۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
26 August 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا اسلام آباد میں سیرتِ رحمۃُ للعالمین ﷺ و پیغامِ جمعیت کنونشن سے خطاب

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۲۵ اگست ۲۰۲۶
مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا اسلام آباد میں سیرتِ رحمۃُ للعالمین ﷺ و پیغامِ جمعیت کنونشن سے خطاب

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا اسلام آباد میں سیرتِ رحمۃُ للعالمین ﷺ و پیغامِ جمعیت کنونشن سے خطاب

25 اگست 2026

الحمدللہ، الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ ومن بھدیھم اھتدی۔ أَمَّا بَعْدُ. فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا۔ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ۔ صدق الله العظيم

جناب صدر محترم، اکابر علماء کرام، اجتماع میں موجود میرے بزرگوں، میرے بھائیوں! آج کا یہ اجتماع جناب رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کے عنوان سے منعقد کیا گیا ہے، جس کا اہتمام جمعیۃ علماء اسلام، اسلام آباد نے کیا ہے۔ عنوان کے اعتبار سے اس اجتماع کی قدر و منزلت اور بڑھ جاتی ہے اور ایسے اجتماعات سے ہم اس درس کو تازہ کرتے ہیں جو درس انسانیت کو دینے کے لیے جناب رسول اللہ ﷺ دنیا میں تشریف لائے، رسول اللہ ﷺ بعثت کے اعتبار سے اللہ کے آخری نبی ہیں اور در حقیقت آپ عملی زندگی میں قرآن کریم کی تعبیر ہے، ہم جب قرآن کریم کو پڑھتے ہیں تو جہاں الكتاب کا ذکر آتا ہے وہاں پر والحکمہ ساتھ ہوتا ہے؛
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ،
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ،
تو جہاں پر بھی کتاب کا ذکر ہوا ہے اس کے ساتھ حکمت کا ذکر ہوا ہے، تابعین نے بھی اور آئمہ مجتہدین نے بھی کتاب اللہ کے اس لفظ حکمت کو رسول اللہ ﷺ کی سنت سے تعبیر کیا ہے، چنانچہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں آتے ہیں تو وہی الکتاب والحکمہ، الکتاب والسنہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کی سنت، آپ کا معمول زندگی جس کی اتباع کی ہمیں ہدایت دی گئی ہے اور اس کے بعد صحابہ کرام ہیں، تو رسول اللہ ﷺ کا ہر قول اور ہر فعل اور صحابہ کرام کا ہر وہ قول اور فعل کہ جس پر رسول اللہ ﷺ نے کوئی نکیر نہ کی ہو وہ بھی آپ کی سنت کا حصہ تصور کیا جاتا ہے اور اسی اعتبار سے صحابہ کرام کو بھی معیار حق تصور کیا جاتا ہے فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا ۖ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ، اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو ہدایت پائیں گے، تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کے زندگی وہ بھی ایک معیار قرار دیا گیا ہے اور صحابہ کرام کی معیار حق ہونے سے انکار قرآن کے اس نص کا انکار لازم آتا ہے تو اگر کوئی شخص اجتھاد کی بنیاد پر یہ کہتا ہے کہ وہ معیار حق نہیں تو وہ گمراہی اور ضلالت میں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین کی حفاظت کی ہے اور اللہ رب العالمین نے جس طرح آپ کو اس دین کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے ہدایات دی ہیں اور امت کو اس کا پابند بنایا ہے وَمَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهِ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے، وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ، ہم نے تجھ پر کتاب اتاری اور آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ جس طرح ہم نے قرآن کو اتارا آپ اسی طرح لوگوں کے سامنے اس کی توضیح و تشریح کرتے ہیں اقوال کے اعتبار سے بھی اور اعمال کے اعتبار سے بھی اور طرز زندگی کے اعتبار سے بھی، يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ، اے پیغمبر تیرے رب کی طرف سے جو کچھ آپ کے اوپر نازل ہوا، لوگوں تک پہنچاؤ، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اتنا ہی کافی تھا، لیکن آپ کے دل میں اس کی اہمیت و فرضیت اور اس کی وجوب کو راسخ کرنے کے لئے آگے فرما دیا؛ فَإِلَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَ، مقصد رسالت فوت ہو جائے گا اگر کوئی کوتاہی ہوئی۔ تو اب سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ ذمہ داری کا احساس ہو اور پھر وہ احساس دل کے اندر راسخ ہو جائے، اس کی فرضیت اور اہمیت رچ بس جائے، لیکن ایک چیز ہے جو رکاوٹ بن سکتی ہے اور وہ ہے جان کا خطرہ، یہ کیسے اللہ کا پیغام ہے کہ رسول اللہ ﷺ انسانیت کے فائدے اس کی رہنمائی اور اس کی ہدایت کے لیے اور اس کی خیر کے لیے دیں اور اس کے بدلے میں ایسی آزمائشیں آئیں آپ کے اوپر، کہ جان خطرہ میں پڑ جائے، تو اللہ رب العزت نے تسلی دے دی کہ؛ وَاللہُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ، پرواہ مت کرو، زندگی کی حفاظت اللہ کرے گا، اب ذمہ داری کی فرضیت اور اہمیت بھی دل میں رچ بس گئی اور اگر اس کے بدلے میں آزمائشیں آتی ہیں تو ان آزمائشوں کے بارے میں بھی اللہ نے ذمہ داری لے لی کہ حفاظت میں کروں گا، اب یہ معاملہ تو حل ہو گیا۔

