قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے زیرِ اہتمام منعقدہ ختمِ نبوت کانفرنس سے خطاب
07 ستمبر 2026
الْحَمْدُ للهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِیْنُهٗ وَنَسْتَغْفِرُهٗ وَنُؤْمِنُ بِهٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْهِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئاٰتِ اَعْمَالِنَا مَن یَّهْدِهِ اللهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ یُّضْلِلْهُ فَلاَ هَادِیَ لَهُ، وَنَشْهَدُ أَنْ لَآ اِلٰهَ اِلاَّ اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ، وَنَشْهَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ، الْمَبْعُوثُ إِلَى الْأَسْوَدِ وَالْأَحْمَرِ، الْمَنْعُوتُ بِشَرْحِ الصَّدْرِ وَرَفْعِ الذِّكْرِ، الْمُتَمِّمُ لِقَصْرِ النُّبُوَّةِ عَلَى الْوَجْهِ الْأَكْمَلِ، فَمَنْ ادَّعَى النُّبُوَّةَ بَعْدَهُ فَقَدْ ضَلَّ وَكَفَرَ، صَلی ٱللَّه تعالی عَلی خَیرِ خَلقِه مُحَمَّد وَعَلی اٰلِه وَصَحبِِه وَبَارَک وسَلَّم تَسلِیماً کثیراً کثیراً. أما بعد فأعوذ بِٱللَّهِ مِنَ الشَّیطنِ الرَّجِیم، بِسمِ ٱللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم۔
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ۔ صدق اللہ العظیم۔
جناب صدر محترم، حضرات علماء کرام، مشائخ عظام، بزرگان ملت، میرے دوستو اور بھائیو! سات ستمبر کا دن اس فتح کا دن ہے جب ختم نبوت کے قلعے کو توڑنے کے لئے ایک سامراجی ایجنٹ نے جھوٹے نبوت کا لبادہ اوڑھا اور عوام کی تحریک کے نتیجے میں، ہمارے اکابر کے پارلیمانی کردار کے نتیجے میں، پارلیمنٹ میں دلائل کے نتیجے میں اسے بے نقاب کردیا، اس کے کفر کو بے نقاب کردیا اور پوری دنیا کو بتا دیا کہ قادیانی ہو یا لاہوری گروپ جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں یہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور اب پاکستان میں ان کو غیر مسلموں کی فہرست میں درج کیا جائے گا۔
یہ معمولی معرکہ نہیں تھا، اس معرکے میں ہمارے بزرگوں نے جس ذہانت کا مظاہرہ کیا اور جس طرح ان کو بے نقاب کیا، یہاں تک کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر تمہارے مدعی نبوت پر کوئی ایمان نہیں لاتا تو آپ کی نظر میں وہ کافر ہے یا نہیں؟ تو انہوں نے کہا کافر ہے، جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آج زندہ ہوتے، اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندہ ہوتے، اگر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندہ ہوتے، اگر حضرت علی رضی اللہ تعالی زندہ ہوتے، اگر حضرت حسنین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما زندہ ہوتے اور وہ مرزا غلام احمد پر ایمان نہ لاتے تو کیا وہ بھی کافر ہوتے؟ تو اس نے کہا ہاں وہ بھی کافر ہے، پروپیگنڈا تو کیا جا رہا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا اور کوئی نہیں پوچھتا ان سے کہ تم ابوبکر صدیق سے لے کر رسول اللہ ﷺ کے آج کے امتی کو تک کو بھی کافر کہتے ہو، پوری امت مسلمہ کو کافر کہنا یہ مغرب کی نظر میں جرم نہیں ہے لیکن اس ایک چھوٹے سے طائفے کو اور گمراہ طائفے کو کافر قرار دینا جیسا کہ بہت بڑا کوئی حادثہ ہو۔
