۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
18 September 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان کانفرنس سے خطاب

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۱۸ ستمبر ۲۰۲۶
مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان کانفرنس سے خطاب

قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان کانفرنس سے خطاب

17 ستمبر 2026

الحمد للہ وکفی وسلام على عباده الذين اصطفیٰ لاسیما على سید الرسل وخاتم الانبیاء وعلى آله وصحبه ومن بهدیهم اهتدی اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ اِفْتَرَ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَى إِلَيْهِ شَيْءٍ۔ صدق اللہ العظیم

جناب صدر محترم، امیر مجلس، اکابر علماء کرام، مشائخ عظام، بزرگان ملت، میرے دوستوں اور بھائیو! ستمبر کا مہینہ ہے اور 52 سال قبل پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک عائلی ترمیم منظور کی جس کی رو سے خود کو احمدی کہلانے والے قادیانی ہوں یا لاہوری انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ آج ہم پاکستان میں 6 ستمبر کو بھی قومی دن کے طور پر بناتے ہیں اور 7 ستمبر کو بھی ہم اسے قومی دن کے طور پر مناتے ہیں جب سن 1965 میں لاہور اور سیالکوٹ کے سیکٹر پر ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی اور پاکستان نے بھرپور دفاع کرتے ہوئے پاکستان کے جغرافیائی حدود کا تحفظ کیا، تو 1974 میں پارلیمنٹ نے قادیانی مسئلے کو حل کر کے پاکستان کی نظریاتی حدود کا تحفظ کیا تھا۔

آج ہمارے لئے مسئلہ پاکستان کے سرحدات کا بھی ہے، آج ہمارے لئے مسئلہ پاکستان کے نظریات کا بھی ہے اور آج پاکستان کے لئے مسئلہ تہذیب کا بھی ہے، بحیثیت قوم کے ہمیں ان تین پہلوں پر غور رکھنا ہوگا کہ وطن عزیز کی سرحدات کا تحفظ کیسے کرنا ہے؟ وطن عزیز کے اس نظریے کا تحفظ کیسے کرنا ہے؟ جس کے لئے یہ ملک معرض وجود میں آیا تھا اور دین اسلام نے جو امت کو تہذیب عطا کی تھی، باوقار زندگی اور حیاء کی زندگی عطا کی تھی، ہم نے اس کا تحفظ کیسے کرنا ہے؟

میرے محترم دوستو! ہمیں ذرا اس پہلو پہ غور کرنا ہوگا یہاں ہمارے ملک میں اور پورے دنیا میں کسی بھی فساد کا عنوان کچھ اور ہوتا ہے لیکن اس کے پس پردہ ایجنڈا کچھ اور ہوا کرتا ہے، اسی مناسبت سے میں عالمی قوتوں کو بھی بتانا چاہتا ہوں اور پاکستان کی مقدرہ کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ آپ جو ہمیں سبق پڑھا رہے ہیں، آپ جو مسائل کے لیے عنوانات کا تعین کر رہے ہیں، آپ مسائل کی جو تعبیر کر رہے ہیں ہم آپ کی تعبیرات کے پابند نہیں ہیں، ہم خود صاحب عقل ہیں اور ہم تمہارے ایجنڈوں کو جانتے ہیں کہ تمہارا ایجنڈا کیا ہے۔ قادیانی فرقے کے سربراہ نے کہا ہم پاکستان میں اس وقت تک دوبارہ نہیں جا سکتے جب تک کہ پاکستان کے اندر مولوی ہیں، کوئی سیاستدان ہمارے لئے کچھ نہیں کر سکتا جب تک پاکستان میں مولوی زندہ ہے، یہ ان کا اعتراف ہے، مولوی کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ مولوی دینی مدرسے سے پیدا ہوتا ہے، آج آپ کا دینی مدرسہ نشانے پر ہے یا نہیں؟ آج پاکستان بطور ریاست کے دینی مدارس کو نشانے پر رکھے ہوئے ہیں، امریکہ سے لے کر یورپ تک دینی مدرسے کو نشانے پر رکھے ہوئے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ ہم ان اداروں کو بند کر دیں جہاں سے مولوی پیدا ہوتا ہے، تم جتنی بھی اخلاص سے باتیں کرو، تم جتنی بھی معصوم جملوں کے ساتھ بات کرو، تم جتنی بھی خیر خواہانہ لب و لہجہ سے بات کرو، میں آپ کے قد و قامت کو جانتا ہوں، آپ کے فکری خباثت کو جانتا ہوں، آپ کے ناجائز ایجنڈے کو جانتا ہوں، تمہارا باپ بھی نہ مدرسے کو بند کر سکے گا نہ مولوی کو ختم کر سکے گا۔

یہ مولوی کے خیر خواہاں نہیں، ہم ان کو قومی دھارے میں لانا چاہتے ہیں، ہم مولوی کو روزگار دلانا چاہتے ہیں، جدید علوم سے اس کو آراستہ کرنا چاہتے ہیں، بھئی وہ جو تم علوم دیتے ہو اپنی یونیورسٹیوں، اپنے کالجز، اپنے سکولوں سے فارغ التحصیل نوجوان لاکھوں کی تعداد میں قطار در قطار کھڑے آپ سے روزگار مانگ رہے ہیں تم ان کو روزگار نہیں دے سکتے، ہمارے روزگار کی فکر میں لگ گئے ہو، کوئی روزگار کی فکر نہیں ہے، جھوٹ بولتے ہیں، لہذا جنگ ہے، نظریاتی جنگ ہے، فکری جنگ ہے، اور نظریاتی اور فکری جنگ تمہارا بابا انگریز بھی ہار گیا تھا اور تم بھی ہار رہے ہو، کبھی دہشتگردی کا مسئلہ اٹھا لیتے ہو، پھر دہشتگردی کا مرکز مدرسہ خود بخود بن جاتا ہے، مدارس ملک کے ساتھ کھڑے ہیں، علماء ملک کے ساتھ کھڑے ہیں، جمعیۃ علماء اسلام ملک کے ساتھ کھڑی ہے، تمام مکاتب فکر ملک کے ساتھ کھڑے ہیں، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملک کے ساتھ کھڑی ہے، وفاق المدارس ملک کے ساتھ کھڑی ہے، اتحاد تنظیمات ملک کے ساتھ کھڑی ہے، یہ تمام اپنے ملک، ملکی آئین اور قانون کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کے باوجود آپ کا ایجنڈا ختم نہیں ہو رہا ان کے خلاف، اس کا معنی یہ ہے کہ جو ایجنڈا ختم نہ ہو رہا ہو وہ بیرونی ہوا کرتا ہے، وہ ملک کا اندرونی نہیں ہوا کرتا۔

