۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
26 August 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا اسلام آباد میں سیرتِ رحمۃُ للعالمین ﷺ و پیغامِ جمعیت کنونشن سے خطاب

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۲۵ اگست ۲۰۲۶
مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا اسلام آباد میں سیرتِ رحمۃُ للعالمین ﷺ و پیغامِ جمعیت کنونشن سے خطاب

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا اسلام آباد میں سیرتِ رحمۃُ للعالمین ﷺ و پیغامِ جمعیت کنونشن سے خطاب

25 اگست 2026

الحمدللہ، الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ ومن بھدیھم اھتدی۔ أَمَّا بَعْدُ. فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا۔ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ۔ صدق الله العظيم

جناب صدر محترم، اکابر علماء کرام، اجتماع میں موجود میرے بزرگوں، میرے بھائیوں! آج کا یہ اجتماع جناب رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کے عنوان سے منعقد کیا گیا ہے، جس کا اہتمام جمعیۃ علماء اسلام، اسلام آباد نے کیا ہے۔ عنوان کے اعتبار سے اس اجتماع کی قدر و منزلت اور بڑھ جاتی ہے اور ایسے اجتماعات سے ہم اس درس کو تازہ کرتے ہیں جو درس انسانیت کو دینے کے لیے جناب رسول اللہ ﷺ دنیا میں تشریف لائے، رسول اللہ ﷺ بعثت کے اعتبار سے اللہ کے آخری نبی ہیں اور در حقیقت آپ عملی زندگی میں قرآن کریم کی تعبیر ہے، ہم جب قرآن کریم کو پڑھتے ہیں تو جہاں الكتاب کا ذکر آتا ہے وہاں پر والحکمہ ساتھ ہوتا ہے؛
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ،
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ،
تو جہاں پر بھی کتاب کا ذکر ہوا ہے اس کے ساتھ حکمت کا ذکر ہوا ہے، تابعین نے بھی اور آئمہ مجتہدین نے بھی کتاب اللہ کے اس لفظ حکمت کو رسول اللہ ﷺ کی سنت سے تعبیر کیا ہے، چنانچہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں آتے ہیں تو وہی الکتاب والحکمہ، الکتاب والسنہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کی سنت، آپ کا معمول زندگی جس کی اتباع کی ہمیں ہدایت دی گئی ہے اور اس کے بعد صحابہ کرام ہیں، تو رسول اللہ ﷺ کا ہر قول اور ہر فعل اور صحابہ کرام کا ہر وہ قول اور فعل کہ جس پر رسول اللہ ﷺ نے کوئی نکیر نہ کی ہو وہ بھی آپ کی سنت کا حصہ تصور کیا جاتا ہے اور اسی اعتبار سے صحابہ کرام کو بھی معیار حق تصور کیا جاتا ہے فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا ۖ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ، اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو ہدایت پائیں گے، تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کے زندگی وہ بھی ایک معیار قرار دیا گیا ہے اور صحابہ کرام کی معیار حق ہونے سے انکار قرآن کے اس نص کا انکار لازم آتا ہے تو اگر کوئی شخص اجتھاد کی بنیاد پر یہ کہتا ہے کہ وہ معیار حق نہیں تو وہ گمراہی اور ضلالت میں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین کی حفاظت کی ہے اور اللہ رب العالمین نے جس طرح آپ کو اس دین کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے ہدایات