۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
27 August 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا جوائنٹ اپوزیشن اجلاس سے مدلل خطاب

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۲۷ اگست ۲۰۲۶
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا جوائنٹ اپوزیشن اجلاس سے مدلل خطاب

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا جوائنٹ اپوزیشن اجلاس سے مدلل خطاب

26 اگست 2026

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد

انتہائی قابل احترام جناب محمود خان اچکزئی صاحب، ناصر عباس صاحب اور جناب بیرسٹر گوہر صاحب، تمام معزز پارلیمان کے ذمہ دار اراکین! چینیوں کا ایک کہاوت ہے کہ اگر ایک ہزار میل کا سفر کرنا ہو تب بھی اس کی ابتداء پہلے قدم سے ہوتی ہے، مجھے یاد ہے جب الیکشن کے بعد جناب اسد قیصر صاحب کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کا ایک وفد میرے ہاں تشریف لایا تھا، پہلی ملاقات تھی جس میں، میں نے ان سے یہ عرض کیا تھا کہ آپ نے ایک اچھا آغاز کیا ہے، لیکن جو رکاوٹیں مشکلات ہمارے درمیان ہیں اس کی بنیاد اب رکھ دی گئی ہے کہ اس کو تحلیل کیا جائے اور تدریجی طور پر تحلیل ہوتی ہے ساری چیزیں، بیک وقت نہیں ہوتی جی، جسمانی طور پر بھی زخم یک دم آتا ہے لیکن زخم وقت کے ساتھ ساتھ مندمل ہوتا ہے، ایک لمحے میں نہیں ہوتا، بیماری یک دم آ جاتی ہے لیکن اس بیماری کا ازالہ وقت کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے ایک لمحے میں نہیں ہوتا، چنانچہ وہ سفر شروع ہوا، جناب اسد قیصر صاحب کا رابطہ مسلسل رہا، اُن کے ساتھ اُن کی ٹیم بھی اور ہمارے نوجوانوں میں پی ٹی آئی کے نوجوانوں کا ایک وفد وہ تو جناب حسین اخون ذادہ صاحب اور دوسرے دو چار پانچ ساتھی وہ تو یہ نہیں دیکھتے تھے کہ اپنے گھر میں داخل ہو رہے ہیں، انہوں نے اپنا گھر ہی بنا دیا تھا اور مجھے خوشی ہوتی تھی جب وہ میرے پاس آتے تھے اور ہم بیٹھتے تھے، ہمارے برخوردار تھے۔

تو یہ ساری چیزیں ایک مسلسل رابطے کے نتیجے میں، میں 1988 سے اسمبلی میں ہوں اور میری زندگی کا جو سیاسی آغاز ہے وہ جنرل ضیاء الحق کے خلاف مارشل لاء کی تحریک ہے، تو میری سیاست کی ابتداء ہی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ کی ہے، اتار چڑھاؤ سیاست میں آتے رہتے ہیں اور بلآخر ان گزشتہ دو تین سالوں میں حالات میں بہتری آتی گئی، ہم اختلاف کو تو ختم نہ کر سکیں شاید لیکن اختلاف میں نرمی پیدا کرنا، اختلاف کو ایک معمول کی صورتحال پہ لانا اس میں ایک کردار ادا کیا جا سکتا ہے اور الحمدللہ پارٹیاں اور بھی ہیں، دوسری پارٹیوں سے بھی ہماری اختلافی رائے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ ایک تعلق بھی ہے، احترام بھی ہے ایک دوسرے کا اور ان شاءاللہ اب جو ہمارے آج کی بیٹھک ہے چند روز پہلے میرے پاس اسد قیصر صاحب اور عامر ڈوگر صاحب تشریف لائے تھے، جنید اکبر صاحب شائد اس وقت تک کچھ طبیعت ان کی خراب ہو گئی تھی جو نہ آ سکے اس وجہ سے اور پھر میں نے ان سے کہا کہ میں خود آتا ہوں آپ کے ہاں لیڈر آف اپوزیشن کے چیمبر میں اور ایک مختصر سی اس میٹنگ میں ہم اگلا لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔ چنانچہ میں وہاں حاضر ہوا اور میں نے ان کے سامنے ایک تجویز رکھی کہ پارلیمانی سیاست میں اور پارلیمنٹ کے اندر ایک حکومت ہوا کرتی ہے، ایک حزب اختلاف ہوا کرتا ہے، حکومت میں صرف وہی لوگ شریک ہوتے ہیں جو آپس کی اتحادی ہوں اور جو بھی حکومت میں شریک نہیں ہوتا وہ اپوزیشن میں بیٹھتا ہے، ان کے درمیان کوئی اتحاد نہیں ہوتا، یہ پھر اپوزیشن میں بیٹھنے والوں، جماعتوں، ان کی قیادت اور لیڈر آف دی اپوزیشن کی ایک ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ان سب کو قریب تر لائیں اور ایک مشترکہ حکمت عملی کو اختیار کریں۔ میں خود اس منصب پر رہ چکا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ کتنی مشکلات سامنے آتی ہیں اور ان مشکلات کو ایڈریس کرنے میں کیا دقتیں آتی ہیں۔

