۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
19 August 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۱۸ اگست ۲۰۲۶
مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو


18 اگست 2026


سوال و جواب
صحافی: اس فیصلے کے بارے میں اگرچہ یہ عدالتی فیصلہ ہے، آپ کی رائے کیا ہیں؟ کیا ایمپیکٹ ہوگا اس کا ملکی سیاست پر؟
مولانا صاحب: میرے خیال میں بہت دیر کر دی انہوں نے، یہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا، جس وقت مریض کو کوئی شکایت ہو جاتی ہے صحت کے حوالے سے، تو اس پر فوری کاروائی ہونی چاہیے تھی، اتنا لمبا عرصہ بلاوجہ ملک کے اندر ایشو پیدا کرنا، اس پر ایک بے قراری سامنے آ جاتی ہے، ان سے وابستہ جو حلقے ہیں ورکروں کے، لوگوں کے، وہ بلاوجہ ایک کرب سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ تو یہ فیصلہ بہت، اگر آنا تھا تو بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا اب بھی اگر آیا ہے، دیر آید درست آید۔

صحافی: مولانا صاحب پی ٹی آئی کی ایک ڈیمانڈ تھی کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق، ملاقات سے متعلق، انہوں نے یہ کہا تھا کہ ستائیس ستمبر کو بھرپور احتجاج بھی کریں گے اور اسلام آباد کی طرف مارچ بھی کریں گے، اب یہ فیصلہ آیا ہے تو آپ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو بھی اس حوالے سے نظر ثانی کرنی چاہیے؟
مولانا صاحب: حضرت یہ باتیں پی ٹی آئی کے اندرونی ہیں، مجھے ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ یہ فیصلہ پوری پارٹی کا تھا یا وزیراعلیٰ صاحب کا اعلان تھا، کیونکہ بعد کی جو کچھ خبریں ہم پڑھتے رہے اس سے اندازہ لگ رہا تھا کہ کچھ حلقے شاید اس فیصلے میں شامل نہیں تھے، لیکن پھر بھی ان کی پارٹی کا اندر کا معاملہ ہے اس سے ہمارا کوئی زیادہ سروکار نہیں ہے اور ابھی بھی انہوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ احتجاج برقرار رکھتے ہیں یا اب اس کو ملتوی کرتے ہیں۔

صحافی: مولانا صاحب صوبوں کے حوالے سے بڑی بحث چل رہی ہے آپ سمجھتے ہیں کہ اس وقت ضرورت ہے اور واقعی یہ نظام ناکام ہوئے جس کے لئے یہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹ آئیں گے وزیرا داخلہ کا ایک سٹیٹمنٹ بھی اس پہ آ چکا ہے۔
مولانا صاحب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں آپ میڈیا کے دنیا میں حمایت اور مخالفت اس کی لکیر نہ کھینچیں، یہ ڈیبیٹیوبل ایک ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوں سے بات ہو سکتی ہے، اصولی طور پر ایک مسئلہ کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر آپ جب آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے، اصولی طور پر آپ کو حق ہے آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں، وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنے شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے یہ کیا کر رہا ہے۔
تو وہ خواہ مخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے، تو میری اپنی ذاتی رائے جو ہے وہ یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹوں کے خلاف نہیں ہیں، ہم نے اس سے پہلے بہاؤلپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام جو ہے وہ صوبے کی تقسیم کیلئے آمادہ نہیں ہیں، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں، لیکن جو میری معلومات ہیں جب اس وقت صوبہ صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔
چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں میں، اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آسکے اور کمزور پوزیشن میں آئے اور بلاآخر ان کو وہ ایشو چھوڑنے پڑ گئے، آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کی اوپر کہ ان کو پتہ نہیں کتنے، اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے، کبھی آپ سولہ یونٹوں میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹوں میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔
تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر ڈیبیٹ کرتے رہیں میرا خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے، اس میں کوئی سنجیدگی ہے نہ اس کے لیے اس وقت کوئی اس وقت ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے، تو جب ماحول بھی نہیں ہے اس وقت اور تیاری بھی نہیں ہے اور خواہ مخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو اس کا پاکستان متحمل نہیں ہے جی، ہمارے حکمران تو حضرت اس وقت باہر دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر آپ سرخ قالین جو ہے اس سے لطف اندوز ہو رہے ہوں تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں، ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں، ہم نے تو امریکہ ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے جی، ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاع معاہدہ اس کو سپورٹ کیا ہے، ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے، مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے ہم خیر مقدم کریں گے، ایک اسلامی بلاک کا قیام یہ خود جمعیۃ علماء اسلام کی منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی ہم سپورٹ کریں گے اس کو جی۔

صحافی: مولانا صاحب یہ بتائیں کہ آپ کی بیانات کی ہم نے تصدیق ہوتے دیکھا حکومت کے اتحادی جماعت کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری سے، آپ نے بھی کہا کہ یہ دھاندلی کی پیداوار ہے، فیک ہے، جعلی ہے سارا سسٹم، انہوں نے بھی کہا کہ فارم سینتالیس کی پیداوار ہے وزیراعظم شہباز شریف، ایک تو یہ بتائیں کہ کیا اس کی جو ہے اس کی سیاسی جو بھی یہ تصدیق کیا اور اس وقت انہوں نے خاموشی اختیار کیا، جو فورم ہے آپ نے فورم پر بات کی پارلیمنٹ میں، پارلیمنٹ میں اس حوالے سے خاموشی ہے، تو کیا آپ اس کو کیا دیکھ رہے ہیں، کیا یہ کوئی حکومت کیا عام انتخابات کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں؟

مولانا صاحب: دیکھیے جو ان کے بیانات ایک دوسرے کے خلاف آئے ہیں وہ جب گلگت میں الیکشن ہو رہے تھے، پھر جب اس کے بعد کشمیر میں الیکشن ہو رہے تھے، تو چونکہ وہ ان کے درمیان کوئی اتحاد نہیں تھا ایک دوسرے کے خلاف بول رہے تھے، اب یہ خود تضاد کا شکار ہیں کہ کشمیر میں الیکشن ہوں تو ایک دوسرے پر الزامات لگائیں، کسی کو فارم سینتالیس کی پیداوار کہیں، کسی کو کرپشن کی پیداوار کہیں، کسی کو بدامنی کا ذمہ دار قرار دیں اور یہاں پر حکومت میں وہ اتحادی بھی اور کوئی بعید نہیں کہ اتنا کچھ ایک دوسرے کو سنانے کے بعد وہ کشمیر میں بھی ایک مشترکہ حکومت کی قیام پہ آمادہ ہو جائیں گے، تو ان کے مد نظر یہ صرف اقتدار اور ایک کرسی اور اس کے علاوہ کچھ نہیں، تو یہ سارا کچھ حضرت ہمارے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی ناک کی نیچے ہو رہا ہوتا ہے، آپ مجھے بتائیں کہ ایک طرف وہ کشمیری عوام کا ووٹ لے رہے ہیں اور نتیجہ جس طرح بن رہے ہیں اور سامنے آ رہے ہیں گلگت کس کو دینا ہے، تو کشمیر کس کو دینا ہے، یہ فیصلے کہاں ہو رہے ہیں؟ ایسے حالات میں مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اگر راولاکوٹ میں دو مہینے سے لوگوں کا دھرنا بیٹھا ہوا ہے اور ان کے مطالبات بھی کوئی ایسی باغیانہ قسم کے مطالبات نہیں ہیں، عام معمول کی زندگی اور ان کے حقوق کے حوالے سے متعلق معاملات ہیں، اس پر مذاکرات ایک دفعہ ہو بھی چکے ہیں، ایک دفعہ ان کے مطالبات تسلیم بھی کیا جا چکے ہیں، پھر اس کے بعد ان تمام تسلیم شدہ مطالبات کو دوبارہ معطل کر دینا اور باقاعدہ نوٹیفیکیشن کے ذریعے معطل کر دینا، اس کے بعد انہوں نے گولیاں چلائی ہیں، کوئی آسی سے نوے شہداء اس وقت دھرنا دینے والوں کے دامن میں پڑے ہوئے ہیں اور اس کے باوجود وہ دوسری مرتبہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ آپ ثالثی کا کردار ادا کریں ہم بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں، یعنی وہ کوئی جذبات میں نہیں آرہے کہ ہمارے سامنے لاشیں پڑی ہوئے ہیں اور ہم اب بھی مذاکرات کی بات کر رہے ہیں۔تو ان حالات میں کیا پیپلز پارٹی نے ان کشمیریوں کو جو دھرنا میں بیٹھے ہوئے ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں ان کے حوالے سے ایک لفظ کہا ہے؟ کیا مسلم لیگ نے جو اب وہاں حکومت بنانے کی طرف جا رہی ہے کیا انہوں نے ان کشمیریوں کے حوالے سے کوئی ایک لفظ کہا ہے؟ اور میں پی ٹی آئی کی بھی بات کروں گا کہ ان کو بھی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ ان لوگوں کے حوالے سے اور احتجاجی لوگوں کے حوالے سے جو مطالبات رکھتے ہیں کوئی ایک بات تو کرے، ایک لفظ تو بولے، اپوزیشن کا کام ہی یہی ہے کہ وہ پبلک کے ساتھ بیٹھے، پبلک کے ساتھ رہے جی۔تو ہم نے تو اسمبلی میں بھی یہ بات کہی کہ میرے پاس پوری لسٹ موجود ہے ان کے مطالبات کی، اس میں کوئی ایسا مطالبہ نہیں ہے کہ جو عام لوگوں کی ضرورتوں سے متعلق نہ ہو اور ان کے عام حقوق سے متعلق نہ ہو اور پھر آپ ان سے بات بھی کر چکے ہیں، تو ایک ایسی کمیٹی کہ جو سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہی نہیں ہے اور آپ کہتے ہیں ہم نے کالعدم قرار دے دیا، یعنی ایک مضحکہ خیز قسم کی بات ہے کہ جو پارٹی ہے وہ رجسٹرڈ نہیں ہے اور آپ کہتے ہیں ہم نے کالعدم قرار دے دیا۔تو یہ ساری وہ چیزیں ہیں کہ جس سے ہمارے ملک میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں، پھر ہمارا صوبہ جو ہے حضرت آپ لوگ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ہیں شاید آپ حضرات کو یہاں پر ادراک نہ ہو یا لاہور میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو اتنا ادراک نہ ہو کہ دریائے سندھ کے مغربی کنارہ جو ہے وہ وہاں کوئی رٹ اس وقت نہیں ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ لکی مروت ہو، بنوں ہو، ٹانک ہو وہاں پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے، وہاں پولیس نے کمیٹیاں بنا دی ہیں، پولیس نے ناکہ بندیاں کی ہوئی ہیں راستے روکے ہوئے ہیں، وہ نہ ڈی پی او کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں نہ ڈی آئی جی کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں اور نا آئی جی کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں اور مکمل طور پر انہوں نے خود اپنا کمانڈ بنا لیا ہے اور کمیٹیاں کا سربراہ جو کہتا ہے وہ اس طرح ہوتا ہے۔