دی ہیں اور امت کو اس کا پابند بنایا ہے وَمَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهِ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے، وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ، ہم نے تجھ پر کتاب اتاری اور آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ جس طرح ہم نے قرآن کو اتارا آپ اسی طرح لوگوں کے سامنے اس کی توضیح و تشریح کرتے ہیں اقوال کے اعتبار سے بھی اور اعمال کے اعتبار سے بھی اور طرز زندگی کے اعتبار سے بھی، يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ، اے پیغمبر تیرے رب کی طرف سے جو کچھ آپ کے اوپر نازل ہوا، لوگوں تک پہنچاؤ، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اتنا ہی کافی تھا، لیکن آپ کے دل میں اس کی اہمیت و فرضیت اور اس کی وجوب کو راسخ کرنے کے لئے آگے فرما دیا؛ فَإِلَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَ، مقصد رسالت فوت ہو جائے گا اگر کوئی کوتاہی ہوئی۔ تو اب سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ ذمہ داری کا احساس ہو اور پھر وہ احساس دل کے اندر راسخ ہو جائے، اس کی فرضیت اور اہمیت رچ بس جائے، لیکن ایک چیز ہے جو رکاوٹ بن سکتی ہے اور وہ ہے جان کا خطرہ، یہ کیسے اللہ کا پیغام ہے کہ رسول اللہ ﷺ انسانیت کے فائدے اس کی رہنمائی اور اس کی ہدایت کے لیے اور اس کی خیر کے لیے دیں اور اس کے بدلے میں ایسی آزمائشیں آئیں آپ کے اوپر، کہ جان خطرہ میں پڑ جائے، تو اللہ رب العزت نے تسلی دے دی کہ؛ وَاللہُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ، پرواہ مت کرو، زندگی کی حفاظت اللہ کرے گا، اب ذمہ داری کی فرضیت اور اہمیت بھی دل میں رچ بس گئی اور اگر اس کے بدلے میں آزمائشیں آتی ہیں تو ان آزمائشوں کے بارے میں بھی اللہ نے ذمہ داری لے لی کہ حفاظت میں کروں گا، اب یہ معاملہ تو حل ہو گیا۔

لیکن میرے بھائیو! ایک اور چیز ہے کہ جو اللہ کی دین کو انسانیت کے سامنے پیش کرنے میں رکاوٹ بننے کا احتمال رکھتا ہے کہ ہم محنت کرتے ہیں، دن رات ایک کرتے ہیں، گلی گلی پھرتے ہیں، گاؤں گاؤں پھرتے ہیں، آزمائشیں بھی مول لیتے ہیں، اس راستے میں اگر شہادتیں آتی ہیں اس کو بھی برداشت کر لیتے ہیں، لیکن قوم نہیں مانتی، پیغام کو قبول نہیں کیا جا رہا، بڑی محنت کرتے ہیں ہم تو دن رات ایک کر کے لیکن جب الیکشن آتا ہے تو ووٹ نہیں پڑتا ہمیں، تو چھوڑیے اس راستے کو، کیا فائدہ جب لوگ مانتے ہی نہیں ہیں،تو اللہ تعالی نے یہ بھی فرما دیا کہ نتیجہ آپ کے ذمہ نہیں ہے، لوگوں کے دلوں میں اتارنا، قبول کرنا، نہ کرنا یہ آپ کا کام نہیں ہے۔ تو اللہ تعالی نے جس کے حق میں ہدایت نہیں لکھی آپ نہیں دے سکتے اس کو، تو نتیجہ آپ کے ہاتھ میں نہیں، اب یہاں ہمیں دو باتیں سمجھنی چاہیے کہ جس دین کی ہم خدمت کرنے نکلے ہیں، جو پروگرام لے کر ہم نکلے ہیں، جو منشور لے کر ہم نکلے ہیں، تو کچھ اللہ تعالی نے ہم پر احسانات کیں، ایک احسان تو یہ ہے کہ ہمیں اپنی استطاعت کی حد تک مکلف بنایا ہے، اپنے بس سے زیادہ اللہ نے ہمیں مکلف نہیں بنایا، جو ہمارے بس میں ہے وہ کریں، اگر بس میں نہیں ہے تو اللہ کی مہربانی ہے کہ اس نے ہمیں مکلف نہیں بنایا اور دوسرا یہ کہ کامیابی اور