تو اگر ہم منتشر ہیں، ہماری کوئی مشترک سٹریٹیجی نہیں ہے، تو پھر حکومت اس طرح کی قانون سازیاں کرے گی جس طرح پہلے بھی ہوئی ہیں اور پرسوں پھر بھی ہوئی، چھبیسویں ترمیم ایک امتحان تھا ہمارے لئے، اس میں کوئی شک نہیں، بعض چیزیں ایسی سامنے آتی ہیں کہ اصولی طور پر آپ کا اس سے اختلاف نہیں ہوتا اور اگر آپ صرف اس ایک نکتے کو پکڑتے ہیں کہ جی آپ غیر نمائندہ ہیں اور ہم آپ سے کوئی بات نہیں کرتے تو پھر وہ اوچھے ہتھکنڈوں کے ساتھ بھی کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں، تو پھر ضرور اس میں اپنا کردار شامل کرنا ہوتا ہے تاکہ ہم اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر اس کا راستہ روک سکیں یا اس میں اصلاح کر سکیں، جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم میں, ہم نے جہاں ان کو ضرورت تھی کہ دو تین دن کے اندر اندر آپ فیصلہ کریں ہمیں ووٹ دینے کا، وہاں ہم نے ایک مہینہ ایک ہفتہ تک اس کو کھینچا اور اس میں پی ٹی آئی کے جو لیڈرشپ تھی، ان کے جو آئینی قانونی ماہرین تھے، لمحہ بہ لمحہ ہمارے درمیان رابطہ رہا ہے، کوئی ایک پیشرفت بھی ایسی نہیں کہ جس سے ہم نے پی ٹی آئی کی قیادت کو، ان کے نمائندوں کو آگاہ نہیں کیا اور وہ رہنمائی بھی کرتے رہے، وہ یہ بھی بتاتے تھے کہ اس میں یہ غلط ہے، یہ غلط ہے، اس کو ٹھیک کرنا ہے، اس کو ٹھیک کرنا ہے اور اس سے ہمیں تقویت ملتی تھی، اور اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم نے بہت سی خرابیوں کا ازالہ کیا اور اس وقت ہم نے مذاکرات کو حتمی شکل دی جب پی ٹی آئی نے کہا کہ اب ہمارا کوئی اعتراض باقی نہیں رہا ہے اور پھر مشترکہ پریس کانفرنس کی، پھر ہم نے کچھ اپنے ترامیم بیچ میں پیش کی جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات پر ڈیبیٹ، وفاقی شرعی عدالت کو مزید تقویت دینے اور سودی نظام کے خاتمے کے حوالے سے کچھ ترامیم تھی، دینی مدارس کے حوالے سے قانون سازی تھی، سارے معاملات اس میں ضم کر دئیے گئے اور اس کو حل کر دیا گیا۔ لیکن پھر ستائیسویں ترمیم آئی اور جو کچھ انہوں نے ہمارے ساتھ تسلیم کیا تھا وہ تمام چیزیں واپس کی اور انہوں نے چھبیسویں ترمیم کی افادیت کو ختم کر دیا۔

