قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا سکھر میں خدمات دینی مدارس کانفرنس سے خطاب
24 دسمبر 2025
الحمدللہ، الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ ومن بھدیھم اھتدی۔ أَمَّا بَعْدُ. فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا۔ صدق اللّٰہ العظیم
برادر مکرم حضرت مولانا سعود افضل صاحب، سٹیج پر موجود اکابر علماء کرام، مشائخ عظام، میرے انتہائی قابل احترام فضلاء کرام، طلبہ عزیز، بزرگان ملت، میرے دوستو اور بھائیو! میں دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں کہ ماضی کی طرح ایک بار پھر جامعہ حمادیہ نے اپنے اس مبارک اجتماع میں مجھے شرکت کی سعادت بخشی ہے اور جب اس جلسے کے لیے دعوت دی جاتی ہے تو ہمت نہیں ہوتی کہ کوئی عذر کر سکوں اور سوائے قبولیت کے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
یہ ہمارے مخدوم مکرم حضرت مولانا محمد مراد صاحب رحمہ اللہ کی دینی اور علمی خدمات کا شاہکار ہے اور آج وہ ہم میں نہیں، لیکن ان کی روحانیت اور ان کی نورانیت وہ آج بھی اس محفل کو روشنی دے رہی ہے اور ہم اس روشنی میں بیٹھ کر اپنے مستقبل کو تیار کر رہے ہیں۔
میرے محترم دوستو! ان مدارس نے جن علوم کو تحفظ دیا ہے یہ علوم اللہ رب العزت کی خصوصی عنایت ہے، علم تو ویسے بھی بہت بڑا نور ہے جس کو نصیب ہو گیا اس نے دنیا میں بہت کچھ پا لیا، علم اللہ کی ایک نعمت ہے، روشنی ہے، ایک رہنمائی ہے اور انسان اپنی ہدایت کے لیے علم حاصل کرتا ہے۔ لیکن کچھ ہماری عادتیں خراب ہو گئی ہیں، کچھ ہماری تربیت میں فرق آ گیا ہے، پوری دنیا میں جب نوجوان پڑھتے ہیں تو وہ علم حاصل کرتے ہیں معیشت کے لیے، ملازمت کے لیے، میں پڑھوں گا تو مجھے نوکری ملے گی۔ حالانکہ علم تو انسان کو انسان بنانے والی چیز ہے، اگر علم نہیں ہے تو پھر حیوان اور انسان میں فرق کس چیز کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام حیوانات کے مقابلے میں جہاں انسان کو بہت سے امتیازات سے نوازا ہے، وہاں دو خصوصی امتیازات اللہ نے حضرت انسان کو عطاء کی ہے ایک عقل ہے، عقل بہت بڑا رہنما ہے، عقل ایک عظیم الشان نعمت ہے اور عقل سے انسان بات کو سمجھتا ہے، دوسرا امتیاز جو اللہ نے انسان کو عطاء کیا ہے وہ انسان کی زبان میں قوت گویائی ہے، قوت نطق ہے، اس قوت سے انسان دوسرے کو سمجھاتا ہے یعنی علم حاصل کرنا اور دوسروں تک علم پہنچانا، تعلیم اور تعلم، تدریس اور تدرس، یہ عقل سے اور زبان کی قوت گویائی سے ممکن ہوتا ہے۔ تو ظاہر ہے کہ جب عقل سمجھنے کے لیے ہے تو پھر اللہ کے نزدیک سب سے بنیادی مقصد، اولین مقصد عقل کا یہی ہو سکتا ہے کہ وہ سب سے پہلے اللہ کی وحی کو سمجھے اور اللہ کے دین کو سمجھے، سب کچھ سمجھ لیا لیکن اس کو یہ معلوم نہیں کہ حلال و حرام کیا ہے، اس کو یہ معلوم نہیں کہ میں نے کون سا کام کرنا ہے جس سے اللہ راضی ہو اور میں نے کس کام سے رکنا ہے جس سے اللہ ناراض ہو رہا ہے۔ تو یہ کافی نہیں ہے یہ تو صرف جیسے ہم محض روزی کمانے کے لیے علم حاصل کر رہے ہیں اور دنیا میں ہدایت پانا جیسا ہمارا مقصد نہیں ہے۔