ناکامی کا مکلف ہمیں نہیں بنایا، وہ اللہ کی مرضی ہے کامیابی دیتا ہے یا نہیں دیتا، قیامت کے روز اللہ نے یہ نہیں پوچھنا کہ تم نے اسلامی نظام نافذ کیا ہے یا نہیں، لیکن ضرور پوچھے گا کہ اللہ کی دین کیلئے محنت بھی کیا یا نہیں، اگر ہم اقتدار تک نہیں پہنچ پا رہے اور اللہ کی دین کے نفاذ کی قدرت ہمارے ہاتھ میں نہیں آ رہی ہے تو یہ قدرت تو ہے کہ اس کے لیے محنت تو کریں، پبلک کو تو سمجھائیں اور یہی وہ حق ہے کہ جس حق کے بیان کرنے میں آزمائشیں آتی ہیں۔ ہمارے علماء لکھتے ہیں وَتَوَاصوا بِالْحَقِّ حق کا پرچار کیا کرو، اب اس حق سے کیا مراد ہے؟ ظاہر ہے اس حق سے فرد کامل مراد ہے، لیکن فرد کامل کا تعین کیسے کریں گے ہم؟ اب حق کا ضد باطل ہے، حق رہ جانے والی چیز کو کہتے ہیں، ثبت ہونے والی چیز کو کہتے ہیں اور باطل مٹ جانے والی چیز کو کہتے ہیں، تو باطل کا فرد کامل باطل حکمران ہے، باطل حکمرانی ہے، اگر باطل کا فرد کامل خارج میں فرد کامل اس کا حکمرانی ہے تو پھر حق کے معنی بھی باطل حکمران کے مقابلے میں حق کہنا ہے اور دلیل اس پر یہ ہے کہ وَتَوَاصوا بِالصَّبْر جو ہی اللہ تعالی نے حق کے پرچار کا حکم دیا فوراً آپ نے فرمایا وَتَوَاصوا بِالصَّبْر کہ یہ وہ حق ہے کہ جب آپ کہیں گے پبلک میں تو اس سے جو پہلے سے اقتدار میں موجود طاقتور قوتیں ہوتی ہیں، جو باطل ہوتی ہیں، جو اللہ کی احکامات کے خود کو پابند نہیں سمجھتی اور سمجھتی ہیں کہ میرے حکم کے پابند رہنا ہے، تو پھر ایسے حکمرانوں کی مقابلے میں جب آپ حق کی بات کریں گے تب آزمائشیں آئیں گی اور جب یہ آزمائشیں آئیں گی تو پھر استقامت استقلال اور صبر کی بھی ترغیب دی جاتی ہے۔
لہذا ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ اگر معاشرے میں جبر ہے، ظلم ہے، استبداد ہے، معاشرتی اضطراب ہے تو اس کے مقابلے میں وہ نظام جو آپ کو عدل بتاتا ہے، اقتدار بذات خود مقصود اصلی نہیں ہے، اقتدار ہو لیکن مقصد یہ ہو کہ آپ عدل نافذ کرسکتے ہیں۔ تو ظلم اور جبر کے مقابلے میں عدل و انصاف کا نفاذ اور معاشرے میں انصاف اور مساوات کا تصور یہ وہ دین ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عطا کیا ہے اور اللہ رب العزت نے اس حوالے سے آپ کو معیار بھی بنایا، آپ کو اتھارٹی بھی بنایا۔ کسی مؤمن مرد یا کسی مؤمن عورت کو جب کہ اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں ایک فیصلہ دے چکا سرِ مو اس میں تبدیلی کا اختیار نہیں اور یہ باتیں ہم اپنے حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ ذرا سوچو اپنے کام پہ، تم کر کیا رہے ہو، رسول اللہ معیار ہے، ایک اتھارٹی ہے جس کا تعین اللہ رب العالمین نے کیا ہے۔
تو آج کے اس دور میں اس پہلو پہ نظر رکھنی ہے، ایک تو ہے عام انسانی معاشرہ، اللہ تعالی نے تمام انبیاء سے بھی میثاق لے لیا وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ، اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پاؤگے تو ایمان بھی لاؤ گے اس کے اوپر اور ان کے مدد بھی کرو گے، یعنی انبیاء پر مشکلات آتی ہیں اور ان مشکلات میں لوگوں کے مدد کے اور تعاون کے محتاج ہوتے ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی جماعت عطا کیا اللہ تعالی نے کہ آپ پر فدا ہوتی ہے، ایسے فدائین اللہ نے آپ کو عطا کیے کہ جن کے قربانیوں کے نتیجے میں آج آپ اور ہم یہاں بیٹھے ہیں اور اسی کا گردان کر رہے ہیں، صحابہ کرام دنیا میں نکلے، پھیلے۔ اللہ کی حاکمیت برپا کرنے کے لیے، جب نکلے ہیں تو جہاں جہاں تک صحابہ کرام پہنچے ہیں، جہاں جہاں تک صحابہ کرام پہنچے ہیں آج بھی عالم اسلام کا جغرافیہ وہی ہے، اس کے بعد امت ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکی، پیچھے آئے ہوں گے، آگے نہیں بڑھے، اسی کو عالم اسلام کہتے ہیں اور جس کو عالم اسلام کہا گیا اسی میں اللہ تعالی نے خزانے بھر دیے، معدنی ذخائر بھر دیے اور اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ زمین کے خزانوں کی کنجی اللہ نے میرے ہاتھ میں دیے، یعنی دولت اور زخائر یہ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔
ایک زمانہ گزرا ہے جب معدنی ذخائر، تیل، گیس یہ برآمد ہوتی تھی وہ بھی اسلامی دنیا میں، اور اب وہ زمانہ آگیا ہے کہ ٹھوس ذخائر سامنے آتے ہیں سونا، چاندی، تانبہ وغیرہ وہ بھی اسلام دنیا کے ہاتھ میں؛ قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، یہ تمام جو اللہ تعالی نے نعمتیں پیدا کی ہیں اور طيبات پیدا کی ہیں، دنیوی زندگی میں بھی مسلمانوں کے لئے، آخروی میں تو بالکل ہی مسلمانوں کے لئے، کیوں کہ دنیا میں تو دوسرے بھی شریک ہو سکتے ہیں؛ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، کہ پھر جب مجھے آپ نے ایک دفعہ امامت عطا کر ہی دی اور اجتماع انسانیت کے تمام معاملات اس کا انتظام و انصرام میرے حوالے کر دیا ہے تو مجھے سب سے پہلے امن چاہیے، اور امن ایک مختصر لفظ جو احاطہ کرتا ہے تمام انسانی حقوق کا، جان کا حق، مال کا حق، عزت و آبرو کا حق، پورا نظام عطا کر دیا ہے ایک لفظ اور خوشحال معیشت، لیکن ایمان والوں کے لئے اللہ نے فرمایا کہ نہیں، دنیا میں تو میں کافروں کو بھی دوں گا  قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتْعُهُ قَلِيلًا،  متاع مختصر دورانیے کو کہتے ہیں اور مختصر دورانیے میں فائدہ حاصل کرنے کا نام متاع ہوتا ہے، تمتع دو احراموں کے بیچ میں کچھ فائدہ اٹھانے کا، راحت اٹھانے کا نام ہے۔

تو اس اعتبار سے ہم رسول اللہ ﷺ کی ولادت کے اس مبارک مہینے میں اجتماعات کر کے آپ کی سیرت پر تو گفتگو کرتے ہیں، لیکن نہ ہم آپ کے اخلاق کو اپناتے ہیں، نہ آپ کے دی ہوئی تہذیب کو ہم اپناتے ہیں، نہ آپ کی تعلیم کو ہم قبول کر رہے ہیں اور نہ آپ کی طرز حکمرانی کو ہم قبول کر رہے ہیں۔ آپ خود دیکھ رہے ہیں ساری چیزیں کس طرح معاشرے کو بگاڑا جا رہا ہے اور دین پر عمل پیرا لوگ ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے، انہیں دقیانوسی کہا جاتا ہے، اسے قدامت پسند کہا جاتا ہے۔ ہمارا دینی مدرسہ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ جس مدرسہ میں دین کا جو علم دیا جاتا ہے تو تربیت بھی اسی علم کے مطابق دی جاتی ہے لیکن اگر اس کے مطابق لوگ زندگی گزارتے ہیں یہ ملا لوگ ہیں، قومی دھارے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، پھر اس سے آگے بڑھتے جاتے ہیں یہ علم تو شدت بتلاتا ہے، انتہا پسندی بتلاتا ہے، کیا کیا کچھ نہیں کہا جا رہا ہے، دینی مدرسہ کی تعلیم اس کو جرم بنایا جا رہا ہے، دینی مدرسہ کو جرم بنایا جا رہا ہے اور اگر کوئی پاکستان میں اسلام کی بات کرتا ہے اور اس کے حاکمیت کی بات کرتا ہے، پتہ نہیں کن کن الفاظ سے ان کو تعبیر کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں معاملہ طے ہے ہم کسی بھی اضطراب کا شکار نہیں، ہمارا آئین ایک میثاق ملی ہے، اب اس کا بھی احترام نہیں کیا جا رہا ہے، قانون سازیاں ہو رہی ہیں اور جس میں صرف اسٹیبلشمنٹ کی گرفت کو مضبوط کرنا یہ بڑا اہم ہوتا ہے، یہ ایمرجنسی ہوتی ہے، یہ فوری کرنا چاہیے، وقت نکل جائے گا، پتہ نہیں ملک کا کیا بنے گا، خوف طاری کر دیتے ہیں اور ہمیشہ قوم پر خوف طاری کر کے قوم کو بلیک میل کیا جاتا ہے، لیکن کبھی اناسی سالوں میں اسلام ہماری ترجیح نہیں رہا، اسلامی قانون سازی ہماری ترجیح نہیں رہی، اسلام اور قانون سازی کوئی ہماری ایمرجنسی کبھی بنی نہیں ہے، ہو جائے گا، بعد میں کر لیں گے، لیکن ان کی اتھارٹی کو قوم پر مسلط کرنا، جعلی پارلیمنٹ وجود میں لاکر اپنے مرضی کی قانون سازیاں کرانا جس میں آئین کا بھی لحاظ نہیں کیا جاتا، ابھی جو چند روز پہلے قانون سازی ہوئی ہے وہ آئین کی خلاف ہے، آئین واضح طور پر کہتا ہے آرٹیکل دو سو تینتالیس میں، کہ تینوں مسلح افواج کا سپریم کمانڈر صدر مملکت ہوگا اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کا تقرر وزیراعظم کے مشورے سے صدر مملکت کرے گا، یہ آئین کے الفاظ ہیں اور ہم نے قانون کون سا پاس کیا ہے کہ اب تقرر جو ہے وہ ادارے کا سب سے بڑا جو ہوگا وہ کرے گا، ایک ادارے کا بڑا یعنی وفاق کا اختیار بھی ہم نے ایک ادارے کے سربراہ کو دے دیا ہے اور آئندہ اگر کوئی تبدیلی یا کوئی قانونی ضابطہ بنے گا تو وہ کابینہ طے کرے گا، وہاں پر بھی پارلیمنٹ کو ہی بائی پاس کر دیا گیا ہے اور یہ قانون ساری جائز ہوگی اس لیے کہ اس میں ایک طاقتور ادارے کی گرفت کو مضبوط کیا جا رہا ہے، بھئی ہم آپ کو پہلے سے مضبوط مانتے ہیں، پاکستان کی دفاع کو ناگزیر سمجھتے ہیں، اس کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اس کی ایک حد ہوتی ہے، ایک دائرہ ہوتا ہے، اس دائرے کا ایک اختیار ہوتا ہے، اب کابینہ کا اختیار بھی ان کے پاس، پارلیمنٹ کا اختیار بھی ان کے پاس اور آئین کے علی الرغم، اس کے تو منفی اثرات خود ان دفاعی اداروں پر پڑ سکتے ہیں، خدا نہ کرے، تو ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ خیرخواہی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم ان کے سامنے بڑے صاف بات کریں، کھل کر کریں، آج حالت یہ ہے کہ اگر ہم پارلیمنٹ میں بات کرتے ہیں تو قوم کو ہماری آواز نہیں پہنچنے دی جاتی ہے، ابھی جو ہم یہاں گفتگو کر رہے ہیں خدا جانے ہمارے الیکٹرانک میڈیا اور چینلوں پر ہماری گفتگو قوم کو سنائی جائے گی یا نہیں؟ اسے کہتے ہیں تسلط با لجبروت، طاقت کی بنیاد پر مسلط ہونا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛ سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَلَعَنَهُمْ كُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٍ، چھ لوگ ہیں جس پر میں بھی لعنت بھیجتا ہوں اور اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اور ہر پیغمبر کی دعا قبول بھی ہوتی ہے اس میں ایک المتسلط بالجبروت، جو طاقت کی بنیاد پر مسلط ہوتا ہے، وَيُعَظِّمُ مَنْ أَذَلَّ اللَّهُ، وَيُذِلُّ مَنْ أَعَزَّ اللَّهُ، جن لوگوں کو اللہ نے عزت دی ہیں ان کو رسوا کرتے ہیں اور جو گھٹیا قسم کے لوگ ہوتے ہیں ان کو اوپر لاتے ہیں، یہ کیا رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہے؟ قبیلوں کے سردار آئے رسول اللہ ﷺ ان کو عزت دیتے تھے، آپ نے ایک خاص لباس بنایا کہ جب قبیلوں کے سردار آئے تو اس لباس میں ان کے ساتھ بیٹھتے تھے اور پھر جو آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے تھے اور کلمہ شہادت پڑھتے تھے تو آپ واضح طور پر فرماتے تھے؛ خِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا، جو جاہلیت کے زمانے میں تمہارے بڑے تھے، سردار تھے، وہ اسلام میں آئیں گے تب بھی وہ قبیلوں کے سردار ہوں گے، انسانیت کو بتا دیا عزت کیا ہوتی ہے، احترام کیا ہوتا ہے، حق کیا ہوتا ہے۔
آج ہم اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں آگ لگی ہوئی ہے، نظام درہم برہم ہے، بڑھتا چلا جا رہا ہے، بیس سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہم آپریشنز کر رہے ہیں ملک میں، دہشت گردی کی خلاف آپریشن، مسلح گروہوں کی خلاف آپریشن، باغیوں کی خلاف آپریشن اور جتنا آپریشن کرتے جا رہے ہیں تو وہ بڑھتا جا رہا ہے، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا لی، اس کا معنی یہ ہے کہ تمہاری حکمت عملی ناکام ہے، اس میں کہیں پر کوئی نقص ہے اور نقص سے ہٹ کر بھی بات کر سکتے ہیں کہ تم اپنے حکمت عملی میں بدنیت بھی ہو، تم چاہتے بھی نہیں ہو کہ ملک میں کوئی آرام آئے اور اطمینان آئے اور کہتے ہو ریاست ماں ہے، ریاست ماں ہے، ماں وہ تو اولاد کو اکٹھا کرتی ہے، اگر اس کے اولاد میں کہیں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اختلاف پیدا ہوتا ہے اور وہ تقسیم ہوتے ہیں ماں پہ کیا گزرتی ہے، ماں اپنے اولاد کو جوڑتی ہے، ہمیں اللہ نے ایسی ماں عطا کی ہے جو قوم کی تقسیم و انتشار کی پالیسیاں بناتی ہے، لڑاؤ اور حکومت کرو، لڑاؤ اور حکومت کرو، قوم کو تقسیم کرنا، سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مدارس کی تنظیموں کو تقسیم کرنا، لڑانا ہر جگہ لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ اور تم اس کو مارو اور اس کے ذریعے نیچے کرو، یہ حکمت عملی بنانا، اگر یہ ماں ہے تو ایسی ماں پہ لعنت، ماں اس طرح ہوتی ہے؟ ماں کی ممتا تڑپتی ہے اپنے اولاد کے لیے، اس کی خیرخواہی کے لیے، ان کی وحدت کے لیے، وہ اپنے اولاد کو ایک صف میں دیکھنا چاہتی ہے، اس کے دل میں جو اپنے اولاد کے لیے رفعت اور رحمت ہوتی ہے کیا ہم وہ دیکھ رہے ہیں اس ملک میں؟ مائیں اس طرح ہوتی ہے؟ یہ ماں تو نہیں ہوتی یہ کوئی ڈائین ہوگی، ماں بنو، ریاست کو ماں بناو، قوم کو ایک قوم بناو اور اس حالت میں کہتے ہیں کہ جو صوبے پہلے سے بنے ہیں ان کو بھی توڑو، اب باقی کام رہ گیا ہے صوبوں کو توڑنے، کس لیے؟ خوبصورت عنوانات قوم کے سامنے رکھتے ہیں، ہر برے کام میں آپ اس کی ایک خوبصورت تصویر بنا دیتے ہیں قوم کے سامنے پیش کرنے کے لیے، بہت سی باتیں اس کو اصول کے حوالے سے زیر بحث نہیں لے جاتے، عملی حوالے سے، ماحول کے حوالے سے اس کو دیکھا جاتا ہے اور ہمیں تو حکمرانوں کی نیت پر بھی شک ہے کہ اٹھارویں ترمیم اور اس میں صوبوں کے اختیارات ان کے حلقہ کا کانٹا بنے ہوئے ہیں، اندر نہیں جا رہا ہے۔ اب آئین کہتا ہے کہ صوبوں کے جو حقوق ہیں این ایف سی ایوارڈ اس پہ اضافہ ہوگا کمی نہیں ہو سکے گی، اب کہتے ہیں یہ تو سارے محصولات صوبے لے جاتے ہیں، تو جب صوبے ٹوٹ جائیں گے تو پھر نیا معاہدہ کرنا پڑے گا، نیا این ایف سی ایوارڈ آئے گا، تو ہمارے ملک کے قوموں، مختلف صوبوں، اس کے اندر رہنے والے لوگوں، ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے، تو میں نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ وہ کسی کے کوئی سا لحاف میں لیٹا ہوا تھا تو اس کے اندر ایک جُو اس کو لگ گیا، تو جُو کو تلاش کرنے کی بجائے اور جُو کو مارنے کی بجائے اس نے رضائی کو آگ لگا دی۔
یہ وہ چیزیں ہیں کہ جس کے لئے ہم نے یہ تجویز ضرور دی کہ بھئی حزب اختلاف پھر ٹھیک اختلاف کرنا چاہیے، منظم ہو جانا چاہیے پارلیمنٹ کے اندر، کچھ مشاورت ہونی چاہیے اور اسی حوالے سے وہ اعلامیہ بھی ان شاء اللہ منظر عام پہ آ جائے گا بہت مناسب ہے جس پر ہم نے اسمبلی کے اندر مل کر کس طرح کام کرنا ہے، قانون سازی پر کیا نظر رکھنی ہے، حکومتی اقدامات پر کیا نظر رکھنی ہے، اور کس طرح اس کو کاؤنٹر کرنا ہوگا۔ یہ ساری چیزیں اس میں ہم زیر بحث لائے ہیں اور اس حد تک ایک ضرورت بھی تھی ورنہ باہمی انتشار کا تو یہ فائدہ اٹھا رہے تھے، کہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ ہم آئین کی مطابق کام کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے ہیں، ہم ایک ادارے کو کس کے کنٹرول میں دے رہے ہیں؟ تو توازن ہونا چاہیے ملکی نظام کے اندر، ہر ادارہ اپنا اختیار رکھتا ہے، دائرہ کار رکھتا ہے اس کے اندر کے اختیار کو استعمال کریں، چلائے نظام کو، کون کسی کو چیلنج کر رہا ہے۔
تو یہ وہ چیزیں ہیں جس پر ہم سمجھتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طور و اطوار اس کو ہمیں اپنانا چاہیے، کچھ چیزیں ہیں انتظامی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو ہر زمانے کے ماحول اور حالات پہ چھوڑا ہوا ہے، اس زمانے کے لوگ جس طرح طے کر لیں، ہم نے ایک آئین میں طے کیا ہوا ہے ایک نظام، اب آئین پارلیمنٹ کا کام ہے یہ اس طریقے سے آئین ختم ہو جائے گا، اگر آئین ختم ہو گیا تو پھر نئی آئین ساز اسمبلی بنانی پڑی گی آپ کو، پھر جو ملک افرا تفری کا شکار ہو گا اس کا آپ اندازہ نہیں لگا سکتے، جو چیز اب تک سمٹی ہوئی ہے وہ جب بکھر جائے گی پھر اس کا سمیٹنا اس کیلئے بظاہر کوئی اسباب موجود نہیں، تو ہم ملک کی خیرخواہی کی بات کرتے ہیں ہم ملک کے اندر وہ نظام جو قرآن و سنت کی قانون سازی کے لیے بنا تھا، اس کو اس کے اصلی راستے پہ ڈالنا چاہتے ہیں، صحیح راستے پہ ڈالنا چاہتے ہیں، یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا تقاضہ ہے اور ہمیں ان کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
‎#teamJUIswat

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اگلی خبر اقتدار کے پار: ایک ضروری وضاحت - محمد... پچھلی خبر مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا جمعیت علماء...