تو میں یہ سوچتا ہوں کہ جس جگہ پر آپ کے اور ہمارے درمیان اتفاق ہوا ہے ہم کم از کم اپنے باہمی کمٹمنٹ جو ہے اُس پر قائم رہیں، حکومت کی رویے اپنے جگہ پر، مجھے یاد ہے انیس سو ستتر میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کا اتحاد بنا پاکستان قومی اتحاد کا، تو بہت بڑی تحریک چلی اور ہزاروں لوگ جیلوں میں چلے گئے، لیکن نتیجے میں مارشل لاء لگ گیا، اب ظاہر ہے کہ ابتداء میں تو تمام ہمارے حلقوں کے اوپر پیپلز پارٹی کی مخالفت جو ہے وہ جذباتی طور پر سوار تھی اور اُس کا فائدہ جنرل ضیاء الحق کو پہنچ رہا تھا، اور کچھ وقت ایک تعاون کا سلسلہ بھی چلا اور تعاون کی بنیاد کیا تھی کہ الیکشن آپ نے اُسی بنیاد پر کرنے ہیں جس پر پیپلز پارٹی اور پی این اے کے درمیان طے ہوا ہے اور اُس نے کہا ہم نویں دن کے درمیان الیکشن کراؤں گا اور اُسی معاہدے کی بنیاد پر کراؤں گا، اب یہ ایک قومی سطح کا عہد و پیمان تھا، قوم کے ساتھ ایک کمٹمنٹ تھی، لیکن وقت کے ساتھ جب اُنہوں نے اُس سے انحراف کیا تو مفتی صاحب نے واضح طور پر اعلان کیا کہ میں عوام کے ساتھ جو کمٹمنٹ ہیں اُس کو مسترد نہیں کر سکتا اور پھر اُس کے بعد ایم آر ڈی بنی، ہمارے علی بھائی جو ہے اُن کے والد محترم اصغر خان صاحب ہمارے قائد تھے، ہمارے بڑے تھے، ہمارے بزرگ تھے، ہم سب نے ایک محنت کی، پیپلز پارٹی کی بشمول ایم آر ڈی بنائی، شدید اختلافات کے باوجود بالآخر آپ کو ایک قومی مسئلہ پر اکٹھا ہونا پڑتا ہے کہ قوم پہلے ہوتی ہے اور مجھے بڑی خوشی ہوئی جناب علی ظفر صاحب کی گفتگو سے اُن کے والد محترم جو ہیں وہ میرے بزرگ تھے اور جب میں آٹھویں جماعت میں پڑتا تھا تو حسنِ قرات کے مقابلے میں، میں نے پوزیشن لی تھی تو ایوب خان کی کابینہ میں اُن کے والد صاحب وزیر قانون تھے اور پنڈی کے ایک سکول میں تقریب تھی، تو اُن کے والد سے میں نے اُس زمانے میں انعام وصول کیا ہے، تو یہ رشتہ ہے اُن کے ساتھ اور پھر اُنہوں نے ایک کتاب لکھی اور اُس میں اُنہوں نے مفتی صاحب کا تذکرہ کیا یا میرا تذکرہ کیا تو اُنہوں نے مجھے فون کیا کہ آپ میرے دفتر میں آئیں گے، اُن کے حکم پر میں لاہور میں اُن کے دفتر میں گیا، اُنہوں نے کتاب اُٹھائی، تصویر نکالی، مجھے پیش کی اُنہوں نے اور حوالہ دیا کہ یہ یہ حوالے میں نے آپ کے اِس کتاب میں دیئے ہیں۔

تو ہمارا یہ رشتہ ہے، ایک تعلق ہے، اب میں یہ بات اِس لئے کرنا چاہتا ہوں کہ یہ تعلق ذرا دل میں اور بھی گہرا ہو جائے علی کے، تو اِس وقت جب ہم پارلیمانی سیاست سے وابستہ لوگ یہاں اکٹھے ہیں تو جب پرسوں میرے غریب خانے پر تمام اکابرین تشریف لائے تھے تو وہاں بھی ایک مشاورت ہوئی، آج تو میں نے بہت کچھ سنا یہاں، جذبات بھی سنیں، خیالات بھی سنیں، ہمارا جو اپنا ایک سیاسی تجربہ ہے، پس منظر ہے، جو کچھ ہم نے سیکھا ہے بطور ایک طالب علم کے اِس میدان میں اور بڑوں سے سیکھا ہے، ہم نے نیشنل لیول کے ایشوز کو ایڈریس کرنا ہے، جس سے ملک کا براہ راست تعلق ہے، جس سے ملک کے عوام کا براہ راست تعلق ہے، میں محمود خان، راجا صاحب، ہم اپس میں سب بعد میں ہیں، پہلے ہم نے اپنے ملک اور اپنے ملک کے جو عوام کے مسائل و مشکلات ہیں اس کو پریاریٹی دینی ہے، اس کو ترجیح دینی ہے اور پبلک میں نظر آئے کہ یہ لوگ جو اس وقت اکٹھے ہم سے بات کر رہے ہیں ان کی ترجیحات کیا ہیں، ہم ہیں یا اپنی ذات، ہم ہیں یا اپنا مفاد، پبلک کو نظر آئے، پبلک سمجھتی ہے چیزوں کو، وہ شائد الفاظ میں عام آدمی اس کی تعبیر نہ کر سکے لیکن اس کے اندر کے جو احساسات ہوتے ہیں وہ ضرور اپنی چیزیں حصول کرتی ہیں، وہ سمجھتی ہیں ساری باتیں۔

تو اس حوالے سے ہم نے جو مشاورت کی اور ہم نے جو ترجیحات طے کی اور جو ہم آج آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں، یقیناً اس وقت جو ملک کے اندر اور خاص طور پر دو صوبوں کے اندر امن و امان کی صورتحال ہے، یہ صورتحال عام معروضی صورتحال سے مختلف ہے، پینتالیس سال سے افغانستان پاکستان کے درمیان خط کے اوپر مسلسل جنگ ہو رہی ہے اور خون بہہ رہا ہے اور وہ زخم گہرا ہوتا جا رہا ہے، پھیلتا جا رہا ہے اور خاکم بدہن اگر نصف صدی ایک خط کے اوپر مسلسل خون بہتا رہے، وہ جغرافیائی تبدیلیوں کی نشاندہی بھی کرتا ہے، خدا نہ کرے کل کیا واقعات اور حادثات اس ملک کے ساتھ ہو جاتے ہیں سب سے بنیادی چیز یہ ہے کیونکہ یہ ایک عام معروضی حادثہ نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ کل ایک جھگڑا ہو گیا تھا اور آج اس کی وجہ سے پکڑ دھکڑ ہو گئی اور ایک کیس بن گیا، عدالت میں پیش ہو گئے یہ نہیں ہے مسئلہ، یہ وہ مسائل ہیں جو آپ کے سٹیٹ کو چیلنج کر رہے ہیں، آپ کے فوج کو چیلنج کر رہے ہیں، آپ کے نظام کو چیلنج کر رہے ہیں، اور کہیں پر آپ سے علیحدگی کی باتیں ہو رہی ہیں۔