تو اس طریقے سے ابھی جو ہنگو میں واقعات ہوئے ہیں حضرت، پورا کمپاؤنڈ جتنا بھی تھا پولیس کا وہ طالبان نے گھیرے میں لے لیا اور پھر انہوں نے علماء کرام سے درخواست کیوں کہ آپ سے کچھ ہو سکے تو آپ ان لوگوں سے بات کریں اور پھر علاقے کے علماء کرام گئے وہاں پر اور انہوں نے ان سے بات کی اور ان سے کہا کہ ہم ان سپاہیوں کو پولیس والوں کو آزاد کریں گے، لیکن ان کو اسلحہ چھوڑنا پڑے گا اور ہم اس کا ویڈیو بھی بنائیں گے اور ڈی پی او نے کہا ٹھیک ہے ہمیں منظور ہیں، پھر اگلے دن پتہ چلا کہ چھ بندے ابھی بھی ان کے پاس ہیں، پھر علماء کرام کو درخواست کی، کہ جی اب ان کو بھی چھڑوائے، پھر علماء کرام اس کے پیچھے گئے اور انہوں نے چھ بندوں کو چھوڑا، اس طرح چھوڑا کہ ایک ایک پولیس والے کو گلے بھی ملے اور دس دس ہزار روپے بھی دیتے رہے وہ، وہ دس دس ہزار روپے بھی دیتے رہے یہ تو آپ کے پولیس کی حالت ہو گئی وہاں پر، اس وقت کرم اورکزئی کے علاقے وہاں پر تو اب کچھ بھی نہیں رہا۔ تو یہ سارا پشتون علاقہ ہے اور اس پشتون علاقے میں اور خیبر پشتون خواہ میں تو بلکل ہی رٹ ختم ہو چکی ہے حضرت، آپ ہماری بات مانیں یا تو یہ ہے کہ ہم عمدا اس کی اجازت دے رہے ہیں یا کوئی ڈیپ ایسی انڈرسٹینڈنگ ہے کہیں جو پبلک کو نظر نہیں آ رہی ہے اور یہ سارا کچھ ہو رہا ہے، بلوچ علاقے میں حضرت آپ چلتن کو عبور کریں تو اس سے آگے چاغی تک ہو یا آپ مستونگ اور خضدار تک جائیں آج صرف شہروں کو بچانے کے لیے، میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں صرف شہروں کو بچانے کے لیے شہروں کے گرد کھدائی کی گئی ہے اور اس کے اندر فوج نے مورچے سنبھال لیے ہیں اور وہاں پر ایک پیپرنٹ لے جا رہے ہیں تاکہ صرف شہر بچ سکے، ضلعی ہیڈکوارٹر بچ سکے، تحصیل ہیڈکوارٹر بچ سکے، باقی میدان دیہاتیں وغیرہ وہ ان کے حوالے ہیں، تو اس سنگینی کو آخر کیوں ایڈریس نہیں کیا جا رہا؟ اور اگر میں یہ بات کرتا ہوں تو مجھے کیوں مجرم کہا جا رہا ہے؟ صحافی چلے جائیں، عالم انسانی حقوق کی تنظیمیں آ جائیں باہر سے، وہ چلے جائیں وہ علاقوں میں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا تو حضرت اتنی اس صورتحال میں جبکہ آپ کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور بھائی جو ہیں وہ آپس میں بیٹھ کر اس گھر میں جس میں آگ لگی ہے آؤ ذرا اس گھر کو کیسے تقسیم کریں یہ کوئی معقول بات ہے، آپ نے آگ بجانی ہے یا آپ نے گھروں کو تقسیم کرنا ہے۔ تو صوبے بنانے کی بات بھی ایسی ہی ہے۔

صحافی: مولانا صاحب! یہ فرمائیں کہ آپ نے کچھ عرصہ قبل جب نواز شریف والا معاملہ ہوا تھا تو آپ نے کہا تھا کہ جس کو اقتدار میں لانا ہوتا ہے، اس کے تمام مقدمات ختم ہو جاتے ہیں، اور جس کو گرانا ہوتا ہے، اس کے ایک ہفتے کے اندر سارے مقدمات بن جاتے ہیں۔ تو جس طرح سے ابھی عدالتوں سے فیصلے آئے ہیں، اسی طرح نواز شریف اور الطاف حسین کے لیے مشین لندن سیکرٹریٹ پہنچ جاتے تھے۔ یہ جو کچھ ہوا ہے، آٹھ مہینوں کی قید تنہائی کے بعد، آپ کو یہ بلاوجہ لگتا ہے؟ اور
پھر اس کے ساتھ سینیٹر ناصر بٹ جو ہے انہوں نے ابھی پارلیمنٹ کے باہر کہا ہے کہ نواز شریف کے حکومت کے خلاف پھر سازشیں شروع ہوگئی ہے، اس پر آپ کیا کہیں گے؟
مولانا صاحب: اس کے جواب کے لیے تھوڑا کچھ وقت انتظار کر لیں خود جواب اجائے گا ان شاءاللہ۔

