۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
1 September 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا سکھر میں صوبائی مجلس عمومی کے اجلاس سے خطاب

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۳۰ اگست ۲۰۲۶
مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا سکھر میں صوبائی مجلس عمومی کے اجلاس سے خطاب

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا سکھر میں صوبائی مجلس عمومی کے اجلاس سے خطاب

30 اگست 2026

الحمدللہ، الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ ومن بھدیھم اھتدی۔ أَمَّا بَعْدُ. فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا۔ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ۔ صدق الله العظيم

جناب صدر محترم، اکابر علماء کرام، زعمائے سندھ، اجتماع میں شریک جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سندھ کے نہایت ذمہ دار ساتھیوں اور ہر شعبے سے وابستہ میرے بھائیو، میرے لیے سعادت اور اعزاز کی بات ہے کہ آج آپ کے اس مبارک اجتماع میں آپ کے ساتھ شریک ہو رہا ہوں، اللہ تعالیٰ اس اجتماع میں ہم سب کی شرکت کو قبول فرمائے اور اسے ہماری نجات کا ذریعہ بنائے۔
ہمیں لاکھ بار اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں جمعیۃ علماء اسلام جیسی جماعت نصیب کی ہے جس کے پیش نظر نہ تو معروضی سیاست ہے، نہ ہی مفادات کی سیاست ہے بلکہ مقصد اللہ کے کلمے کو سربلند رکھنا اور اسلام کے عدل و انصاف پر مبنی نظام کو ملک کے اندر، کیونکہ اقتدار اور حکومت بذات خود مقصود نہیں ہے بلکہ ہمارے تمام علماء اس پر متفق ہے کہ حکومت عادلا میں انصاف دینے والی حکومت ہو، اب ظاہر ہے کہ جب ہم ملک کو انصاف دینا چاہیں گے اور ہم ظلم کے نظام کو ختم کرنا چاہیں گے تو یہ جماعت کے بغیر نہیں ہوتا اور جماعت افراد پر مشتمل ایک نظم کا نام ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم جماعت کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ترتیب وار سوچیں۔
سب سے پہلے مرحلے میں ہمیں اس بات پر نظر رکھنی ہے کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ میں نے جن و انس کو صرف اور صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، یعنی اللہ کی عبادت سبب تخلیق ہے، اب ہمیں اپنے دل کو ٹٹولنا چاہیے کہ ہمارے اندر وہ عبدیت موجود ہے، وہ دیانت موجود ہے، وہ امانت موجود ہے، جو ایک شخص کو اپنی شخصی زندگی میں عادل بنا دے؟ تو یہ پہلا زینہ ہے اگر کسی شخص کے دل میں ایمان و امانت نہیں، دین و دیانت نہیں، بندگی اور عبدیت نہیں تو پھر وہ اپنے ذات کے اندر بجائے عدل کے ایک ظلم چھپائے ہوئے ہیں اور اگر ایسے لوگوں پر مشتمل ایک جماعت ملک پر حکومت کرے گی تو ایک ظلم ملک کے اوپر حکومت کرے گی جب ظلم حکومت کرے گی تو اس سے عدل کی کیا توقع کی جاسکتی ہے اور پھر شخصی زندگی ہو یا مملکتی زندگی اللہ تعالی نے اس حوالے سے اعلان کر دیا  الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا،  آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے، دین کا مکمل ہونا بہ اعتبار تعلیمات اور احکامات کے ہے، قیامت تک کی انسانیت کے لئے جس علم کی ضرورت تھی اور جس مجموعہ احکامات کی ضرورت تھی وہ اللہ تعالی نے انسان کو عطا کر دی، تو پہلے ہمیں دین کامل عطا کیا اور پھر فرمایا   وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي  میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کر دی، اتمام نعمت ہمارے اکابر علماء کرام اس کی تعبیر کرتے ہیں کہ اس نعمت سے مراد اس کامل اور مکمل دین کی حکومت اور اقتدار ہے اور یہی دین کامل کی حکومت کا اقتدار اس نعمت کی خارج میں کامل فرد ہے، اس کے مصداق ہے، وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا، اور میں نے اسلام کو بطور نظام حیات کے تمہارے لئے پسند کر دیا ہے، جب دین بھی مکمل ہے اور وہ معاشرے اور اس کے ہر فرد کو انصاف اور عدل مہیا کرتا ہے اور پھر اس کا تقاضی یہ ہے کہ وہ حاکم ہو، اقتدار میں ہو، تو ظاہر ہے کہ اس عظیم مقصد کے لئے جدوجہد ایک فرد کی کافی نہیں ہے، جمعیۃ علماء کی قیام کے وقت یہ کہا گیا تھا کہ جمعیۃ علماء کا قیام کیوں ضروری تھا، تو بتایا گیا کہ اسلام فرد کی زندگی میں بھی رہنما ہے اور اجتماع کی زندگی میں بھی رہنما ہے، لیکن فرد کی انفرادی مسئلے میں کسی فرد عالم کی رائے حجت ہو سکتی ہے لیکن مملکت، ملت، امت کے اجتماعی معاملات میں فرد واحد کی رائے حجت نہیں اس کے لئے جمعیۃ علماء چاہیے تاکہ شورائیت کی بنیاد پر امت کی رہنمائی کی جا سکے ازروئے شریعت۔
اب اس اعتبار سے آج جہاں ہم بیٹھے ہیں، آج ہم جس پروگرام کو متعارف کرا رہے ہیں، اس کی بنیاد ہم نے نہیں ڈالی، اس کی بنیاد ہمارے ان اکابر نے ڈالی ہے جن کی علمی سند جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی ہے، وہی سے روشنی حاصل کرتے ہیں اور وہی روشنی برصغیر میں پاکستان میں جمعیۃ علماء کی صورت میں قوم اور امت کو مہیا کی گئی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اصل تعلیم تو قوم کو حکمران دیتے ہیں، ریاست قوم کو شعور مہیا کرتی ہے، لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے ریاست و حکومت وہ قوم کی شعور کو چھیننا جانتی ہے، قوم کو شعور دینا نہیں جانتی، وہی نہیں چاہتے کہ پاکستان کے ہر شہری کو اس بات کا ادراک ہو کہ میں پیدا کیوں کیا گیا ہوں، اسلام مجھے تعلیم کیا دیتا ہے؟ اس کے عدل کا نظام کیا ہے؟ انسانی حقوق کے لئے وہ کیا نظام مہیا کرتا ہے؟ خوشحال معیشت کے لئے اس کی کیا رائے ہے؟ اس چیز سے قوم نا واقف رہے اور آج بھی ہمارے ملک کا تعلیمی نظام جو ریاست کی نگرانی میں عام کیا جا رہا ہے اس میں اس علم کی کوئی گنجائش نہیں، چنانچہ پھر یہی ہوتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ہماری سپریم کورٹ نے ختم نبوت کے حوالے سے قرآن یا حدیث سے ایسے حوالے پیش کیے کہ جس سے علماء نے اتفاق نہیں کیا اور ہماری عدالت مشکل میں پھنس گئی، وجہ کیا تھی اور میں نے ان کی موجودگی میں بھی ان حضرات سے کہا کہ آپ کا جو نظام ہے قانون سے لے کر عدالت تک اور وکیل سے لے کر جج تک اس تمام چیز کی بنیاد ایک ایل ایل بی اور ایل ایل ایم ہے، اب آپ حضرات، میں نے کہاں مجھے بتائیں کہ ہمارے ملک میں جو ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کرتا ہے اس میں کہیں قرآن و سنت کا حصہ ہے؟ تو کہنے لگے نہیں، تو میں نے کہا جب آپ کی پوری زندگی میں اور آپ کی پوری تعلیم میں اور آپ کی پوری تربیت میں قرآن و سنت کا کوئی حصہ ہی نہیں ہے، وہ آپ کی تعلیم کا حصہ ہی نہیں ہے تو آپ کو کیا ضرورت تھی کہ آپ یہ پنگا لے رہے تھے؟ آپ کو کہیں سے کوئی قرآنی آیات تو مل سکتی ہے لیکن آپ جب اس کی تطبیق کرتے ہیں تو اس میں خود پھنس جاتے ہیں اور یہ واقعی ہے حقیقت ہے۔
سو ہمیں اپنے اس وطن عزیز میں کسی فرد سے کوئی سروکار نہیں ہے، ہمارے ہاں ایک ماحول بنا دیا جاتا ہے اور وہ ماحول عوام کے سامنے پھینک دیا جاتا ہے اور عوام کو اس ماحول میں مصروف کر دیا جاتا ہے اور وہ زیادہ تر یہی ہوتا ہے کہ آج کا حکمران صحیح ہے یا غلط، تو ہماری ساری بحث ایک ذات میں پھنس جاتی ہے، پچھلا حکمران اچھا تھا یا آج کا حکمران، آج کا حکمران اچھا نہیں تو کسی اچھے حکمران کی طرف جائے، تو پھر ہمارے ملک میں اگر حکمرانی کی بحث ہوگی تو نواز شریف سے زرداری، زرداری سے نواز شریف، نواز شریف سے ذرداری، زرداری سے نواز شریف اور پھر اسی میں گھومتی رہے گی، یہ تو وقت ضائع کرنے والی بات ہے، ہمیں اس میں الجھا دیا جائے کہ باجوا صاحب اچھے تھے، راحیل شریف اچھے تھے یا حافظ صاحب اچھے ہیں، یہ شخصیتیں ہیں، یہ کل بھی نہیں تھی آج ہیں اور شاید اگلے کل نہ ہو، لیکن ہم زیر بحث لاتے ہیں ملکی معاملات کو، ملکی مسائل کو ہمیں اسی حوالے سے پرکھا جائے، ہاں ایک بات واضح ہے ہماری طرف سے کہ ہم ملک سے وفاداری اور غداری کے لیے حکمران کو معیار تسلیم نہیں کر سکتے، تمہاری وجہ سے ملک ٹوٹا ہے، آسی سال اس ملک کے پورے ہو رہے ہیں تمہاری وجہ سے ہم اوپر سے نیچے کی طرف آ رہے ہیں، اپنے آسی سال کا محاسبہ کیجیے، ہر زمانے میں تم تھے یا تم جیسے، اگر فکر تھی تو وہ بھی تمہاری، مفاد تھا تو وہ بھی تمہارا اور جو آج ہم تنزل میں گرے ہیں وہ تمہاری اس آسی سالہ فکر و نظر اور آسی سالہ مفاداتی سیاست کے نتیجے میں ہم پہنچے ہیں یہاں تک، اس کو انا کا مسئلہ کیوں بناتے ہو؟ یہ ملک کوئی صرف تمہارا ہے؟ یہ ملک ہمارا ہے اور میں اپنے وطن عزیز کی ساتھ وفاداری کی آپ سے کوئی سرٹیفکیٹ بھی نہیں لینا چاہتا، کیونکہ تم میرے لئے معیار نہیں ہو، ہر مسئلے کو لکیر کھینچ لیتے ہیں، ایک صحافی نے مجھ سے پوچھا آپ صوبوں کے حق میں ہیں یا صوبوں کے مخالف؟ میں نے کہا بیڑا یہاں تم غرق کرتے ہو جہاں تم لکیر کھینچ لیتے ہو مخالف یا موافق، اتنا اہم مسئلہ اتنا سنجیدہ مسئلہ اور اس کو سیدھا اس بات میں کہ تم اس کے مخالف ہو یا موافق، نہیں اس پر مکالمہ کرو، اصولی لحاظ سے بھی مسئلہ کو پرکھو، واقعات کے حوالے سے بھی پرکھو، اگر چلو ضلعے اور ڈویژن بنتے ہیں اور صوبہ بھی بنتا ہے، یونٹ بن جاتے ہیں، یہ بھی تو دیکھو کہ کیا ماحول اس کے لئے موافق ہے یا نہیں، کیا تیاری تمہاری اس کے لئے ہے یا نہیں اور ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ تم یہ موضوع چھیڑنے میں سنجیدہ بھی ہو یا نہیں، جو کچھ تم کرنا چاہتے ہو اس سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے میدان میں مارکیٹ میں کوئی بحث بھیج دیتے ہو اور پھر جب ہماری بات کا تمہارے پاس جواب نہیں بنتا تو پھر کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتے ہو ہمارے پیچھے، تو یہ جو پیچھے چھوڑے گئے لوگ ہیں نا میں اس سے کیوں ڈروں، میں نے چھیالیس سال آپ کے انھی لوگوں کو بکتا ہے، مجھے تمہارا زور معلوم ہے، مجھے تمہاری دلیل معلوم ہے اور مجھے تمہارا طریقہ واردات معلوم ہے، کمبختو وہی طریقہ واردات ہے جو انگریز کے زمانے سے چلا رہا ہے، طریقہ واردات تو تبدیل کر لو، اپنا قبلہ سیدھا کر لو،
جیسا دکھائی دینے کی کرتے ہو کوششیں
جیسا دکھائی دینے کی کرتے ہو کوششیں
میں خوب جانتا ہوں کہ ویسے نہیں ہو تم
ہاں تم پہ ناز کرتی ہیں وعدہ خلافیاں
ہاں تم پہ ناز کرتی ہے وعدہ خلافیاں
ہاں میرے انتظار کے لائق نہیں ہو تم

تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ہم آپ سے اپنے آپ کو کچھ بالاتر خود کو سمجھتے ہیں، ہم خود کو تمہارا ماتحت نہیں سمجھتے ہیں، قوم کے اندر خود اعتمادی پیدا کرو، قوم کو مت لڑاؤ آپس میں، اگر ریاست ماں ہے، تو ماں کا کام تو بچوں کو اولاد کو جوڑنا ہوتا ہے اور یہاں ہم نے کیا دیکھا؛ صوبوں کو لڑانا، قوموں کو لڑانا، لسانی فسادات پیدا کرنا، علاقائی مسائل پیدا کرنا، پارٹیوں کو توڑنا، مذہبی جماعتوں کو توڑنا، مدارس کو توڑنا، سوائے توڑنے اور ملک کو بکھیرنے اور قوم کو تقسیم کرنے کے علاوہ آپ کے پاس کچھ ہے نہیں، تم جانتے ہی نہیں ہو کہ ماں کسے کہتے ہیں، اس لیے ہم تمہیں ماں بن کر سکھانے کے لیے آئے ہیں، وفاداری اور غداری کے لیے تم معیار نہیں ہو، ہم پاکستانی ہیں، ہم ہر سطح پر پاکستان کے حق میں ہیں لیکن کسی بھی ملک کے لیے اگر ریاست کوئی پالیسی بناتا ہے اور وہ غلط ہے، وہ ملک کے لیے نقصان دہ ہے تو میں ڈنکے کی چوٹ پر تمہیں کہوں گا کہ تمہاری یہ پالیسی غلط ہے اور یہ تو میرے بڑے فقیر قسم کے، شریف قسم کے شہباز شریف کی حکومت ہے، جب جنرل مشرف کی حکومت تھی تو ہم نے ان کی پالیسی کی مقابلے میں میدان میں نہیں آئے تھے، ہم نے ان کو میعار نہیں سمجھا، ہم ایوب خان کی خلاف میدان میں آئے ہیں، ہم جنرل ضیاء الحق کے خلاف میدان میں آئے ہیں، ہم جیلوں میں رہے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ آپ جو کہیں اور جس طرح کی ترجیحات طے کریں اور ہم آمنا و سلمنا نہ کہیں، نہیں ایسا نہیں ہے، خطے میں ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہیے؟ انڈیا کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہیے؟ افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہیے؟ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہیے؟ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہیے؟ بنگلہ دیش کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہیے؟ ان سارے معاملات پر یہ ایک جماعت ہے جو اپنی رائے رکھتی ہے لیکن اگر وہ آپ کی رائے کے خلاف ہے تو پھر غدار ہی ٹھہرے، ذرا شرم کرو، اس طرح نہیں ہوتا اور میں ان کو بھی دیکھ رہا ہوں جو تمہارے گھر کے دیوار سے اپنا منہ باہر کر کے ہماری طرف بولتے ہیں، نہ کرو ایسا، میں نصیحت کرتا ہوں آپ کو اس طرح نہ کیا کرو، سنجیدہ لو ہر معاملے کو، امن و امان ملک کا تباہ ہے اس پر ہمیں بات نہیں کرنی اور جو کچھ آپ کر رہے ہیں بیس پچیس سالوں سے اور روز روز ان پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان مشکل میں پڑ رہا ہے، زخم گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کا، اس پر بھی ہم بات نہ کریں اور پھر آپ حضرات کی پالیسیوں کے نتیجے میں یہ ملک جس معاشی بحران کا شکار ہو گیا ہے، پورے خطے میں آپ کہاں کھڑے ہیں؟ یہی تو ہم رو رہے ہیں کہ بھئی اگر آپ پبلک میں نہیں بتا سکتے کوئی ایسا ریاست کی مجبوری ہے کہ آپ پبلک میں نہیں کہہ سکتے تو ہم کب کہتے ہیں ہم نے تو آپ کو دو تین دفعہ کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلاو، اتنا تو بتا دو کہ ہو کیا رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے، آپ نے ہندوستان کا مقابلہ کیا، اگر انڈیا سے لڑائی ہوئی جمعیۃ علماء نے سب سے پہلے پاکستان کا ساتھ دیا، فوج کا ساتھ دیا اور جب آپ کو اللہ نے کامیابی دی ہم اس پر خوش بھی ہیں اور ہمیں فخر بھی ہیں پاکستان کی فتح ہے، لیکن جنگ تو چار گھنٹے کی ہے یا ادھر یا ادھر، یا آر یا پار، لیکن قوموں کی مستقل زندگی میں جہاں ارتقاء کا سفر آگے بڑھتا ہے، اس وقت ہندوستان پوری دنیا کی چوتھی معیشت بن چکا ہے، آپ بتائیں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ ہر بات میں ہندوستان اور پاکستان اور ہندوستان سے مقابلہ، لیکن وہ دنیا کا چوتھی معیشت بن گیا ہے اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سات سو ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارے پاس تو زرمبادلہ کے ذخائر آٹھ سے دس ارب ڈالر ہوں گے وہ بھی کسی کے ادھار دیے ہوئے پیسے بینک میں رکھے ہوئے ہیں، استعمال نہیں کر سکتے، یہاں بھی دیکھو نا، امن و امان کے حوالے سے بھی دیکھو نا، بلوچستان کی کیا صورتحال ہے؟ خیبر پختونخوا کی کیا صورتحال ہے؟ آپ کے سندھ کی کیا صورتحال ہے؟ نہیں؛ امن بھی نہیں دینا، معاش بھی نہیں دینا اور حکومت کا حق بھی ہمارا ہی ہوگا، آپ کو حکومت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، آپ دھاندلی سے آئے ہیں، آپ نے صوبائی حکومت خریدی ہے، تو جس کے پاس پیسہ ہو اور حکومت خرید سکے اور اسمبلیاں خرید سکے، وہی حکومت کرے گا، یہ پیسے کی نمائندہ حکومت تو ہو سکتی ہے لیکن عوام کی نمائندہ حکومت نہیں ہو سکتی۔

صوبوں صوبوں کی بات ہو رہی ہے، پھر تم تیار بھی ہو؟ آپ نے تو کہا تھا ہم فاٹا کا انضمام کریں گے، اس وقت بھی کہا گیا کہ جمعیۃ انضمام کے خلاف ہے، حالانکہ یہ حقائق کے خلاف بات ہے، وہ لکیر کھینچے نا، انضمام ہو یا نہ ہو، ہم نے کہا لکیر مت کھینچو، انضمام بھی، مستقل صوبہ بھی اور موجودہ حیثیت کو برقرار رکھنا بھی، یہ تین آپشن ہیں، قبائل کے حوالے کر دو، فاٹا کے عوام کو اور اس سے ریفرنڈم لے لو جس چیز کو وہ چاہیں گے اس کو قبول کر لیں گے کیونکہ ان کی سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، آپ نے ہماری بات نہیں مانی، آج کہاں کھڑا ہے؟ فاٹا کدھر ہے؟ نہ ٹرائیبل رہا نہ سیٹل رہا، آج تک وہاں پر قانون گو اور پٹواری نہیں جا سکتا، دس سال پورے ہو رہے ہیں پولیس اسٹیبلیش نہیں ہو رہی اور اب تو وہاں تمہارا رٹ ہی ختم ہو چکا ہے، یہ کیا فیصلے ہیں جو تم نے کیے اور اب رو رہے ہو، اس تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے میں آج بھی کہتا ہوں کہ تم نے صوبہ صوبہ کی باتیں تو چھیڑ دی لیکن نہ ماحول ہے نہ تیاری اور میرے خیال میں صوبہ سندھ تو بالکل ہی تیار نہیں ہے تقسیم کے لیے، تو پھر میں ان کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ تم نے تو ادھر تھر کی سائٹ پر کچھ کینال بنانے کے بھی فیصلہ کیا تھا، پھر کر سکے؟ تو عوام کی رائے کو نظرانداز کرنا اور جبرا ان پر مسلط ہونا، پھر کہیں نہ کہیں سے تو ردعمل آئے گا۔
اب یہ وہ سیاست ہے جس پر ہماری ایک رائے ہوتی ہے اور ہم رائے ان کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر پتہ نہیں کس کٹیگری کے لوگوں کو ہماری پیچھے ڈال دیتے ہیں، اب اس وقت آج آپ گواہی خود دیں گے، آپ سندھ کے لوگ ہیں کہ سندھ کی اس وقت سب سے بڑی جماعت جمعیۃ علماء اسلام ہے، لیکن کون رکاوٹ ہے ہمارے سامنے؟ رکاوٹ بھی ہمیں نظر آ رہا ہے، ایسا نہیں ہے کہ نظر نہیں آتا لیکن جب ہم نام لیتے ہیں تو کہتے ہیں ناراض ہو، ناراض ہو جاتے ہیں، ناراض نہ ہونا پھر، ہم رکاوٹ کو بھی جانتے ہیں، اسی لیے جو میں نے عرض کیا تھا کہ ابتدا میں تو میں شخصی طور پر امانت و دیانت و عبادت اور پھر اس کے بعد کامل اور مکمل دین کا حکومت و اقتدار اور جب حکومت و اقتدار قائم ہو جائے تو پھر اس کے تحفظ کے لیے دفاعی قوت کی بھی ضرورت ہوتی ہے، پھر کوئی دشمن کہ جس سے آپ کو خطرہ ہو کہ وہ حملہ کر سکتا ہے اس کے مقابلے میں جتنی تمہارے اندر استطاعت ہے، طاقت حاصل کرو، ہم دفاعی قوت کا درس بھی قرآن کریم سے لیتے ہیں، اس کی نفی نہیں کر رہے ہیں، لیکن جبر ٹھیک نہیں، آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، آئین اور قانون بنا سکتا ہے، اس میں ترمیم کر سکتا ہے لیکن اس کے لئے پہلے یہ بھی سوچنا ہوگا کہ پارلیمنٹ میں جو نمائندگی ہے وہ جائز ہے یا ناجائز، مشکل یہ ہے۔ اس لئے قوم کے ساتھ سختی کرنا، جبر کی بنیاد پر حکومت کرنا، یہ اسلام میں کہیں جائز نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَلَعَنَهُمْ كُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٍ، اور اس میں ایک ہے المتسلط بالجبروت، يُعِزُّ مَنْ أَذَلَّ اللَّهُ، وَيُذِلُّ مَنْ أَعَزَّ اللَّهُ، جو طاقت کی بنیاد پر قوم پر مسلط ہوتا ہے، فرماتے ہیں میں بھی اس پہ لعنت بھیجتا ہوں اللہ بھی اس پر لعنت بھیجتا ہے اور ہر پیغمبر کی دعا قبول بھی ہوتی ہے اور اس میں ایک وہ بھی ہے جو قوم پر زبردستی تسلط کرتا ہے، پھر اگر کوئی معزز ہے ان کو ذلیل کرتا ہے اور اگر کوئی کمزور آدمی ہے اس کو طاقت ور بناتا ہے اور یہ مشاہدات ہم روز دیکھ رہے ہیں کہ معززین کی تذلیل کیسی کی جاتی ہے، قوموں کے بڑوں کو کس طرح بے توقیر کیا جاتا ہے اور جن کی کوئی قدر و قیمت نہیں انہیں شریف لوگوں کے اور شریف قوم کے سر پر مسلط کیا جاتا ہے، ہم تو سختی کی قائل نہیں ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛ اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ، فَارْفُقْ بِهِ،
اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر ان پر سختی کرے تو تُو بھی اس پر سختی فرما، اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور ان کے ساتھ نرمی کرے تو تُو بھی اس کے ساتھ نرمی فرما۔ اب اس نرمی اور سختی مراد بالکل بھی یہ نہیں کہ بدنظمی ہو، قانون کی خلاف ورزی ہو، بدامنی ہو، قتل و غارتگری ہو، ہم لوگوں کو کچھ نہیں کہیں گے، آپ کے بنیادی رویے رفقت، رعفت اور رحمت کے ہونے چاہیے، اگر کہیں ضرورت پڑے تو پھر مضبوط فیصلے کریں، اس لئے کہیں پر ہمارے علماء فرماتے ہیں بین اللطف والعنف کہیں فرماتے ہیں بین اللطف والحزم رفق والحزم، نرمی بھی اور مضبوط فیصلے بھی اور بڑی حکمت کے ساتھ اپنی طاقت کو صحیح استعمال کرنا۔

اب اس قسم کی صورتحال میں جہاں ہمارے پاس جناب رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہوں، جہاں پر اللہ تبارک و تعالی کی تعلیمات ہوں اور ہم اس سے رہنمائی حاصل نہیں کرتے، ایسی عدالتیں ایسا قانون کیسے لوگوں کو انصاف مہیا کرے گا؟ اب مشکل یہ ہے کہ اگر ملک کے اندر قرآن و سنت کے حوالے سے کوئی انصاف اور عدل کی بات کرتا ہے تو وہ اتنا برا لگتے ہیں کہ کہتے ہیں مدرسوں کو ختم کر دو، دینی علوم کا خاتمہ کر دو اور یہ بھی مسلمان حکمرانوں کے ہاتھوں اور مغرب کے خواہشات کے تابع ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ دنیا میں جن قوتوں کی پیروی کر رہے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛ لتتبعُنَّ سَنَنَ من كان قبلَكم ، شبرًا بشبرٍ وذراعًا بذراعٍ ، حتى لو دخلوا جُحْرَ ضبٍّ تبعتُمُوهم . قلنا : يا رسولَ اللهِ ، اليهودُ والنصارى ؟ قال : فمَنْ؟، ایک زمانہ آئے گا کہ آپ پچھلی قوموں کی بالشت بالشت اور قدم قدم اس طرح پیروی کرتے ہوئے نظر آو گے کہ اگر وہ گوہ کی غار میں گھسے تو تم وہاں بھی تم ان کی پیچھے چلو، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ؛ ہم یہود و نصاری کے تابع ہوں گے قَالَ فَمَانُ اور کون ہو سکتا ہے۔ آج وہ دور آیا یا نہیں؟ آج ہم قدم قدم پر ان کی پیروی کرنے کے لیے امادہ ہیں یا نہیں ہیں؟ اور اگر ہم ان کی پیروی نہ کریں وہ ہمیں انسانی حقوق کا مجرم قرار دیتا ہے، دیکھیں اس دنیا میں مختلف مذاہب ہیں اور اگر سات ارب تک انسانی آبادی پہنچ چکی ہے تو ایک ارب سے زیادہ مسلمان ہے صرف، اتنی بڑی آبادی کی شریعت کو ہم پس پشت ڈال رہے ہیں کہ جی مسلمانوں میں تو اختلاف ہے، تو پاکستان میں تو اس کا انتظام ہو چکا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل اس لئے تو بنی کہ تمام مکاتب فکر کہ علماء کرام اس میں بیٹھیں گے، قانون کے ماہرین اس میں بیٹھیں گے اور قرآن و سنت کے روشنی میں جس پہ اتفاق ہو جائے، اب تک اتفاق رہا ہے۔ تو ملک کو جتنی ضرورت ہے ہم نے آئین میں ترمیم کرائی اور وہ ترمیم یہ تھی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات صرف پیش نہیں کی جائیں گی بلکہ اس پر بحث بھی ہوگی ابھی تک ایک سفارش بھی بحث کے لیے پیش نہیں کی گئی، ہم نے اس میں ترمیم ڈالی تھی کہ وفاقی شرعی عدالت کو طاقتور بنایا جائے، ابھی تک کوئی اقدامات نہیں ہوئے، ہم نے سود کے خاتمے کے لیے ترمیم ڈالی تھی، منظور ہو چکی ہے لیکن ترمیم کے خاتمے کے لیے کوئی اقدامات ابھی تک نہیں، اب آئین پر آپ عمل نہ کریں۔ اب ایک ادارے اور ایک ادارے کے صرف ایک سربراہ کو اختیارات مرتکز کر دینا یہ تو ہے ہماری ایمرجنسی، لیکن آسی سال گزر گئے قرآن و سنت ہماری ایمرجنسی نہیں بنی، ایک زائد چیز سمجھتے ہیں، ایک غیر ضروری چیز سمجھتے ہیں، اب مسئلہ یہ ہے کہ امن و امان کیسے آئے گا؟ انصاف کب ملے گا؟ جب انصاف ملے گا تو امن آئے گا، محرومیتوں کا خاتمہ ہوگا تو امن آئے گا، آسی سال ہم لڑتے رہے، لڑتے رہے، لڑتے رہے، صوبوں کو حقوق، صوبوں کو حقوق، صوبوں کو حقوق، اٹھارویں ترمیم میں کچھ صوبوں کو حق مل گیا اب وہ ان کو ہضم نہیں ہو رہا آج تک، قومی محصولات میں صوبوں کا حصہ بڑھایا جا سکے گا گھٹایا نہیں جا سکے گا یہ آئین کہتا ہے، اب یہ ہضم نہیں ہو رہا، صوبوں کے اندر جو معدنی زخائر ہیں صوبے کون ہوتے ہیں، صوبوں کے بچے کون ہوتے ہیں کہ وہ ان کے مالک بنیں گے، یہ ہضم نہیں ہو رہا، تو یہ دو باتیں ہضم نہیں ہو رہی ایک صوبوں کے اندر کے وہ زخائر جو صوبے کے عوام کی بچوں کی ملکیت ہیں اور ایک محصولات میں صوبوں کے حصص، اس پر جو اس وقت جہاں ہم کھڑے ہیں یہ قابل قبول نہیں، ان کو واپس کرنے کے لیے علاج یہ ہے کہ صوبوں کو ہی توڑ دو، پھر جب صوبے ٹوٹ جائیں گے تو اس کے بعد پھر نئے سرے سے صوبوں کے معاملات اور معاہدے ہوں گے ازسر نو، اب بتاؤ، تو میں نے کہا وہ کسی کوئی آدمی لحاف میں سویا ہوا تھا تو کوئی جوا اس کو لڑ گیا تو ایک جوئے کو مارنے کی بجائے اس نے پورے لحاف کو آگ لگا دی، یہ ہے ہمارے حکمرانوں کی عقل و دانش، ایک جوئے کے لئے پورے لحاف اور رضائی جلا دو۔
تو کچھ ہماری باتوں پر غور کرو ہم نے جو باتیں آپ سے کی ہیں ملکی خیرخواہی میں کی ہیں اور نہ ہم آپ سے کچھ لینے والے ہیں، نہ ہم آپ سے اپنے اقتدار کے لئے دھاندلی کی درخواست کریں گے، اگر جمعیۃ کو کچھ ملتا ہے اور اس کی نسبت یہ ہو کہ اسٹیبلشمنٹ نے دی ہے ایک لمحے کے لئے ہمیں قبول نہیں، ہمیں صرف اس صورت میں ہر وہ اختیار قبول ہوگا جو عوام کی طرف سے ہمیں ملا جائے گا، ملکی معیشت کو بہتر کرو، تعلیم کے نظام کو بہتر کرو، ہمارا اتنا بڑا اسلام آباد کا ہسپتال، بچے جل گئے کوئی پوچھنے والا نہیں، یہ نگرانی ہے ان کی، ایک چھوٹا سا ہسپتال اور چھوٹے ہسپتال میں نومولود بچوں کا ایک شعبہ اور آگ لگ گئی اور فائر بریگیڈ بہنچ رہا ہے اور راستے بند، اب ان چیزوں پہ افسوس تو ہوتا ہے، شکایت تو ہوتی ہے اور کیوں نہیں ہوگی ہم موزے تو نہیں ہیں کہ نہ کچھ دیکھ رہے ہیں، نہ کچھ سن رہے ہیں، نہ بات کر سکتے ہیں، اگر ہم زندہ قوم ہیں تو پھر ہم نے بات کرنی ہے، انصاف کی بات کرنی ہے، مکالمہ کرو، گالیاں مت دو میری وفاداری اور غداری کا سرٹیفکیٹ ہاتھ پہ مت رکھو، ورنہ میں آپ کے ساتھ وفاداری اور غداری کا حساب کتاب کرنے کے لئے بھی تیار ہوں۔

میرے محترم دوستو! ہمیں اس حوالے سے یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم ایک اچھی حکمرانی کیسے لا سکتے ہیں، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ایک نیا معاشرہ تشکیل پا رہا تھا اس میں صحرائیت تھی، بدویت تھی، معاشرتی زندگی منظم نہیں تھی، تمدنی زندگی منظم نہیں تھی، لوگوں کی بعض باتوں سے کچھ آپ کو ناگواری ہو جاتی تھی، اس حالت میں بھی اور خاص طور پر غزوہ احد کے وقت جس کرب سے آپ گزرے ہیں، آپ کے دل میں کیا کیا آتا ہوگا، لیکن اس حالت میں بھی اللہ رب العزت نے جو وحی اتاری، فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ، اس کرب کی حالت میں بھی اپنی جماعت کے لیے بھی اللہ آپ کو ہدایت دیتا ہے کہ ہم نے تو آپ کو ان کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، اگر آپ سخت طبیعت کے ہوتے تو لوگ آپ سے بھاگ جاتے، آپ کے شرف صحبت سے محروم ہوتے، آپ کے انوار سے محروم ہو جاتے، تو بس ان کو معاف کر دو، یہ مخلص لوگ ہیں کبھی اللہ تعالی اس طرح ہدایات بھیجتا ہے؛ وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُم، یہ جو کبھی کبھی ایسی ناگوار قسم کی بات کر لیتے ہیں اس لئے صبر کیا کرو کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مخلص ہیں صبح و شام اللہ ہی کی طرف تو رجوع کرتے ہیں اور صرف اللہ کی رضا ان کے مقصود ہوتی ہے تو ان سے آنکھیں نہ پھیرا کرو، شفقت کی نظر ان کی اوپر رکھا کرو، یہ اس وقت کے حاکم وقت جو اپنی جماعت کے سربراہ تھے، جو اپنے فوج کے سپہ سالار تھے ان کو ان حالات میں تعلیمات دی جا رہی تھے۔
تو قرآن کریم سے اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سے ہمیں استفادہ کرنا چاہیے، آج امریکہ سے لے کر پورا مغرب اور پاکستان میں ان کے ایجنڈہ اس لفظ کو مٹانا چاہتے ہیں تاکہ آئندہ کوئی اللہ کی دین کی بات نہ کر سکے، لیکن الحمدللہ جمعیۃ علماء بھی زندہ ہے، وفاق المدارس بھی زندہ ہے دین کی تعلیم بھی رہے گی، دین کی سیاست بھی رہے گی اور یہ جنگ جاری رہے گی، ہم ان شاءاللہ العزیز بڑے نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں گے، دنیا میں دلیل کی بنیاد پر سیاست کو فروغ دیں گے، عزت و وقار کی بنیاد پر سیاست کو فروغ دیں گے، نہ کسی کی توہین کرتے ہیں، نہ کسی کو گالی دیتے ہیں، نہ کسی کے ساتھ برتاؤں میں ہم بدتمیزی کرتے ہیں، نہ اس کے روادار ہیں اپنی پوری شرافت اور اعتماد کے ساتھ لیکن ساتھ ساتھ پوری بہادری کے ساتھ سیاست کرنی ہے، اور ان شاءاللہ اور عزیز ان قوتوں کو ہم نے شکست دینی ہے، سفر ضرور لمبا ہے لیکن سفر کا انجام بھی ضرور ہوا کرتا ہے اور ہم ان شاءاللہ کافی سفر عبور کر چکے ہیں، اس کو اللہ تعالی قبول بھی فرمائے اور اس طاقت کو اللہ قائم و دائم بھی رکھے۔
یہ جو آپ نے تیاریاں بھی شروع کی ہوئی ہیں اور کام بھی کر رہے ہیں اس کے لئے، میں بھی آپ سے درخواست کروں گا کہ امن عالم اجتماع جو انیس بیس اکیس مارچ دو ہزار ستائیس کو منعقد ہو رہا ہے ان کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں، دن رات ایک کر کے اس کی کامیابی کے لیے اور یہی ہماری قوت ہے اس کو ہم عوام کی طاقت کو اور عوام کی جماعت کو طاقتور بنانا چاہتے ہیں، یہی ہمارے اکابرین نے راستہ دیا ہے یہی جمعیۃ علماء کا راستہ ہے ہم پاکستان میں اسی کو فروغ دینا چاہتے ہیں، کوئی شدت، انتہا پسندی نہ ہی دین اور قرآن کی تعلیم ہے، اتنی بڑی جماعت پاکستان کے طول و عرض میں اگر ہماری رکن سازی چالیس لاکھ ہے تو علماء کتنے ہوں گے اس میں، اندازہ لگا لیں لاکھوں میں ہوں گے، مدارس کی اتنا بڑا نیٹ ورک ہمارے پاس موجود ہے ان کو اسی خط پہ ڈالنا ہے، اسی راہ پہ ڈالنا ہے اور اس کے لئے محنت کرنی ہے اور عوام کے ساتھ رہنا ہے، پبلک کا تعلق اور پبلک کی جماعت یہ آپ کی طاقت ہے، ان کی مشکل میں ان کا ساتھ دیں، ان کی تکلیف میں ان کا ساتھ دیں، ان کی ضرورت میں ان کا ساتھ دیں۔
ان شاءاللہ العزیز مجھے یقین ہے کہ جب عوام سمجھیں گے کہ اب یہ ہمارا حق دلا سکتے ہیں، اب یہ ہمارے حق کا تحفظ کر سکتے ہیں، یہ ہمیں حق دلانے میں سنجیدہ ہیں، مخلص ہیں، کوئی ذاتی مفاد ان کا نہیں، اقتدار میں آنے کے بعد اپنی ذات کے لئے نہیں کمائیں گے، جو کچھ کریں گے قوم کے لئے کریں گے۔ تو یہی قوم آپ پہ اعتماد کریں گے ان شاءاللہ
اللہ تعالی ہمیں اس کا قابل بنائیں اور قابل بنانے کے بعد اللہ تعالی ہمارا ہمیشہ اور ہر حال میں حامی و ناصر ہو اور اپنی نصرت ہر حال میں ہمارے ساتھ شامل حال رکھے۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
‎#teamJUIswat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اگلی خبر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی لاڑکانہ میں صحافیوں... پچھلی خبر قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا جوائنٹ...