۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
26 August 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

اقتدار کے پار: ایک ضروری وضاحت – محمد زاہد شاہ

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۲۶ اگست ۲۰۲۶
اقتدار کے پار: ایک ضروری وضاحت – محمد زاہد شاہ

اقتدار کے پار: ایک ضروری وضاحت

تحریر: محمد زاہد شاہ

ان دنوں ’’اقتدار کے پار‘‘ نامی کتاب کا خاصا چرچا ہے۔ قائدجمعیت مولانا فضل الرحمن کی شخصیت کے حوالے سے لکھی گئی اس کتاب کو اس لیے بھی پسند کیا جا رہا ہے کہ اس میں قائدِ جمعیت کی سیاسی سفر اور کردار کا کسی حد تک تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ تاہم، اس کتاب کے حوالے سے چند باتوں کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے۔
کتاب کے دو مصنفین، رشید یوسف زئی اور محمدامین اسد صاحب، کا ذکر تو موجود ہے، لیکن کہیں واضح طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سا مضمون کس مصنف کی تحریر ہے۔ جبکہ تمام مضامین کا اسلوب، جملوں کی ساخت، ترتیب اور طرزِ بیان تقریباً یکساں ہے۔ہرباب کےآغاز میں تمہیدکےطور پہ منظرکشی کی گئ ہے,مگرجن کمالات واوصاف کی قائدمحترم کی طرف نسبت کی گئ ہے اس میں مبالغہ آرائ کےساتھ ساتھ انسانی تخلیق کی وہ چاشنی اور وہ احساسات و جذبات کی ترجمانی بھی مفقود ہے جو ایک صاحبِ قلم کی اپنی تحریر میں محسوس ہوتی ہے۔

اس کتاب میں مولانا فضل الرحمن کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے ایک عجیب طرزِ تحریر اختیار کیا گیا ہے۔ جس پہلو کا بھی ذکر آتا ہے، اسے ’’ان کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو‘‘ قرار دیا جاتا ہے، پھر دوسرے پہلو کو بھی اسی طرح ایک اور ’’نمایاں پہلو‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یوں مولانا کی شخصیت کے درجنوں، بلکہ بیسیوں ’’نمایاں پہلو‘‘ سامنے آتے ہیں۔ جبکہ یکساں مفہوم پرمبنی عبارات کے تکرار سے تحریر میں غیر ضروری طوالت کےباعث دوران مطالعہ بوریت محسوس ہوتی ہے۔

بعض مقامات پر ایسی غیر ضروری تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور مولانا کی شخصیت کی طرف ایسے کمالات منسوب کیے گئے ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مصنف طویل عرصے تک مولانا کے ساتھ سفر و حضر میں شریک رہا، ان کے مزاج کو گہرائی سے سمجھتا رہا اور ان کی نجی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے بھی واقف رہا۔ حالانکہ جہاں تک ہماری معلومات ہیں، ایسی رفاقت یا طویل صحبت کا کوئی مستند پس منظر سامنے نہیں آتا۔ چند ملاقاتوں کو کسی شخصیت کی مکمل مزاج شناسی اور نجی زندگی کے تمام پہلوؤں سے واقفیت کا ذریعہ قرار دینا درست نہیں ہوتا۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کتاب میں بعض تاریخی واقعات کے حوالے سے جمعیت اور قائدجمعیت کی طرف ایسی باتیں منسوب کی گئی ہیں جو حقیقت کے خلاف ہیں۔ ان کی وضاحت ضروری ہے، کیونکہ سیاسی شخصیات اور جماعتوں کی تاریخ بیان کرتے وقت معمولی سی غلطی بھی بعد میں ایک مستند حوالہ سمجھ لی جاتی ہے۔
یہاں کتاب کے ایک مصنف رشید یوسف زئی کے حوالے سے بھی ایک پس منظر واضح کرنا ضروری ہے۔ اگر ماضی میں ان کی مولانا فضل الرحمن سے چند ملاقاتیں رہی بھی ہوں تو یہ الگ بات ہے۔مگر ان کے بارے میں یہ بات بھی سامنے آتی رہی ہے کہ وہ ایک ادارے میں ملازم رہے ہیں، جہاں سے سبکدوشی کے بعد ان کی خواہش تھی کہ قائدجمعیت اربابِ اقتدار سے قربت کے ناطے انہیں کسی اہم ادارے میں ایڈجسٹ کرالیں۔ لیکن جب ان کایہ مقصد پورا نہ ہو سکا تو ایک عرصے تک سوشل میڈیا پر مولانا فضل الرحمن اور ان کے معاونِ خاص مفتی ابرار صاحب کے خلاف ان کے بعض انتہائی نامناسب اور غیر اخلاقی تبصرے اور تحریریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ان تحریروں میں مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے ایسی باتیں اور غلط نسبتیں کی گئی تھیں جنہیں بیان کرنے کی بھی ہمت نہیں۔۔

کچھ عرصے سے مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے ان کے لہجے میں نمایاں تبدیلی نظر آئ ہے اور ان کی تعریف و تحسین شروع ہوگئی ہے۔ پھر جب ان کی مذکورہ کتاب سامنے آئی تو اس کا بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا۔ ہمارے بعض ساتھیوں نے بھی نہایت سطحی انداز میں یہ تاثر دیا کہ ’’ایک سیکولر اور لبرل آدمی نے مولانا فضل الرحمن کی تعریف میں کتاب لکھ دی؛ یہ تو بہت بڑا کمال ہوگیا ہے۔‘‘
ہم نے اس وقت اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، کیونکہ کسی شخص کے خیالات میں تبدیلی آنا بذاتِ خود کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں۔ لیکن کتاب کی اشاعت کے چندہی دن بعد جب خود مصنف کی جانب سے ایک تحریرمیں سینیٹر طلحہ محمود اور سینیٹر دلاور خان کے حوالے سے جمعیت کے بارے میں بعض ایسی
باتیں بیان کی گئیں جوحقیقت کےمنافی تھیں۔