صحافی: مولانا صاحب یہ بتائیں کہ کل آپ افغان سفیر کی دعوت پر وہاں گئے اور آپ نے حکومت پاکستان کو اچھی تجاویز بھی دی، کیا اس پر عملدرآمد نظر ہوتا آرہا ہے؟ دوسرا قومی اسمبلی میں آپ کے سپیچ پر جو سنسر شپ لگی ہوئی ہے وہ ختم ہوگا یا جاری رہے گا؟
مولانا صاحب: اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ حکومت کس کی ہے۔ جمہوری حکومتوں میں حضرت! پارلیمنٹ جو ہے، وہ پوری قوم کی نمائندہ ہے، اور اس میں اگر حکومت بنچوں کی آواز آپ تمام نشریاتی اداروں کے ذریعے سے ملک تک پہنچانا چاہتے ہیں، عوام تک پہنچانا چاہتے ہیں، تو اتنا ہی برابر کا حق اپوزیشن کے ممبران کا ہے۔ وہ آپ پر تنقید کر رہے ہیں، قوم کو سننا چاہیے کہ کیا تنقید ہو رہی ہے۔ اگر وہ اسٹیبلشمنٹ سے شکایت کر رہے ہیں، بیوروکریسی سے شکایت کر رہے ہیں، ملک کے کسی گوشے سے اگر کوئی ایسے مسائل آتے ہیں جس پر اپوزیشن بات کرنا چاہتی ہے، آپ اس کی آواز کو دباتے ہیں، اس کا معنی یہ ہے کہ حکومت سیاستدانوں کی نہیں ہے، یہ عوام کے نمائندے نہیں ہیں، اصل حکومت اسٹیبلشمنٹ کی ہے، وہی نظام چلا رہی ہے۔
اور جب آپ بات کریں گے تو وہ کہیں گے کہ تو وہ ہمارے خلاف بول رہے ہیں، ہمارے خلاف بول رہے ہیں۔ بابا! ہم اس حکومت کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایک بات طے کرنی ہے کہ ملک کو آئین کے مطابق چلانا ہے یا ایک ادارے کی طاقت سے چلانا ہے۔
صحافی: مولانا صاحب! میری طرف سے ایک بڑا اہم سوال کرنا چاہتا ہوں۔ صرف یہ کہ ابھی تک صوبوں کے حوالے سے آپ نے بڑی اہم بات کی ہے۔ ابھی تک آپ کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ ہوا ہے صوبوں کے حوالے سے؟ اور آپ کیا چاہتے ہیں ڈیبیٹ کہاں ہو، پارلیمان کے اندر یا پہلے پارلیمان سے باہر سیاسی جماعتوں کے درمیان ہو؟ صوبوں کے حوالے سے ڈیبیٹ کا فورم کیا ہونا چاہیے؟
مولانا صاحب: میرا تو بس اس حد تک چلتا ہے کہ میں لیڈر آف دی اپوزیشن سے کہوں کہ وہ ایک اے پی سی بلائیں، اور اگر کوئی رکاوٹ ہے ان کے سامنے تو پھر ہمیں اجازت دیں ہم بلا لیں گے، لیکن کم از کم کوئی ایک فورم ایسا ہونا چاہیے جس پر مختلف لوگ بیٹھ کر اپنی رائے دیں، اپنی گفتگو کریں اور ملک کے جو حالات ہیں، زمینی حقائق ہیں، اس کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا تجزیہ ہونا چاہیے۔
اور بہتر یہ ہے، جو میں نے تجویز کیا تھا، کہ پارلیمنٹ کا یا قومی اسمبلی کا ایک اِن کیمرا اجلاس بلا لیا جائے اور حکومت باقاعدہ تمام ایوان کو یہ بتائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ میری مغربی سرحدیں بند ہیں، مشرق کی سرحدیں بند ہیں، چین کے ساتھ ہمارا کاروبار بند ہے، ہم نے ان کی انویسٹمنٹ ضائع کی ہے۔ تو آج ہم ان سے درخواست کر رہے ہیں کہ ایک سو ستر ارب ڈالر جو ہے، وہ ہمیں معاف کر دو، وہ ہماری درخواست کو مسترد کر رہا ہے کہ نہیں، معاف نہیں کریں گے۔ ایران جن حالات سے دوچار ہے، اس پر وہ پاکستان کی کیا مدد کر سکتا ہے؟
تو اس طرح پاکستان کو محصور بنا دیا ہے۔ ایک محصور ریاست میں اس وقت پاکستان کے عوام جو ہیں، وقت گزار رہے ہیں۔ پتہ نہیں کتنے کتنے میل اِدھر سے بھی ٹرک کھڑے ہیں، اُدھر سے بھی ٹرک کھڑے ہیں۔ پھل ضائع ہو گئے، سبزیاں ضائع ہو گئیں، اور جو ڈیورنڈ لائن کے ساتھ یا ہمارے فاٹا علاقوں کے جو تاجر لوگ ہیں، جن کے کاروبار کا انحصار صرف اور صرف افغانستان پر ہے، کوئی دوسرا طرف نہیں ہے، تو ان بیچاروں نے کون سا گناہ کیا ہے کہ ان بیچاروں کا سارا کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے؟ وہ بیچارے دربدر پھر رہے ہیں، بچوں کے لیے فکر مند ہیں۔
یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس پر ہمیں باقاعدہ پارلیمنٹ کو بھی بلانا چاہیے۔ اگر وزیراعظم صاحب پارلیمانی لیڈرز کو اِن کیمرا بلا کر ان سے بات کر سکتے ہیں تو پارلیمان کو بلا کر ان سے بات کیوں نہیں کر سکتے؟ اِن کیمرا رہے، محفوظ کریں، کوئی ریکارڈنگ اس کی نہ ہو، لوگوں کو آزادی سے بولنے دیں، خود بھی کھل کر بات کریں ہمارے سامنے، تاکہ ایک سنجیدہ ماحول کے اندر، جذبات سے بالاتر ہو کر، حقائق کی بنیاد پر اس کو زیر بحث لایا جاسکے۔

صحافی: آپ کے حالیہ بیانات میں، جس میں آپ نے اسٹیبلشمنٹ کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا، اس کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے لیے راہیں کھلنا شروع ہو گئی، سہیل آفریدی صاحب کے انٹرویوز بھی میڈیا پہ چلنے لگے، عمران خان کو منتقل کیا گیا، تو کیا یہ جمعیۃ علماء اسلام کا خوف تھا یا وجہ کچھ اور ہے؟ ساتھ ہی خیبر پختونخوا کے حوالے سے آپ نے بات کی، وہاں پر لشکروں کی باتیں ہو رہی ہیں، عوام کو لشکر بنانے کے لیے طرح سے اکسایا جا رہا ہے۔ تو اگر عوام نے یہ سب کچھ کرنا ہے تو پھر یہ ادارے کہاں پر ہے اور صوبائی حکومت کہاں پر ہے؟
مولانا صاحب: اسی وجہ سے میں نے یہ ضرور کہا ہے اور اب بھی میں اپنے موقف پر قائم ہوں کہ اگر آپ لشکر بنائیں گے، ایک تو یہ ہے لوگ خود لشکر بنا لیں۔ اب جب ایک گاؤں ہے یا ایک علاقہ ہے جہاں فوج بھی نہیں جا رہی، ان کو تحفظ نہیں دے رہی، پولیس بھی نہیں جا رہی، ان کو تحفظ نہیں دے رہی، اور ان کے اوپر مسلح گروہ جہاں وہ آ کر دھاوا بول دیتے ہیں یا ان علاقوں پر قبضہ کر لیتے ہیں، تو لوگ اگر اپنے طور پر کوئی مزاحمت کرتے ہیں، وہ تو ان کی مجبوری ہو سکتی ہے۔
لیکن جب حکومت کی طرف سے لوگوں کو ترغیب دی جاتی ہے تو یہ اصول ہمارے نزدیک کی ٹھیک نہیں ہے۔ ہم نے دیکھا ہے بنگلہ دیش میں 1971 میں جب ایک طرف مکتی باہنی بنی تھی عوامی لیگ کی نگرانی میں، اور دوسری طرف البدر اور الشمس کی تنظیمیں بنی تھیں، پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ ہو گئی، تو بنگلہ دیش تو بن گیا اور فوجیں تو آ گئی، انڈیا کی بھی چلی گئی اور پاکستان کی بھی واپس آ گئی، لیکن حسینہ واجد کی آخری حکومت تک بھی جماعت اسلامی کے لوگوں کو، البدر اور الشمس کے لوگوں کو پھانسیاں ملتی رہیں۔ وہ دشمنیاں ختم نہیں ہوتی۔
تو یہ تو قبائلی لوگ ہیں، وہ بھی مقامی ہیں، وہ جب ایک دوسرے کو قتل کر دیتے ہیں تو وہ تو بدلے پھر کئی نسلوں کے بعد بھی لے جاتے ہیں۔ تو اس مشکل سے لوگوں کو کیوں دوچار کیا جا رہا ہے؟ اور حکومت کہاں ہے؟ ہمارے جو لاء انفورسمنٹ کے جو ادارے ہیں، وہ کدھر ہیں؟ اور وہ کیوں ناکام ہو رہے ہیں؟ اور کیوں لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ اور تم لشکر بناؤ؟ اس کا معنی ہے کہ وہ اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں۔
تو یہ چیزیں ہمارے مدنظر ہیں۔ ہم سنجیدہ سوالات کر رہے ہیں، ہمارے سنجیدہ سوالات کو تنقید کہا جاتا ہے۔ تنقید نہیں ہے، یہ ملک ہمارا ہے، ہم پارلیمان کے لوگ ہیں، ہم آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم ملکی نظام کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم نے اس کے حلف اٹھائے ہوئے ہیں اور ہم اپنے حلف پر قائم ہیں۔ یہ تو وہ جواب دیں کہ جو انہوں نے حلف اٹھائے کہ ہم سیاست میں حصہ نہیں لیں گے، اور پوری سیاست ان کے کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے اپنا محاسبہ کرنا ہے۔