یہ ساری چیزیں اس وقت جو ہمیں درپیش ہیں اس کو سنجیدگی سے لینا پڑے گا اور پھر جہاں بدامنی ہوتی ہے، خوف کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے، اس کے اثرات اقتصاد پر پڑتے ہیں، معیشت پر پڑتے ہیں، مملکتی زندگی میں جو حکومتی ذمہ داریاں ہیں قرآن کریم نے جگہ جگہ پر اس ترجیح کو جو ذکر کیا ہے وہ دو ہی چیزیں ہیں آپ لایلف قریش کو پڑھیں، فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوَع وَآمَنَهُم مِّن خَوْفِ، صرف دو باتوں کا ذکر کیا ہے جس نے تمہیں بھوک میں کھانا کھلایا، روزی دی اور جس نے بدامنی میں تمہیں امن دیا اور خوف سے نجات دلایا، وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَئِئِ مِنَ الْخَوْفِ وَالجُوعِ۔   بھوک اور خوف اکٹھا ذکر ہے، وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّة، امن بھی تھا اور روزگار وہ بھی کچ کچ کے آرہا تھا اقتصاد بھی بہتر تھا فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ  جب انہوں نے اللہ کی نعمتوں کا انکار کیا  فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ  پھر بھوک اور بدمنی کا مزہ چکا دیا۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ امن و امان، انسانی حقوق کا تحفظ، خوشحال معیشت حضرت ابراہیم علیہ السلام جو توحید کا علم بلند کر رہے تھے اور بندے اور رب کے درمیان تعلق جوڑ رہے تھے اور شرک کے خلاف بات کر رہے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا  إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا،  میں اب آپ کو پوری انسانیت کا امام بنانے والا ہوں، امامتِ کبری عطا فرمائی، اب ڈیوٹی بدل گئی، ترجیحات تبدیل ہو گئی، عقیدے کا اصلاح و عبادات اور بندگی کا درس اب تبدیل ہو گیا،  وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ،   کہ یا اللہ میری اس شہر کو امن کا گہوارہ بنا دے، اور اس شہر میں جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ان کو رزق عطا فرمائے، اب دیکھیں صرف مومن کے لئے اللہ نے کہا نہیں  قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَطِعَهُ قَلَيلًا   جس نے کفر کیا ہے میں اس کو بھی دنیا کی زندگی میں معیشت دوں گا اور خوشحال معیشت دوں گا۔ تو ملک کے اندر غیر مسلم بھی ہوں تب بھی وہ آپ کا شہری ہیں اور جو حقوق آپ کے انسانی ہیں وہی ان کو حاصل ہیں، یہ ساری تعلیمات مملکتی زندگی میں ہم اور آپ جس محاذ پر اور میدان میں ہیں وہاں امن کی کیا اہمیت ہے؟ وہاں معیشت کی کیا اہمیت ہے اور کیا اس وقت ہم بحیثیت پاکستانی من حیث القوم ان دو عذابوں میں مبتلا نہیں ہیں، ہم ان حالات کو اللہ کی طرف سے سزا کیوں نہیں سمجھ رہے، ہم اس پہلو پر کیوں غور نہیں کر رہے، لیکن بہر حال ذمہ داری حکمرانوں کی ہوتی ہے، وہ ٹھیک کرے صورتحال اور ہمارے سسٹم میں نظم کا تقاضہ یہی ہے کہ کوئی حکومت کرتا ہے تو بھلا کرے، لیکن اگر کوئی حزب اختلاف میں ہے تو وہ ان کی کمزوریوں کی نشاندہی کرے اور ان کی اصلاح کی طرف ان کو متوجہ کرے۔