برادرمکرم مولانا امان اللہ حقاانی صاحب نے اپنی ایک پوسٹ میں ان باتوں کا بروقت رد بھی کیا۔ چونکہ حقانی صاحب نے اس کتاب پر تقریظ بھی لکھی ہے اور رشید یوسف زئی سے ان کا قریبی تعلق بھی ہے، اس لیے یہ اور بھی ضروری تھا کہ وہ اس حوالے سے وضاحت کرتے۔
اگر کسی شخص سے ذاتی تعلق موجود ہے، لیکن وہی شخص جمعیت اور اس کی قیادت کے بارے میں خلافِ حقیقت منفی تصورات پھیلاتا ہے، تو محض اس بنیاد پر خاموشی اختیار کرنا مناسب نہیں کہ اس نے مولانا فضل الرحمن کی تعریف میں ایک کتاب لکھ دی ہے۔

ہمیں کسی کی نیت پر حکم لگانے یا بدگمانی پھیلانے سے اجتناب کرنا چاہیے، ’’اقتدار کے پار‘‘ میں اگر مولانا فضل الرحمن کی شخصیت اور سیاسی کردار کے مثبت پہلو اجاگر کیے گئے ہیں تو یہ ایک قابلِ قدر کاوش ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں موجود تاریخی غلطیوں، مبالغہ آرائیوں، اور حقائق کے خلاف باتوں سے صرفِ نظر کر لیا جائے۔اسی نقطہ نظر کےساتھ ذیل میں ہم نے اس کتاب کی اہم غلطیوں کی نشاندہی اور مقدور بھر اصلاح کی کوشش کی ہے,اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔

مجھے یہ جان کر اطمینان ہوا کہ بہت سے احباب نے ’’اقتدار کے پار‘‘ کے متعلق میری معروضات سےمجموعی طورپہ اتفاق کیا ہے۔کچھ حضرات نےجزوی اختلاف بھی کیا ۔ جبکہ بعض احباب کا اصرار تھا کہ اگلی قسط میں کتاب کے اندر موجود تاریخی حوالوں اور جمعیت و قائدِ جمعیت سے متعلق بعض غلطیوں کی نشاندہی کی جائے اور ان کی وضاحت بھی پیش کی جائے،۔

اگرچہ یہ کتاب کوئی باقاعدہ سوانحِ حیات تونہیں، تاہم کتاب کےعنوان اور اسکے ذیل میں مولانا کی حیات، مذہبی فکر، آئینی جدوجہد اور پارلیمانی سیاست کے تجزیے کا جو حوالہ دیا گیا ہے، اس کا یہ تقاضا تھا کہ جس شخصیت کے کردار وخدمات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے، اس کے بارے میں کم ازکم بنیادی معلومات تو مصنف کو درست طور پر معلوم ہوں۔ مگر یہاں توستم یہ کہ کتاب کے اندر قائدِ جمعیت کی تاریخِ پیدائش سے لے کر ان کے خاندان کے بارے میں جو معلومات دی گئی ہیں، ان میں کئ چیزیں خلافِ حقیقت ہیں۔

مثلاً مصنف نے مولانا فضل الرحمن صاحب کی تاریخِ پیدائش یکم ستمبر 1953ء لکھی ہے، جبکہ قائدِ جمعیت نے خود ایک موقع پر اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اسکول میں داخلے کے وقت تاریخِ پیدائش کا باقاعدہ اہتمام نہیں کیا گیا تھا۔ چچا جان، خلیفہ محمد رحمہ اللہ، نے اسکول میں داخل کرایاتو اندازے سے یکم ستمبر کی تاریخ درج کرا دی ہوگی۔ جبکہ (قائدِ جمعیت کے بقول ان کی) درست تاریخِ پیدائش 21 اگست 1953ء، مطابق 10 ذوالحجہ 1372ھ، بروز جمعہ ہے۔اس حوالے سے ایک اہم ماخذ مفکرِ اسلام مفتی محمود رح کی شخصیت و کردار پر ڈاکٹر مولانا عبدالحکیم اکبری کا تحقیقی مقالہ ہے، جس میں مفتی صاحب کی اولاد کے تذکرے میں مولانا فضل الرحمن کی تاریخِ پیدائش 21 اگست 1953ء، مطابق 10 ذوالحجہ 1372ھ، بروز جمعہ درج ہے۔

انتہائی تعجب خیز بات یہ ہے کہ مصنف نے قائدِجمعیت کی نسبت’’صدیقی خاندان‘‘ کی طرف کی ہے۔جو برصغیر میں ایک معروف علمی خانوادہ موجود ہے معروف کالم نگار عرفان صدیقی اور جماعت اسلامی کےنعیم صدیقی جوکہ غالبا عرفان صدیقی کے ماموں تھے،ان کاتعلق توصدہقی خاندان سےتھا، مگر قائدِجمعیت کے خانوادے کے حوالے سے صدیقی نسبت کا ذکر بالکل خلافِ حقیقت ہے، اس لیے کہ ان کا اصل تعلق ناصر قبیلے کی شاخ یحییٰ خیل سےتعلق رکھنے والے’’عَلَم‘‘ خاندان سے ہے۔ مصنف نے غالباً ان کے جدِ امجد خلیفہ محمد صدیق صاحب کی نسبت سے اس خانوادے کو “صدیقی خاندان” قرار دیا ہے، جوکہ نہایت سطحی توجیہ ہے۔۔

