۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
22 August 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۲۱ اگست ۲۰۲۶
اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس

اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس

21 اگست 2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمده و نصلی على رسوله الكریم
پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان، قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن، سینیٹ میں لیڈر آف دی اپوزیشن تشریف لائے ہیں، میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں اور ان کی تشریف آوری پر ان کا شکر گزار ہوں۔
ہم نے اس اصول پر اتفاق کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ایک جائنٹ اپوزیشن ہونی چاہیے تاکہ پارلیمنٹ کے اندر کی بزنس میں ہماری ایک مشترکہ حکمت عملی ہو اور ہمارے اقدامات مشترکہ ہوں، باہر مشاورت کے ساتھ ہوں تاکہ اپوزیشن ایک مؤثر کردار ادا کرسکے۔ ہمارے سامنے جو ملک کے مسائل ہیں، امن و امان کا مسئلہ ہے اور خاص طور پر دو صوبوں کے اندر جس طرح کی حالتِ جنگ ہے اور جس کی وجہ سے حکومتی رٹ چیلنج ہو رہی ہے، شہریوں کی زندگی اجیرن ہے، ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے اور حکومت کے طرف سے صرف طفل تسلیاں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں، اب یہ طفل تسلیاں یہ تو ہم گزشتہ بیس سالوں سے سن رہے ہیں، کتنے آپریشنز ہوئے دہشتگردوں کے خلاف، امن و امان کے قیام کے لئے، حکومتی رٹ کو مضبوط بنانے کے لئے، لیکن اب تک ہمیں وہ مقصد حاصل نہیں دکھ رہا ہے، کچھ بھی ہمیں نظر نہیں آ رہا، کوئی کامیابی نظر نہیں آ رہی اور اس وقت بھی یہی گفتگو تھی اور آج بھی یہی گفتگو ہے، الفاظ میں کوئی فرق نہیں، طفل تسلیوں میں کوئی فرق نہیں، لیکن نتیجہ صفر ہے اور کسی قسم کی حالات میں کوئی بہتری نہیں آ رہی ہے۔
اس سے جو ہماری معیشت پر برا اثر پڑ رہا ہے اور ملک کے کاروباری طبقے کو چاروں صوبوں میں جو مشکلات در پیش آ رہی ہیں، بالخصوص جو ہمارے قبائلی علاقوں کے تاجر تھے وہ جس طرح بری طرح متاثر ہوئے ہیں اس حوالے سے پاکستان ایک انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے، ہماری مغربی سرحد بند ہے، تجارت اور کاروبار کے دروازے بند ہیں، ہماری مشرقی سرحد بند ہے، کاروبار کے کوئی مواقع موجود نہیں ہیں، تجارت کے کوئی مواقع موجود نہیں ہیں، چین ناراض ہے، ہم نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے اور آج اگر ہم ان سے کہہ رہے ہیں، درخواست کر رہے ہیں کہ ایک سو ستر ارب ڈالر ہمیں معاف کر دیں تو وہ ہماری درخواست کو مسترد کرتا ہے، ایران کے جو حالات ہیں وہ اس وقت پاکستان کے لئے اچھے یا برے حالات میں کوئی بے بس نظر آ رہا ہے، اس طرح پاکستان کو ان غلط پالیسیوں نے محصور کر کے رکھ دیا ہے اور خطے میں پاکستان ایک غیر محفوظ اور محصور ریاست کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