صحافی: میرا سوال یہ ہے جو آپ نے اسپیس کی بات کی، جو مجھے سمجھ آئی ہے اس وقت پولیٹیکل اسپیس جو ہے وہ نہیں ہے، سیکنڈلی لیڈر شپ آپ کہہ سکتے ہیں پریزیڈنٹ آصف علی زرداری اور میاں شہباز شریف، چوں کہ فرنٹ لائن کی جو لیڈر شپ تھی بینظیر بھٹو اور سابقہ پرائم منسٹر میاں نواز شریف صاحب، اگر آپ ان کیمرہ اجلاس اے پی سی بلاوا بھی کہتے ہیں ، پرائم منسٹر آف پاکستان آپ کو بریفنگ دے بھی دیتے ہیں، لیکن وہ جو آئین پر عمل درآمد ہے اور پھر جو سیاسی اسپیس ہے، کیا وہ سیاسی اسپیس مل جائے گی؟ یہ ایک پیج پر آ جائیں گے؟
مولانا صاحب: دیکھیے کوشش تو ہو۔ ہم جو تجاویز دیں گے، وہ اس لیے تو نہیں دیں گے کہ ہمیں پبلک سن رہی ہے اور ہم پبلک سے واہ واہ کی توقع رکھ رہے ہیں۔ صحافی لوگ ہمارے بارے میں کیا کیا ٹکر چلا رہے ہیں، وہ کیا خبریں ہمارے بارے میں پھیلا رہے ہیں، یہ چیزیں تو نہیں ہوں گی نا۔ بالکل خالصتاً، ہر ایک وہ بالکل حقیقت پسندانہ بنیادوں پر بات بھی کرے گا، تجویز بھی دے گا، اور ہم تسلی کے ساتھ، کیونکہ اسٹیٹ کا معاملہ ہوتا ہے، تو بعض دفعہ اسٹیٹ کے معاملات کے جو نازک پہلو ہوتے ہیں، حساس پہلو ہوتے ہیں، اس کے لیے اگر اِن کیمرا اجلاس ہو تو یہ روایات ہیں، ہر جگہ ہوتی ہیں، دنیا میں بھی ہوتی ہیں۔
صحافی: مولانا صاحب پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان کچھ ملاقاتیں بھی ہو رہی تھیں، بات چیت بھی ہو رہی تھی، اور ابھی حال ہی میں ترجمان کے پی کے حکومت نے کہا کہ ہمارے اور ان کے درمیان امید ہے جلد تحریری معاہدہ ہو جائے گا۔ اس حوالے سے کیا ڈویلپمنٹ ہے؟
مولانا صاحب: جہاں تک انہوں نے کہا ہے، وہ تو صحیح ہے۔ اس سے آگے نہ ان کو پتا ہے، نہ مجھے پتا ہے۔

صحافی: یعنی تحریری معاہدہ ہو جائے، وہ کہہ رہے ہیں کہ تحریری معاہدہ جلد ہو جائے گا۔
مولانا صاحب: یہاں تک پہنچنا چاہیے۔ یعنی اگر ہم نہیں پہنچ پا رہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟ ہم تو دو تین سال سے انتظار میں ہیں کہ ہم کسی ایک حتمی نتیجے پر پہنچ جائیں۔ صرف یہ بات کافی نہیں ہے کہ میں تحریک چلاؤں اور آپ میری تحریک کو سپورٹ کریں، مجھے افرادی قوت مہیا کریں، بلکہ جو ماضی کی تلخیاں ہیں، ان کے اسباب کیا تھے؟ ہمارا موقف کیا تھا؟ اختلاف کی وجوہات کیا تھیں؟ اس کو ہم کس طرح سمیٹیں گے؟ یہ ساری چیزیں جو ہیں، سنجیدہ گفتگو کی طلبگار ہوتی ہیں۔ تو یہ ساری چیزیں ہیں جس کے لیے ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایک اچھے ماحول کی طرف جانا چاہیے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان تلخیوں کا جو دور گزرا ہے، وہ ہمارے عمومی مزاج کے مطابق نہیں تھا، لیکن بہرحال ایک حادثہ سمجھیں یا جو بھی ہو، بہرحال ہم چاہتے ہیں کہ ایک معمول کے مطابق حالات لائیں۔ اختلاف بھی ہو، اختلاف دوسری پارٹیوں سے بھی ہوتا ہے۔

صحافی: مولانا! محسن نقوی کا بیان آپ نے سنا ہوگا۔ کیا آپ بھی سمجھتے ہیں کہ نظام واقعی فیل ہو چکا ہے؟ اور کیا شہباز شریف حکومت اور یہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کر سکیں گی یا اس سے پہلے آپ جاتے ہوئے دیکھتے ہیں؟
