر لائے۔ اب یہ بہت بڑی زیادتی ہے، یہ ظلم ہے، یہ جانبداری ہے اس پر ہم نے ضرور سے شکایت کی، اعلی سطح پر ہم نے شکایت کی اور ہم نے اس میں یہ بھی کہا کہ اس وقت جو وزارت تعلیم کے تحت ڈائریکٹر جنرل ہے اس کا جو چیف بیٹھا ہوا ہے وہ ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل ہے اور وہ وہی شدت کے رویے اختیار کر کے سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے فلسفے کو ناکام بنا رہا ہے اور وہ اپنے ہی اجارہ داری کے لیے اس قسم کی حرکتیں کر رہا ہے۔ انہوں نے ہمیں یہ بھی کہا کہ چلو اپ بندہ دے دیں ہم تبدیل کر لیں گے۔ حضرت سے مشورہ کیا میں نے، کہ بھئی ہمارا جھگڑا فرد کے 

ساتھ نہیں ہے۔ پہلے ہمارے ساتھ نظام پہ بات کریں، اصول پہ بات کریں، ہم مدارس کے معاملے کو طے کرنا چاہتے ہیں، کل ایک تبدیل ہو جائے گا پھر کوئی اور تبدیل ہوگا پھر اور تبدیل ہوگا، اور حضرت کی رائے میں وزن تھا اور ہم نے اسی طرح کہا کہ ہم فرد کے حوالے سے اپ سے بات نہیں کر رہے ہمیں اصول کی تحت آپ سے بات کرنی ہے۔

بہرحال ابھی تک وہ ساری صورتحال جس طرح اپ کے سامنے بیان کی گئی وہ الجھی ہوئی ہے اور وہ اگے نہیں بڑھ رہے ہیں لیکن ہم بھی اپنے مؤقف پہ پوری طرح مضبوطی کے ساتھ قائم ہیں۔ یہ تو ہوا اس وقت، ابھی جو اس وقت 27ویں ترمیم میں ہوا اس میں قانون سازی کیا ہوئی جو اس وقت قانون سازی ہوئی ہیں 18 سال سے کم عمر میں شادی کے حوالے سے اور گھریلو تشدد کے حوالے سے، جنس کی تبدیلی کے حوالے سے، یہ تین چیزیں اس وقت سامنے ارہی ہیں سو تین چیزیں اس وقت سامنے ائی اس وقت ہم نے قران و سنت کے عین مطابق مختلف ائین کے حوالے سے ہو یا قانون کے حوالے سے قانون سازی کروائی اور ہم اس میں کامیاب ہو گئے اب انہوں نے جبری طور پر دو تہائی اکثریت بنائی، ممبران کو توڑ مروڑ کر حاصل کی اس کے سہارے انہوں نے یہ چیزیں حاصل کی جس کا تذکرہ حضرت شیخ نے اپ کے سامنے کیا ہے، دوبارہ تکرار کرنے کی ضرورت نہیں لیکن اس پر ہماری ایک جامع رائے جانی چاہیے۔ سرکار کو جس شعبے سے چاہیں جب چاہیں اپنی مرضی کے لوگ اکٹھے کر لیں اور اس میں وہ اپنی مرضی کی بات کر لیں اور اپنی مرضی کی بات کی وہ تائید حاصل کر لیں یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ چنانچہ میں تو یہاں سے بھی ان کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ملک بھر کے علماء کرام چاہے کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں اس کا حقیقی نمائندہ ان کے ضمیر کا نمائندہ اجتماع یہ ہے جو اج یہاں بیٹھا ہوا ہے۔ وہ صرف مدح سرا قسم کے لوگ اکٹھے کر کے ان کی تائید لینا یہ کوئی حکمرانوں کے لیے کبھی مشکل مسئلہ نہیں رہا ہے۔ لہذا علماء کرام اس میں گئے ہیں اور میں تو کم از کم ہر چیز کا کوئی مثبت پہلو نکالتا ہوں منفی پہلو زیادہ نکالنا اچھی بات نہیں ہوتی، تو میرے تو اس دن بھی کہا کہ جو نئے سٹیٹس انہوں نے لیے ہیں ان نئے سٹیٹس کے ساتھ اپنی نئی ذمہ داریوں کا اغاز انہوں نے علماء کرام کے اجتماع سے کر دیا ہے نیک پاک ہی ہم اس کا نکالے ہیں۔