سو یہاں پر جب سات ستمبر دو ہزار چوبیس کو سات ستمبر انیس سو چوہتر کے فیصلے کی گولڈن جوبلی منائی گئی اور مینار پاکستان پر، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوا، پوری تاریخ کے تمام اجتماعات کے ریکارڈ توڑ دیئے، اس نے ایک بار پچاس سال کے بعد ثابت کر دیا کہ آج بھی پوری قوم پارلیمنٹ کی اس فیصلے کے پشت پر کھڑی ہے۔ لہذا تم کچھ بھی کر لو، امریکہ کی پشت پناہی لے لو، یورپ کی پشت پناہی لے لو اور کمبخت تم تو خود لکھتے ہو کہ میں انگریز کا خود کاشتہ پودا ہوں، جو انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے اس نے ہمیں دین دینا ہے۔
یہ وہ چیزیں ہیں کہ جو اللہ پر بہتان باندھتے تھے، کبھی اللہ کا شریک ٹہرایا کرتے تھے، کبھی اللہ کے لئے بیوی اور بچے تجویز کرتے تھے اور کبھی کہتے تھے کہ یہ وحی تو ہم پر بھی آسکتی ہے، اس قسم کے بہتان کو اللہ رب العزت نے بڑے شدت کے ساتھ رد کیا، لیکن یہاں میں یہ بات بھی بتانا چاہتا ہوں کہ سات ستمبر کو ہم جو یوم الفتح مناتے ہیں، اس سے قبل ہم چھ ستمبر کو یوم دفاع بھی مناتے ہیں، تسلسل کے ساتھ پاکستان ایک دن چھ ستمبر اور اگلے روز سات ستمبر کا دن مناتا ہے، چھ ستمبر انیس سو پینسٹھ جب سیالکوٹ اور لاہور کی سرحدات پر انڈیا کی فوجوں نے حملہ کیا اور جب پاکستان کے جوانوں نے، ہمارے افواج پاکستان نے اس کا جواب دیا اور اپنے جانوں پر کھیل کر اس نے دشمن کو پسپا کیا وہ بھی تاریخی دن تھا، لیکن وہ پاکستان کے جغرافیائی حدود کے تحفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور سات ستمبر انیس سو چوہتر کا واقعہ پاکستان کے نظریاتی حدود کے تحفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جہاں پاکستان کو جغرافیائی حدود کے تحفظ کی ضرورت ہے وہاں پاکستان کو نظریاتی حدود کے تحفظ کی بھی ضرورت ہے اور یہ دونوں مل کر ہمیں جاننے چاہیے، لیکن یہ بات بھی ملحوظ نظر رہے کہ پاکستان کے عوام پاکستان اور اسلام سے محبت کرتے ہیں البتہ دونوں حوالوں سے پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کے حوالے سے بھی اور پاکستان کے نظریاتی حوالے سے بھی پاکستان کا عوام اس وقت عدم تحفظ کے احساس سے وابستہ ہے، ہمیں ایک مضبوط پاکستان چاہیے اور ہمیں ایک اسلامی عادلانہ مملکت چاہیے، ایک ایسا نظام عدل جو انسانی حقوق کا محافظ ہے، جو قیام امن کا ضامن ہو، جو خوشحال معیشت کی ضمانت دیتا ہو، ہم پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اس ملک کو سیاسی لحاظ سے کمزور کیا گیا اور ہماری سیاسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوج کو مارشل لاء لگانے کے مواقع ملے، پاکستان کی قیام کے ٹھیک گیارہ سال بعد انیس سو اٹھاون میں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے مارشل لاء لگا دیا، جمہوری عمل کا خاتمہ ہوا، دس سال تک وہ متعلق عنان حکمران رہا اور یہ ملک نظریاتی لحاظ سے کمزور ہو گیا، یہ ملک سیاسی لحاظ سے کمزور ہو گیا، یہ ملک نظریاتی لحاظ سے کمزور ہو گیا، یہ ملک اقتصادی لحاظ سے کمزور ہوا اور ہم نے پاکستان کا پانی بیچا، تین دریائے ہم نے ہندوستان کو دے دی اور آج بھی ہم پانی کی مشکل سے نکل نہیں پا رہے ہیں۔ یہ ڈکٹیٹروں کے فیصلے ہوتے ہیں، بظاہر تو آتے ہیں سیاست دان ناکام ہو گئے، یہ تو کرپشن کرتے ہیں، لیکن سن انیس سو اٹھاون میں مارشل لاء لگتا ہے اور ٹھیک مارشل لاء کے دو سال بعد پاکستان کے تین دریائے ہندوستان کو بیچی جاتی ہیں اور آج بھی عالمی بینک کی ثالثی کے ہوتے ہوئے آپ وہ معاہدہ پڑھیں کہ اس میں پاکستان کے ہاتھ پاؤں باندے گئے ہیں، ہندوستان کے ہاتھ پاؤں کھول دیے گئے ہیں۔ یہی کچھ سن انیس سو انچاس کی سلامتی کونسل میں کشمیر کے مسئلے پر ہندوستان کے ہاتھ پاؤں کھول دیے گئے اور ہمارے ہاتھ پاؤں باندے گئے تھے، یہ کوئی ڈکٹیٹر ہی کر سکتا ہے، پھر اس کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا، بنگال ہم سے الگ ہو گیا، مغربی پاکستان اور بنگال کے بیچ میں سوائے اسلام کے ہمارے درمیان کوئی قدر مشترک نہ تھی، ان کی تہذیب مختلف ہماری تہذیب مختلف، ان کا بود باش مختلف ہمارا بود باش مختلف، ہمارے طور طریقے اور، ان کے طور طریقے اور اگر کوئی چیز قدر مشترک تھی ان کے اور ہمارے درمیان تو اسلام کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی اور جب اسلام کو راستہ نہیں دیا گیا تو پھر اس ملک کے دو حصوں کو یک جان نہیں رکھا جا سکا۔
تو ملک تمہاری پالیسیوں کے وجہ سے ٹوٹا ہے اور لطیفے کی بات ہے بھائی، یہی ہماری فوج کی حکومت تھی اور چار صوبوں کو ایک صوبہ کیا گیا، ون یونٹ لگا دیا گیا، مغربی پاکستان چار صوبوں والا اب وہ صرف ایک صوبہ کہلائے گا صوبہ مغربی پاکستان، یہ بھی اسی فوج کی سوچ تھی اور آج ان چار صوبوں کو توڑا جا رہا ہے، ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، یہ بھی ہماری فوج کی سوچ، ویسے خواہ مخواہ کاکے کو آگے کیا گیا، وہ بھی ان کی سوچ تھی، یہ بھی ان کی سوچ تھی۔ تم پاکستان کے مالک ہو جب چاہو پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دو اور جب چاہو چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دو، تو ہر فیصلے کی پیچھے تمہارے اپنے عزائم ہوتے ہیں، وہاں قوم کے مفاد نہیں ہوا کرتا۔ لہذا ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو اپنے ضمیر کی بات کرنی ہے، ہم خیر خواہی کی بنیاد پر بات کرتے ہیں، ہم آپ کی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں، ہم آپ کی بھی خیر خواہی اسی میں دیکھتے ہیں، لیکن تمہارا مزاج بن گیا ہے کہ تمہیں خوشامد گروں کی زبان اچھی لگتی ہے، لیکن تمہارے سامنے کوئی سیدھی بات کرے تو تمہیں بری لگتی ہے، لیکن ہم ملک کو آپ کا ملکیت نہیں مانتے، یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے شہری ہیں اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں، پلیٹ میں کھانے کی چیز نہ ہو تو پلیٹ کی کیا حیثیت ہے، گلاس میں پانی نہ ہو، شربت نہ ہو، کیا حیثیت ہے، پیالے میں چائے نہ ہو تو پیالے کی کیا قیمت ہے، ریاست ہے تو عوام ہیں، تو ریاست ہے اور عوام کو بکھیر دو، کیوں بکھیر دے؟ ہم اصولاً کسی یونٹ کے بنانے کے خلاف نہیں ہیں، یونٹیں بنتی رہتی ہے، ہندوستان میں بھی بنی ہے، افغانستان میں بھی بنی ہے، دوسرے ملکوں میں بھی بنی ہے، لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہیے، ہم نے یہ نہیں کہا تھا کہ فاٹا کو صوبے میں انضمام نہیں ہونا چاہیے، ہم نے کہا دو تین آپشنز ہیں یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی، یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے لہذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے، ان کے منشاء سے فیصلہ کیا جائے، لیکن آپ نے ان پر تھونپا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں یہ تو ہمارے لئے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دیے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا کے انضمام کی مخالفت کرتے ہیں یہ تو ضروری اور لازمی ہے، آج ہمارا جنرل مجھے کہتا ہے کسی اور کو نہیں مجھے کہتا ہے کہ فاٹا کے انضمام کا فیصلہ غلط تھا، یہ تمہاری مرضی ہے تم جب چاہو لوگوں کی سیاسی مستقبل کو کچھ کرو اور پھر تم جب چاہو کوئی اور طریقہ اپناؤ، روز آپ کا فیصلہ آج ناگزیر ہے اور کل وہ فیصلہ آپ کا غلط ہے، ایک فیصلہ تو بتا دو اللہ کے بندوں جو تم نے کیا ہو اور اس کے نتائج قوم کے مفاد میں سامنے ائے ہو، کیوں ایسا کرتے ہو؟ ہم سے پوچھو، گھر میں آگ لگی ہوئی ہے ادھر بھی ایک کمرے میں آگ لگی ہوئی ہے، ادھر بھی دوسرے کمرے میں آگ لگی ہوئی ہے، ادھر برآمدے میں آگ لگی ہوئی ہے اور چار بھائی بیٹھ کر آکر کہتے ہیں آؤ ذرا گھر کو تقسیم کرلیں، کس طرح تقسیم کریں؟ آپ کا حصہ کیا ہوگا؟ میرا حصہ کیا ہوگا؟ اس سے بیوقوف اور احمق بھائی اور ہو سکتے ہیں؟
تو یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ہم کہتے ہیں ڈیبیٹ کرنی چاہیے، ایک طرف آپ کوئی فیصلہ مسلط نہ کریں یہ ملک عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے، عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے اور میں بڑی وضاحت صراحت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ صوبوں کی تقسیم کی پیچھے کیا مفادات ہیں، نمبر ایک صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کے اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے، دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ میں قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے کمی نہیں ہو سکتی، یہ ان کو ہضم نہیں ہو رہا، اب صوبے تقسیم کرو تاکہ ازسر نو پھر ہم معدنیات کے فیصلے بھی پھر سے کریں اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے بھی پھر سے کریں۔ تو ہم تو صوبوں کو طاقت ور دیکھنا چاہتے ہیں اور آپ صوبوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، پھر وہی پرانی لڑائی دوبارہ شروع ہو جائے۔ اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے، اصولی طور پر بات کرے، مسلم لیگ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، مسئلہ مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے دے حوالے، اب بتاؤ جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے زیادہ نہیں ہے، کابینہ کا ممبر ہے، اسلام آباد ٹیریٹوری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی ہے دوسرے میں بھی کاکا جی ہے، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسرے کی رپورٹ کچھ، اس میں تضادات ہیں۔ تو ذاتی نوکر، پاکستان ہم ان کے حوالے کر دیں؟ یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے۔
میرے محترم دوستو! ہم نے یہ ملک بنایا تھا دو قومی نظریہ کی اساس پر، ایک مسلم قوم کے لیے الگ خطے کی آواز پر یہ ملک وجود میں آیا تھا لیکن ہم دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قوم کو ایک قوم نہیں بنا سکے، ہم نے بنگالی کا اعتماد توڑا اور بنگلہ دیش وجود میں آگیا، جب بنگلہ دیش وجود میں آ سکتا ہے اور پاکستان کا ایک بڑا صوبہ تھا آبادی کے لحاظ سے، کیا اس کے اثرات بھر بھی پاکستان کی صوبہ پر نہیں پڑنے تھے، تو یہاں پر فرقہ واریت کو بھی فروغ دیا گیا کہ لوگ مسلکوں کی بنیادوں پر لڑتے رہے، یہاں قومیت اور علاقائیت کو بھی فروغ دیا گیا اور تعصب پھیلائی گئی، یہاں لسانیت کی بنیاد پر فسادات کرائے گئے، پورا ملک آپس میں نفرت میں پڑ گیا، کس کی وجہ سے؟ نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے اور نا اہل حکمرانوں کی نہ اہلیت کا فائدہ جب فوجی قیادت نے اٹھایا تو پھر عالمی قوتوں کو ملک کی معاملات میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع مل گیا، ہم نے پاکستان کی اقتصادی بنیاد پاکستان کے اپنے وسائل پر نہیں رکھی ہم نے پاکستان کی اساس بیرونی قرضوں پر رکھی، امریکہ کے قرضوں پر رکھی ہے، آپ بتائیں نوابادیاتی نظام ختم ہو چکا، انگریز چلا گیا لیکن ترقی پذیر ممالک، پسماندہ ممالک ان کو بین الاقوامی معاہدات میں جکڑ دیا گیا، بین الاقوامی اداروں میں جکڑ دیا گیا، بین الاقوامی ادارے آج ہمارا فیصلہ کرتے ہیں، اگر سیاسی فیصلہ ہو، انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی فیصلہ ہو، جنرل اسمبلی فیصلہ کرے، سلامتی کونسل فیصلہ کرے، جنیوا انسانی حقوق کنونشن فیصلہ کرے، یہ عالمی ادارے ہیں اگر انہوں نے کوئی ایک فیصلہ دے دیا تو پھر اس کے بعد وہ فیصلہ ہمارے ملک میں مؤثر ہوگا اور ہمارے ملک کا آئین اور قانون غیر مؤثر ہو جائے گا، یہ ہماری سیاسی غلامی کی علامت ہے، ہمیں سمجھنا چاہیے۔
اقتصادی طور پر ہمیں بین الاقوامی اداروں کے پابند بنا دیا گیا، آج ہم ورلڈ بینک کے پیسے کے محتاج، ان کے قرضوں کے پابند، آج ہم عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف، ایشین بینک، پیرس گروپ، لندن گروپ، ان کے قرضوں کے محتاج بنا دیے گئے اور ہمارے لئے ان کے قرضوں کے بغیر جینا حرام کر دیا ہمارے اپنے وسائل ہمارے قبضے میں نہیں، ہمارے معدنیات پر ان کا قبضہ، ہمارے تیل کے ذخائر پر ان کا قبضہ، ہماری معیشت کی پالیسیاں وہ طے کریں، تو یہ نو آبادیاتی نظام کی ایک شکل ہے جو اس صورت میں آج دنیا میں زندہ ہے۔