قانون سازیاں ہو چکی ہیں، معاملات حل ہو چکے ہیں، سارے معاملات طے ہو چکے ہیں اور اس کے باوجود آپ مسئلے کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم جانتے ہیں اس کے پیچھے کون ہے اور کون اس مسئلے کو آگے بڑھا رہا ہے، قادیانی مذہب کا جو سب سے بڑا وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا کارنامہ ہے کہ ہم نے جہاد ختم کر دیا اور شریعت میں جہاد کا کوئی تصور نہیں ہوگا، یہ کس کے لئے کیا تھا؟ یعنی انگریز کے خلاف آزادی کی جنگ برصغیر کا مسلمان نہ لڑے، ہمیں اور امت مسلمہ کو آپ کہتے ہیں کہ آپ نے آزادی کی جنگ نہیں لڑنی، آپ نے شریعت کی جنگ نہیں لڑنی، لیکن ذرا انگریز کو بھی تو سبق سمجھاؤ جس کے تم خود کاشتہ پودا ہو، جس نے تمہیں وجود دیا، جس نے اسرائیل کو وجود دیا، جس نے قادیان کو وجود دیا، جس نے اس مذہب کو وجود دیا ذرا ان کو بھی تو بتاؤ کہ کتنے کروڑوں لوگ مغرب کے گولیوں سے چھلنی ہوئے اور دنیا کے انسان قتل کر دئیے گئے، تم نے جنگ عظیم اول میں، جنگ عظیم دوئم میں کروڑوں انسانوں کا قتل کیا ہے، تم نے ایٹم بم مارے ہیں، پورے ملک اور وطن تباہ و برباد کر دیے ہیں، تم مسلمانوں کو درس دیتے ہو کہ لڑنا نہیں ہے اور اپنے آقاوں کو کہتے ہو کہ مسلمانوں کا قتل عام کر دو، یہ مطلب ہے تمہارے جہاد کے خاتمے کا، تم نے افغانستان میں بیس سال تک پورے ناٹو نے جنگ لڑی، امریکہ نے تمام توانائیاں صرف کی، بیس لاکھ تک ہمارے مسلمان افغانستان میں شہید ہوئے اور جنرل مشرف امریکہ کا ساتھی تھا، اڈے پاکستان میں ان کو دیے، فضائیں ان کو دیے، تم نے عراق میں، اہل عراق کا قتل عام کیا، تم نے لیبیا میں، لیبیا کے لوگوں کا قتل عام کیا، فوجیں داخل کی اور آج ایک بار پھر تم نے غزہ میں ستر ہزار سے زیادہ مسلمان بچوں کو، بچیوں کو، خواتین کو، بوڑھوں کو شہید کیا، تم نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو بیماری اور بھوک کی وجہ سے شہید کیا، ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ فلسطینی بے گھر کر دیے گئے، یہ ہے تمہاری انسانیت کہ مسلمان کا خون اتنا سستا ہے کہ اگر فلسطینی کا قتل عام ہوتا ہے تو آپ اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہوتے ہیں، اسرائیل کو اسلحہ دے رہے ہوتے ہیں، ایک ناجائز حکومت کو طاقتور بنا رہے ہوتے ہیں، آج آپ نے ایران پر حملہ کیا، پاکستان نے کوشش کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مصالحت ہو لیکن آج پھر یمن سے کچھ قوتیں اٹھ رہی ہیں اور حرمین پر حملہ کرنے کی جرات کر رہی ہیں، میں علی الاعلان سعودی عرب کی قیادت کو یہاں سے پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین کی حفاظت کے لیے خانہ بشانہ آپ کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے میدان جہاد میں اترنے کے لیے تیار ہے۔

میرے محترم دوستو! امریکہ سے لے کر یورپ تک تمام امت مسلمہ کا قتل عام کر رہے ہیں اور پھر بھی دہشت گرد مسلمان ہیں اور اپنے حکمرانوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اب مزید فتوے لگانے کی ضرورت نہیں ہے، تمہارے ملک کا امن و امان تباہ ہو چکا ہے، ریاست پر عام شہری کا سب سے اولین حق امن و امان کا ہے لیکن آج صوبہ خیبر پختونخواہ جل رہا ہے، بلوچستان جل رہا ہے، سندھ میں ڈاکوؤں کا راج ہے، کسی انسان کی زندگی محفوظ نہیں ہے، عالمی سازش امت مسلمہ کے خلاف ہے، اگر امریکہ ہو یا یورپ یا پاکستان میں ان کے ایجنٹ جو امت مسلمہ اور ان کے اعتقادات کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں ان سازشوں کا حصہ ہے قادیانیت، وہ اس سے الگ تھلگ نہیں ہے اور مقدمہ بہاولپور سے لے کر پارلیمنٹ کے مقدمے تک اور ابھی سپریم کورٹ کے مقدمے تک جب تک ہم زندہ ہیں پاکستان میں کسی کا باپ بھی تمہیں مسلمان نہیں کرا سکتے ہیں۔