کب تک خاموش رہا جائے؟ کب تک ہم مصلحتوں کا شکار رہے؟ کب تک ہم ملک کے داخلی سیاسی مفادات پر نظر رکھیں؟ اور ملک پر نظر نہ رکھیں، بیانیہ جو اس وقت پاکستان کے لوگوں کو دیا جا رہا ہے سرکار کی طرف سے وہ غلط بیانیہ ہے، وہ لوگوں کو طفل تسلیاں دے رہے ہیں، غلط معلومات فراہم کر رہے ہیں، اس قسم کے کوئی حالات نہیں ہے جو وہ ہمیں بتا رہے ہیں۔
تو نہ ہمارا ملک امن و امان، نہ ہمارے ملک معیشت اس قابل ہے، صوبوں کی باتیں کی جا رہی ہیں، کس طرح کی جا رہی ہیں؟ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ کس امید پر اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں؟ کس امید پر یہ باتیں ہو رہی ہیں؟ تو یہ ساری چیزیں وہ ہیں کہ ابھی تک ہم مطمئن نہیں ہیں، نہ صوبوں کے لئے کوئی تیاری ہے، نہ صوبوں کے لئے کوئی ماحول موجود ہے، آگ لگی ہوئی ہے اور لگی ہوئی آگ کے اندر آپ کہتے ہیں آؤ گھر میں اس طرح تقسیم کریں یہ نہیں ہو سکتا جی۔
کشمیر میں اس وقت جو صورتحال راولاکوٹ میں ہے تین مہینے ہو رہے ہیں، دھرنا بیٹھا ہوا ہے، عوام کی بات کوئی سننے کے لئے تیار نہیں ہے، مثبت بات بھی کریں تو مثبت بات بھی سننے کے لئے تیار نہیں ہے، ظاہر ہے کہ پھر جب آپ بات چیت نہیں کریں گے تو پھر جو شدت پسند عناصر ہیں، ذرا انتہا پسند اور سخت گیر لوگ ہیں وہ آگے آئیں گے اور پھر حالات اور گھمبیر ہوتے چلے جائیں گے۔
تو یہ مواقع اپنے ہاتھ سے کیوں دیے جا رہے ہیں، یہ حالات کیوں ملک کے لئے بنایا جا رہے ہیں، لہذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اپوزیشن کے طرف سے ہم اپنا بیانیہ قوم تک پہنچائیں گے، حقائق قوم تک پہنچائیں گے اور ایک طرف ایک قسم کی بات وہ ہمارے وزیراعظم صاحب کہہ رہے ہیں کہ آئیں بات کریں تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے، میرے خیال میں یہاں دو ہاتھ نہیں ہیں کہ جو قریب ہو کر تالی بجا سکیں، یہاں ایک ہی ہاتھ ہے جو قوم کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور تھپڑ کے گونج آ رہی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں نہ ان کے پاس کچھ ہے کہ وہ کسی کو کچھ دے سکیں۔
تو یہ اس وقت تک ہمارا اتفاق رائے ہو چکا ہے اس کے بعد ان شاءاللہ یہ ساری چیزیں اپنے اپنے پارٹیوں کے سامنے بھی جائیں گی اور ان کو اعتماد میں لیا جائے گا اور پھر اس کے بعد اگلی ہماری جو میٹنگیں ہوں گی اس میں اگلے آئندہ مستقبل کے فیصلے ہوں گی۔

سلمان اکرم راجہ
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم، ایاک نعبد وایاک نستعین