اب اس کے علاوہ حضرت، یہ جو قانون سازیاں ہوئی ہیں ابھی حال ہی میں ایک اور قانون سازی ہوئی جس کا اپ کی خدمت میں، میں ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ اقلیتی کمیشن کا قیام، اب اقلیتی کمیشن یا اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے اگر اپ کچھ کرنا چاہتے ہیں ہمیں ان کے حقوق پر تو کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ لیکن ان کے حقوق کے نام پر جو قانون سازی کی گئی اس قانون سازی کے اندر ایک شق نمبر 35 ڈالی گئی تھی، اس شق نمبر 35 میں اس کمیشن کے تحت جو قوانین ہیں ان کو تمام قوانین پر بالادستی حاصل ہوگی۔ اب یہ چیز ہم نے پکڑ لی کہ بھئی یہ تو اپ جو کہہ رہے ہیں کہ تمام قوانین پر بالادستی ہوگی کل اپ ملک میں پانچ چھ ہزار قوانین ہیں کسی بھی قانون کے مطابق کوئی فیصلہ دیتا ہے اپ کورٹ پہ جائیں گے کہ چونکہ اس قانون کے ساتھ فیصلہ وہ اقلیتی کمیشن کے فلانے قانون سے متصادم ہے لہذا اس کو بالادستی حاصل ہے تو کل قادیانی بھی اٹھیں گے اور سن 74 میں جو قوانین بنے تھے قادیانیت کے حوالے سے وہ بھی کہیں گے کہ ہمارے جو قوانین ہیں وہ اپ کے فلانے کمیشن کے قانون سے متصادم ہیں لہذا ہم اس کا فائدہ اٹھانا چاہیں گے اور اس قانون کو چھوڑ دو ختم کردو ہو۔

اب یہ چیزیں جب ہم نے محسوس کی اب ساری رات تک ہمیں ایجنڈا نہیں ملا، مشترکہ اجلاس کی صبح میں ہمیں ایجنڈا ملا اور وہ بھی جب میں نے اپنے ایک سینیٹر کامران مرتضی سے معلوم کیا تو انہوں نے کہا جی یہ ایا ہے لیکن اس میں ایک چیز بڑی خطرناک ا رہی ہے میں ٹھیک گیارہ، سوا گیارہ بجے تک پہنچ گیا، اجلاس کی بسم اللہ سے میں فوراً ایوان میں پہنچ گیا اور ہم نے اس خرابی کی نشاندہی کی اور ہم نے ان سے کہا کہ بھئی اس کے اندر جو زہر چھپا ہوا ہے اس کا کل جو ملک بھر میں استحصال کیا جائے گا اور خاص طور پر قادیانی طبقہ جو ختم نبوت کے حوالے سے اس کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے یہ اپ کیا کر رہے ہیں، دوسری خرابی یہ ڈالی گئی تھی کہ اس اقلیتی کمیشن کو از خود نوٹس لینے کا اختیار دے دیا گیا تھا۔ ہم نے کہا اللہ سے ڈرو، ابھی اپ لوگوں نے سپریم کورٹ 27ویں ائین کے تحت اپ نے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کا اختیار سلب کر لیا ہے تو پرسوں اپ نے سپریم کورٹ کے اختیار سلب کیا ہے اور اپ وہی اختیار اج دے رہے ہیں اقلیتی کمیشن کو، تاکہ وہ جب چاہے کسی کو بلائے اور کسی کے خلاف کیس دائر کریں، اللہ کا کرم ہوا کہ وہ ائے میرے سیٹ پہ اسحاق ڈار صاحب بھی ائے وزیر قانون بھی ائے اور انہوں نے کہا جی کہ ہم ان کو ختم کرتے ہیں اور امٹ کر دیا اس کو، ہم نے ترامیم دی اور اس میں انہوں امٹ کر دیا۔