آج حکمرانوں کے ناک کے نیچے اسلام آباد میں کچھ خواتین بیٹھ کر ناموس رسالت کے قانون کو نعوذ باللہ کالا قانون کہتے ہیں، یہ دہشتگردی نہیں ہے؟ یہ مسلمانوں کے اعتقادات پر حملہ نہیں ہے؟ یہ مسلمانوں کے اعتقادات کے خلاف جارحیت نہیں ہے؟ ان جملوں میں تمہیں کوئی دہشتگردی نظر نہیں آتی؟ لیکن جب ردعمل آتا ہے تو ردعمل کو آپ دہشتگردی کہتے ہیں، اس لئے میں اپنے حکمرانوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ مزید امریکہ اور مغرب کی غلامی اب نہیں چلے گی، تم کر لو نوکری، امریکہ کی نوکری کرنا چاہتے ہو، یورپ کی نوکری کرنا چاہتے ہو، لیکن یا ان کی نوکری کروگے یا پاکستان کی نوکری کروگے، دو نوکریاں نہیں چلے گی ایک نوکری چلے گی۔

تمہاری بھی ایک تاریخ ہے اور ہماری بھی ایک تاریخ ہے، تمہارے اکابر اور اسلاف نے انگریزوں کے بوٹ پالش کیے تھے، تمہاری تاریخ نے انگریزوں کے گھوڑے خرخرے کئے تھے اور اس کے بدلے میں جاگیریں حاصل کئے تھے اور میرے بھی اکابر و اسلاف تھے جنہوں نے اپنے آزادی کے لئے، استخلاص وطن کے لئے پھندوں کو چنا، جیلوں کے پھندے ختم ہو گئے تو درختوں پہ لٹکایا گیا اور ایک انگریز خود کہتا ہے کہ ہم نے ایک ایک مجاہد سے تنہائی میں کہا کہ آپ صرف زبانی کہہ دیں کہ میرا آزادی کی تحریک سے کوئی تعلق نہیں تھا آپ کی سزائے موت ختم ہو جائے گی، ہزاروں کی تعداد میں ہم نے ان مجاہدین کو شہید کیا، ایک آدمی بھی ایسا بطور مثال نہیں ملا جس نے کہا ہو کہ میرا اس تحریک سے تعلق نہیں تھا، ہم اس تاریخ کے لوگ ہیں اور تم ہمیں ڈراتے ہو، تمہارے آقا کو اس وطن سے ہم نے نکالا اٹھارہ سو تین سے لے کر انیس سو سینتالیس تک آزادی کی تحریک میرے اکابر نے چلائی، آزادی کے لئے قربانیاں میری تاریخ ہیں، تیرے آقا کو اس وطن سے ہم نے نکالا اور تمہارے آقا کو افغانستان سے افغانوں نے نکالا، تم کس بات پر گردن تان کر بات کرتے ہو، یہ پگڑیاں اس لیے ہیں کہ سر اونچا رکھیں اور سینہ تان کے سیاست کریں، سر جھکانا آپ کی تاریخ ہے اور سر اٹھا کے چلنا میری تاریخ ہے۔