مولانا صاحب آپ نے جو قدم اٹھایا ہے، یہ انتہائی خوش آئند ہے میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اور اگر اجازت ہے تو مشران ہمارے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ان کی اجازت سے بلکل یہ اقرار کرتا ہوں کہ پاکستان آج ایک ایسی نہج پہ کھڑا ہے جہاں ضرورت ہے تمام ان لوگوں کو جو محب الوطن ہیں، جو ذی شعور ہیں کہ وہ اکھٹے پارلیمان کے اندر بہت بڑی تعداد ان تجربہ کار لوگوں کی ہے جنہوں نے پوری زندگی سیاست میں گزاری ہے، ملکی معاملات پر غور و فکر میں گزاری ہے اور آج جو ہو رہا ہے یہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے، آج اس ملک میں نہ آئین ہے نہ قانون ہے صرف دھونس ہے جس تھپڑ کا ذکر مولانا نے کیا وہ ہم سب کے چہروں پر رسید ہو رہا ہے، تو آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے اس ملک کو کہاں لے کر جانا ہے، کبھی بات ہوتی ہے کہ دھونس سے صوبے بنائے جائیں گے، صوبوں کے تشخص کو ختم کیا جائے گا، ایسا نہیں ہو سکتا، یہ ملک کے لئے مہلک ہیں یہ باتیں یہ رویہ، یہ صرف وہ نہیں کہہ رہے جن کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہے آپ اردگرد نظر دوڑائیے اس ملک میں آج جو بھی فہم رکھتا ہے وہ ڈاکٹر عشرت حسین ہو یا کوئی اور ہو نیوٹرل آدمی وہ کہہ رہا ہے کہ خدا کے لئے رک جاؤ، یہ جو روش تم نے اپنا لی ہے اس میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایک مخصوص ٹولہ یا چند لوگ فراست رکھتے ہیں اور ملک کے دور رس فیصلے کر سکتے ہیں یہ زہر قاتل ہے، اس سے ہمیں اجتناب کرنا ہوگا، ہمیں لے کے چلنا ہوگا پوری قوم کو ساتھ، وہ خیبر پختونخوا کے عوام ہو، وہ بلوچستان کے عوام ہو، سندھ کے عوام ہو اور پنجاب کے یا کشمیر اور گلگت بلتستان کے، آج ہر علاقے کے عوام کو دھتکارا جا رہا ہے، گولیاں چل رہی ہیں، لوگوں کا خون بہہ رہا ہے، یہ وہ روش ہے جس سے ملک مضبوط نہیں ہوتے، ہم ملک کی جڑوں میں بارود بھر رہے ہیں، خون بہا رہے ہیں۔
تو ہم سب کو اکٹھا ہونا ہے، اس وقت جو فیصلہ ہے وہ پارلیمان کے اندر ہم آہنگی کا ہے اور ان شاءاللہ مستقبل میں، میں دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا اتحاد جو ہے ملک کے ہر کونے میں سڑکوں پہ آپ کو نظر آئے گا، لیکن اس وقت ہم پارلیمان کے اندر اگر اکٹھے ہوں تو بہت سی ایسی قانون سازی جس کا ارادہ ہے جو ملک کو کمزور کرے گی ہم اس کو روک سکتے ہیں، ہم فراست کی بات کر سکتے ہیں۔ تو ان شاءاللہ یہ اتحاد جو بن رہا ہے جو ہم آہنگی کی بات ہو رہی ہے یہ ملک کو صحیح سمت لے جانے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔

علامہ راجا ناصر عباس

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