صفحہ نمبر 40 پر یہ جملہ درج ہے کہ: ’’مولانا فضل الرحمن صاحب نے اپنے والد کی نقل بننے کی کوشش نہیں کی۔‘‘ اب خدا جانے کہ ’’نقل بننے‘‘ سے مصنف کی کیا مراد ہے۔ اگر اس سے مراد اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنا اور ان کی پیروی کرنا ہے تو قائدِ جمعیت نے اس کا ہر لحاظ سے اہتمام کیا ہے۔ گفتگو، چال ڈھال، لوگوں کے ساتھ تعلقات اور علمی و سیاسی زندگی کے بہت سے پہلوؤں میں انہوں نے اپنے والدِ محترم کو اپنا مقتدا سمجھ کر ان کی پیروی کی ہے۔ لہذا’’اپنے والد کی نقل بننے کی کوشش نہیں کی‘‘ کا جملہ وضاحت کا محتاج ہے۔کیونکہ عملی طور پر قائدِ جمعیت نےاپنے والدِ محترم کی شخصیت، فکر اور کردار سے گہرا استفادہ کیا اور انہیں اپنے لیے مقتدا سمجھا۔ ۔

مفکر اسلام مولانا مفتی محمود صاحب کی وفات کے بعد مولانا فضل الرحمن صاحب کو جماعت کی ذمہ داری سپرد ہوئی۔ اس حوالے سےمصنف نےلکھا ہےکہ اس تنظیمی جدوجہد کا ایک نمایاں باب بلوچستان کی طرف توجہ تھا، جہاں علماء اور عوام کے ساتھ رابطے کے باوجودکوئی مضبوط تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔”میرے خیال میں بلوچستان میں جمعیت کی تنظیم کے حوالے سے مصنف کی یہ بات درست نہیں ہے،کیونکہ اس دور میں جمعیت زیادہ منظم بلوچستان میں تھی۔ لہٰذا بلوچستان کی جماعت کو غیر منظم قرار دینا تاریخی حقائق کے منافی ہے۔

مصنف کے تجزیوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جمعیت کے نشیب و فراز اور مختلف ادوار کے حالات سے اچھی طرح واقف ہیں، لیکن واقعات کی جو ترتیب انہوں نے بیان کی ہے، اس میں متعدد مقامات پر تاریخ کے حوالے سے واضح جھول نظر آتا ہے۔مثلاً جب وہ 28 مارچ 1995ء کو پہلی مرتبہ بطور امیر قائد جمعیت کے انتخاب کا واقعہ بیان کرتے ہیں تواس کے بعد جمعیت کی دو دھڑوں میں تقسیم کا تذکرہ کرتے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید پہلی مرتبہ اس موقع پرجمعیت دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی، جبکہ صفحہ نمبر 52 پراس سے بالکل مختلف رائے قائم کرتے ہوۓ لکھا ہے کہ 1985ء میں جمعیت علماء اسلام دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ حالانکہ جمعیت علماء اسلام اس سے بھی پہلے دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ بعد ازاں 1991ء میں دونوں دھڑوں کا اتحاد ہوا، مگر مولانا سمیع الحق شہید نے اس اتحاد کو تسلیم نہیں کیا اور الگ گروپ بنا لیا۔

مصنف نے مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق شہید کے درمیان اختلاف کی جو وجہ بیان کی ہے، وہ بھی محلِ نظر ہے۔ مصنف کے مطابق مولانا فضل الرحمن کا موقف یہ تھا کہ کسی آمر کی حمایت نہیں کی جا سکتی، خواہ وہ ہمارے کسی ایجنڈے کا حامی ہی کیوں نہ ہو، جبکہ ان کے بقول مولانا سمیع الحق کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ افغان جہاد اس وقت امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور جو شخص اس جہاد کی پشت پناہی کر رہا ہو، اس کے ساتھ کھڑا ہونا حکمت کا تقاضا ہے۔
فاضل مصنف نے جہاد کی بنیادپر ضیاء الحق کی حمایت اور مخالفت کو جماعت کی تقسیم کی بنیادی وجہ کے طور پر پیش کیا ہے، حالانکہ جماعتی تاریخ اور اس دور کے حالات سے واقف پرانے کارکن اور ذمہ داران بخوبی جانتے ہیں کہ اختلاف کی یہ تعبیر تاریخی حقیقت کی مکمل ترجمانی نہیں کرتی۔

یہ تمام مثالیں اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہیں کہ اگر کسی جماعت کی سیاسی اور تنظیمی تاریخ کو موضوع بنایا جائے تو محض تجزیاتی تحریر اور واقعات کا اجمالی تذکرہ کافی نہیں، بلکہ ان کی درست زمانی ترتیب، پس منظر اور متعلقہ شخصیات کے کردار کا درست تعین بھی ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر تجزیہ خواہ کتنی ہی اچھی نیت سے کیا گیا ہو، تاریخی اعتبار سے اس کی صحت اور اعتباریت متاثر ہوتی ہے۔