ملکی معیشت تباہ کر دی، مہنگائی کہاں پہنچ گئی؟ انڈیا کا مقابلہ کرو، آو ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں، ایک صف میں ہیں انڈیا کے مقابلے میں، لیکن آسی سالوں میں ہندوستان آج دنیا کی چوتھی معیشت بن چکا ہے، تو تم کہاں کھڑے ہو؟ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سات سو ارب تک پہنچ گئے ہیں اور تمہارے زرمبادلہ کے ذخائر سات ارب ہیں اور وہ بھی خیرات کے، کس بات پہ اتراتے ہو؟ کس بات کے تمغے لگاتے ہو؟ آج میں پہلی مرتبہ ایک جلسہ عام میں آپ سے بات کر رہا ہوں کہ تمغہ امتیاز بہت لوگوں کو ملتا ہے، سو تمغہ امتیاز مجھے بھی ملا اور پاکستان کی تاریخ کا واحد شخص ہوں جس نے واپس کیا، کس بات کے تمغے لگائے ہم؟ کیا پاکستان میں اسلام آگیا، کیا پاکستان میں رسول اللہ ﷺ کی شریعت آگئی، کیا پاکستان میں جمہوریت پنپی، الیکشن بھی دھاندلی کے الیکشن، عوام کی رائے کچھ اور حکومت کچھ، جس کے پاس پیسہ ہے وہ سندھ اسمبلی کو خرید لے، یہ آپ کی ملکی سیاست ہے، جہاں حکومتیں بکتی ہوں، جہاں اسمبلیاں بکتی ہوں، بلوچستان جیسے غریب صوبے سے آپ ستر سے آسی ارب روپے تک لے جاتے ہیں الیکشن میں اُمیدواروں سے رشوتیں لے لے کر اور پھر کہتے ہیں کہ بلوچستان میں جائز حکومت ہے، پھر کہتے ہیں کہ سندھ میں جائز حکومت ہے، ہم تو یہی بات کرتے ہیں کہ جو ملک کا آئین کہتا ہے اس کے مطابق چلو، تو جہاں امن نہ ہو، جہاں معیشت نہ ہو، ٹیکس لگ رہے ہوں، پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور دن میں کتنی دفعہ بڑھتی ہیں یہ بھی پتہ نہیں ہے، اب قوم بھی تھک چکی ہے احتجاج کرتے کرتے، ہمارے کچھ دوست مہنگائی کی خلاف دھرنا دیتے ہیں، جب وہ دھرنا دیتے ہیں تو مذاکرات ہوتے ہیں مذاکرات کے بعد قیمت اور بڑھ جاتی ہے اب لوگ ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنے دھرنے بند کر دیں خدا کے لیے مہنگائی سے جان چھوٹ جائے گی ہماری، کیا کر رہے ہو تم لوگوں کے ساتھ، بس صرف مقتدرہ کی خوشامد چاہیے، ایسے ترامیم چاہیے جن میں ان کو مراعات مل سکیں، جس میں صدر مملکت کو تاحیات ہر قسم کے مقدمے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، جس میں ہمارے مسلح افواج کے بڑوں کو تاحیات مراعات دی جا سکیں، اس لئے یہ حکومتیں بناتے ہو، یہ ووٹ، یہ الیکشن، یہ جمہوریت، یہ حکومت یہ صرف تمہاری عیاشیوں کے لئے ہے، یہ تو ملک کے لئے ہے، یہ تو عوام کے لئے ہے، یہ تو پبلک کے لئے ہے، اور پبلک مظلوم ہے اس وقت، آپ ہمیں ہزار اسمبلیوں سے باہر رکھیں لیکن ہم نے بھی اپنا موقف چھوڑنا نہیں ہے، میں نے اگر اٹھارہ کا الیکشن نہیں مانا تو میں نے چوبیس کے الیکشن بھی نہیں مانا اور آئندہ بھی تمہاری دھاندلی کے حکومت نہیں مانوں گا۔ ایک دفعہ ہم نے قوم کا حق تسلیم کر لیا ہے کہ حکومت دینے کا فیصلہ قوم نے کرنا ہے، قوم کو اختیار دے دو، مداخلت کیوں کرتے ہو، لیکن یہ بات یہ میرا فرض ہے، یہ صرف میرا فرض ہے کہ میں جلسوں میں تقریریں کرتا رہوں، یہ آپ کا فرض نہیں ہے میں آپ کی جنگ لڑ رہا ہوں، میں عام پاکستانی کی جنگ لڑ رہا ہوں، میں عام پاکستانی کے حق کی جنگ لڑ رہا ہوں، میں ہر پاکستانی کے روزگار کی جنگ لڑ رہا ہوں، میں ہر پاکستانی کی جمہوری حق لڑ رہا ہوں، تو پھر اس جنگ میں صرف میں نے بات نہیں کرنی، پاکستان کی ایک ایک بچے نے اٹھنا ہے اور اس آواز کو طاقت دینی ہے۔