ماشاءاللہ آج ایک انتہائی خوبصورت دن ہے جہاں ہم اعلان کر رہے ہیں متحدہ اپوزیشن کا پارلیمنٹ کے اندر، سینیٹ ہو یا قومی اسمبلی ہو، آپ دیکھیں کہ یہ ملک، کوئی بھی ملک ہو اگر بغیر قانون کے چلایا جائے تو وہ جنگل بن جاتا ہے، لوگوں کو ان کے حقوق نہیں ملتے، ان کی جان مال ناموس محفوظ نہیں رہتی، جیسا کہ آج آپ نے دیکھ لیا کتنا بڑا یعنی توہین عدالت ہوئی ہے، سپریم کورڈ نے آرڈر دیا، وہاں سے آرڈر تھا جو تھوڑی بہت انگلش سمجھتا ہے وہ بھی پڑھ لے گا، سمجھ لے گا کہ بھئی سپریم کورٹ نے کہا ہے عمران خان صاحب کو آپ شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل لے جائیں، وہاں ان کا پروسیجر ہونا چاہیے، چیک اپ ہونا چاہیے، ان کا ٹریٹمنٹ ہونا چاہیے اور یہ حکمران آپ دیکھ لیں کہ قانون، سپریم کورٹ کے فیصلے اور سپریم کورٹ کا آرڈر ان کی نگاہوں میں کیا حیثیت رکھتا ہے، یہ ملک کو تباہی کی طرف لے کے جا رہے ہیں، لا قانون، بدترین قانون شکنی اور لا قانونیت کی طرف لے کے جا رہے ہیں، کہیں سے تو اس کا راستہ رکنے کے لئے اٹھنا ہوگا، بات کرنی ہوگی، اگر یہ لا قانونیت کا اور تشدد کا اور متشدد اقدامات کا سلسلہ جاری رہا تو پھر کیسے ہم اکٹھے رہ سکیں گے؟ ہم کیا بلوجستان کے بچوں کو گولیاں مار کر عوام کو گولی مار کر انہیں دبا کر اور تشدد کر کے اور رعب کے ذریعے اس طرح سے ہم ان کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں؟ کیا کشمیر کے غیرت مند عوام کو جو راولاکوٹ میں ہوا ہے وہ ہمارے بھائی ہیں، وہ پاکستانی ہیں، وہ پاکستان کے لئے لڑتے رہے ہیں، پاکستان کے لئے انہیں جانے دیں ہیں، قربانیاں دیں ہیں پاکستان کے لئے، جو کشمیری پاکستان سے باہر ہیں وہ پاکستان کا پرچم اٹھاتے تھے، پاکستان کے دفاع میں نکلتے تھے، آج ہم نے ان کو اپنے سے بیگانہ کر دیا ہے، یہ کس کو فائدہ ہو رہا ہے؟ پاکستان کو؟ ریاست کو؟ عوام کو؟ تھوڑی سی عقل رکھنے والا بھی سمجھ لیتا ہے کہ یہ پاکستان کو نقصان ہے، اب جس طرح سے ظلم و ستم ہو رہے ہیں جس طرح سے بدامنی کو پھیلایا جا رہا ہیں، جس طرح سے معاشی بدحالی ہے آپ نے دیکھ لیا جو بجٹ میں یہاں ہوا ہے یہ نالائقی، پھر خود تسلیم کرتے ہیں کہ یہ سسٹم کولیپس کر چکا ہے، جب آپ کولیپس کر چکے ہیں سارے، تو پھر آپ کو کیا حق کیا ہم پر حکومت کریں؟ رول کریں ہمارے اوپر، پہلے بھی نہیں ہیں آپ فارم سینتالیس اور الیکشن کو لٹتے آئے ہیں، ان شاءاللہ میں ایم ڈبلیو ایم کا سینیٹر بھی ہوں اور میں اپوزیشن لیڈر بھی ہوں میں اپنی پارٹی کی طرف سے بھی اور اپوزیشن کی طرف سے ان شاءاللہ ہم کوشش کریں گے کہ سینیٹ کے اندر بھی بہترین کوارڈینیشن پیدا کریں اور جیسا کہ مولانا صاحب نے بھی کہا ہے کہ وہ بیانیہ جو پاکستان کے عوام کا بیانیہ، جو ان کے دلوں کی آواز ہے ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے، وہ رول آف لاء کا بیانیہ ہے، وہ آئین کی سپرمیسی کا بیانیہ ہے، وہ غربت مٹانے کا بیانیہ ہے، وہ عوام کو ان کے حقوق دینے کا بیانیہ ہے، وہ عوام کو عزت اور حیثیت اور مقام دینے کا بیانیہ ہے اور پاکستان کے عوام میں محبت اور دوستی کو رواج دینے کا بیانیہ ہے، پاکستان کی ترقی اور پیشرفت کا بیانیہ ہے، عوام کی حکومت کا بیانیہ ہے، عوام کو حق ہے کہ وہ اپنے حکمران منتخب کرے پاکستان کا ائین کے مطابق وہ بیانیہ ہے، وہ ایلیمنٹ نہیں ہونے چاہیے