مصنف نے مختلف حوالوں سے جمہوریت کی بحالی، سیاسی رواداری، قائدِ جمعیت کے تدبر اور تاریخی کردار وغیرہ کے حوالے سے ایک تجزیاتی گفتگو ضرور کی ہے، لیکن اس گفتگو کے اثبات میں کہیں ایسے واقعات بیان نہیں کیے گئے جن سے یہ ثابت ہو کہ فلاں موقع پر فلاں واقعہ پیش آیا اور یہ مولانا فضل الرحمن صاحب کے کردار کا نمایاں حصہ تھا۔البتہ بعض مقامات پر ایسی باتیں بھی مولانا فضل الرحمن صاحب کی طرف منسوب کی گئی ہیں جو بظاہر ان کے شایانِ شان نہیں اور نہ ہی ان کے عمومی کردار اور طرزِ سیاست سے مطابقت رکھتی ہیں,قطر متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کابھی حوالہ دیاہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فارن افئیر کمیٹی کے چیئرمین شپ کے دوروں کے دوران ان ممالک کےہم۔منصب ذمہ داران کے سفارتی نوعیت کی ملاقاتیں ہوئ ہیں،جنہیں ان ممالک کی قیادت کے ساتھ ذاتی یا جماعتی تعلق سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔
اس کتاب میں تاریخی حوالے سے ایک اہم غلطی یہ بھی ہے کہ حافظ حسین احمد کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ جمعیت کے مرکزی جنرل سیکرٹری تھے۔ حالانکہ حافظ حسین احمد صاحب مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری، سیکرٹری اطلاعات اور مرکزی نائب امیر جیسے اہم عہدوں پر ضرور فائز رہے، لیکن وہ جماعت کے جنرل سیکرٹری کبھی نہیں رہے۔
اسی طرح مصنف کا یہ دعویٰ بھی خلافِ حقیقت ہے کہ حافظ حسین احمد صاحب نے جب جماعت کے فیصلے کے خلاف کسی “دوسری” جماعت کی انتخابی مہم میں شرکت کی تو مولانا فضل الرحمن صاحب نے انہیں بر طرف کر دیا۔ یہ بات کسی مستند تاریخی واقعے کے بجائے ایک من گھڑت روایت ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
مولاناسمیع الحق کے جنازے میں مولانا فضل الرحمن کی شرکت کاتذکرہ بھی کیاہے ,حالانکہ قائد جمعیت بوجوہ ان کے جنازے میں تو شرکت نہیں کرسکے,البتہ بعد میں تعزیت کیلئے تشریف لے گئے تھے

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کتاب میں اس نوعیت کی واضح تاریخی اور واقعاتی غلطیاں موجود ہوں تو کیا ایسی کتاب پر جماعت کی چھاپ اور جماعتی حلقوں کی طرف سے اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ کیا جماعت کے ذمہ داران اس کتاب کی سفارش کر سکتے ہیں کہ اسے پڑھا جائے اور اس کے مندرجات کو تاریخی حوالہ یا استناد کے طور پر استعمال کیا جائے؟ افسوس ہوتاہے کہ ہمارے ہاں اس قدر تساہل اور سطحیت سے کیوں کام لیا جاتاہے کہ اس نوع کی ایک غیر معیاری کتاب کی تعریف میں رطب اللسان رہے,لیکن خود شاید کتاب کھولنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔

مصنف نے لکھا ہے کہ جب 1993ء میں بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ وزیراعظم بنیں تو انہوں نے مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا”
پہلی بات تویہ ہے کہ 1993ء کی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن صاحب پارلیمانی کشمیر کمیٹی نہیں بلکہ سٹینڈنگ کمیٹی براۓ امورخارجہ کے چیئرمین منتخب ہوئےتھے۔ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین اس دور میں نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم تھے۔
جہاں تک خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین شپ کاتعلق ہے تو قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب یکم مارچ 1994ء کو اس کمیٹی کے متفقہ چیئرمین منتخب ہوئے۔ کمیٹی کے کل گیارہ ارکان میں اکثریت اپوزیشن کے ارکان تھے، وزیرِ خارجہ سردار آصف احمد علی بلحاظ عہدہ جبکہ دیگر ارکان میں حزب اقتدار (پیپلز پارٹی) کے چار ارکان، اور اپوزیشن کی جانب سے مولانا فضل الرحمن ، نوابزادہ نصراللہ خان, غلام مصطفیٰ جتوئی کے علاوہ مسلم لیگ ن کے شیخ رشید احمد، گوہرایوب اور میاں وحید بھی شامل تھے۔ چیئرمین کے لیے نوابزادہ نصر اللہ خان نے مولانا فضل الرحمن کا نام پیش کیا، غلام مصطفیٰ جتوئی نے اس کی تائید کی اور باقی تمام ارکان نےتائیدکی۔ یوں متفقہ طور پر قائد جمعیت کو فارن افیئرز سٹینڈنگ کمیٹی کاچیئرمین منتخب کر لیا گیا۔
یہاں ایک اہم بات قابلِ ذکر ہے کہ شیخ رشید احمد، جو بعد کےادوار میں مولانا فضل الرحمن صاحب کو خارجہ امور کمیٹی کے حوالے سے سخت تنقید کا نشانہ بناتے رہے، وہ بھی اس کمیٹی کے رکن تھےاور انہوں چیئرمین شپ کیلئے مولاناکےحق میں رائے دی۔

عدد لحاظ سے اپوزیشن ارکان کی اکثریت تھی چنانچہ حکومتی ارکان تائید نہ کرتے تب بھی مولانا کے انتخاب کا قوی امکان تھا لہٰذا مصنف کا یہ کہنا کہ بے نظیر بھٹو نے مولانا فضل الرحمن کو خارجہ امور کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا، واقعاتی طورپہ درست نہیں۔

کتاب کے صفحہ نمبر 66 پر ایک اور اہم تاریخی غلطی موجود ہے۔ مصنف نے لکھا ہے کہ 27 دسمبر 2007 کو مولانا فضل الرحمن صاحب اسلام آباد میں اپنی جماعت کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے کہ انہیں خبر ملی کہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں بے نظیر بھٹو پر حملہ ہوا ہے اور چند ہی لمحوں میں یہ خبر شہادت کی خبر میں تبدیل ہو گئی۔” مولانا فضل الرحمن کے حوالے اسلام آباد کے اجلاس کی صدارت کی یہ خبر بالکل بے بنیاد اور من گھڑت ہے، کیونکہ اس روز قائدجمعیت اسلام آباد میں موجودہی نہیں تھے ۔بلکہ اپنے حلقہ انتخاب میں الیکشن کمپین کے سلسلے میں ۔آبائی گاؤں عبدالخیل کے قریب پنیالہ میں ایک انتخابی جلسے میں شریک تھے۔ جلسے کے بعد جب وہ ڈیرہ اسماعیل خان شہر پہنچے تو انہیں بے نظیر بھٹو پر حملے اور بعد ازاں ان کی شہادت کی خبر ملی۔
یہ مثالیں اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ کتاب میں محض تجزیاتی رائے ہی نہیں، بلکہ بعض بنیادی واقعات، تاریخوں، عہدوں اور شخصیات کے کردار کے حوالے سے بھی ایسی معلومات شامل ہو گئی ہیں جن کی تصحیح ضروری ہے۔ کسی سیاسی شخصیت کے متعلق کتاب کے اندر واقعات کا درست ہونا اور ان کی زمانی و تاریخی ترتیب کا برقرار رہنا ایک بنیادی تقاضا ہے۔