میرے محترم دوستو! ہم نے اگر فلسطین کو تنہا نہیں چھوڑا، ہم حرمین کو بھی تنہا نہیں چھوڑ سکتے، اپنی جان اس پر نچھاور کر سکتے ہیں، ہم نے آئین میں ترمیم کرائی کہ یکم جنوری دو ہزار اٹھائیس سے سود ختم ہو جائے گا آج انہوں نے ادھر ادھر کرنے کی شروعات کر دی حالانکہ یہاں کراچی میں دارالعلوم کراچی میں مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے دعوت پر علماء اور تاجر طبقے کا کنونشن ہوا اور جس میں وزیر خزانہ شریک ہوئے، سٹیٹ بینک کے سربراہ شریک ہوئے اور سیکرٹری خزانہ شریک ہوئے اور سب نے کہا کہ سود اللہ کے خلاف جنگ ہے اگر سود اور ربا کا معنی متعین نہیں، تو آپ کیا وہاں پر جشن منانے کے لیے آئے تھے، آپ کس شادی میں آئے تھے وہاں، پر جب یہ باتیں آپ کر رہے تھے، جب دباؤ آتا ہے تو آپ معاملات پھر تسلیم کرتے ہیں، وفاقی شرعی عدالت کو طاقتور بنانے کا فیصلہ کیا گیا، دینی مدارس کے لئے قانون بنا، اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات کے لئے آئین بنا، یہ سارے معاملات طے ہوئے، پھر اس پر عمل درآمد، تو آپ اگر فیصلہ نہیں مانیں گے اور ہم سے توقع رکھیں گے کہ ہم نہیں بولیں گے تو پھر ہماری زبانیں تو کٹ سکتی ہیں لیکن ہماری زبان حق بولنے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

میں فوج کو ایک ادارہ سمجھتا ہوں، میں فوج کے خلاف نہیں ہوں، لیکن سیاست میں مداخلت کے خلاف ہوں، الیکشن میں دھاندلی بھی کروگے تو ہم علی الاعلان آواز بلند کریں یا تو آپ چوری کرتے تاکہ آپ کے پاؤں کے نشان نہ ملتے، بابا ڈاکہ مارتے ہو تو پھر اس پر احتجاج کرنا ہمارا حق ہے، اگر میں فوج کی وردی نہیں پہن سکتا تو پھر آپ کو بھی سیاست میں مداخلت کا حق نہیں دے سکتا، اپنے اپنے حدود میں رہیں، ملک چلے گا ان شاءاللہ۔

خیبرپختونخوا میں جنگ ہے، بلوچستان میں جنگ ہو رہی ہے، کشمیر میں لوگ بیٹھے ہوئے تین چار مہینوں سے اور ریاست جو کہتی ہے کہ ہماری حیثیت تو ماں کی ہے، تو ماں کا کام اولاد کو اکٹھا کرنا ہوتا ہے یا اس کو بکھیرنا ہوتا ہے، اولاد پر شفقت ہے یا اولاد کی خلاف طاقت استعمال ہوتی ہے، یہ ہماری ماں ہے، تو ہم ماں سے کہنا چاہتے ہیں کہ ماں بن جاؤ، ملک میں سنجیدگی چاہتے ہیں، مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ اور سنجیدہ فورم پہ حل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہم میدان میں ہیں۔

ان شاءاللہ العزیز اسلام کی حفاظت کے لیے بھی ہم میدان میں ہیں، عقیدہ ختم نبوت کے لیے بھی ہم میدان میں ہیں اور کبھی ہم قادیانیت کو دوبارہ پاکستان میں مسلمان کہلانے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دے سکتے۔

پندرہ اکتوبر کو ان شاءاللہ ملتان میں مفتی محمود کانفرنس ہوگی بہت بڑے پیمانے پر اور اگلے سال مارچ میں ان شاءاللہ سکھر میں بہت بڑا اجتماع ہوگا امن عالم کانفرنس کے حوالے سے، سب دوست ان تیاریوں میں مصروف ہو جائیں اور پاکستان کے عوام کی طاقت کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کریں۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

،‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض

‎ممبر زٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز

‎#teamJUIswat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پچھلی خبر مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا لاہور میں...