۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
13 August 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

مولانا فضل الرحمن صاحب کا لاڑکانہ میں جامعہ اسلامیہ اشاعت القران والحدیث میں تقریب سے خطاب

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۲۳ دسمبر ۲۰۲۵

قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کا لاڑکانہ میں جامعہ اسلامیہ اشاعت القران والحدیث میں تقریب سے خطاب

23 دسمبر 2025

الحمدُ للہ، والصلاۃُ والسلامُ علیٰ رسولِ اللہ، وعلیٰ آلہٖ وصحبہٖ ومن والاہ۔ أمّا بعدُ: فأعوذُ باللہِ من الشیطنِ الرجیم، بسمِ اللہِ الرحمٰنِ الرحیم۔ يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ۔ صدق اللہ العظیم۔

حضراتِ اکابر علماء کرام، مشائخ عظام، فضلاء کرام، میرے بزرگو، دوستو اور بھائیو!

میرے لیے انتہائی سعادت کی بات ہے کہ میں اپنے اس جامعہ، جامعہ اسلامیہ اشاعت القرآن والحدیث، میں حاضر ہوا ہوں اور فضلائے کرام کی دستار فضیلت کی اس تقریب میں آپ کے ساتھ شریک ہو رہا ہوں۔ سب سے پہلے میں جامعہ کے فضلاء کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ان بچوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جو قرآن کریم کے حفظ کی دولت سے مالا مال ہوئے ہیں۔

اور یہی وہ خصوصی امتیاز ہے جو تمام انسانیت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے۔ علم تو اللہ نے تمام انسانیت کو عطا کیا ہے اور ساری بنی آدم وہ دنیا کی ہر چیز کا علم حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہے، چاہے وہ مسلمان ہو، چاہے غیر مسلم ہو، کسی بھی مذہب سے وابستہ ہو یا سرے سے مذہب کو نہ مانتا ہو، لیکن وہ پوری دنیا کے ادراک کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ نئی ایجادات، نئے انکشافات، نئی تخلیقات، سائنس، ٹیکنالوجی، سب کچھ کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔

لیکن جو اللہ نے خصوصی اور امتیازی علم آپ کو عطا کیا ہے: الرحمٰن، علَّم القرآن، تو یہ جو قرآن کا علم ہے، یہ مومنین کا خصوصی امتیاز ہے۔ اور ان مدارس میں، ان مسلمانوں کو جہاں قرآن کریم کی تعلیم دی جاتی ہے، اس خصوصی امتیاز سے ربُّ العزت نے آپ کو نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ پوری امت کو اس کی برکات سے مالا مال فرمائے۔

میرے محترم دوستو! مشکل یہ ہے کہ آج قرآن و حدیث کا یہ علم، جو مدارس کے ذریعے دنیا میں پھیل رہا ہے اور صدیوں سے یہ مدارس ان علوم کی حفاظت کر رہے ہیں، عالمی قوتوں سے اگر ہمیں خطرہ ہو تو ہمیں ان سے گلہ نہیں، گلہ ہمیں اپنوں سے ہے کہ ہمارے اپنے حکمران وہ ہمارے لیے تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ مدارس کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

اور صرف مدارس کے لیے مشکلات پیدا نہیں کر رہے، وہ اسلامی معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں۔ حال ہی میں جو قانون سازی کی گئی ہے، آپ خود اندازہ لگائیں: 18 سال سے کم عمر کے بچے اگر شادی کرتے ہیں تو ان کی شادی کو 18 سال سے پہلے جنسی زیادتی سے تعبیر کرتے ہیں اور زنا بالجبر کے برابر سمجھتے ہیں۔ یعنی ایک جائز نکاح اور ایک پاک معاشرتی زندگی، اس کے لیے تو قوانین بنا کر مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں، لیکن ہمیں معلوم ہے کہ انہی اسمبلیوں میں انہی حکمرانوں نے وہ قوانین پاس کیے جن میں زنا کے لیے سہولتیں مہیا کی گئیں۔