تو یہ اس پہلو کی طرف ہم متوجہ ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے لئے جو مناسب اقدامات ہیں وہ ہمیں اپنا فریضہ سرانجام دینا چاہیے، اگر ہم ماضی کی اختلاف میں الجھے رہے اور انہی کو بس روتے رہے تو ہم آنے والے مستقبل میں اپنے وطن کے لئے، اپنے ملک کے لئے، اپنے اقتصاد کے لئے کچھ نہیں کر سکیں گے اور پھر جو ان دو اہم چیزوں سے امن و امان اور اقتصاد و معیشت سے ہماری توجہ ہٹانے کے لئے انہوں نے صوبوں کی تقسیم کا سوال پیدا کیا ہے، کیا یہ وقت ہے اس کا؟ میں اس وقت ان حالات سے گزر چکا ہوں اور شائد میں اس وقت بھی اکیلا تھا جب فاٹا کا انضمام کیا جا رہا تھا اور ہم چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ آپ غلط موقع پر یہ کر رہے ہیں، اب وہی فاٹا ہے، وہی قبائل ہیں، بیچارے نہ ٹرائبل نہ سیٹل، بیچ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انگریزوں کے زمانے سے علاقے قوموں کے نام پر تھے آج آپ جائیں نہ وہاں تحصیل دار جا سکتا ہے، نہ وہاں قانون گو جا سکتا ہے، نہ وہاں پٹواری جا سکتا ہے، نہ اُن کی زمینیں تقسیم ہو سکتی ہیں اور اگر کریں گے تو پھر جو قبائل ہیں وہ بہتر جانتے ہیں کہ کیا صورتحال بنے گی؟ اس وقت تک وہاں کچھ نہیں ہے، کوئی محکمہ مال نہیں ہے، کوئی محکمہ مال کا کردار نہیں ہے، نہ اُن میں ہمت ہے کہ وہ کچھ کر سکیں اور اوپر سے جو بد امنی آگئی ہے جو کسی زمانے میں صرف میران شاہ، وزیرستان اور ان علاقوں میں ہوتی تھی یا کم از کم باجوڑ کے سائڈ پہ آج وہ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور دریائے سندھ کے کنارے تک پہنچ گئی ہے مغربی کنارہ مکمل ہمارا اب اُن کے قبضے میں ہے۔

تو اس سارے صورتحال میں جو صورتحال پھیل گئی ہے اور اُدھر سے بلوچ علاقے میں جو انسرجنسی ہے یہ سب اب مرج کر رہے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ، کیا اسٹریٹیجی ہے ان لوگوں کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہی، اب ملک تو ہمارا ہے جو گزرے گا تو ہمارے اوپر گزرے گی اور اس حوالے سے اُدھر طالبان کا مسئلہ، طالبان کے کئی گروپس ہیں، داعش کا مسئلہ، بی ایل اے کا مسئلہ اور ہمارے دو صوبے کس حالات میں ہیں اور اب کشمیر کی طرف جو صورتحال بنتی چلی جا رہی ہے کچھ معلوم نہیں کیا ہو رہا ہے اور اگر ہم طول دیتے رہے کشمیر کے مسئلے کو تو ابتدا میں تو اس پوری تحریک کے اوپر جو قبضہ تھا یا جو قیادت تھی وہ الحاق پاکستان والی تھی لیکن رفتہ رفتہ اس کے اندر جو خودمختار کشمیر یا پاکستان سے لا تعلق ہونے کی جو عناصر ہیں وہ جس طرح اس میں سرائیت کر رہے ہیں وہ غالب آ جائیں گے اور پھر کیا صورتحال بننے گی کچھ پتہ نہیں، ان حالات میں ملک ہر طرف سے گرا ہوا ہے۔ افغانستان کی سرحد بند کر دی گئی ہے لیکن ہمارے پورے ملک کے پنجاب سے لے کر سندھ تک ان کے کاروبار ان کے پھل فروٹ یہ سارا افغانستان کے ساتھ کاروبار ہوتا رہا ہے، افغانستان سے آگے وسطی ایشیا کے ساتھ کاروبار ہوتا رہا ہے ان کے پورے کاروبار کا انحصار پاکستان کے اوپر ہے وہ وسطی ایشیا کو اہمیت نہیں دے رہے، وہ پاکستان کو اہمیت دیتے ہیں لیکن دس دس کلومیٹر، پانچ پانچ کلومیٹر دونوں طرف سے ٹرکیں کھڑی ہیں اور ترکاری بھی ضائع ہو رہی ہے، پھل بھی ضائع ہو رہے ہیں کچھ بھی اور پھر خاص طور پر جو قبائلی تاجر ہے جس کا انحصار ہی افغانستان کی تجارت پر ہے اس کا تو بلکل کچومر نکل گیا ہے، کہتا ہمارا کیا گناہ ہے، لیکن ہم تو ملک کی جنگ لڑ رہے ہیں، تو ہم تو ملک کی جنگ لڑ رہے ہیں، بھئی ملک انسانی حقوق کے لیے ہوتا ہے، اگر آپ انسانی حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے تو یہ قطعاً ملک کی خدمت نہیں ہے کہ آپ ایک ملک کے ساتھ لڑ رہے ہیں اور بس اور یہ ایک الگ موضوع ہے اس پر مزید تفصیلات کی الگ ضرورت ہے۔