دفاعی محاذ پہ جائیں اسلحہ میرا، ٹینک میرا، توپ میرا، جہاز میرا، ایٹم بم میرا، لیکن عالمی معاہدات پر دستخط کرو اور پابند رہوگے کہ اسلحہ تیرا ہوگا لیکن اس کے استعمال کے اختیار ہمارے ہاتھ میں ہوگا، ہماری اجازت کے بغیر تم اسلحہ استعمال نہیں کرسکتے۔ ہم نے ابھی چار گھنٹے کی ایک جنگ لڑی اب اس کے دعوے دار بہت نکل آئے، حافظ صاحب کہتے ہیں میں جیتا ہوں، ہم بھی کہتے ہیں آپ جیتے ہیں، ہماری فوج ہے، امریکہ کہتا ہے نہیں میں نے جنگ رکوائی ہے اور ہمارا وزیراعظم اس کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ آپ کا بہت شکریہ آپ نے جنگ بند کرا دی ہے۔
اس سوچ کے حامل لوگ آج ہم پر حکمران ہے، ہم کس طرح سوچیں، ہمیں فخر ہے اس بات پر کہ دنیا میں تاثر یہی گیا کہ ہندوستان شکست کھا گیا، پاکستان کی فتح ہوئی، ہم نے اپنی دفاع کو سپورٹ کیا ہے، لیکن سیاسی معاملہ، صوبوں کا معاملہ، مالیاتی فیصلے، معدنی ذخائر کے فیصلے، یہ عوام کریں گے عوام کے نمائندے کریں گے لیکن یہ عوام کے وہی نمائندے کر سکتے ہیں جو عوام کی نمائندے تو ہوں، ڈمی نمائندے حکومت کر رہے ہیں، اقلیت حکمران ہے، پیپلز پارٹی حکومت میں نہیں ہے۔ وہ صرف اس کو ووٹ دیتی ہے، آج اگر پیپلز پارٹی نے سیڑھی کھینچ لی ان کے پاس کچھ ہے؟ اور ابھی تک باپ بیٹا ایک پیج پہ نہیں ہے جس دن دونوں ایک پیج پہ آجائیں گے اور پھر دیکھیں کیا کیا صورتحال بنتی ہے، مشکل یہاں ہے۔
تو میرے محترم دوستو! ہمیں اس حوالے سے بھی دیکھنا ہوگا کہ ہم ایک قوم نہیں بن سکے، ہمیں فرقوں میں بانٹا گیا، فرقہ وارانہ فسادات اس ملک میں کرایے گئے اور ابھی اب بھی فرقہ وارانہ عناصر پر ان کا ہاتھ ہے جب ضرور پڑے اگ بھڑکا دیں، لسانیت کی جنگ، قومیت کی جنگ، صوبائیت کی جنگ، یہ تمام چیلنجز موجود ہیں اب اس کو کیسے طے کرنا ہے، آسی سال کے بعد خیال آیا کہ صوبوں کو تقسیم کرو، بھئی پہلے آگ بجاؤ، پہلے لوگوں کو امن چاہیے، آپ کا پنجاب زرعی پیداوار کی بنیاد ہے، آپ ذرا پنجاب کے کسان اور پاکستان پنجاب کے باغبان سے پوچھیں کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کی خرابی کے بعد ان کی تجارت پر کیا منفی اثرات پڑے ہیں؟ کیا تباہی مچی ہے ہمارے ملک کے تاجروں کی؟ کیا تباہی مچی ہے ہمارے ملک کے کاروباری حلقے کی؟ آج پاکستانی کاروباری، سرمایہ کار اپنا پیسہ ملک سے واپس لے جا رہا ہے، اپنے ملک میں سرمایہ کرنے کو تیار نہیں ہے، باہر کا سرمایہ کار پاکستان میں پیسہ لانے کے لیے تیار نہیں ہے، ہمارے ملک کو معاشی طور پر کہاں پہنچا دیا آپ لوگوں نے؟ کچھ اس پر ہم نے سوچنا ہے یا نہیں سوچنا؟ ملک اقتصاد سے طاقتور ہوتا ہے، ملک امن و امان سے طاقتور ہوتا ہے، یہاں تو تقسیم تقسیم، فرقوں کو تقسیم کرو، مدرسوں کو تقسیم کرو، قوموں کو تقسیم کرو، اس کو تقسیم کرو، اس کو تقسیم کرو، ریاست تو ماں ہوتی ہے، ماں تو بچوں کو اکٹھا کرتی ہے، ماں تو اپنے آنگن میں بچوں کو لاتی ہے اور ایک کرتی ہے، یعنی عجیب ماں ہمیں ملی ہے کہ جو ہمیں تتر بتر کرنے کی سیاست کرتی ہے اور انگریز کی طرح قوم کو لڑاؤ اور پھر ان پر حکومت کرو، تو انگریز تو ہماری ماں نہیں تھی، تم تو ہمارے اپنے بھائی ہو، ریاست تو اب ہم سمجھتے ہیں ہمارے ہاتھ میں ہے، وہ ہم سے وہی رویہ کیوں کر رہی ہے؟ کم بختوں ذرا اپنے رویے تو تبدیل کرو، وہی انگریز کا رویہ، کوئی نیا رویہ اپناؤ، طریقہ واردات ذرا نیا کرو، طریقہ واردات تمہارے پرانا ہو گیا ہے، وہی کچھ کر رہے ہو، ملک کے حالات کو ٹھیک کرنا ہے اور تب جا کر ابھی ہم نے چھبیسویں ترمیم میں جہاں حکومت کو کوئی پینتیس شقوں سے دستبردار کرنے پر آمادہ کیا وہاں ہم نے یکم جنوری دو ہزار اٹھائیس سے سود کا خاتمہ آئین کا حصہ بنایا ہے، لیکن سود کے خاتمے کے لیے کوئی اقدامات ہمیں ملک میں نظر نہیں آرہے، ہم نے چھبیسویں ترمیم میں وفاقی شرعی عدالت کو طاقتور بنانے اور اس کے فیصلے کو مؤثر بنانے کی ترمیم ڈالی لیکن اس وقت تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے، ہم نے اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات کو اسمبلی میں صرف پیش کرنا نہیں، اسمبلی میں اس کو زیر بحث لانا، اس کو آئین کا حصہ بنایا اور آج ایک سال، ڈیڑھ سال گزر گیا ہے ابھی تک اس پر ایک ایک سفارش پر بھی بحث نہیں ہوئی، یہ تمہارے نیتیں ہیں، بس صوبے تقسیم کرو یہ ایمرجنسی ہے، کوئی عدالت ایمرجنسی نہیں ہے، اس کی اصلاح ایمرجنسی نہیں ہے، کوئی شریعت ایمرجنسی نہیں ہے، قرآن سنت ایمرجنسی نہیں ہے، بس فوج کے اندر اور مقتدرہ کے اندر ایک خواہش پیدا ہو جائے اور پھر ضد پکڑ لیتے ہیں کہ ہماری بات کو کون ٹال سکتا ہے، میں آپ سے لڑ نہیں رہا ہوں، میں آپ سے مکالمہ کر رہا ہوں، مجھے مکالمے کا حق حاصل ہے، میں سیاسی کارکن ہوں، مجھے سیاسی لب ولہجہ آتا ہے اور ان شاءاللہ ہم یہ ڈیبیٹ جیتیں گے۔
دینی مدارس کے حوالے سے، دینی مدارس کو کبھی وہ کہتے تھے کہ یہ تمہاری پانچ تنظیمیں کیوں ہیں، دیوبندیوں کی اپنی، بریلویوں کی اپنی، اہل حدیث حضرات کی اپنی، شیعہ حضرات کی اپنی، یہ کیوں؟ ایک بناؤ، جب تمہارا نصاب ایک ہے تو پھر آپ کی تنظیم بھی ایک ہونی چاہیے اور یا ایک کی بجائے بیس پچیس بنا دیے گئے یہاں بیس پچیس بنا دیے گئے، یہ ان کے رویے ہیں، ہر سطح پر قوم کو تقسیم کرو اور پھر اس کے اندر اپنا پرایا، امت مسلمہ کو تقسیم کیا جا رہا ہے، کسی کو شدت پسند کہا جاتا ہے، کسی کو انتہا پسند کہا جاتا ہے، کسی کو روایت پسند کہا جاتا ہے، کسی کو اعتدال پسند کہا جاتا ہے اور کسی کو روشن خیال، انتہا پسند قبول نہیں، شدت پسند قبول نہیں، روایت پسند پہ نظر رکھو، اعتدال پسند پہ نظر رکھو اور روشن خیال اپنے بندے، وہ اپنے بندے، روشن خیال کون ہے؟ روشن خیال پاکستان کا وہ طبقہ ہے جو ابھی ایک ہفتہ ہوا اسلام آباد پریس کلب میں انہوں نے انتہائی گندی زبان کے ساتھ توہین رسالت کے خلاف قانون کو کالا قانون کہا ہے، یاد رکھو اگر اس قوم کے سامنے قادیانیت نہیں ٹھہر سکیں تو تم امریکی ڈالروں پر پلنے والے یہ چند گروہ، این جی اوز اور یہ طبقہ بھی قوم کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے۔