لیکن میرے بھائیو! ایک اور چیز ہے کہ جو اللہ کی دین کو انسانیت کے سامنے پیش کرنے میں رکاوٹ بننے کا احتمال رکھتا ہے کہ ہم محنت کرتے ہیں، دن رات ایک کرتے ہیں، گلی گلی پھرتے ہیں، گاؤں گاؤں پھرتے ہیں، آزمائشیں بھی مول لیتے ہیں، اس راستے میں اگر شہادتیں آتی ہیں اس کو بھی برداشت کر لیتے ہیں، لیکن قوم نہیں مانتی، پیغام کو قبول نہیں کیا جا رہا، بڑی محنت کرتے ہیں ہم تو دن رات ایک کر کے لیکن جب الیکشن آتا ہے تو ووٹ نہیں پڑتا ہمیں، تو چھوڑیے اس راستے کو، کیا فائدہ جب لوگ مانتے ہی نہیں ہیں،تو اللہ تعالی نے یہ بھی فرما دیا کہ نتیجہ آپ کے ذمہ نہیں ہے، لوگوں کے دلوں میں اتارنا، قبول کرنا، نہ کرنا یہ آپ کا کام نہیں ہے۔ تو اللہ تعالی نے جس کے حق میں ہدایت نہیں لکھی آپ نہیں دے سکتے اس کو، تو نتیجہ آپ کے ہاتھ میں نہیں، اب یہاں ہمیں دو باتیں سمجھنی چاہیے کہ جس دین کی ہم خدمت کرنے نکلے ہیں، جو پروگرام لے کر ہم نکلے ہیں، جو منشور لے کر ہم نکلے ہیں، تو کچھ اللہ تعالی نے ہم پر احسانات کیں، ایک احسان تو یہ ہے کہ ہمیں اپنی استطاعت کی حد تک مکلف بنایا ہے، اپنے بس سے زیادہ اللہ نے ہمیں مکلف نہیں بنایا، جو ہمارے بس میں ہے وہ کریں، اگر بس میں نہیں ہے تو اللہ کی مہربانی ہے کہ اس نے ہمیں مکلف نہیں بنایا اور دوسرا یہ کہ کامیابی اور ناکامی کا مکلف ہمیں نہیں بنایا، وہ اللہ کی مرضی ہے کامیابی دیتا ہے یا نہیں دیتا، قیامت کے روز اللہ نے یہ نہیں پوچھنا کہ تم نے اسلامی نظام نافذ کیا ہے یا نہیں، لیکن ضرور پوچھے گا کہ اللہ کی دین کیلئے محنت بھی کیا یا نہیں، اگر ہم اقتدار تک نہیں پہنچ پا رہے اور اللہ کی دین کے نفاذ کی قدرت ہمارے ہاتھ میں نہیں آ رہی ہے تو یہ قدرت تو ہے کہ اس کے لیے محنت تو کریں، پبلک کو تو سمجھائیں اور یہی وہ حق ہے کہ جس حق کے بیان کرنے میں آزمائشیں آتی ہیں۔ ہمارے علماء لکھتے ہیں وَتَوَاصوا بِالْحَقِّ حق کا پرچار کیا کرو، اب اس حق سے کیا مراد ہے؟ ظاہر ہے اس حق سے فرد کامل مراد ہے، لیکن فرد کامل کا تعین کیسے کریں گے ہم؟ اب حق کا ضد باطل ہے، حق رہ جانے والی چیز کو کہتے ہیں، ثبت ہونے والی چیز کو کہتے ہیں اور باطل مٹ جانے والی چیز کو کہتے ہیں، تو باطل کا فرد کامل باطل حکمران ہے، باطل حکمرانی ہے، اگر باطل کا فرد کامل خارج میں فرد کامل اس کا حکمرانی ہے تو پھر حق کے معنی بھی باطل حکمران کے مقابلے میں حق کہنا ہے اور دلیل اس پر یہ ہے کہ وَتَوَاسُوا بِالصَّبْر جو ہی اللہ تعالی نے حق کے پرچار کا حکم دیا فوراً آپ نے فرمایا وَتَوَاصوا بِالصَّبْر کہ یہ وہ حق ہے کہ جب آپ کہیں گے پبلک میں تو اس سے جو پہلے سے اقتدار میں موجود طاقتور قوتیں ہوتی ہیں، جو باطل ہوتی ہیں، جو اللہ کی احکامات کے خود کو پابند نہیں سمجھتی اور سمجھتی ہیں کہ میرے حکم کے پابند رہنا ہے، تو پھر ایسے حکمرانوں کی مقابلے میں جب آپ حق کی بات کریں گے تب آزمائشیں آئیں گی اور جب یہ آزمائشیں آئیں گی تو پھر استقامت استقلال اور صبر کی بھی ترغیب دی جاتی ہے۔