تو میرے محترم دوستو! جو علوم آپ حاصل کر رہے ہیں انہی کے بارے میں اللہ نے فرمایا؛ الیوم اکملت لکم دینکم، آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے، واتممت علیکم نعمتی، اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے، ورضیت لکم الاسلام دینا، اور اسلام کو بطور نظام حیات کہ تمہارے لیے پسند کر دیا ہے۔ اب ایک اکمال دین ہے کہ دین مکمل اور کامل ہے یہ بہ اعتبار تعلیمات و احکامات کے ہیں، اللہ نے جو رہنمائی آپ کو جس محاسبت دینی تھی وہ وحی کے ذریعے آپ کو مکمل کر کے دے دی ہے۔ اب آپ نے آگے عقل کے ذریعے سے اسی وحی کی روشنی میں آگے بڑھنا ہے، اگر وحی کے روشنی ہے تو عقل کام کرے گا ورنہ عقل کام نہیں کرے گا۔ انسان کی آنکھیں ہیں، آنکھوں کی بینائی ہے، بینائی بالکل ٹھیک ٹھاک ہے لیکن جب تک خارجی روشنی اس کو مہیا نہیں ہے اپ اندھیرے میں بند کمرے میں جہاں کسی قسم کی روشنی نہ ہو، بینائی مکمل ہے لیکن اس کے باوجود آپ دیکھ نہیں پا رہے۔ تو اسی طرح عقل کو جب تک وحی کی رہنمائی حاصل نہیں ہے عقل اندھا ہے، عقل راستہ نہیں پا سکتا، واتممت علیکم نعمتی، اور میں نے تم پر اپنی نعمت تمام کر دی، ہمارے اکابر علماء کرام فرماتے ہیں کہ مکمل دین احکامات و تعلیمات کی بنیاد پر ہے لیکن اتمام نعمت اور مکمل نعمت اور تمام نعمت یہ اس مکمل دین کی حاکمیت اور اقتدار کی صورت پر ہے۔ تو اگر ہم نے اس نعمت کو حاصل کرنا ہے تو چھوٹی موٹی رہنمائی تو ہر جگہ مل جاتی ہے، آپ اس سے نماز کا طریقہ بھی سیکھ لیتے ہیں، روزے کے احکامات بھی سیکھ لیتے ہیں، زکوۃ کے احکامات بھی سیکھ لیتے ہیں، حج پہ جانے کا طریقہ بھی سیکھ لیتے ہیں، لیکن سب سے بنیادی چیز کہ اللہ کا دین حاکم ہو جائے، اللہ کے دین کا اقتدار آجائے، اس کی حاکمیت آجائے اس صورت میں یہ ایک تمام نعمت ہے۔ چنانچہ علماء فرماتے ہیں کہ جب حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص لائی گئی اور آپ کے چہرہ مبارک پہ ڈالی گئی تو آپ کی بینائی لوٹ آئی اور آپ دیکھنے لگ گئے تو پوچھا یوسف کو کہاں چھوڑ آئے ہو؟ تو اس نے کہا ملک مصر، وہ تو مصر کا بادشاہ بن گیا ہے۔ اندازہ تو تھا، خوابوں کے حوالے سے تو حضرت یعقوب کو بھی اندازہ تھا کہ بالآخر بننا اس نے بادشاہ ہی ہے۔ جب اس کو بتایا گیا کہ ملک مصر، وہ مصر کا بادشاہ بن گیا ہے تو پوچھتے ہیں؛ آپ نے کس دین پر ان کو چھوڑا ہے؟ تو وہ جواب دیتا ہے میں نے دین اسلام کو قائم کرتے ہوئے ان کو چھوڑا ہے۔ تو حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اب نعمت تمام ہوگیا۔
آج مشکل یہ ہے کہ اس علم کے راستے روکے جا رہے ہیں، علم تو سارا کا سارا ہے، وعلم آدم الاسماء کلھا، سب چیزوں کا علم حضرت آدم علیہ السلام کو دے دیا گیا، کائنات کی ساری چیزیں، نئی تحقیق و انکشافات، نئے ایجادات، نئی ٹیکنالوجی، نئی سائنس، یہ سب علم ہے اور ترقی کر رہی ہے لیکن ایک وہ علم خاص جو صرف مسلمانوں کے لیے امتیاز ہے وہ ہے الرحمن، علم القرآن، وہ رحمن کہ جس نے لوگوں کو قرآن کا علم دیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے وہ خصوصی علم عطا کیا ہے اور یہ خصوصی علم یہ ہمارے ان دینی مدارس میں نوجوانوں کو اور نسلوں کو دیا جاتا ہے اور مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ اگر مغربی دنیا، مغربی تہذیب غیر مسلم دنیا وہ اسلام کے ان علوم کا راستہ روکے سمجھ میں آتی ہے بات، لیکن ہمارے مسلمان حکمران جب مدارس کا پیچھا کرتے ہیں اس کو بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان علوم پر پابندی لگاتے ہیں، اس نظام تعلیم کو ختم کرنا چاہتا ہے، ان پر افسوس آتا ہے۔ یعنی امریکہ جس چیز کو خطرناک سمجھے ہمارا حکمران اس کو خطرناک سمجھتا ہے۔ اگر امریکہ شریعت کو خطرناک سمجھتا ہے تو پھر ہمارا حکمران بھی اس کو خطرناک سمجھتا ہے۔ اب آپ مجھے بتائیں لندن میں ایک میئر لندن کا کامیاب ہوتا ہے وہ مسلمان پڑھا لکھا ایک مسلمان اب لندن میں ہو اور بلدیاتی میئر ہو وہ لندن میں کیا شریعت لائے گا، کیا شریعت اس کا مقصد ہوگا، کچھ انتظامی معاملات اس کے ذمے ہوں گے، فنڈز ان کی ذمے ہوں گے، شریعت کے حوالے سے اس کا کیا تصور ہے، کیا سوچ ہے، لیکن ٹرمپ کہتا ہے کہ میں اس سے نفرت کرتا ہوں، وہ شریعت کی بات کرتا ہے اب نفرت کرنے کے لیے یہ بہانہ چاہیے اس کو اور بہانہ کیا کہ شریعت جرم ہے اس کی، اب جس عہدے کا شریعت کے نظام سے تعلق ہی نہیں ہے جس عہدے دار کا شریعت نافذ کرنے سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے ترقیاتی کام اور انتظامی امور کچھ ہوں گے جس پر وہ پیسہ خرچ کرنے کا اختیار رکھتا ہوگا لیکن چونکہ وہ مسلمان ہے صرف مسلمان ہونا اس پر لفظ چڑھا دیتا ہے کہ وہ شریعت لگاتا ہے، میری نفرت اس لیے ہے۔ مطلب یہ کہ یہ اظہار کر رہا ہے کہ میں شریعت سے نفرت کرتا ہوں۔ اب اگر وہ نفرت کرے گا تو ہم بھی بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم بھی پھر تجھ سے نفرت کرتے ہیں اور اپنے حکمرانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر اپنی قوم میں مقبول ہونا چاہتے ہو، اپنی قوم کے لیے قابل قبول ہونا چاہتے ہو، امت مسلمہ کے لیے قابل قبول ہونا چاہتے ہو تو مغرب کی پیروی مت کرو، دین اسلام کی پیروی کرو، لگتا ایسا ہے کہ ہم آج اس زمانے سے گزر رہے ہیں کہ جس زمانے کے بارے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛
لَتَبْتَبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعًا حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ الضَّبِّ اِنْ تَبِعْتُمُوهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهَ الْيَهُودَ وَالنَصَارَةَ قَالُوا فَمَنْ۔
ایک زمانہ آئے گا جب تم پچھلی امتوں کی پیروی بالشت بالشت اور قدم قدم اس طرح کرو گے کہ اگر وہ گوہ کی غار میں گھسنے لگے تو تم وہاں بھی ان کے پیچھے گھسنے کی کوشش کرو گے۔ یہ آج کل ہمارے حکمرانوں کے رویوں سے یہی چیزیں سامنے آ رہے ہیں اور ان چیزوں کو وہ حکمت اور مصلحت سے تعبیر کرتے ہیں، حکمت اور مصلحت یہ بڑے خوبصورت نام، ہم جب قرآن پڑھتے ہیں تو ہر جگہ ہمیں ملتا ہے، ہر جگہ ہمیں الکتاب والحکمہ کا لفظ ملتا ہے اور جس کو حکمت کی نعمت مل گئی اس کو بہت زیادہ خیر مل گیا۔ اب یہی حکمت جب آپ حدیث کی دنیا میں آتے ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں آتے ہیں تو وہاں پر الکتاب والسنہ، وہ سنت بن جاتی ہے۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے وہ حکمت جس کا ذکر اللہ اپنی کتاب میں اپنی کتاب کے ساتھ کرتا ہے۔ تو دین اسلام کو فروغ دینا، دین اسلام کے حاکمیت دینا، یہاں پر قانون سازیاں ہوتی ہیں خلاف شریعت قانون سازیاں ہوتی ہیں ایک دفعہ میرے پاس پرائم منسٹر صاحب آئے تھے تو میں نے ان سے کہا یہ کیا کر رہے ہو تم لوگ، تمہیں اللہ پر ایمان ہے، تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے، آپ کی ختم نبوت پر تمہیں ایمان ہے، تم اس کا اقرار کرتے ہو، پھر بھی آپ کو یہ خیال نہیں کہ اللہ تعالیٰ کیا کہہ رہا ہے آپ کے بارے میں، کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت اگر اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ دے چکے اس میں سرنو تبدیلی کا اختیار نہیں ہے تمہارے پاس، جب قرآن کریم صراحتاً اعلان کرتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلوں کے بعد تمہیں اس میں تبدیلی کا کوئی اختیار نہیں ہے، ہم کون ہوتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین جو کہتا ہے کہ حاکمیت اللہ رب العالمین کی ہے، جو کہتا ہے کہ اسلام پاکستان کا مملکتی نظام ہے، جو کہتا ہے کہ قرآن و سنت کے تابع قانون سازی ہوگی، جو کہتا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوگی۔ ان سارے واضح صراحتوں کے بعد ہمارے ملک میں قانون سازیاں ہوئیں اور پیچھے لکھا گیا، اغراض و مقاصد میں لکھا گیا کہ ہم یہ قانون سازی کیوں کر رہے ہیں، تو انہوں نے لکھا کہ اقوام متحدہ کی منشور کا تقاضہ ہے کہ ہم یہ قانون سازی کریں۔ تم نے پاکستان کے ائین کا حلف اٹھایا ہے یا تم نے اقوام متحدہ کی منشور کا حلف اٹھایا ہے۔ آپ نے تو قرآن و سنت کا حلف اٹھایا ہے، اپ نے تو اقوام متحدہ کا حلف نہیں اٹھایا، تو پھر کس مصلحت کے تحت ہم پاکستان میں غیر اسلامی قانون سازی کرتے ہیں۔
میرے محترم دوستو! ہماری کسی ذات سے لڑائی نہیں ہے اگر ہمیں پچھلے حکمرانوں سے اختلاف تھا اور ان کے ساتھ جنگ تھی تو آج کے حکمرانوں کو بھی ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ نظریات، عقائد، دین اسلام اور قیام پاکستان کے مقاصد پر ہم ہر حکمران کے ساتھ لڑائی لڑ سکتے ہیں، میدان میں نکل سکتے ہیں اور ان کے ساتھ جھگڑا کر سکتے ہیں۔
میرے محترم دوستو! پچھلے سال آئین میں ایک ترمیم کی گئی اور اس ترمیم میں جمعیت علماء اسلام نے مذاکرات کیے اور جمعیت علماء اسلام نے حکمرانوں سے منوایا کہ اب دو ہزار ستائیس کے بعد ملک کے اندر سود کا کوئی نظام نہیں ہوگا، ہمیں نظر آنا چاہیے نا کہ سود کے خاتمے کے لیے کام ہو رہا ہے، مختلف شعبے کام کر رہے ہیں، بینک کام کر رہے ہیں، لیکن اس حوالے سے بھی ہمیں کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی۔ آئین میں درج کر دیا گیا تھا کہ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ مؤثر ہوگا اس کے خلاف اگر اپیل کی جائے گی ایک سال کے اندر اندر اس اپیل پر فیصلہ آنا چاہیے اور اگر نہ آیا تو شریعت کورٹ کا فیصلہ موثر ہو جائے گا خود بخود، بجائے اس کے کہ ہم شرعی عدالت کے فیصلوں کو طاقتور بنائیں شرعی عدالت سے عدالت کی بلڈنگ ہی چھین لی گئی، اب وہ بیچارے جگہ پھر رہے ہیں کہ ہمیں بیٹھنے کے لیے جگہ ملے۔ ہم نے آئین میں یہ بات ڈلوائی تھی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات یہ بحث کے لیے ایوان میں پیش کیا جائیں گے ایک سال کا عرصہ ہو گیا کوئی ایک سفارش کی بحث کے لیے پیش نہیں کی گئی۔ یہ آئین پر تمہارا عمل ہے۔ اپنے آئین پر تمہارا عمل یہ اور عالمی قوتوں کے اشاروں پر اور ان کے دباؤ پر روزانہ قانون سازی کے لیے تیار ہو جاتے ہو تو یاد رکھو! ہماری ایک تاریخ ہے اور میں آپ حضرات سے کہنا چاہتا ہوں، علماء کرام سے کہنا چاہتا ہوں، ان فضلاء سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ آپ کی تاریخ ہے کہ آپ کی پشت پر تین سو سال کی تاریخ ہے کہ ہم نے اپنی آزادی اس پر سودا نہیں کرنا، اپنے دین پر ہم نے سودا نہیں کرنا، سب سے پرانی تاریخ آپ کی ہے۔ آپ کی سیاست اس برصغیر کا آغاز ہے ، آپ کی سیاست آزادی کا چراغ جلایا تھا اور 1803 میں حضرت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے انگریز حاکمیت کے خلاف جہاد کا فتوی دیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد بھی اگر تمہارے طور طریقے وہی ہیں انگریز اور مغرب کی پیروی کا، تمہارے اندر وہی زہر موجود ہے تو پھر یاد رکھو کہ اس طرح کی حاکمیت کے خلاف جہاد لڑنے کے جراثیم ہمارے اندر بھی زندہ ہیں۔
میرے محترم دوستو! یہ نظریات واضح ہیں، ہندوستان کا وفادار اگر انگریز کا مخالف ہے تو ہندوستان کا وفادار غدار کہلاتا تھا، اور ہندوستان کا غدار اگر انگریز کا وفادار ہے تو آج بھی وفادار، آج بھی اگر آپ اسٹیبلشمنٹ کے ہر اشارے پہ سلام کرتے ہیں چاہے پاکستان سے آپ کو کتنی محبت کیوں نہ ہو لیکن محبت کا پیمانہ یہاں کے اسٹیبلشمنٹ کی خوشامد کرنا ہے ورنہ آپ کی پاکستان کے وفاداری بھی قبول نہیں ہے۔ تو ہم بھی بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کو دشمن نہیں سمجھتے، بیوروکریسی کو دشمن نہیں سمجھتے، ہم آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں آپ ہمارے پاکستان کی وفاداری کو قبول کریں، آپ ہمارے پاکستان کی دوستی کو قبول کرے، اگر آپ نے غلط کیا تو ہم غلط کہیں گے۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے مسلمان کو جو نام دیا ہے شہداء علی الناس، لوگوں پر تم گواہ ہو، شہداء جمع ہے شاہد کی اور شاہد کہتے ہیں گواہ کو اور گواہ وہ ہوتا ہے جو چیز اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے زبان سے اسی طرح کہتا ہے اگر ہم تمہیں اسلام کے خلاف کردار ادا کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں خدا کی قسم ہم مداح سراح مولوی نہیں ہے سرعام آپ کے خلاف بات کریں گے، ہمیں اللہ نے گواہ کا نام دیا ہے تو پھر جو چیز نظر آئے گی اسی طرح بیان کریں گے ہم سے یہ توقع نہ رکھیں کہ ہم وہ مولوی ہیں کہ آپ ہمیں سامنے بٹھائیں گے اور ہم آپ کی مداح سرائی کریں گے۔ یہ قوم، پاکستان کے مسلمان یہ بڑے مردانہ وار سیاست کرتے ہیں، تو یہ سب مرد ہیں، مردوں کی طرح لڑنا ہے نہ خواجہ سراؤں کی طرح لڑنا ہے نہ مداح سراہوں کی طرح۔
تو ان شاءاللہ العزیز یہ مدارس بھی رہیں گے، ان شاءاللہ جمعیت علماء اسلام بھی رہے گی، اس میدان میں اپنی جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے اور ان شاءاللہ العزیز پاکستان کو ایک کامل اور مکمل اسلامی ریاست بنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہماری جدوجہد کو قبول فرمائے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