یہ کیسا اسلامی جمہوریہ ہے؟ کس طرح ہم اپنے آپ کو اس بات پر فخر کے ساتھ اسلامی کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک اسلامی جمہوریہ میں رہتے ہیں؟ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ کہلاتا ہے، جس اسلامی جمہوریہ کے حکمران زنا کے لیے تو آسانیاں پیدا کریں، لیکن حق نکاح اور جائز نکاح کے لیے مشکلات پیدا کریں۔ یہ ہمارے ملک میں ہورہا ہیں، یورپ میں جنس کی تبدیلی، یہ ایک ایسا عجیب تصور ہے، یہ صرف اس حد تک محدود نہیں کہ ایک عورت چاہے کہ میں مرد بن جاؤں یا ایک مرد چاہے کہ میں عورت بن جاؤں، بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہر انسان کو حق دیا جائے کہ اگر وہ کتا بننا چاہے تو کتا بن جائے، اگر وہ گدھا بننا چاہے تو گدھا بن جائے، اگر وہ کوئی اور حیوان بننا چاہے تو وہ حیوان بن جائے۔

اب وہ تصور، جو مغرب کا حیوانیت کا تصور ہے، وہ ہمارے حکمران ہماری پاک مسلمان امت اور قوم پر مسلط کر رہے ہیں۔ شرم کرنی چاہیے، اپنی تاریخ پڑھو۔ کہتے ہیں ہم اللہ اور رسول کو مانتے ہیں، مانتے ہو تو پھر عمل کرو۔ ماننے کی تصدیق تو عمل سے ہوگی، عمل آپ کا کچھ ہو تو ماننا مشکوک ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ آپ توبہ نہ کریں، یہاں تک کہ آپ اپنے رب سے معافی نہ مانگیں۔

تو ہم جس ماحول میں جی رہے ہیں اور جس ماحول میں آگے بڑھ رہے ہیں، اس ملک کو ان شاء اللہ ایک مکمل اسلامی جمہوریہ بنانے کے لیے اب اگر کوئی باقی نہیں رہا تو ان شاء اللہ جمعیت علماء اسلام کے یہ پروانے اس میدان میں قربانیاں دیں گے۔ ہم اس ملک کو تمہارے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔

تمہاری حکومتیں غرور کرتی ہیں کہ ہم حکمران ہیں۔ میں کہتا ہوں: تم حکمران نہیں ہو، تم دھاندلی سے آئے ہو، تم نے اسمبلیاں خریدی ہیں، عوام کی رائے کو تبدیل کیا گیا ہے۔ جب آپ کے ہاتھ پر عوام کی بیعت ہی نہیں ہے۔ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ووٹ بیعت ہے، اگر اس میں دھاندلی کی جائے، ووٹ تبدیل کر دیے جائیں، جھوٹ بولا جائے اور پیسے کمائے جائیں، تو اس کے بعد وہ بیعت نہیں رہتی۔ ہم تو اس کے قائل نہیں ہیں، اور ہم ایسے حکمرانوں کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

تو میرے محترم دوستو! ایک سال پہلے آئین میں ترمیم ہوئی، جسے 26ویں ترمیم کہتے ہیں۔ جمعیت نے ایک مہینہ اور ایک ہفتہ مذاکرات کر کے ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا اور تمام غلطیوں سے اسے پاک کر کے انہیں سمجھوتے پر مجبور کیا۔ ساتھ ہی اس ترمیم میں ہم نے سود کے مکمل خاتمے کا فیصلہ لیا، دینی مدارس کے رجسٹریشن کا فیصلہ لیا، وفاقی شرعی عدالت کو طاقتور بنانے کا فیصلہ لیا، اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو اسمبلی میں بحث کے لیے لانے کا فیصلہ لیا۔