لہذا ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ اگر معاشرے میں جبر ہے، ظلم ہے، استبداد ہے، معاشرتی اضطراب ہے تو اس کے مقابلے میں وہ نظام جو آپ کو عدل بتاتا ہے، اقتدار بذات خود مقصود اصلی نہیں ہے، اقتدار ہو لیکن مقصد یہ ہو کہ آپ عدل نافذ کرسکتے ہیں۔ تو ظلم اور جبر کے مقابلے میں عدل و انصاف کا نفاذ اور معاشرے میں انصاف اور مساوات کا تصور یہ وہ دین ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عطا کیا ہے اور اللہ رب العزت نے اس حوالے سے آپ کو معیار بھی بنایا، آپ کو اتھارٹی بھی بنایا۔ کسی مؤمن مرد یا کسی مؤمن عورت کو جب کہ اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں ایک فیصلہ دے چکا سرِ مو اس میں تبدیلی کا اختیار نہیں اور یہ باتیں ہم اپنے حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ ذرا سوچو اپنے کام پہ، تم کر کیا رہے ہو، رسول اللہ معیار ہے، ایک اتھارٹی ہے جس کا تعین اللہ رب العالمین نے کیا ہے۔
تو آج کے اس دور میں اس پہلو پہ نظر رکھنی ہے، ایک تو ہے عام انسانی معاشرہ، اللہ تعالی نے تمام انبیاء سے بھی میثاق لے لیا وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ، اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پاؤگے تو ایمان بھی لاؤ گے اس کے اوپر اور ان کے مدد بھی کرو گے، یعنی انبیاء پر مشکلات آتی ہیں اور ان مشکلات میں لوگوں کے مدد کے اور تعاون کے محتاج ہوتے ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی جماعت عطا کیا اللہ تعالی نے کہ آپ پر فدا ہوتی ہے، ایسے فدائین اللہ نے آپ کو عطا کیے کہ جن کے قربانیوں کے نتیجے میں آج آپ اور ہم یہاں بیٹھے ہیں اور اسی کا گردان کر رہے ہیں، صحابہ کرام دنیا میں نکلے، پھیلے۔ اللہ کی حاکمیت برپا کرنے کے لیے، جب نکلے ہیں تو جہاں جہاں تک صحابہ کرام پہنچے ہیں، جہاں جہاں تک صحابہ کرام پہنچے ہیں آج بھی عالم اسلام کا جغرافیہ وہی ہے، اس کے بعد امت ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکی، پیچھے آئے ہوں گے، آگے نہیں بڑھے، اسی کو عالم اسلام کہتے ہیں اور جس کو عالم اسلام کہا گیا اسی میں اللہ تعالی نے خزانے بھر دیے، معدنی ذخائر بھر دیے اور اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ زمین کے خزانوں کی کنجی اللہ نے میرے ہاتھ میں دیے، یعنی دولت اور زخائر یہ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔
ایک زمانہ گزرا ہے جب معدنی ذخائر، تیل، گیس یہ برآمد ہوتی تھی وہ بھی اسلامی دنیا میں، اور اب وہ زمانہ آگیا ہے کہ ٹھوس ذخائر سامنے آتے ہیں سونا، چاندی، تانبہ وغیرہ وہ بھی اسلام دنیا کے ہاتھ میں؛ قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، یہ تمام جو اللہ تعالی نے نعمتیں پیدا کی ہیں اور طيبات پیدا کی ہیں، دنیوی زندگی میں بھی مسلمانوں کے لئے، آخروی میں تو بالکل ہی مسلمانوں کے لئے، کیوں کہ دنیا میں تو دوسرے بھی شریک ہو سکتے ہیں؛ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، کہ پھر جب مجھے آپ نے ایک دفعہ امامت عطا کر ہی دی اور اجتماع انسانیت کے تمام معاملات اس کا انتظام و انصرام میرے حوالے کر دیا ہے تو مجھے سب سے پہلے امن چاہیے، اور امن ایک مختصر لفظ جو احاطہ کرتا ہے تمام انسانی حقوق کا، جان کا حق، مال کا حق، عزت و آبرو کا حق، پورا نظام عطا کر دیا ہے ایک لفظ اور خوشحال معیشت، لیکن ایمان والوں کے لئے اللہ نے فرمایا کہ نہیں، دنیا میں تو میں کافروں کو بھی دوں گا  قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتْعُهُ قَلِيلًا،  متاع مختصر دورانیے کو کہتے ہیں اور مختصر دورانیے میں فائدہ حاصل کرنے کا نام متاع ہوتا ہے، تمتع دو احراموں کے بیچ میں کچھ فائدہ اٹھانے کا، راحت اٹھانے کا نام ہے۔

جاری ہے

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اگلی خبر اقتدار کے پار: ایک ضروری وضاحت - محمد... پچھلی خبر مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا جمعیت علماء...