مولانا صاحب: دیکھیں! ایک ہے، میری بات میں تو یکسوں ہو کر اپنی پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے، اپنے حلقہ اثر کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک موقف دے رہا ہوں کہ سسٹم ناکام ہے۔ عوام کا فیصلہ کچھ ہوتا ہے، نتیجہ کچھ آتا ہے۔ جو لوگ اقتدار میں ہیں، عوام ان کو اپنا نمائندہ نہیں سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں ملک کے داخلی معاملات کے حوالے سے ان کی کارکردگی زیرو ہے، اور وہ صرف اپنے آپ کو قوم کے سامنے بطور حکمران ظاہر کرنے کے لیے پھر بیرون ملک ریڈ کارپٹ پر انحصار کر رہے ہیں۔ اچھی بات ہے، جہاں ان کی عزت ہوتی ہے ہم بھی سمجھیں کہ پاکستان کی عزت ہے، لیکن تو درونِ درچ کر دی کہ برونِ خانہ آئی، تو ذرا کچھ ملک کے اندر جو صورتِ حال ہے، آگ جل رہی ہے اور آپ جا رہے ہیں دوسرے گھر میں کھانے جو ہے، انجوائے کر رہے ہیں، تو یہ بڑی عجیب سی صورتِ حال بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سسٹم جو ہے، وہ بہرحال اس وقت پاکستان میں نہیں ہے۔ جمہوریت نہیں ہے، آئین نہیں ہے، قانون نہیں ہے، صرف ایک شخص یا اس کا ادارہ، وہی اب ملک کا آئین، وہی ملک کا قانون، اسی کی زبان قانون، اسی کا فیصلہ قانون۔ اس طرح ملک کیسے چلے گا؟
صحافی: مولانا صاحب! اصلاحی پہلوؤں کے لیے، کیونکہ پورے ادارے کو صحیح کرنا یا نظام کو ایک ساتھ صحیح کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے، ایک ایک سٹیپ لے لیا جائے، کوئی خرابی کرتا ہے، اس کی نشاندہی کرتے ہوئے آپ آگے بڑھیں تاکہ آہستہ آہستہ بہتری کی طرف جائیں۔ آپ نے حالیہ دنوں میں انسٹیٹیوشن میں ایک مخصوص افسر یا ایک جنرل کا ذکر کیا جو آپ کی پارٹی کے خلاف منظم پروپیگنڈا کرتا رہا یا مہم چلاتا رہا۔ تو ادھر سے اگر شروع کر لیا جائے، وہ کون سا افسر تھا جس نے ایسا کیا تاکہ ہم ادھر ہی سے، کیا اس کے پیچھے پورا ادارہ تھا یا وہ ذاتی حیثیت میں آپ کے خلاف مہم چلا رہا تھا؟ کون سے لوگ تھے، وہ کون سا افسر تھا؟ ادھر ہی سے پہلو بہتری کا نکل آئے، تاکہ باقی ادارہ بھی سمجھے۔
مولانا صاحب: ٹھیک ہے اس کا بہترین پہلو یہی ہے کہ بس بات ختم ہو چکی ہے، اور جو کچھ انہوں نے کیا وہ بھی گزر گیا، جو ہم نے کیا وہ بھی گزر گیا، اور اب بہتری کی طرف یہ پہلا قدم ہے، دوسرا قدم آگے بڑھائیں گے۔
صحافی: مولانا صاحب! سہیل آفریدی صاحب نے بنوں میں خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ میں جیسے ہی پشاور جاؤں گا تو یہ جو فوجی چوکیاں ہیں پشاور میں، ساری ان کو ختم کر لوں گا۔ تو آپ کیا سمجھتے ہیں وہ ایسا کر لے گا؟
مولانا صاحب: تو کیا یہ سوال مجھ سے کرنے کا ہے یا ان سے کرنے کا، حضرات! میں نے جو زمینی صورتِ حال بتائی ہے، وہ کافی ہے۔ کیوں آپ ایک پارٹی کو اور اس کی شخصیت کو سامنے لا کر تبصرہ کروانا چاہتے ہیں؟ تو میرے خیال میں سیاسی جماعتوں کے ایک دوسرے کے قریب آنے کا وقت ہے، نہ کہ ہم ان کی کچھ کمزوریوں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف کوئی معاملات کریں۔ ملک کو ٹھیک کرنا ہے تو ہمیں کچھ مثبت راستے اختیار کرنا ہوں گے۔
صحافی: مولانا صاحب! یہ جو انہوں نے ابھی آپ سے سوال کیا تھا، اس کے بعد ہم نے یہ دیکھا سوشل میڈیا پر کہ آپ کی جماعت سے زیادہ پی ٹی آئی نے آپ کی ویڈیوز کو شیئر کیا، ویڈیوز کو پھیلایا، آپ کے پیغامات کو عمران خان کا پیغام سمجھتے ہیں، تو یہ کیا جادو آپ نے پی ٹی آئی کے اوپر کیا تھا؟
مولانا صاحب: بہت بہت شکریہ

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
‎#teamJUIiswat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پچھلی خبر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اسلام آباد میں...