ایک سال گزر گیا ہے، اب تک اسلامی نظریاتی کونسل کی کوئی رپورٹ پاس ہونے کے لیے پیش نہیں کی گئی۔ اس سے ان کی بدنیتیوں کا اندازہ لگائیں۔ اور اب ایک سال کے بعد آپ مجھے بتائیں: ایک سال پہلے تمہارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں تھی، اب ایک سال کے بعد دو تہائی کہاں سے پیدا ہو گئی؟ کوئی الیکشن ہو گئے ہیں جن کے بعد نئے نتائج سامنے آ گئے ہوں؟ اس وقت تمہارے پاس اکثریت نہیں تھی اور اب تمہارے پاس اکثریت آ گئی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے خرید و فروخت کی ہے، تم نے ان کے ہاتھ مروڑے ہیں، تم نے ان پر جبر کیا ہے۔

اور جبر کی بنیاد پر پاس ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم کو ہم تسلیم نہیں کرتے۔ اور پھر یہ قوانین کہ جن میں جنس کی تبدیلی کو جائز قرار دے دیا جائے، یہ ترامیم کہ 18 سال سے پہلے کے نکاح کو جنسی زیادتی اور زنا بالجبر کے درجے میں ڈال دیا جائے، کوئی خدا کا خوف ہے یا نہیں؟

تو میرے محترم دوستو! اس محاذ پر ہماری جدوجہد جاری ہے۔ ابھی حال ہی میں انہوں نے ایک کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا، اور وہ کمیشن ہے اقلیتوں کا کمیشن۔ اقلیتوں کے کمیشن میں انہوں نے جو قوانین مرتب کیے، اس میں یہاں تک ایک جملہ ڈال دیا کہ اقلیتوں کے حوالے سے یہ قوانین تمام قوانین پر بالاتر ہوں گے۔

ہم نے کہا کہ یہاں ایک سپریم کورٹ تھی اور سپریم کورٹ کے ایک چیف جسٹس تھے، نسیم حسن شاہ صاحب۔ ان کے سامنے یہ کیس آیا کہ قرآن و سنت کو پورے آئین پر بالادستی حاصل ہونی چاہیے۔ تو انہوں نے فیصلہ دیا کہ نہیں، تمام دفعات برابر حیثیت رکھتی ہیں، ورنہ اگر ایک بھی شق کو بالادستی دے دی جائے تو پورے آئین کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ فیصلہ تمہاری سپریم کورٹ نے دیا تھا۔

آج اقلیتوں کے حوالے سے تم قانون سازی کر رہے ہو اور ان قوانین کو تمام قوانین پر فوقیت دے رہے ہو، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام قوانین بے معنی ہو جائیں گے، اور ہر قانون پر لوگ عدالت میں جائیں گے کہ یہ چونکہ اس قانون سے متصادم ہے لہٰذا اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔

اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قادیانی آئیں گے اور کہیں گے کہ ہمارے حوالے سے جو قوانین تھے وہ چونکہ ان قوانین سے متصادم ہیں، لہٰذا ہمارے خلاف جو فیصلے ہوئے ہیں انہیں واپس لیا جائے۔ یعنی قادیانیوں کو راستہ دینے کی کوشش کی گئی۔ بڑا خفیہ راستہ تھا، پتہ نہیں چل رہا تھا، لیکن الحمدللہ ہم نے وہ باریکی پکڑی اور وہیں پر انہیں دبوچ لیا اور اس قانون کو واپس لینے پر مجبور کیا۔

تو یہ آپ حضرات کی دعاؤں کا اثر ہے۔ آپ اسی ہمت کے ساتھ جمعیت علماء اسلام کو سپورٹ دیں، اس کی تائید کریں۔ ان شاء اللہ العزیز، اس جبر سے ہم پاکستان کو آزادی دلا سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اگلی خبر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا سکھر میں خدمات... پچھلی خبر مولانا فضل الرحمن مدظلہ کا مجلس اتحاد امت...