اور ظاہر ہے کہ سیاسی کارکن جو جیلوں میں ہیں اگر اور میں نے پارلیمنٹ میں کہا تھا اور آپ سب لوگوں نے سنا تھا جب میں نے میاں نواز شریف صاحب کو خطاب کیا تھا کہ میاں صاحب جب آپ جیل میں تھے تو میں نے آپ کی رہائی کی بات کی تھی لیکن اگر آج عمران خان جیل میں ہے تو میں اس کی رہائی کی بات کروں گا، یہ سیاسی بات ہے، کارکن جیلوں میں ہیں، سیاسی کارکن کیوں جیلوں میں ہونا چاہتے ہیں؟ لیکن ایک بات میں آپ سے عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ جنرل ضیاء الحق کے زمانے تک تحریکیں تھی، ہم جیلوں میں تھے، ہمیں سیاسی قیدی کہا جاتا تھا، لیکن جب نائن الیون ہوا اور امریکہ نے پوری دنیا پر اور مغرب نے پوری دنیا پر غلبہ حاصل کیا مغرب کی سرمایہ داریت چھا گئی اس کے بعد آپ کے ہاں سیاست اور سیاسی قیدی کا تصور ختم ہوا، اب اگر سیاست دان کو گرفتار کیا جاتا ہے تو پھر کرپشن کے بنیاد پر گرفتار ہوگا اور اگر مذہبی آدمی کو گرفتار کیا جاتا ہے تو دہشت گردی کے بنیاد پر گرفتار ہوگا، دہشت گردی اور کرپشن ان دو جرموں کے بنیاد پر سیاستدانوں کو جیلوں میں ڈالا جاتا ہے سیاست نظریہ اور فکر ختم ہوئی۔ اب دوبارہ حالات بنتے جا رہی ہیں بین الاقوامی دنیا ایک بار پھر منقسم ہو رہی ہے اور اس منقسم دنیا میں ایک نئی نظریاتی جنگ آگے آئے گی، وقت کے ساتھ ساتھ بڑھے گی، اس لئے ہمیں بھی من حیث القوم، قوم کی تربیت کرنی ہوگی کہ وہ کچھ دنیا کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ہم دنیا کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے چلے جائیں۔

اس کے ساتھ ہی جب ہم نے کہا کہ ہماری مشرقی سرحد بھی بند ہے، ہماری مغربی سرحد بھی بند ہے، چائنہ کا اعتماد بھی ٹوٹ چکا ہے، ایران کی بھی اپنی مشکلات ہیں، تو آپ نے ملک کو ایک محصور ریاست بنا دیا ہے، ہمیں بتاؤ تو سہی، ان کیمرہ اجلاس کرو اور پارلیمان کو مطمئن کرو پہلے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ لیکن ان کو شائد خطرہ ہے اس سے کہ جب ان کیمرہ اجلاس ہوگا تو پی ٹی آئی والے ہنگامہ کریں گے میں نے کہا نہیں اس سے پہلے ان کے دور میں بھی ہوا ہے، اس سے پہلے بھی ہوا ہے، میں نے آپ سے اجازت تو نہیں لی تھی لیکن میں نے کہہ دیا تھا کہ ذمہ میں لیتا ہوں، بلاؤ بتاؤ تو سہی ہمیں ہو کیا رہا ہے؟ ہم بھی گفتگو کریں گے، آپ بھی کریں، ہمارے سامنے بھی حقائق ہیں ان کو اگر اپنی انٹیلیجنس پر بھروسہ ہے، ٹھیک ہے انٹیلیجنس ہوتی ہے پوری دنیا میں، لیکن ہم بھی پارٹیاں ہیں، چپے چپے کے اوپر میرا کارکن رہ رہا ہے، گاؤں گاؤں میں میرا کارکن رہ رہا ہے، اس پر جو گزر رہی ہے وہ مجھے حال احوال دے رہا ہے، پھر آپ تو سرکار ہیں آپ تو ایجنسی کے رپورٹوں میں بھی چھپاتے ہیں وہاں کے اصل حقائق کو بھی چھپا لیتے ہیں، لیکن میں تو نہیں چھپاؤں گا، زمین پر جو حالات ہیں لوگ جل رہے ہیں اور میں کہوں کہ جی اس کو پردے میں رکھو، اس کو پردے میں رکھو، کیوں؟ یہ تو قوم کی امانت ہے، میرا اس حوالے سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔

تو جو کچھ حضرت اس وقت ہو رہا ہے اور جس طرح ہماری پولیس اس وقت مشکل میں ہے اور میں آپ کو بتا دوں اور آپ کو علم بھی ہے کہ ہمارے کچھ اضلاع تو وہ ہیں کہ جہاں پر چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے، کانسٹیبلز نے اپنے وہ بنا دی ہے اور وہ نہ ڈی آئی جی کو مانتے ہیں، نہ ڈی پی کو مانتے ہیں، نہ آئی جی کو مانتے ہیں، خود بندوق اٹھا کے لڑ رہے ہیں اور لڑ رہے ہیں اور ایک کانسٹیبل نے ڈی آئی جی کی سیکورٹی کلوز کر دی پرسوں، بنوں کی ڈی آئی جی کی، بنوں کے ڈی آئی جی کی سیکورٹی ایک کانسٹیبل کے حکم پر کلوز کر دی گئی، بڑی مشکل سے آج جو ہے شائد آپ کے حکومت نے وہاں ڈی آئی جی تبدیل کیا ہے، یہ چیزیں وہ ہیں جو میں اس لیے آپ کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں کہ یہ وہ حالات ہیں میری نظر میں شائد مجھ سے بہتر ہمارے دوسرے اکابرین جانتے ہوں لیکن ان چیزوں کو ہم نے ایڈریس کرنا ہے، اس کے بغیر ہم نہیں چل سکتے آگے، یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمارے درمیان قدر مشترک پیدا کر رہی ہے سارے منزل ایک ہی دن میں طے نہیں ہوا کرتے جی، اگر ہم نیک نیت ہوں گے اگر ہم تین سال کے بعد آج یہاں بیٹھے ہیں تو اگلے سال دو سالوں میں ہم کچھ زیادہ اس سے آگے بڑھ چکے ہوں گے، پھر آپ جو کچھ ارشاد فرما رہے ہیں شائد وہ بھی نصیب ہو جائے، لیکن ایک ہی لمحہ میں تو وہ سارے صورتحال نہیں بنتی جی۔

اب اس حوالے سے ہمیں آج بھی یہ مطالبہ رکھنا چاہیے کہ گورنمنٹ کی ذمہ داری اگر وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے، ہماری پارلیمنٹ کا عالم تو یہ ہے حضرت کہ ہم سب کو لیگ ہیں چاہے وہ حکومت کے ہوں چاہے وہ اپوزیشن میں ہوں اور اگر حکومت کی آواز قوم تک پہنچ سکتی ہے تو میری آواز بھی اسی طرح قوم تک پہنچے، کسی زمانے میں ٹی وی نہیں تھا ہم اسمبلی میں بولتے تھے اور بس، لیکن آج اگر ہمارے لائیو سیشن جا رہے ہیں پبلک میں تو پھر یہ کیا مطلب کہ اپوزیشن کے آواز بند کر دی جاتی ہے اور پہلے تو یہ ہے کہ چینلز پر بند ہوتی تھی اب تو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر بھی بند ہو جاتی ہے، تو ان چیزوں پر بھی ہماری ایک مشترکہ آواز ہونی چاہیے، ہم مل کر احتجاج کریں ان چیزوں پر، ہم سپیکر کو مجبور کریں کہ وہ رولنگ دے کہ وہ اپوزیشن کی تنقید کو قوم تک پہنچائے، دونوں بیانیے قوم کے پاس جانے چاہیے، پھر کل قوم فیصلہ کرے۔ لیکن جو ترمیم پرسوں ہوئی ہے ہم آپس میں بیٹھے ہیں میں کھل کر آپ سے کہنا چاہتا ہوں ہم نے واک آؤٹ تو کیا لیکن ہم نے قانون کا مطالعہ نہیں کیا، اگر ہم اس قانون کا مطالعہ کر لیتے تو ہم پہلے لڑتے، اپنا پوائنٹ آف ویو دیتے، بحث کرتے، اگر وہ زبردستی ووٹ کا مرحلہ تھا تو پھر ہم مل کو واک آؤٹ کر لاتے، لیکن نشاندہی تو ہونی چاہیے تھی، وہ جو کسی زمانے سے بات چلی آ رہی ہے کہ ملک کی سیاسی نظام میں فوج کا کردار ہونا چاہیے اور اس کو قانون کے حوالے سے اس کو آپ کردار دیں تو یہ تو ترکی بنانا چاہتے تھے،اتاترک کی حکومت بنانا چاہتے تھے کہ اس میں فوج کا کردار ہونا چاہیے، آج اس قانون کے تحت ان کو یہ کردار دے دیا گیا ہے اور میں درخواست کروں گا بیرسٹر صاحب سے بھی، علی ظفر صاحب سے بھی، کامران صاحب سے بھی یہ بیٹھے آپس میں اور آپ ان چیزوں کو ڈسکس کریں، کہاں کہاں پر کیا کچھ ہوا ہے اس کے اندر، وہ جو فیڈرل گورنمنٹ کی اختیارات تھے فوج کے ادارے کے اختیارات کے حوالے سے جو ایگزیکیٹو اختیارات تھے جس میں بری فوج ہو، فضائی فوج ہو، بحری فوج ہو، اس کی قیادت میں رد و بدل کرنا، چھٹی دینا نہ دینا، ترقی دینا نہ دینا، کسی کی ملازمت میں، یہ سارے اختیارات جو فیڈرل گورنمنٹ کے پاس تھے وہ آپ نے آج چیف آف ڈیفنس فورسز کے حوالے کر دیا ہیں اور ان کو اگر آپ نے ایڈوائزر بھی بنا دیا ہے ڈیفنس ایڈوائزر، تو اب وہ کیبنیٹ میں بھی بیٹھے گا، آپ فیلڈ مارشل بھی ہو، آرمی چیف بھی ہو اور وہ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہو اور وہ کیبنیٹ میں بھی بیٹھا ہو، آپ بتائیں فیصلے کون کرے گا؟ شہباز شریف صاحب کرے گا؟ اس کی کابینہ کرے گی اور پھر حضرت ہمیں بلکل نوٹس لینا چاہیے بلوچستان سے ڈھائی سو لوگوں کو بلایا گیا اور یہاں پر ایک ایک نے ان کو وہ سنائی ہیں، وہ بے توقیری کی ہے ان کی معززین کی، حضرت خدا کا خوف کریں ہم مسلمان ہیں، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَلَعَنَهُمْ كُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٍ،   چھ لوگ  ہیں جس پر میں بھی لعنت بھیجتا ہوں، اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اور ہر پیغمبر کی دعا قبول بھی ہوتی ہے اور اس میں ایک کون ہے  المتسلط بالجبروت،  جو طاقت کی بنیاد پر تسلط کرتا ہے قوم کے اوپر، جس کو اللہ نے ذلیل کیا ہوا ہے اس کو تو عزت دے رہا ہوتا ہے اور جس کو اللہ نے عزت دیا ہے اس کو ذلیل کر رہا ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تو یہ ہے کہ جب قوموں کے بڑے سرداران اسلام میں آئے تو آپ نے ان کی سرداری ختم نہیں کی، قوم کے اندر جو اس کا سرداری کا مقام تھا وہاں پر برقرار تھا، ہر چند کے آپ کے ہاتھ میں بیعت کیا اور کلمہ پڑھ لیا انہوں نے، لیکن قومی حیثیت ان کی برقرار رہی، ان کو تبدیل نہیں کی، یہ احساس نہیں دلایا کہ میرے پاس آگئے ہو تو اب تمہاری قدر و قیمت کم ہو گئی ہے، یہ احساس دیا کہ جب میرے پاس آگئے ہو تو آپ کی قدر و قیمت جو اپنے قوم میں تھی وہ برقرار رہے گی،  خِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ،  تم میں جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں سردار تھے وہ اسلام میں آکر بھی سردار ہوں گے۔