ان شاءاللہ یہ بیانیہ جو آئینی بیانیہ بھی ہے، قانونی بیانیہ بھی ہے اور عوام کے دلوں کی آواز بھی ہے ہم اس کو لے کے چلیں گے، دھونس اور دھاندلی کے خلاف، ظلم و ستم کے خلاف قتل و غارت گری کے خلاف اور نفرتوں کے خلاف اور ان شاءاللہ العزیز کوشش کریں گے کہ جو بھی اس بیانیہ پر آتا ہے جو پاکستان عوام کے خوبصورت اچھی حکومت دینے کی کوشش کرتا ہے، آئین کا پرچم اٹھاتا ہے، فیڈریشن کو مضبوط کرنے کی بات کرتا ہے اور باقی جو بات دوستوں نے کیں ان شاءاللہ ہم سب اکٹھے ہوں گے اور مل کر ان شاءاللہ جدوجہد کریں گے، پاکستان کے لئے کریں گے، پاکستان کے عوام کے لئے کریں گے، آئین اور قانون کے لئے کریں گے۔ شکریہ

اسد قیصر صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سب سے پہلے تو میں مولانا صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمارے لئے اتنی خوبصورت ضیافت کی ہے، آج چونکہ جو ہماری ڈسکشن ہوئی ہے وہ ایجنڈہ آپ کے سامنے رکھا، ایک پوائنٹ مولانا صاحب شائد بھول گئے کہ جتنی بھی قیدی ہیں عمران خان اور جتنے بھی باقی قیدی ہیں سب کی رہائی کا مطالبہ ہم کرتے ہیں اور دوسری جو کل رات ہوا ہے، اور جس طرح سپریم کورٹ کی جو ڈسیجن ہے اس کی توہین کی گئی ہے جس طرح مذاق کیا گیا ہے تو یہ ملک میں کوئی قانون و آئین تو چھوڑو یہ تو ابھی جنگل کا قانون بن گیا، یہ بنانا ری پبلک بن گیا، ہم کسی صورت میں اس ملک کو ایسے نہیں ہونے دیں گے، یہ ملک سب پاکستانیوں کا ہے، یہ کسی ایک فرد واحد کا حکم نہیں چلے گا، اس ملک میں خلق خدا ہی راج کرے گی، اس لیے جو عمران خان اس وقت جیل میں ہے، مشکل میں ہے اور وہ قانون اور آئین کی لئے اور پاکستان کی سورینٹی کی لئے وہ اس وقت قربانی دے رہا ہے، پاکستانی قوم اس کے ساتھ ہے۔
تو آج ہماری جو ڈسکشن چار پوائنٹس ہیں نمبر ایک جو قیدی جتنی بھی ہیں عمران خان یا جتنے دیگر بھی قیدی ہیں سب کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں، دوسرا جو صوبوں میں امن و امان کی سیریس صورتحال ہے اور خاص طور پر جو ان کی پالیسی کی وجہ سے وہ بلوچستان ہے یا خیبر پختونخوا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر صحیح معنوں میں عمل درآمد کیا جائے اور ان کی جس پالیسی کی وجہ سے وہاں بدامنی ہے، روزانہ جو ہے ہمارے فورسز کے لوگ، ہمارے عوام شہید ہو رہے ہیں ہم کہتے ہیں کہ بس کریں ہمیں امن دے اور امن کیلئے ہمارا مطالبہ ہے، تیسرا جو کشمیر میں ہمارے بھائی بیٹے ہیں اور اس وقت ان کا مطالبہ ہے نوے دن سے تقریبا کافی لوگ مارے گئے ہیں اور اس کے باوجود شہید ہوئے ہیں اس کے باوجود یہ ان کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہے ہیں، اس کے جائز مطالبات ہیں ان کے ساتھ ہم ہیں اور جو صوبوں کی حوالے سے بات ہوئی ہے کہ صوبوں کی حوالے سے جو بھی بات ہوگی ہم سارے مشترکہ متفقہ مؤقف بنائیں گے اور اس کے مطابق پھر وہ قوم کو سامنے رکھیں گے، اور پھیر کو جو ہے نا ان شاءاللہ ہماری اسمبلی میں جوائنٹ اپوزیشن میٹنگ پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ ہوگی جس میں سینیٹرز اور سارے ایم این ایز اور تمام پارٹیوں کے قائدین شامل ہوں گے۔

محمود خان اچکزئی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پاکستانی گنگا الٹی بہہ رہی ہے، دنیا کا قانون یہ ہے کہ عوام کی مرضی سے حکومتیں بنتی ہیں، ان کی منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوتی ہے، لوگ متفقہ آئین پہ اعتماد کرتے ہیں، افواج دنیا کی افواج ہیں، مضبوط افواج ہیں دنیا کی بہت بڑی ایجنسیاں ہیں، سی آئی اے ہے، فلاں ہے فلاں ہے، ہم جب یہ بات کرتے ہیں تو لوگ گھبرا جاتے ہیں، اس ساری محفل میں کوئی بھی ایسا دماغی ماؤف آدمی نہیں ہے جو ملک کے لئے فوجوں کی ضرورت کو نہ سمجھتا ہوں، جو ملک کے لئے بہترین جاسوسی اداروں کی ضرورت کو نہ سمجھتا ہوں، میں بار بار یہ لفظ استعمال کرتا ہوں، ایجنسیاں قانون کے طرح ہوتی ہیں، جس ملک کی ایجنسیاں بیدار ہوتی ہیں ہماری ایجنسیاں خدا کرے سب سے بیدار ہو، لیکن جس طرح دنیا کی افواج گزارہ کرتی ہیں ہماری افواج کو بھی اسی طرح گزارہ کرنا پڑے گا، جس طرح دنیا کی ایجنسیاں گزارہ کرتی ہیں ہماری ایجنسیاں کو بھی بجائے اس کے آپ اس پر لگائیں کہ مولانا صاحب کی فٹ پرنٹ معلوم کرو مولانا کیا کر رہے ہیں، پاکستان کو بچانا عوام کا ہے اور عوام کی طاقت سیاسی لوگوں کے پاس ہوتی ہے، سیاسی لوگ ہی پاکستان کو بچا سکتے ہیں، تین سال سے حکومت ہو رہی ہے پریذیڈنٹ کو کسی نے نہیں دیکھا ہے، نہ مولانا صاحب نے دیکھا ہے، نہ تحریک انصاف نے دیکھا ہے، نہ ہم نے دیکھا ہے، وہاں کوئی توپوں موپوں کی سلامی دی جاتی ہے پرائم منسٹر ہاؤس میں، پریذیڈنٹ ہاؤس میں وہیں سے رخصت کیا جاتا ہے پارلیمنٹ طاقت کا سر چشمہ ہے، یہاں لوگ آئے ہیں ہم اتنے گئے گزرے نہیں ہیں کہ کوئی چائینیز وفد آئے گا یا چائینیز پریمیر آئے گا یا ایرانی کوئی آئے گا ہم اس کو نہیں سن سکیں گے، پارلیمنٹ کو درمیان سے اکھاڑا جا رہا ہے، فارغ کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے سب کچھ اٹھا کہ ہماری حمایت کرو باقی جو کچھ کرنا ہے یہ فری پر ہے، ملک کو لوٹنا ہے، کسی کو مارنا ہے، کسی کے گھر میں گھسنا ہے، کسی کی بہن بیٹی کو اٹھانا ہے، یہ طریقہ نہیں چلے گا، ہم پاگل نہیں ہیں، یہ ملک ہمارا ہے، ہم افواج سے محبت کرتے ہیں، ہم ایجنسیوں سے محبت کرتے ہیں، نواز شریف بہت بڑا آدمی ہوگا زندہ باد، فضل الرحمٰن صاحب بہت بڑا آدمی ہوگا زندہ باد، یہ سارے بڑے آدمی ہوگئے لیکن پاکستان سب سے بڑا ہے، ہم کسی کو بھی چاہے سویلین ہو، چاہے ملٹری کا ہو، چاہے توپوں والا ہو، چاہے کوئی جادوگر ہو، چاہے جو بھی بلا ہو پاکستان کو برباد کرنے کے لئے نہیں چھوڑیں گے، پاکستان کی بنیادوں کو ہلایا جا رہا ہے، دریاؤں کا رخ موڑا جا رہا ہے، تربیلہ کے ساتھ جو غازی بروتھا اس کو اٹک میں شامل کرنا، ہم کوئی بچے نہیں ہیں، ہمیں مجبور نہ کریں کہ ہم ملکی طور پر بھی اور مجبور ہوئے ہم بین الاقوامی عدالتوں میں بھی اپیل کریں گے، میں خود جاؤں گا، میں جاؤں گا، اگر آپ ہمارے وسائل پر قبضہ کرنے کے کوشش کریں گے، جہاں وسائل ہیں وہاں مسائل ہیں، اگر ہماری ملک میں بہترین چیزیں پیدا ہو رہی ہیں تو لوگوں سے بات کرو، خوشیاں مناؤ، ڈول پیٹو، خیرات کرو، کہ ہماری علاقے میں سونا آگیا، فلانا آگیا، لوگوں سے بات کرو، ایک ایک انچ زمین کے مالک معلوم ہیں، ان کو حصہ دار بناو، وہ اپنا حصہ بھی لیں گے، دوبئی میں محنت کی بجائے یہاں محنت کریں گے، پاکستان بہترین ملک بن جائے گا، بنے گا سنوارے گا، ہر جگہ قبضہ ہے مائنز اینڈ منرلز کے نام پر لوگوں کو بھگایا جا رہا ہے، یہاں سے مولانا صاحب کو پتا ہے سردیوں میں تیراہ کہ افریدیوں کو سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں اپنے گاؤں سے بھگا دیا گیا، کہاں جائیں ہم؟ ہم انٹرنلی ڈیس پلیس پرسنز کی اصلاح اس ملک میں، ملک کے اندر مہاجر کیوں؟ ہم پچھلے مہاجروں کو نہیں لائے تھے اپنی جگہ پر نئی مہاجرستان شروع کر دیا ہے، اگر آپ اختلاف کرتے ہیں تو آپ کو گولی سے مار دیا جاتا ہے، خدا کو مانو، روز اپنی تمام تر ایٹم بموں کے ساتھ باوجود پانچ سال سے روس یوکرائن کو نہیں توڑ سکا، کیوں اپنے عوام کو اپنے خلاف کھڑا کرنا چاہتے ہو، ہم آپ کو لکھ کر دیں گے، میں آپ کو لکھ کر دوں گا یہاں آئین کی حکمرانی قائم کر دیں، طاقت کا سرچشمہ پارلیمنٹ کو کر دیں، لوگوں کے وسائل پر، سندھی کیا مانگتا ہے سندھی کہتا ہے جو میرا ملک ہے اس کے وسائل پر میرے بچے کا پہلا حق تسلیم کرو، یہ بات آپ مولانا فضل الرحمٰن سے کہیں، خیبر پختونخوا میں دوسری پارٹیوں سے کہیں، کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے پہلا حق آپ کے بچے کا ہے، پنجاب سے یہ کہہ دیں سرائیکی سے کہہ دیں، بلوچ سے کہہ دیں، ساری مخالفتیں کم ہو جائیں گی، بندوق کے زور پر، وہ پشتوں میں کہتے ہیں کہ گاؤں بزور بازو آباد نہیں ہیں جاسکتے، آئیں پاکستان کو بچائیں۔
اس کے لئے میں اپیل کرتا ہوں علامہ صاحب کے ذریعے، ان کے ذریعے، تمام سیاسی پارٹیاں آئیں کم سے کم نکات پر متفق ہو، وہ کیا ہو سکتا ہے ایک آئین ہوگا، متفقہ جو ہمارا آئین ہے، یا پھر خدا نخواستہ لوگ مجبور ہوئے نئے آئین کا مطالبہ کر دیں گے، بغیر آئین کے ملک نہیں چلتا، آئیں آئین پر متفق ہوں، پیپلز پارٹی ہماری ساری پارٹیاں یہاں ایک آئین ہوگا، عوام طاقت کا سرچشمہ ہوں گے، ان کے منتخب پارلیمنٹ سے پالیسیاں بنیں گی، پرسوں میں ہم گئے تھے بڑا دکھ ہوا علامہ صاحب بھی تھے، مولانا صاحب بھی تھے، میں بھی تھا، افغانستان کے جشن کے فتح مبین، وہاں چین کا سفیر بیٹھا ہوا تھا، ہندوستان کا کمشنر بیٹھا ہوا تھا، دنیا جہان کے ممالک، حالانکہ کسی نے ریکگنائز نہیں کیا، ہماری طرف سے خارجہ وہ ڈیسک آدمی بیٹھا ہوا تھا جس کا تعلق افغانستان سے تھا، افغانستان سے کیا دشمنی ہے؟ آپ ثابت کر دیں آپ ثابت کر دیں کہ افغانستان دشمنی کی راہ پہ چل رہا ہے، ہمیں کنونس کر دیں، میں اور فضل الرحمٰن آپ کا ساتھ دیں گے، ایران کے ساتھ جنگ جاری ہے، بربادی ہے، وزیراعظم صاحب گئے، پندرہ بیس دن لگے رہے، ڈیفنس میں سعودی عرب ترکی پاکستان کا معاہدہ ہوا ہے ہمیں کسی کو پتہ نہیں ہے، آئے ہمیں بتائیں پارلیمنٹ میں یہ معاہدہ کس لیے؟ اس میں ایران کو شامل کریں، مصر کی بہترین فوج اس کو شامل کرے، باقاعدہ اسلام کی فوج بنائیں، اگر خدا نخواستہ ایسی چیز بنا رہے ہیں کہ امریکہ کی غیر موجودگی میں وہ کام ہم کریں گے یہ بربادی کا راستہ ہے۔ بس یہ ہماری باتیں ہیں، آئے ہم سب متفق ہوں۔

سوال و جواب
صحافی:
مولانا صاحب آپ نے اپوزیشن لیڈر صاحب کو مختلف وقتوں میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا کہا تھا، کیا اس پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی؟
مولانا صاحب:
میرے خیال میں اب چونکہ موضوع بدل گیا ہے، اب جائنٹ اپوزیشن کے موضوع پر ہم بہت اچھی ابتدا کر چکے ہیں، تو وہ بھی ساتھ ساتھ چلتا رہے گا ہو جائے گا، ان شاءاللہ

صحافی:
مولانا صاحب ماضی میں ہم نے دیکھا تھا کہ اس طرح کے اتحاد بن گئے تھے اور اس وقت بھی ہم سن رہے تھے کہ ملک میں آئین کے بالادستی کے لیے اتحاد بن رہے ہیں، اس کے بعد پی ڈی ایم بن گیا، حکومت بھی آئی لیکن وہ آئین کی بالادستی نہیں آئی، تو یہ اتحاد بھی حکومت گرانے کے لیے ہے یا آئین کی بالادستی کے لیے ہے؟
مولانا صاحب:
جو آپ سے کہا گیا ہے میرے خیال میں وہ سنجیدگی کے ساتھ کہا گیا ہے۔

صحافی:
مولانا صاحب یہ بتائیے گا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان آرہی ہے تو یہ اس متحدہ اپوزیشن کا نام کیا ہوگا؟
مولانا صاحب:
آپ کو بڑا وضاحت کے ساتھ کہہ دیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ایک جائنٹ اپوزیشن رول اس کو تخلیق کیا جاتا ہے۔

صحافی:
مولانا صاحب پارلیمنٹ کے جماعتوں کے علاوہ بھی آپ باہر سے بھی جماعتیں آسکتی ہو خاص طور پر سندھ کی جو علاقائی جماعتیں ہیں، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو چھوڑ کے، تو ان کی بھی محرومیاں ہے، کیا آپ ان کو بھی دعوت دین گے؟
مولانا صاحب:
ابھی تو ہمیں ذرا چلنے تو دے، پہلا قدم ہے، دوسرے قدم کی طرف جانے تو دیں، یہ سارے آپ کے امکانات جو ہیں یہ اپنی جگہ پر ٹھیک ہوں گی ان شاءاللہ

صحافی:
کیا پیپلز پارٹی کو بھی دعوت دی جائے گی؟
مولانا صاحب:
وہ تو پیپلز پارٹی فی الحال پلڑا تبدیل کرے جب اس کے اشارے مل جائیں گے تو ضرور دیں گے۔
بڑی مہربانی جی


ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
‎#teamJUIswat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پچھلی خبر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی پارلیمنٹ ہاؤس میں...