تو یہ کامیابی ابھی حال ہی میں، اب آپ اس سے ان کے ارادوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں، میرے خیال میں نورالحق صاحب اس موقع پر موجود تھے اور انہوں نے ہماری تائید بھی کی اور پیپلز پارٹی کے اندر عبدالقادر پٹیل نے ہماری تائید کی، کھڑے ہو کر انہوں نے کہا یہ چیز غلط ہے قران و سنت پر کوئی سودا نہیں کر سکتے۔ اب اس کے بعد ایک اور واقعہ ہوا، اس میں اپ رائے دیں گے اور پتہ نہیں ہم کیا کر سکتے ہیں کیا نہیں کر سکتے، اسحاق ڈار صاحب نے مائک پہ کھڑے ہو کر کہہ دیا نائب وزیراعظم بھی ہیں وزیر خارجہ بھی ہے انہوں نے مائک پر کھڑے ہو کر کہا کہ ہم بھی اللہ اور رسول کو ماننے والے لوگ ہیں اگر ہم سے کوئی ایسی قانون سازی ہوئی ہے جو اپ کی نظر میں قران و سنت کے خلاف ہے تو اپ ترامیم دیں ہم قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بات انہوں نے کہہ دی، اگلے دن میں نے ان کو فون کیا اور میں نے ان سے کہا کہ ڈار صاحب اپ نے جو کل بات کی اپ نے کسی مشاورت کے بغیر کی میں دیکھ رہا تھا کہ اپ ایک بات کر رہے ہیں لیکن مجھے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اپ نے کسی سے مشورہ نہیں کیا بس ہمیں صرف ایک جواب دے دیا، اب اپ مجھے بتائیں کہ کیا اپ نے وہ بیان جو دیا تھا اس پر قائم ہے تو انہوں نے کہا ہاں میں اس پر قائم میں نے کہا یہ بھی کافی نہیں ہے، کیا اپ نے اپنے ماحول کو اعتماد میں لیا ہے اپنے ماحول سے مشاورت کی ہے کل یہ نہ ہو کہ وہ لوگ اپ سے کہیں کہ بھی یہ کیا کر دیا اپ نے تو انہوں نے کہا یہ بات اپ کی ٹھیک ہے میں ان کو بھی اعتماد لے لیتا ہوں لیکن ابھی تک پھر اس کے بعد کوئی کہا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ایا ہے، یہ بھی چیزیں ہیں۔

تو یہ ساری چیزیں حضرت ہمیں اس حوالے سے زیر غور لانی چاہیے کہ اگر ائین خطرے میں ہے، ان کی اسلامی حیثیت خطرے میں ہے، ان کی متفقہ حیثیت خطرے میں ہے تو ہم نے اس کو بچانے کے لیے کیا اقدامات کرنے ہیں، کیا تجاویز دینی ہے اور کیا حکمت عملی ہم نے اس حوالے سے دینی ہے۔ جہاں تک ہے بات عسکریت پسندی کی، حضرت عسکریت پسندی کا اغاز جب ہوا تو اس وقت وہ عسکریت کی شکل نہیں تھی اس کی، اس زمانے میں ائین غلط ہے عدلیہ غلط ہے یہ سب شریعت کے خلاف ہے دوبارہ ائین بناؤ دوبارہ شریعت نافذ کرو وغیرہ وغیرہ کی باتیں ہو رہی تھی۔ تو ہمارے برادر مکرم ابوالخیر صاحب کو یاد ہوگا ہم نے انہی کی صدارت میں لاہور میں تمام مکاتب فکر کا ایک ال پارٹیز کیا تھا اور اس میں ہم نے اتفاق کیا اس بات پر کہ ہمارے اکابر نے ائین کے اندر جن چیزوں پہ اتفاق کیا ہے ہم ان متفقات کو دوبارہ زیر بحث لانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ میرے خیال میں اس اجلاس میں ہمارے لاہور کے شہید سرفراز نعیمی صاحب وہ بھی موجود تھے اور ایک اتفاق رائے وہاں اس حوالے سے کیا گیا۔ جمیعت علماء اسلام نے پشاور میں کوئی 25 ہزار علماء کرام کا اجتماع کیا اور مسلح جدوجہد سے انکار کیا، وہ قرارداد 10 ہزار علماء کے سامنے کوئٹہ میں پاس کی گئی، دوسروں صوبوں میں ہم نے سیمینار کیں، تمام مکاتب فکر کا اتفاق رائے لاہور کے اجتماع میں ہوا، وفاق المدارس العربیہ نے تمام علمائے کرام کو لاہور میں جمع کیا، ڈھائی سو تین سو علماء، اور ایسے علماء کو بلایا گیا کہ جس کی کتابی حوالے سے علمی مقام ہو مسلم اور اس حیثیت میں وہ عوام میں شہرت بھی رکھتے ہو، تاکہ عوام بھی اعتماد کرے اور ہمیں بھی پتہ ہو کہ یہ ادمی علمی قوت سے بات کر رہا ہے۔ چنانچہ اس میں پاکستان کے اندر دینی مقاصد کے لیے مسلح اور اسلحہ اٹھانا اس کو غیر شرعی قرار دیا گیا۔