تو یہ شرف انسانیت ہے قوموں کے عزت ہوتی ہے اس عزت مند آدمی نے قوم میں جانا ہے، وہاں پھر ان کے جرگوں میں بیٹھنا ہے اور یہاں سے ان کو کیا خطابات مل رہے ہیں اور کس طرح ان کو ایڈرس کیا جا رہا ہے، تو اس پر بھی ہم لوگوں نے اگر کوئی کمزوری دکھائی ہے تو میرے خیال میں یہ ہم اپنے قوم کے ساتھ اچھا نہیں کر رہے ہیں، ہمیں اس کا ازالہ کرنا ہوگا، اس لئے میں سوچتا ہوں کہ یہ ساری چیزیں ہمیں مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحات کو طے کرنا چاہیے، جو ترجیحات طے ہوئی ہیں وہ تو طے ہوئی ہیں، وہ اصولی امور ہیں لیکن روز مرہ جو اس قسم کی صورتحال سامنے آتی ہے اس پر بھی ہمیں ایک مشترکہ حکمتِ عملی کی طرح جانا چاہیے اور جو تجویز جناب علی ظفر صاحب نے دی ہے کہ کچھ آدمی مسلسل بیٹھے رہیں وہ ہر شام کو ایجنڈہ وصول کریں اور علی الصبح اجلاس سے پہلے اس پر بیٹھ کر ایک رائے بنائیں اور وہ رائے تمام اراکین کو پہنچائیں تاکہ جو بھی اراکین بیٹھے ہوں ان کے پاس پتہ ہو کہ میرج لائن یہ ہے۔

تو بعض دفعہ کچھ ساتھی نہیں آتے، کچھ آ جاتے ہیں لیکن جو بھی موجود ہوں ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ آج کے ایجنڈہ پر فلان نکتے پر ہمارا موقف یہ ہے۔ تو یہ ایک مشترکہ ایک سٹریٹیجی بنانا، مشترکہ اقدامات کے لئے ایک لائحہ عمل بنانا، یہ میری تجویز تھی اور یہ میری تجویز ہے اور میں ممنون ہوں آپ تمام حضرات کا، ان قائدین کا کہ انہوں نے ہمارے معروضات کو اہمیت دی اور ہماری معروضات کی بنیاد پر انہوں نے ایک بڑے اقدام کی طرف آگے چلے گئے اور آپ حضرات مجھے نہ کہیں کہ ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں، میں آپ سے کہتا ہوں میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ بہت بہت شکریہ

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض

‎ممبر ز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز

‎#teamJUIswat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پچھلی خبر اقتدار کے پار: ایک ضروری وضاحت - محمد...