صفحہ نمبر 94 پر فاضل مصنف نے خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے حوالے سے لکھا ہے کہ وزارتِ اعلیٰ کا سوال بھی اہم تھا۔ اگرچہ مولانا فضل الرحمن صاحب خود اس منصب کے لیے سب سے موزوں شخصیت تھے، لیکن انہوں نے اپنی ذات کو اس دوڑ سے الگ رکھا اور اکرم خان درانی کو وزارتِ اعلیٰ کے لیے نامزد کیا۔
یہاں پر مولانا فضل الرحمن کا اپنی ذات کو وزارتِ اعلیٰ کی دوڑ سے الگ رکھنے کا تذکرہ غیر ضروری معلوم ہوتا ہے، کیونکہ آئین کے تحت صوبائی اسمبلی کی ممبرشپ کے بغیر کوئی شخص وزیرِ اعلیٰ بن ہی نہیں سکتا, اس حوالے سے مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ کی وزارتِ اعلیٰ کی مثال پیش کی جائے کہ وہ قومی اسمبلی کے رکن ہوتے ہوئے بھی وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے تھے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت نیا آئین تشکیل پا رہا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے عبوری آئین نافذ کیا تھا، جس میں بعض مخصوص گنجائشیں موجود تھیں۔ انہی گنجائشوں کے تحت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ، صوبائی اسمبلی کے رکن نہ ہونے کے باوجود، وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔لیکن بعد میں جب باقاعدہ آئین نافذ ہوا تو اس میں یہ امر واضح طور پر طے کر دیا گیا کہ وزیرِ اعلیٰ کے لیے صوبائی اسمبلی کا رکن ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا مولانا فضل الرحمن صاحب کے معاملے میں وہ آئینی گنجائش سرے سے موجود ہی نہیں تھی، اس لیے مولانا کے بارے میں یہ کہنا کہ انہوں نے اپنی ذات کو وزارتِ اعلیٰ کی دوڑ سے الگ رکھا، تاریخی اور آئینی پس منظر کے اعتبار سے درست تعبیر نہیں کہلاسکتی۔
صوبہ سرحداسمبلی سے ایم ایم اے کے منظوکردہ حسبہ بل کے حوالے سے صوبائی حکومت کے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ صوبائی اسمبلی نے اسے منظور کیا، لیکن وفاقی حکومت نے اسے نافذ ہونے سے روک دیا۔ موصوف کایہ بیان بھی تاریخی طور پر درست نہیں۔کیونکہ صوبائی اسمبلی نے جب حسبہ بل منظور کیا تو صدر جنرل پرویز مشرف نے بذات خود اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرکے اسے چیلنج کیا۔ سپریم کورٹ نے اس کا جائزہ لینے کے بعد بعض اعتراضات لگاکر بل کو واپس صوبائی اسمبلی کی طرف بھیجا۔ صوبائی اسمبلی نے عدالت کے اعتراضات کے مطابق اس میں ترامیم کیں اور ترمیم شدہ بل دوبارہ پیش کیا۔ اس کے بعد بھی معاملہ عدالت کے سامنے گیا اور سپریم کورٹ نے اس پر مزید کارروائی کو معرض التواء میں ڈال دیا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ وفاقی حکومت انتظامی طاقت استعمال کرتے ہوئے حسبہ بل کو نافذ ہونے سے روک دیا، درست تاریخی تصویر پیش نہیں کرتا۔

متحدہ مجلسِ عمل کے حوالے سے بھی فاضل مصنف نے لکھا ہے کہ 2008ء کے انتخابات سے قبل سیاسی حکمتِ عملی کے تحت اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ متحدہ مجلسِ عمل اپنی سابقہ صورت برقرار نہ رکھ سکی اور بالآخر یہ تاریخی اتحاد بکھر گیا”۔
یہ تعبیر بھی درست معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ 2008 کے الیکشن کے موقع پر بنیادی اختلاف اس بات پر تھا کہ انتخابات میں حصہ لیا جائے یا بائیکاٹ کیا جائے۔ قاضی حسین احمد نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا اور اس پس منظر میں ایم ایم اے کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔
لیکن ایم ایم اے کی باقی پانچ جماعتوں نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا اور ایم ایم اے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ انہوں نے باقاعدہ طور پر الیکشن کمیشن سے ایم ایم اے کے انتخابی نشان کے حصول کے لیے درخواست بھی دی۔ اوریوں جماعت اسلامی کے علاوہ باقی دینی جماعتوں نے بشمول جےیوآئی 2008ء میں ایم ایم اے کے انتخابی نشان ’’کتاب‘‘ پر الیکشن لڑا۔
لہذا اسے ’’ایم ایم اے کے تاریخی اتحاد کے بکھر جانے‘‘ سے تعبیر کرنا درست نہیں۔ 2008ء کے انتخابات میں ایم ایم اے کا انتخابی نشان برقرار رہنا اور اس نشان پر مختلف جماعتوں کے امیدواروں کا انتخاب لڑنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اتحاد برقرارتھا، مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تھا۔

نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے اور قائد جمعیت کی نظربندی کے حوالے سے مصنف نے لکھا ہے کہ 15 اکتوبر کو مولانا فضل الرحمن پر بغاوت کا مقدمہ درج کرکے انہیں گھر میں نظر بند کردیا گیا اور شورکوٹ میں واقع ان کی رہائشگاہ کو “سب جیل” قرار دے دیا گیا اور ایک “منتخب” پارلیمانی رہنما کے گھر کو عملی طور پر حراستی مرکز میں تبدیل کر دیا گیا۔

یہاں پر مصنف نے مولانا فضل الرحمن کو منتخب پارلیمانی رہنما قرار دیا ہے، حالانکہ ان دنوں قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیاں موجود ہی نہیں تھیں۔ اسی واقعے کے تسلسل میں موصوف نے لکھا ہے کہ نظر بندی اور بغاوت کے مقدمات کے سنگم پر مولانا فضل الرحمن کو محض اپنی ذاتی آزادی اور سیاسی بقا کے تحفظ کا مسئلہ درپیش نہیں تھا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرا اور اہم چیلنج ان کے سامنے تھا؛ یعنی وہ نوجوان نسل جو خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں امریکی عسکری کارروائیوں اور ڈرون حملوں کے براہِ راست اثرات جھیل رہی تھی”۔
یہاں بھی مصنف تاریخ کے حوالے سے ایک اہم غلطی کرگئے ہیں۔کیونکہ نائن الیون کے بعد جن مولانا کو جب نظر بند کیا گیا ان دنوں قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ ڈرون حملوں کا آغاز اسکے کافی عرصے بعد ہوا۔۔لہذا قائد جمعیت کی نظربندی کو امریکی ڈرون حملوں اور قبائلی علاقوں میں امریکی عسکری کارروائیوں کے ساتھ جوڑنا جو کہ بعد کے واقعات ہیں تاریخی تسلسل اور واقعاتی حقیقت کو متاثر کرتا ہے, کسی دور کے واقعات کو اسی دور کے حالات اور واقعات کے تناظر میں بیان کرنا چاہئے۔ بعد کے واقعات کو ماضی کے کسی مرحلے میں شامل کر دینے سے یہ تجزیہ یقینی طور پر غیر معتبر شمار ہوگا۔

جولائی 2018 کے انتخابات کے حوالے سے مصنف نے لکھا ہے کہ مولانا فضل الرحمن صاحب پہلی مرتبہ پارلیمان سے باہر رہ گئے۔ لیکن یہ بات تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔ کیونکہ مولانا فضل الرحمن صاحب اس سے قبل 1990ء اور 1997ء میں اپنے آبائی حلقے سے قومی اسمبلی کی نشست ہارگئے تھے اور ان دونوں مواقع پر وہ پارلیمان سے باہر رہے تھے۔ اس لیے 2018ء کو ان کے پہلی مرتبہ پارلیمان سے باہر رہ جانے کا سال قرار دینا درست نہیں۔ان انتخابات کے نتائج کو قائد جمعیت نے مسترد کرکے اگلے دن ایک پریس کانفرنس میں احتجاجی تحریک چلانے کا عندیہ دیا اور بعدازاں جماعت کی شوری کی مشاورت وتائید کے ساتھ ملک بھر میں احتجاجی جلسوں کاآغاز کیا جبکہ مصنف نے لکھا ہے کہ 2018 کے انتخابات کے بعد مولانا فضل الرحمن صاحب نے تقریباً ایک سال تک مسلسل سیاسی خاموشی اختیار کیے رکھی اور یہ خاموشی دراصل غیر فعالیت نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی تیاری کا دور تھا۔ لیکن اسی کے بعد مصنف خود لکھتے ہیں کہ اس ایک سال کے دوران مولانا فضل الرحمن صاحب ملک کے مختلف علاقوں کا مسلسل دورہ کرتے رہے۔
یہاں دونوں باتوں میں واضح تضاد پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمن مسلسل سیاسی خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے تو پھر ملک بھر کے دوروں اور سیاسی اجتماعات کو کیا نام دیاجائے؟ حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اس عرصے میں مسلسل سیاسی طور پر متحرک رہے۔ انہوں نے ملک کے مختلف شہروں اور علاقوں کے دورے کیے اور جمعیت علماء اسلام کے زیرِ اہتمام لاہور، کراچی، سرگودھا، سکھر، مظفرگڑھ، ڈیرہ اسماعیل خان، مردان، ٹنڈو غلام علی، نصیرآباد، بنوں، میران شاہ اور دیگر شہروں میں بڑے اجتماعات اور 14 ملین مارچز سے خطاب کیا۔ ایسی صورتِحال میں مولانا فضل الرحمن صاحب کے اس دور کو ’’سیاسی خاموشی‘‘ سے تعبیر کرنا حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ملک بھر میں مسلسل دورے، اجتماعات اور ملین مارچز اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ سیاسی طور پر غیر خاموش نہیں ، بلکہ مسلسل متحرک تھے۔
لہٰذا 2018ء کے بعد کے اس دور کو ’’سیاسی خاموشی‘‘ قرار دینا زمینی حقائق کے سراسر منافی ہے۔

صفحہ نمبر 115 پر وکی لیکس کے حوالے سے امریکی سفیر کے ساتھ ہونے والے مکالمے کی تفصیلات جو انہوں نے بیان کی ہیں قائد محترم نے بندہ کے استفسار پر اس حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ لیکن مقام افسوس ہے کہ موصوف امریکی سفیر کے ساتھ ملاقات کا احوال جس پیرائے میں نقل کیاہے ,اس سےتو یہی تاثر ملتا ہے کہ مولانا کا امریکی سفیر سے اقتدار دلوانے کی خبر الزام نہیں بلکہ حقیقت ہے,جس کی قائد جمعیت ہمیشہ تردید کرتے رہےہیں،اور جیونیوز پر افتخاراحمد کے ساتھ ایک انٹرویو میں واضح طور پہ کہا کہ میں ایسے اقتدار پہ لعنت بھیجتا ہوں جس کیلئے مجھے امریکی سفیر سے بھیک مانگنی پڑے۔
مگر مصنف نے بڑے اہتمام کے ساتھ یہ مکالمہ جو یقیناً فرضی اور من گھڑت ہے کتاب کا حصہ بناکر قائد محترم کے کردار کو مشکوک بنانے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش کی ہے۔

’’فروری 2008 کے انتخابات کے حوالے سے مصنف نے لکھا ہے کہ انتخابات کے بعد نئی سیاسی صف بندی کا سلسلہ شروع ہوا تو مولانا فضل الرحمن اور آصف علی زرداری کے درمیان پہلی تفصیلی اور بامعنی ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد وہ اس ملاقات کی گفتگو اور اس کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آصف زرداری کی بعض باتوں نے مولانا فضل الرحمن کو بہت متاثر کیا اور اس پہلی ملاقات ہی نے ان کے ذہن میں زرداری صاحب کے بارے میں پہلے سے قائم کئی تصورات کو بدلنا شروع کر دیا۔
مصنف کابیان کردہ یہ تاثر حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا کہ 2008ء سے قبل مولانا فضل الرحمن اور آصف علی زرداری کا کوئی باقاعدہ سیاسی تعارف یا رابطہ نہیں تھا اور یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کی دوسرے دور حکومت میں آصف علی زرداری کا سیاسی معاملات میں اہم کردار تھا اور جمعیت علماء اسلام کے پیپلز پارٹی کے ساتھ مختلف سیاسی معاملات میں روابط موجود تھے۔ بالخصوص صدارتی انتخاب کے موقع پر پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا تھا، جس کی پاسداری کے حوالے سے مختلف معاملات میں ان حضرات کے درمیان سیاسی رابطہ بھی رہا۔
لہٰذا آصف علی زرداری سے مولانا فضل الرحمن کا اس سے پہلے کوئی تعارف یا سیاسی رابطہ نہ ہونا، 2008ء کی ملاقات کو ان کی ’’پہلی ملاقات‘‘ قرار دینا، اور اس ملاقات میں زرداری صاحب کے اندازِ گفتگو سے مولانا صاحب کے غیر معمولی طور پر متاثر ہونے کی جو منظرکشی کی گئی ہے، یہ سب باتیں سطحی، غیر حقیقی اور تاریخی حقائق کے منافی ہیں۔

عدلیہ بحالی کی تحریک کے حوالے سے بھی فاضل مصنف نے ایک ایسا تاثر دیا ہے جس کی وضاحت ضروری ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 2007ء میں عدلیہ بحالی کی تحریک کے دوران جمعیت کی پالیسی اور حافظ حسین احمد کے ذاتی سیاسی موقف کے درمیان جو فاصلہ پیدا ہوا، اس نے ایک بڑے جماعتی بحران کی صورت اختیار کرلی۔ مزید یہ کہ اس وقت جمعیت کی مرکزی قیادت نے عدلیہ بحالی کی تحریک سے فاصلہ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مصنف کی یہ بات قطعی طور پر درست نہیں۔ حافظ حسین احمد صاحب کا اس معاملے میں موقف جماعت کے مجموعی موقف سے مختلف نہیں تھا۔ ان کا مؤقف بھی یہی تھا کہ معاملے کو کسی ایک شخصیت، یعنی افتخار محمد چوہدری، تک محدود کرنے کے بجائے ادارے کے وقار، خودمختاری اور آزادی کی بات ہونی چاہیے۔ یہی مؤقف قائد جمعیت کا بھی تھا۔
اسی سلسلے میں حافظ حسین احمد مرحوم کا ایک معروف جملہ بھی ہے۔ جب افتخار محمد چوہدری بحال ہوئے تو انہوں نے اپنی روایتی بذلہ سنجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا:
’’چیف آزاد ہوا ہے، جسٹس نہیں۔‘‘
یہ جملہ دراصل اسی جماعتی مؤقف کی ترجمانی کرتا تھا کہ مسئلہ کسی فرد کی بحالی سے بڑھ کر عدلیہ کے ادارہ جاتی وقار اور آزادی کا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ حافظ حسین احمد مرحوم کا ذاتی موقف جماعت کی پالیسی سے متصادم تھا اس اختلاف نے جماعتی بحران کی صورت اختیار کرلی، تاریخی طور پر درست نہیں۔

مولانا فضل الرحمن صاحب کی پارلیمانی زندگی کے حوالے سے مصنف نے چند ایسی تقاریر کا ذکر کیا ہے جنہیں وہ قومی سیاست پر اثرانداز ہونے والی اہم تقاریر قرار دیتے ہیں۔ ان میں 1989ء میں سلمان رشدی کی کتاب ’’شیطانی آیات‘‘ کے خلاف ان کا خطاب، 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے موقع پر ان کا خطاب، افغانستان پر امریکی حملے کے خلاف پارلیمنٹ سے خطاب۔ 2022ء میں تحریکِ عدم اعتماد کے موقع پر پارلیمنٹ سے ان کا خطاب شامل ہیں۔
ان میں سےصرف سلمان رشدی کے بارے میں پارلیمانی خطاب کا حوالہ کسی حدتک درست قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس موقع پر مولانا پارلیمنٹ کا حصہ تھے۔لیکن خطاب کے۔ مندرجات یہی تھے، اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے اس کی کاپی نکلواکر اس پہ بات کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایٹمی دھماکے افغانستان پر امریکی حملے اور عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد، ان تینوں مواقع پر مولانا فضل الرحمن صاحب قومی اسمبلی کے رکن نہیں تھے بلکہ افغانستان پر امریکی حملے کے موقع پر تو پارلیمنٹ موجود ہی نہیں تھی، توپارلیمنٹ سےخطاب کیسے؟۔
مولانا فضل الرحمن صاحب 1997ء کا الیکشن ہار گئے تھے اور 1998ء میں قومی اسمبلی کے رکن نہیں تھے۔ اس کے باوجود مصنف نے نہ صرف مئی 1998ء میں ایٹمی دھماکوں کے حوالے سےفرضی پارلیمانی تقریر کے مندرجات نقل کئے ہیں بلکہ اس کے ماحول کی بھی منظر کشی کی ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد پارلیمنٹ کا ماحول غیر معمولی تھا، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات وقتی طور پر پسِ پشت چلے گئے اور ایسے ماحول میں مولانا نے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو محض عسکری کامیابی یا تکنیکی پیش رفت کے طور پر نہ دیکھنے پر زور دیا۔
حیرت ہے کہ مصنف نے یہ سب کچھ اس طرح بیان کیا ہے جیسے وہ خود اس پارلیمانی کارروائی کا چشم دید گواہ ہو۔
اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات افغانستان پر امریکی حملے کے حوالے سے پارلیمانی خطاب کی ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ 2001ء میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن کی تقریر ان کے پورے پارلیمانی سفر کی شاید سب سے زیادہ متنازع، زیرِ بحث اور بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کرنے والی تقاریر میں شمار ہوتی ہے۔”
اکتوبر 2001ء میں قومی اسمبلی کا وجود ہی نہیں تھا کیونکہ 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پارلیمنٹ تحلیل کردی تھی اور 10 اکتوبر 2002ء کے انتخابات تک قومی اسمبلی موجود نہیں تھی۔ لہٰذا 2001ء میں قومی اسمبلی کے اندر مولانا فضل الرحمن کی کسی تقریر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن مصنف کی سینہ زوری ملاحظہ کیجئے کہ موصوف نے نہ صرف اس تقریر کا حوالہ دیا ہے بلکہ نہایت ڈھٹائی کےساتھ اس کے مندرجات بھی تفصیل سے بیان کر دیے گئے؟ مصنف نے واضح کیاہے کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی (فرضی🤣) تقریر کا آغاز کس طرح کیا، ان کا استدلال کیا تھا، انہوں نے کیا کہا اور کس انداز سے بات آگے بڑھائی۔ یعنی پوری ایسی منظرکشی کی گئی ہے جیسے یہ سب کچھ باقاعدہ پارلیمانی کارروائی کا حصہ ہو۔

تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے مصنف نے لکھا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمن کی پارلیمانی زندگی کے مختلف ادوار کو ایک فکری تسلسل میں دیکھا جائے تو 2022ء کی تحریکِ عدم اعتماد کے دوران قومی اسمبلی میں ان کا خطاب اس پورے سفر کا منطقی اختتام محسوس ہوتا ہے”۔
یہاں بھی بنیادی تاریخی حقیقت وہی ہے کہ مولانا فضل الرحمن صاحب جولائی 2018ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن نہیں بن سکے۔ لہذا 2022ء میں تحریکِ عدم اعتماد کے موقع پر مولانا فضل الرحمن پارلیمنٹ کے رکن نہیں تھے۔ توپارلیمنٹ سے ان کاخطاب اور اسے ان کی پارلیمانی زندگی کے منطقی اختتام کے طور پر پیش کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

احباب یہاں میری تنقید کا اصل مدعا سمجھنا ضروری ہے۔ اگر کسی جگہ سن یا تاریخ کی معمولی غلطی ہو تو اسے سہو قرار دے کر نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب 1998ء کی ایک فرضی پارلیمانی تقریر، 2001ء میں موجود نہ ہونے والی قومی اسمبلی کا ایک خطاب اور 2022ء میں غیر رکن شخص کی قومی اسمبلی میں تقریر کا نہ صرف حوالہ دیا جائے بلکہ ان کے مندرجات، ماحول اور استدلال کی تفصیلات بھی اس انداز میں پیش کی جائیں، جس سے قاری کو گمان ہوتا ہے کہ مصنف نے خود ان تقاریر کو سنا، پارلیمانی کارروائی کا مشاہدہ کیا اور پھر ان کے مندرجات قلم بند کیے ہیں۔حالانکہ بنیادی تاریخی ترتیب سامنے رکھی جائے تو یہ باتیں ممکن ہی نہیں۔
لہٰذا میری گزارش ہے کہ اس نوعیت کی تنقید کو محض ’’تنقید‘‘ کہہ کر رد کرنے کے بجائے اس بنیادی سوال پر بھی غور کیا جائے کہ آخر ایسی باتیں کتاب میں شامل کیسے ہوئیں؟ ان اغلاط کی نشاندہی کو کسی شخص کے خلاف مہم یاکتاب پر اعتراض برائے اعتراض نہ سمجھا جائے۔ یہ دراصل ایک کارکن کی اپنی ذمہ داری کے احساس کےتحت تاریخی ریکارڈ کی درستی کی کوشش ہے، تاکہ جماعتی کارکن جماعت، اس کی جدوجہد اور قائدین کے بارے میں وہی جانیں جو حقیقت ہے، نہ کہ وہ جو کسی مصنف کے قلم سے سہواً، مبالغتاً یا خلافِ واقعہ طور پر تحریر ہو گئی۔
میری اس کاوش کامنشایہ ہے کہ غلط نسبت کی تردید بھی ضروری ہے اور بے جا نسبت کی اصلاح بھی۔ کیونکہ تاریخ میں صرف الزام ہی نقصان نہیں پہنچاتا، کبھی کبھارغیر ضروری تعریف بھی حقیقت کو دھندلا دیتی ہے، قائدِ جمعیت ہوں یا جمعیت علماء اسلام، ان کے بارے میں لکھی جانے والی ہر بات کو اسی معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔

(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پچھلی خبر مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا اسلام آباد...