تو ہم واضح ہیں اس حوالے سے، اول دن سے واضح ہیں ہمارے ہاں کوئی ابہام نہیں ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں چاہے روس کے خلاف 14 سالہ جہاد ہو، تو پاکستان، پاکستان کی جماعتیں، مذہبی جماعتیں، ریاست ایک جہت پر تھی ایک پیج پر تھی۔ اب کہ ریاست دوغلی پالیسی اختیار کر رہی تھی ایک طرف وہ امریکہ کے ساتھ تھی، فوجی اڈے دیے یہاں سے جہاز اڑتے تھے افغانستان میں بمباریاں کرتے تھے دوسری طرف انہوں نے افغان طالبان کو بھی پاکستان میں جگہ دی اور کہا کہ جی اپ ہمارے پرو پاکستانی ہیں، تو یہ دو انداز اختیار کی۔ انہوں نے، چنانچہ ہمارے علماء نے اس رائے اور فکر کی تائید کی، دنیا میں ہوتا ہے فلسطینی لڑ رہے ہیں وہ اپنی جنگ کی کیا حکمت عملی بناتے ہیں، بات چیت کرتے ہیں، جنگ کرتے ہیں، مذاکرات کرتے ہیں یہ ان کا معاملہ ہے۔ مسلح تحریک چلاتے ہیں، غیر مسلح تاریک چلاتے ہیں، ہم نے کاز کی حمایت کرنی ہوتی ہے۔ افغانستان میں ہم نے کاز کی حمایت کی ہے اور اج صورتحال یہ ہے کہ وہی چیز ایک بہت بڑی مشکل پیدا کر رہی ہے چنانچہ وہ تین مسودے چاہے وہ جمیعت علماء کی قرارداد تھی، چاہے وہ تمام مکاتب فکر کے مشترکہ قراردا تھی، چاہے وہ وفاق المدارس العربیہ کی قرارداد تھی ان تینوں کے پورے مسودات میں نے اسمبلی میں اپنی تقریر کا حصہ بنا کر سپیکر صاحب کو وہاں مائک پہ جا کر اس کو جمع کرائے اور کہا کہ یہ ہمارے علماء کا متفقہ رائے ہے اس مسلح جنگ کے حوالے سے اور اس کو آپ میرے تقریر کے ریکارڈ کا حصہ بنائے، لیکن کوئی ہمارے ان قراردادوں کو اہمیت نہیں دے رہا تھا، کیوں ؟ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ ہو یا ہماری اپنی، ان سب کی ایک ہی رائے تھی کہ مذہبی طبقہ اشتعال میں کیوں نہیں ارہا، مدارس اشتعال میں کیوں نہیں ا رہے، مدارس مسلح کیوں نہیں ہو رہے، تاکہ ریاستی قوت کے ساتھ ہم ان دینی اداروں کا خاتمہ کرتے اور بہت سی ممالک میں ویسا ہوا۔ لیکن اج ہم سے ناراض اس بات پر ہیں کہ ہم نے اپنے ملک کو کیوں بچایا ہے، اس کی دینی حیثیت کو کیوں بچایا ہے، مدارس کو کیوں بچایا، اداروں کے کیوں بچایا، اس پر وہ اپنے اندر سے ہمارے خلاف کچھ ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں اگر ہم اشتعال دیتے تو اج ان کا کارڈ بہت اچھا چلتا کہ دہشت گردی کے خلاف ہم نے صفایا کر دیا ہے۔

تو آج الحمدللہ مدارس بھی چل رہے ہیں، نظام بھی چل رہا ہے سیاسی عمل بھی ان کا زندہ ہے، پارلیمنٹری بھی ان کا کردار ہے اور ان کے اندر اس کا کردار برابر اگے بڑھ رہا ہے۔ تو اس حوالے سے ہماری پوزیشن بالکل واضح ہے اور حکومت کو اور ریاست کو چاہیے کہ وہ مدارس کی اس پوزیشن کو تسلیم کریں، اس کو قبول کریں۔ کہتے ہیں ہمارے پاس مدرسوں کے رپورٹیں ہیں رپورٹیں ہیں خفیہ رپورٹیں ہیں اج امریکہ کو اعتراض ختم ہو جائے اج مغرب کو مدارس پر اعتراض ختم ہو جائے اگلے دن ہمارے ادارے کہیں گے ماشاءاللہ مدارس کے بارے میں بڑی اچھی رپورٹیں ا رہی ہیں، ماشاءاللہ مدارس کے بارے میں اچھی رپورٹیں ا رہی ہے، بہت مثبت رپورٹیں ا رہی ہیں، یکدم ان کا ٹون تبدیل ہو جائے گا، ہم ان ساری چیزوں کو سمجھتے ہیں کہ ان کے ٹون کہاں سے چلتے ہیں اور کس طریقے سے وہ یہاں پر پالیسیاں مرتب کرتے ہیں مذہبی اداروں کے خلاف، مذہبی لوگوں کے خلاف۔ 

تو اس حوالے سے ہمیں ان کے ٹیکٹیس کو سمجھنا چاہیے، ان کے اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ وہ کس کے دباؤ میں سارا کچھ کر رہے ہیں، نہ ہمارے نصاب پر کوئی اعتراض ہے کیونکہ معاہدہ ہو چکا ہمارا ان کے درمیان، 2004 کے دسمبر میں معاہدہ ہوا، 2005 کے فروری میں ختم ہو گئی۔ پھر 2010 میں دستخط ہوئے ہیں پھر اور شرائط آئیں، ہم نے وہ مانی ہے، کب ہم نے جھگڑا کیا ہے اس معاملے میں، لیکن مسلسل اس جنگ کو برقرار کیوں رکھا جاتا ہے اس جنگ کو تسلسل کیوں دیا، ہم ختم کرنا چاہتے ہیں ہمارے نزدیک سب کچھ ختم ہو چکا ہے اور وہ کہتے ہیں زندہ ہے، زندہ ہے۔ دیہاتوں میں چھوٹے مدرسوں کے اندر جہاں کے غریب مولوی صاحب وہاں پڑھا رہا ہوتا ہے وہاں پر ان کا تھانیدار جاتا ہے اور روک تھام کرکے ان کو ہراساں کیا جاتا ہے، اور پھر کہا جاتا ہے اپ پاکستان کو مدارستان بنانا چاہتے ہیں، ہم نے تو اپ کو نہیں کہا کہ اپ کے ہاتھوں سے پاکستان مسائلستان بن گیا ہے، اگر ہم کوچے کوچے میں اپنے پیسوں سے، چندوں سے مکتب کھولتے ہیں اور محلے کے بچوں کو الف ب پڑھاتے ہیں، نورانی قاعدہ پڑھاتے ہیں، سوسائٹی پہ احسان ہے، کام کر رہے ہیں اپ کو ہمارا یہ کام کیوں برا لگ رہا ہے؟ ہم نے ملک کے خلاف کون سی بات کی ہے؟ لیکن مدارس کا وجود برصغیر کے اندر اس کا وجہ تو اپ بنے ہیں ہم تو نہیں، حضرت شیخ الہند تو چلے گئے علی گڑھ اور اس نے کہا او نصاب ایک کرتے ہیں، پزیرائی نہیں ملی، حضرت مفتی شفی صاحب رحمہ اللہ چار سال انتظار کرتے رہے سینتالیس سے اکیاون پانچ سال تک، کہ او نصاب ایک کرتے ہیں۔ یہاں نہ ہندو ہے اور نہ انگریز، نہیں مانی گئی ان کی، تو ہماری اسٹیبلیشمنٹ ہماری بیورو کریسی اس تقسیم کی زمہ دار ہیں، آپ ہمیں کیسے زمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ ائیں اج بھی ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں تو بسم اللہ، ہم نے تو کبھی شدت اختیار نہیں کی، بات چیت سے معاملات کو ہے کرتے ہیں، ہم بھی انگریزی علوم کے قائل ہیں، ہمارے بچوں نے اپ کے بورڈ میں امتحان دیے ہیں اور تین سال تک مسلسل ٹاپ کرتے ارہے ہیں۔ ہمارا ٹیلنٹ اس کا تو اپ مقابلہ ہی نہیں کر سکتے اور ایک بات میں نے کہی ہے مجھے نہیں معلوم اپ اس کی تائید کریں گے یا نہیں کریں گے، میں نے کہا جس شعبے میں بھی جاؤ، بین الاقوامی رینکنگ میں پاکستان پیچھے ہے، عدلیہ پتہ نہیں ایک سو بیالیس ہے کہ ایک سو چوالیس میں پڑی ہے، تمام شعبوں میں کرپشن اور بدعنوانیاں ہے، تمہاری تعلیم پتہ نہیں دنیا کے کس کیٹیگری میں ایا ہوا ہے، اگر تعلیم کے میدان میں ٹاپ پر ہے بین الاقوامی رینکنگ میں، تو دینی مدارس کے علوم ہے، ہمارے علماء پوری دنیا میں جہاں پڑھا رہے ہیں ٹاپ کے تصور کیے جاتے ہیں، تم نے پابندی لگائی کہ بین الاقوامی بیان نہیں پڑے گی کیونکہ یہاں سے اچھے علوم وہاں لے کر جاتے ہیں۔

،تو یہ ساری وہ چیزیں ہیں کہ جو ہمارے لیے باعث تشویش ہے ریاست کو قابل باعث تشویش نہیں ہونا چاہیے، وہ تشویش کا اظہار کرتے ہیں ہم کہتے ہیں نہیں اپ کو کوئی تشویش نہیں ہے، اپ کے رویوں سے ہمیں تشویش ہے۔ اپ ہمارے تشویش کو دور کریں، مدارس تعلیم کے حوالے سے ایک مستقل سٹیک ہولڈر ہے۔ اپ مدارس کے اس تنظیم کو اتحاد تنظیمات مدارس کو، دینی مدارس کے حوالے سے کسی بھی فیصلے سے پہلے اعتماد میں لیں گے ورنہ اپ کو کوئی فیصلہ، فیصلہ نہیں ہوگا۔ مدارس اپنا وجود رکھتی ہے، اپنا حیثیت رکھتی ہے، اس کا اپنا ایک مقام ہے۔ اس کا مذاق مت اڑاؤ، تم بھی کسی مولوی کے ساتھ زانوئے تلمذ بچھا کر مولوی بنے ہو۔ 

تو اس اعتبار سے ہمیں ایک پیج پہ انے کے لیے بالکل تیار ہیں اس کے لیے، ریاست کے ساتھ ہمارے ایسے تصادم نہیں ہے کہ اگر وہ بات کرنا چاہے لیکن نیت صاف ہونی چاہیے، نیت ٹھیک کرو ہم بالکل بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تو یہ کچھ ضروری گزارشات میرے ذہن میں تھی پتہ نہیں کیا اہمیت کے حامل ہوں گی اپ کے سامنے رکھ دی میں نے، اس کے بعد اپ جو رہنمائی فرمائیں گے ان شاءاللہ

افغانستان کے حوالے سے اتا ہوں بات یہ ہے اب حضرت افغانستان سے پہلے انہوں نے جو اٹھارہ سال سے کم عمر کی بات کی ہے اپ علماء کرام ہیں اتنی مضحکہ خیز قانون میں نے دنیا میں نہیں دیکھا، کہتے ہیں کہ اگر اٹھارہ سال سے پہلے شادی ہوئی تو اس کو جنسی زیادتی سے تعبیر کیا جائے گا اور اس کو زنا بالجبر کہا جائے گا، لیکن اگر بچہ پیدا ہو گیا تو وہ جائز ہوگا اور کفالت والد پر ہوگی اور جیل سے کفالت کرے گا۔ یہ مضحکہ خیز قسم کے قانون، کچھ خدا کا خوف کرو یار، بلوغت کے لیے شرعی قواعد ضوابط موجود ہے اور علمی لحاظ سے کیا اس کے لیے عمر کی کوئی قید ہے ؟ اور پھر اس کے اغراض و مقاصد جو مسودے کے پیچھے لکھے ہوئے ہیں کہ یہ اقوام متحدہ کے منشور کی پیروی میں ہم کر رہے ہیں۔ بھئی تم نے قران و سنت کا حلف لیا ہے، تم نے اس ائین کا حلف اٹھایا ہوا ہے، تم نے اقوام متحدہ کے منشور کا حلف نہیں اٹھایا، اپنے حلف پہ جاؤ، تم اپنے حلف سے روگردانی کر کے اس کو توڑ کر بین الاقومی وہ قوانین جو ہمارا ائین اس کی اجازت نہیں دیتا اس کے پیروی کر رہے ہو کیوں؟

جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے، حضرت بات یہ ہے کہ اگر ہم جنگجویانہ ذہنیت کا تجزیہ کریں، جنگجویانہ ذہنیت کا، جہاں پر 1980 سے پہلے سے لے کر اج 2025 تک جنگ ہو رہی ہو اور ہم نے اپنے ملک کے جوانوں کو جانے دیا چاہے روس کے خلاف جنگ تھی یا امریکہ کے خلاف کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی، ہم نے ان کو جنگ کی تربیت دی، کلاشنکوف کی تربیت سے لے کر کروز میزائل تک کی تربیتیں ہم نے ان جوانوں کو دی، کیا وقت کے ساتھ ساتھ اس سوسائٹی میں ایک جنگجویانہ طبقہ پیدا نہیں ہوگا۔ سو وہ ہم نے بنایا ہے؟ کسی مدرسے والوں نے ان کو یہ تربیت دی ہے؟ کوئی جمیعت والوں نے اس کو تربیت دی ہے؟ دوسری تنظیمیں بیٹھی ہوئی ہے کیا انہوں نے کوئی تربیت دی ہے؟ تربیت دی ہے یا امریکنز نے اکر یا نیٹو کے لوگوں نے اکر یا ہمارے اپنے جرنل نے تربیت دی ہے اور ایک جنگجویانہ طبقہ پیدا کرکے پوری قوم کے لیے عذاب بنا دیا انہوں نے، اج ہمیں کہتے ہیں جی کہ افغانستان سے وہاں ان کی تربیتیں ہیں افغانستان میں بھیجا کس نے ہے؟ 20 سال افغانستان میں امارت اسلامیہ کے لوگ امریکہ کے خلاف لڑتے رہے اور تم نے سرحدیں کھول دی تھی، یہاں سے نوجوان جا رہے ہیں اور جا رہے ہیں اور لڑ رہے ہیں اور اپ تھپکیاں دے رہے ہیں زبردست زبردست زبردست، اب یہ ایک طبقہ پیدا ہو گیا۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اگر افغانستان سے ہمیں کوئی شکایتیں ہیں کہ وہاں سے کوئی نوجوان ا رہے ہیں اور مراکز وہاں پر ہیں میں سمجھتا ہوں یہ شکایت اپنی جگہ پر بجا ہے لیکن شکایت کا ازالہ کیسے کیا جائے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ میں بھی یہ نہیں چاہتا اور میں بھی اس کے خلاف ہوں کہ افغانستان سے وہاں پر مراکز ہوں اور وہاں سے مسلح لوگ پاکستان میں ا کر کاروائیاں کریں، اپ بھی نہیں چاہتے، پاکستان بھی نہیں چاہتا، ریاست بھی نہیں چاہتی، مذہبی جماعتیں بھی نہیں چاہتی۔ تو ایک شکایت ہے اور میں اس کے لیے خود گیا ہوں افغانستان کچھ علماء کرام یہاں بیٹھے ہوں گے جو میرے ساتھ گئے تھے اور ہم نے وہاں پر ہر سطح پر گفتگو کی ہے اور تمام چیزوں کے حل نکالے، مہاجرین کا مسئلہ، تجارت کا مسئلہ، سرحدات کا مسئلہ اور یہ جو مسلح تنظیمیں ہیں ان کا مسئلہ تمام چیزوں کے حل ہم نے نکالے، لیکن میں یہ سوال اگر کروں کہ وہ ریاست جس نے میرے سامنے آٹھ دس جنرلز کی موجودگی میں، سیکرٹری خارجہ کی موجودگی میں، مجھے کہا مبارک ہو اپ نے جو کچھ کیا ہم اس کو اپریشیٹ کرتے ہیں اور یہ بھی کہا کہ اپ اس کا کوئی میکنزم دیں کس طرح اس پر عمل درامد کیا جائے۔ میں نے کہا یہ میری ذمہ داری نہیں ہے یہ سٹیٹ کی ذمہ داری ہے دونوں سٹیٹ اپس میں اس کا میکنزم بنائیں اگر اپ کو تعاون کی ضرورت پڑی ہم تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ وہ کامیابی جو ہم حاصل کر کے لائے تھے ہم برقرار کیوں نہیں رکھ سکے؟ اور اس سے بڑھ کر سوال یہ ہے کہ پاکستان کو 78 سال سے ایک پرو پاکستان افغانستان چاہیے، ظاہر شاہ سے لے کر اشرف غنی صاحب مسلسل پرو انڈین افغانستان موجود ہے، پرو پاکستان افغانستان موجود نہیں ہے سوائے امارت اسلامیہ کے، کہ یہ ایک طبقہ ہے کہ جس کو پرو پاکستان کہا جاتا ہے اگر وہاں پر حکومت ہوگی تو افغانستان کو ایک پرو پاکستان افغانستان تصور کیا جائے گا۔ لیکن ایک مسئلے پر اختلاف ہو گیا، ناراضگی ا گئی، اب ناراضگی اس کے بعد اپ وہاں سٹرائیک کریں، جب کابل پر اپ بمباری کریں گے تو ظاہر ہے کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپ کی اسلام اباد میں بمباری کر لے تو اخری حد ہو جاتی ہے نا، دور دراز کے علاقوں میں اگر اپ کرتے تو شاید کچھ برداشت ہو جاتی تو وہاں پر بھی اپ نے کچھ کاروائیاں کی ہیں اگر اپ کہتے ہیں میرے سوالات ہیں کہ ہم نے اپنے دشمن کے مراکز پر سٹرائک کیا ہے اور اپ اس کو ایک جائز بیانیہ کہتے ہیں، تو ہندوستان اپ سے کہتا ہے کہ میں نے بہاولپور میں حملہ کیا ہے میں نے مریدکے میں حملہ کیا ہے، میں نے کشمیر میں ہمارے خلاف کاروائیاں کرنے والوں کے مراکز پر حملے کیے ہیں، آپ اس پر اعتراض کیوں کرتے ہیں، اور اگر آپ اس پر اعتراض کرتے ہیں اور ادھر سے اپ کا یہی الزام افغانستان کے حوالے سے ہے دونوں میں اپ کیسے مطابقت پیدا کریں گے، یا اس کو سپورٹ کریں گے یا اپنے اپ کو غلط کہیں گے نمبر ایک، دوسرا یہ کہ ایران کے بارے میں اپ نے کہا کہ بلوچستان کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے اس کے مراکز ایران میں ہیں اور اپ ایران میں جا کر سٹرائک کیا اور اس کے بدلے میں ایران نے اپ کے علاقے میں سٹرائک کیا اور اپ نے کہا کہ وہاں پر ہمارے دشمنوں کے مراکز ہیں اب بات یہ ہے کہ موقف ایک افغانستان کے بارے میں بھی اور ایران کے بارے میں بھی لیکن رویوں میں فرق کیوں ہے، اس لیے کہ ایران کی حکومت اسٹیبلش ہے اور ابھی دنیا اس کو اکھاڑنے کے ہمت نہیں کر رہی اور افغانستان کی حکومت اپ کو غیر مستحکم نظر ارہی ہے لہذا ادھر رویہ اور اور ادھر رویہ اور، تو یہ جو دنیا میں رویہ اپنا رہے ہیں اس پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور ہمیں اس حوالے سے ایک متوازن رائے دینی ہوگی، ہم اپنے اکابرین سے، اپنے حکمرانوں سے، اپنے اسٹیبلیٹمنٹ سے یہ امید رکھتے ہیں کہ یہ علماء کرام اور اس کے یہ جماعت اگر اپ کو کوئی تجاویز دینا چاہیں تو اپ اس کو ٹھنڈے دماغ کے ساتھ بیٹھیں اور اس پر غور کریں۔ افغانستان کے ساتھ بات ہونی چاہیے اب شکایت مجھے ہے کہ پاکستان کے اندر کاروائیاں ہو رہی ہیں اور مراکز افغانستان کے اندر ہے اور تمام ملبہ ا رہا ہے مہاجرین کے اوپر، بھئی سٹیٹ کا سٹیٹ سے گلہ ہے اور عوام جو مہاجر ہیں چالیس سال سے یہاں رہ رہے ہیں یا پینتالیس سال سے یہاں رہ رہے ہیں، سارا ملبہ ان کے اوپر گرتا ہے، اٹھا اٹھا کر اپ ان کو پھینک رہے ہیں، پھینک رہے ہیں۔ حالانکہ مہاجر جب ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتا ہے اس کے بعد ایک وقت اتا ہے جب یہ دو ملکوں کا باہمی مسئلہ بن جاتا ہے۔ پھر دونوں اس پر بیٹھ کر اس کا طریقہ کار ڈھونڈتے ہیں۔ ہرچند کے اج کہا جاتا ہے کہ افغانستان میں امن ہے مہاجر کو واپس جانا چاہیے لیکن اس طرح نہیں کہ چالیس سال اپ نے مہمان رکھا اب اس کو لات مار کر گھر سے اپ نکال رہے ہیں مہمان داری گئی۔

تو اس میں بھی بین الاقوامی اخلاقیات، بین الاقوامی قوانین بین الاقوامی رویے اس کے اپنانے کی ہمیں ضرورت ہے۔ یہ کچھ چیزیں تھی جو ہم چاہتے ہیں کہ ہم یہاں سے ایک ایسا پیغام دیں امارت اسلامیہ افغانستان کو بھی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بھی، کہ وہ اس خطے میں باہمی تعلقات کو اعتدال میں رکھنے اور دوستی کی طرف قدم بڑھانے میں ہم اس پہ کوئی کردار ادا کر سکیں اور پاکستان کے اندر جو مسلح کاروائیاں ہو رہی ہیں اس پر بھی ہمیں ایک واضح موقف دینا چاہیے اور موثر پیغام دینا چاہیے کہ پاکستان کے اندر اس قسم کی کاروائیاں وہ علماء کی رائے نہیں ہے، وہ مدارس کی رائے نہیں ہے، وہ دینی قوتوں کی رائے نہیں ہے۔ اور جو کچھ ہو رہا ہے یہاں کے علماء کے رائے کے خلاف ہو رہا ہے۔ یہ چیز پر ہم اگر واضح ہو جائیں تو ان شاءاللہ العزیز مزید ہم اس میں بہتر پیش رفت کر سکیں گے

ان شاءاللہ

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اگلی خبر مولانا فضل الرحمن صاحب کا لاڑکانہ میں جامعہ... پچھلی خبر مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہ کی گورنر ہاؤس...