تو میرے محترم دوستو! آج بڑا کاروباری طبقہ ہو، جاگیردارانہ سیاست ہو یا اشرافیہ کی سیاست، جمعیۃ علماء اسلام نے اول روز سے اس کے خلاف جنگ لڑی ہے، آج بھی اپنے محاذ پر کھڑی ہے اور ہم پاکستان کے غریب انسان کو عزت کی زندگی دینا چاہتے ہیں، جو پروگرام ہمارے پاس ہے وہ شاید کسی دوسری پارٹی کے پاس نہیں ہے۔ اس لیے کہ ہم مذہبی لوگ ہیں، مذہبی لوگوں کا معنی یہ ہے کہ یہ دقیانوسی لوگ ہیں، یہ ملک پر حکمرانی کے لائق نہیں ہیں اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کو انگریز نے اپنی کتاب میں اس لیے انپڑھ لکھا، ناخواندہ لکھا کہ اس نے سکول میں نہیں پڑھا تھا، جو علم کا روشن مینار تھا، آج انگریز اس کو ناخواندہ لکھ رہا ہے، دینی مدارس میں پڑھنے والے علماء کرام، او بھئی ہم تمہیں دکھا چکے ہیں ہمارے دینی مدرسے کا طالب علم جب وہ آپ کے بورڈ میں گیا ہے اور اس نے آپ کے بورڈ کا امتحان دیا ہے تو جب بھی دینی مدرسے کے طالب علم نے امتحان دیا ہے مسلسل کئی سالوں سے وہ ٹاپ کر رہا ہے۔
جاگیردارانہ سیاست نہیں چلے گی، اشرافیہ کی سیاست نہیں چلے گی، جابرانہ سیاست نہیں چلے گی، طاقت کی بنیاد پر مسلط ہونے کی سیاست نہیں چلے گی، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ چھ لوگ ہیں جن پر میں نے بھی لعنت بھیجی ہے، اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اور ہر پیغمبر کی دعا قبول بھی ہوتی ہے اور اس میں ایک ہے کہ جب طاقت کی بنیاد پر مسلط ہو جاتا ہے اور پھر وہ ذلیل لوگوں کو عزت دیتا ہے اور عزت والوں کو بے عزت کرتا ہے، بلوچستان کے نوابوں اور سرداروں کو بلا کر اسلام آباد میں ان کی توہین و تزلیل کی جاتی ہے اور کاکے جیسے لوگوں کو ملکوں پر مسلط کیا جاتا ہے، تو ذرا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو سامنے رکھیں ہم پاکستان میں رہ رہے ہیں، ہمارے پاکستان میں ایک آئین طے ہے، اس کی سمت کا تعین ہو چکا ہے، یہاں ایک جمہوری نظام ہے، لیکن جمہوری نظام مغرب کا نہیں وہ جمہوریت جو قرآن و سنت کی پابند ہوتی ہے اور جمہوریت ذریعہ ہے مقصد نہیں، مقصد قرآن و سنت ہے، مقصد تبدیل نہیں ہوسکتا، ذرائع تبدیل ہوتے ہیں۔
تو اس حوالے سے ہمیں بھرپور طور پر خود اعتمادی کے ساتھ اور پوری خودداری کے ساتھ ملکی سیاست کرنی ہے اور اس ملک میں ہم نے نہ قادیانیت کو دوبارہ منظم ہونے دینا ہے، نہ مغربی این جی اوز کو توہین رسالت کے قانون کے خلاف غل غپاڑہ کرنے کی اجازت دینی ہے، ان کے تمام تحریکوں کو ہم نے ناکام بنانا ہے اور آپ جوانوں سے امید ہے کہ سر پہ کفن باندھ کر اسلام اور عقیدہ ختم نبوت اور عظمت رسالت کے لیے متحد ہوکر لڑیں گے اور آپ اپنی زندگی کو اللہ کے قانون سے خوشحال بنائیں گے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat
