۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
16 October 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی لاڑکانہ میں صحافیوں سے گفتگو

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat • ۳۱ اگست ۲۰۲۶
مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی لاڑکانہ میں صحافیوں سے گفتگو

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی لاڑکانہ میں صحافیوں سے گفتگو

31 اگست 2026

سوال و جواب

صحافی: مولانا صاحب صوبوں کی حوالے سے بڑی باتیں ہو رہی ہیں، تقسیم کی باتیں ہو رہی ہے لیکن سارا صوبہ ایک طرف ہے اور وہ کہتے ہیں کہ سندھ کو تقسیم ہونے نہیں دیں گے، کراچی میں کل بڑا احتجاج ہوا ہے اور اسمبلی میں بھی زیر بحث آیا ہے۔ تو آپ اس حوالے سے کیا کہیں گے؟ دوسرا یہ کہ جو وفاقی وزیر ہے محسن نقوی صاحب، اس کا کس پارٹی کے ساتھ تعلق ہے کہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، نواز لیگ بھی تسلیم نہیں کر رہی ہے، کوئی بھی پارٹی تسلیم نہیں کر رہی ہے۔ تو آپ پارلیمنٹ میں ہے اس کی وضاحت کرے کہ اس کا کس پارٹی سے تعلق ہے اور کس کے کہنے پر یہ کر رہا ہے؟
مولانا صاحب:   بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم. نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
جہاں تک نئے صوبوں یا موجودہ صوبوں کی تقسیم کا سوال ہے یہ بحث اس سے پہلی بھی بار بار ملک میں اٹھی ہے، اس شکل میں نہ سہی لیکن مختلف شکلوں میں، تو ایک ہے مسئلہ کا اصولی حیثیت اور ایک ہے مسئلہ کی عملی حیثیت، ہر چند کے دنیا میں صوبے بنتے ہیں، انڈیا میں بھی بنے ہیں، افغانستان میں بھی بنے ہیں، باقی علاقوں میں بھی بنتے ہیں اور اصولی طور پر ہم صوبوں کے نئے یونٹس کے قیام کو اگر اصولی طور پر جائز بھی سمجھیں تب بھی آپ کے اپنے سوالات سے بھی یہ بات ظاہر ہو گئی کہ نہ ماحول ہے نہ تیاری ہے، لہٰذا جب کسی سنجیدہ معاملے کے لئے نہ ماحول ہو اور نہ تیاری ہو تو اس میں ہاتھ ڈالنا یہ در حقیقت پھر ملک کی سلامتی کے لئے ایک مسئلہ بن جاتا ہے اور ہماری بدگمانی یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت جو صوبوں کو اختیار دیے گئے تھے اس میں صوبوں کے جو وسائل ہیں، صوبوں کے پاس جو ذخائر ہیں، وہ ہضم نہیں ہو رہے، اس پر وہ ہر قیمت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، کچھ وہ علاقے جو پاکستان کے لئے آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ بنتے ہیں اسے وفاق کے تحت لینے کے ایک سوچ، خواہش اور دوسرا یہ کہ این ایف سی ایوارڈ جو صوبوں کا حق ہے محصولات میں وہ ان کو ہضم نہیں ہو رہا ہے۔ تو اس لئے یہ چیزیں جو ہیں وہ اٹھائی جاتی ہیں اور غیر سیاسی لوگوں کے زبان پر یہ باتیں لائی جاتی ہیں اور جس طرح کوئی بات اہم بات بھی جب غیر اہم لوگوں کے ذریعے سے پبلک میں پھینکی جاتی ہے تو اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، اس لئے یہ بحث اس وقت تک تو میں سمجھتا ہوں کہ کوئی زیادہ پذیرائی نہیں مل رہی اس کو اور جو حکومت میں شامل جماعتیں ہیں وہ بھی اس تجویز کے بارے میں تحفظات کے شکار ہیں۔
صحافی: سر آپ نے دو ہزار چوبیس سے پہلے لانگ مارچ کیا، نواز لیگ کا ساتھ دیا اور انہوں نے آپ کا کندھا استعمال کرکے عمران خان کی حکومت کو گرایا، لیکن اس کے بعد آپ ان کے خلاف بھی کھڑے ہوگئے، اور آج وہی تحریک انصاف، جس کے لیے آپ کے مختلف بیانیے سامنے آئے، آپ ان کے ساتھ ہیں، اس کو کس طرح دیکھا جائے؟
مولانا صاحب: ہم نے پیپلز پارٹی کی خلاف بھی تحریک چلائی تھی اور پاکستان کی تحریک تاریخ کی سب سے بڑی تحریک تھی پی این اے کی، پھر مارشل لاء آ گیا، پھر اسی پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر ایم آر ڈی بھی بنایا، انگریز کی خلاف ہم نے جنگ بھی لڑی، پھر تقسیم ہند کے وقت ان کے مذاکرات میں ان کے ساتھ بیٹھے بھی رہے، سیاسیات میں کوئی کسی کے ساتھ حتمی دشمنی نہیں ہوا کرتی بلکہ ان حالات میں ایک خاص اصول کے تحت اور ایک مشترک مقصد کے تحت سیاستدان اختلاف رائے بھی کرتے ہیں اور اتفاق رائے بھی کرتے ہیں، ہم نے نہ دو ہزار اٹھارہ کے نتائج کو تسلیم کیا ہے نہ دو ہزار چوبیس کے، ہم وہیں کھڑے ہیں، اب جب ہم اسی موقف پہ کھڑے ہیں اور وہیں کھڑے ہیں تو حالات جب بدلتے ہیں تو کون ہمارے ایک طرف اور دوسری طرف دائیں بائیں کھڑا ہوتا ہے، یہ تو پھر ان حالات پر ہوتا ہے لیکن جے یو آئی جو ہے وہ یہ نہیں کہ یا مسلم لیگ کے ساتھ تحریک ہم ہی چلا رہے تھے وہ ہمارے کنٹینر پر ہوتے تھے، آج بھی پورے ملک میں اگر کوئی آواز گونج رہی ہے اور کوئی مسلسل پبلک کو شعور دلا رہا ہے، پبلک میں بیداری پیدا کر رہا ہے تو وہ جے یو آئی کی آواز ہے۔ تو اس حوالے سے جمعیۃ علماء اسلام بات کرنا بھی جانتی ہے، اپنی بات کے لیے الفاظ کا چناؤ بھی جانتی ہے، قانون اور آئین کے رو سے ان کے حدود کو بھی جانتی ہے کہ ہم نے کس حد میں بات کرنی ہے، تو اس حوالے سے الحمدللہ قوم کی جس طرح ہم رہنمائی کر رہے ہیں اس میں ہمیں پذیرائی مل رہی ہے اور عوام کے طرف سے ایک بڑا اچھا مثبت ردعمل آرہا ہے۔

صحافی: مولانا صاحب اپنا پی ٹی آئی کے حکومت میں جب وزیراعظم عمران خان تھے تو مہنگائی تھی، پیٹرول کی بھی قیمتیں بڑھ رہی تھی تو مختلف جو اپوزیشن تھیں وہ احتجاج بھی کر رہے تھے، ہر چیز ہو رہی تھی۔ لیکن اب جو دیکھا جائے پیٹرول کی ہر روز کے بنیاد پہ قیمتیں بڑھ رہی ہے، مہنگائی اتنی ہے کہ جو غریب طبقہ ہے وہ دو وقت کی روٹی تک نہیں کھا سکتا، ملک معاشی اتنے مسائل کا شکار ہے، یہ آخر پاکستان کے مسائل کیسے حل ہوں گے؟
مولانا صاحب: یہ آپ کا بہت اہم سوال ہے اور اگر کوئی سیاستدان امن و امان کو نظر انداز کرے، معاشی صورتحال کو نظر انداز کرے تو ظاہر ہے کہ میری نظر میں وہ ایک سیاسی کھوتا ہی ہوگی، اسی لیے جب ہم نے جائنٹ اپوزیشن کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں سے کہا وہ بھی میرے گھر آئے، میں بھی ان کے ہاں لیڈر آف اپوزیشن کے چیمبر میں گیا، بات چیت ہوئی، تو ہم نے یہی تجویز دی کہ آپ ملک کی مسائل کو ایڈریس کریں، آپ ملک میں امن و امان کو ایڈریس کریں، انسانی حقوق کو ایڈریس کریں، آپ مہنگائی کو ایڈریس کریں، معیشت کو ایڈریس کریں اور اگر یہ صوبوں کی باتیں چل رہی ہیں اس پر ہمیں ایک واضح رائے بنانے چاہیے، تمام سیاسی قیدیوں کے ہمیں بات کرنے چاہیے کہ جو جیلوں میں ہیں ان کو کیوں جیلوں میں رکھا گیا ہے، کشمیر میں جو اس وقت ایک اضطراب ہے اس کو ہمیں ایڈریس کرنا چاہیے۔ تو ملک کو جو درپیش چیلنجز ہیں جب تک سیاسی پارٹیاں ان کو ایڈریس نہیں کرے گی تو یہ پھر سیاست کا حق ادا نہیں کر سکتی، تو الحمدللہ اس حوالے سے جو ترجیحات ہم نے متعین کی، جائنٹ اپوزیشن کے سامنے پیش کی ہے وہ انہوں نے تسلیم کی ہے اور قبول کر لی ہے، اسی پیٹرن پہ ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔

صحافی: سر دو ہزار چوبیس کے انتخابات کو آپ نہیں مانتے، آپ کہتے ہیں کہ دوبارہ الیکشن ہو اور اسی طرح جس طرح سیٹ اپ چل رہا ہے اس میں دوبارہ انتخابات ہوتے ہیں یا ائندہ عام انتخابات ہوتے ہیں تو آپ سمجھتے ہیں کہ وہ امپارشل ہوں گے، آزادانہ ہوں گے؟
مولانا صاحب: دیکھیے! بات یہ ہے جی کہ ہمارا تو مطالبہ بہرحال یہی ہوگا کہ کوئی ادارہ اس میں مداخلت نہ کرے، عوام کی جو بھی مرضی ہو اس کے مطابق نتائج کو تسلیم کیا جائے، انہی کو حکومت کرنے کا حق دیا جائے، تو ایک صحیح موقف لے کر ہم میدان میں آئے ہیں اب اس میں عوام کی جتنی جتنی طاقت شامل ہوگی اتنا ہی اس موقف میں طاقت آئے گی اور پھر یہ ہے کہ کبھی ہمیں ایک حالت سے دوسرے حالت کی طرف جانا ہوتا ہے جو ایک عبوری دور ہوتا ہے اس میں ہم ایک حالت سے دوسرے حالت کی طرف کیسے جاتے ہیں، تمام خرابیوں کے بعد ایک اچھائی کی طرف سفر کیسے شروع کرتے ہیں، اس کے لئے کبھی معروضی اقدامات بھی آپ کو کرنے ہوتے ہیں، جو بظاہر آپ کو کچھ سوالات آپ کے ذہن میں آئیں گے کہ بھئی یہ تو فلاں مسئلہ ہے، فلاں، لیکن ایک سفر ہوتا ہے، جمہوریت میں یک دم کوئی انقلابی قدم نہیں اٹھایا جاتا، جمہوریت میں اصلاحات اور تدریجی اصلاحات کا تصور ہوتا ہے اور اس حوالے سے ہم نے آگے اقدامات کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

صحافی: مولانا صاحب میرا سوال یہ ہے کہ آپ سینیئر سیاستدان ہیں، پارلیمنٹیرین ہے، تو ابھی تک جو پاکستان میں ہر پارٹی کو شکایت ہوتی ہے کہ پارلیمنٹ کا جو اثر ہے وہ نہیں ہو رہا، وہ نظر نہیں آ رہا ہے وہ جو پازیٹیو جو تبدیلی ہے ملک میں وہ نہیں نظر آ رہا ہے، عمران خان نے بھی تبدیلی کی بات کی، لیکن تبدیلی آئی نہیں، نظر نہیں آئی، تو آپ تو سینیئر سیاستدان ہیں، سب پارٹیوں سے آپ کے تعلقات بھی اچھے ہیں، تو آپ کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟
مولانا صاحب: دیکھیے! یہ وہی سوال ہے جو میں کرتا ہوں کہ ہمارے ہی سیاستدانوں نے حالات سے سمجھوتا کیا اپنی اقتدار کے لیے، اور ہم نے ہی پارلیمنٹ کو کمزور کیا، ہمارے سیاستدانوں نے ہی جمہوریت کو کمزور کیا اور غیر جمہوری قوتوں کو، طاقتور اداروں کو موقع دیا کہ وہ پورے نظام کو اپنی گرفت میں لے لیں، تو اگر ہم کمپرومائز نہ کریں اور ہم سارے سیاستدان اسی ایک مؤقف پہ ڈٹے رہے، تو میں نہیں سمجھتا کہ ہم ترقی کی طرف نہیں جا سکیں گے، ہم بہتری کی طرف نہیں جا سکیں گے، جب تک آئین پر عمل داری نہیں ہوتی اور جب تک طے شدہ نظام پر عمل درآمد نہیں ہوتا اس وقت تک ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہم کمزوری کی طرف جائیں گے، ہم کوئی پیشرفت آگے ترقی کی طرف نہیں جا سکیں گے۔

صحافی: مولانا صاحب! ملک میں سیاسی جمہوری وہ تو ایک اپنی جگہ پر مسائل ہیں، امن و امان کی صورتحال آج بھی کرک میں ایک بم بلاسٹ ہوا ہے، ایک کانسٹیبل شہید اور چھ افراد زخمی تھے، اس کے علاوہ بلوچستان میں جس نوعیت کی بدامنی دیکھ رہے ہیں اس کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں اور اس کی ذمہ دار آپ کس کو سمجھتے ہیں؟
مولانا صاحب: دیکھیے! یہ تو ہمارا موضوع ہے اور میں ایک لمبے زمانے سے پارلیمنٹ کے اندر بھی، باہر بھی، بڑے جلسوں میں بھی، سیمیناروں میں بھی، یہی سوال اٹھا رہا ہوں کہ ہر فرد کو ہر شہری کو سب سے پہلے امن چاہیے تاکہ اس کے اپنے انسانی حقوق محفوظ ہوں، وہ امن و امان کے ماحول میں کاروبار کر سکے، وہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے، وہ اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر سکے، یہ شہری کا حق ہے اور یہاں جو بدامنی ہے خیبر پختونخوا میں ہے یا بلوچستان میں ہے اس نے وہاں کے عوام کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے اور لوگ نہ گھر سے باہر نکل سکتے ہیں نہ بچوں کو سکول بھیج سکتے ہیں نہ اپنی زمین میں کوئی محنت کر سکتے ہیں نہ اپنی دکان چلا سکتے ہیں نہ کاروبار اور مزدوری کر سکتے ہیں تو پھر ان کو اپنی علاقے چھوڑنے پڑ رہے ہیں اور شہری آبادیوں کے طرف بہت بڑی آبادی منتقل ہوئی ہے اور نقل مکانی کرکے لوگ زندگی گزار رہے ہیں، تو یہ ایک بہت بڑی مشکل ہے اور یہ بہت بڑا چیلنج ہے اس کو جذبات کے بجائے ذرا عقل و دانش کے ساتھ اور پورے سیاسی تمام فریقوں کے مشاورت کے ساتھ ہمیں اس معاملے کو حل کرنا ہے، صرف ایک قوت جو ہے وہ شائد اس مسئلے کا حل نہ ڈھونڈ سکے، محض طاقت بھی مسئلے کا حل نہیں ہے اور جس طرح چند روز پہلے ہمارے لکی مروت کی پولیس تھی تو اس پولیس کو راضی کیا گیا انہوں نے دوبارہ وردیاں پہن لی، انہوں نے دوبارہ چین آف کمانڈ کو تسلیم کر لیا اور اپنے باس کو انہوں نے باس تسلیم کیا، ان کے احکامات کو تسلیم کرنے کے بعد دستخط کر دیے، لیکن دستخط کرنے کے اگلے روز سب کو دور دور اضلاع میں بھیجا گیا۔

صحافی: سر اس معاملے جو آپ بتا رہے ہیں اس معاملے کا کون ذمہ دار ہیں اور کیا ہونا چاہیے؟
مولانا صاحب: حضرت اس کے ذمہ دار، یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بہت سے فریق ہیں، پارلیمنٹ بھی ہے، سیاسی جماعتی بھی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ بھی ہے، بیوروکریسی بھی ہے، یہ سب مختلف شعبے ہیں جو ہمارے ملک میں کام کرتے ہیں لیکن یہاں پر جب تک ایک طاقتور ادارہ وہ تسلیم نہ کرے کہ ایک دماغ سے کام نہیں چلتا جب تک کہ ہم نے عوام کے اندر کے لوگوں سے مشورہ نہیں کرنا، وہاں کی صورتحال ان سے معلوم نہیں کرنی، تب تک ہم مسئلہ کو شائد حل نہ کرسکے۔

صحافی: مولانا صاحب یہ کراچی میں ایم کیو ایم والے بول رہے ہیں کہ اگر نئی صوبہ نہیں بنا تو ہم ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے، تو اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
مولانا صاحب: میرے خیال میں ان چیزوں تک نہیں جانا چاہیے، سیاسی لوگوں کا لب و لہجہ نہیں ہے، ہم ہر چیز کو زمینی حقائق کی بنیاد پر دیکھیں اور ڈائلاگ کی طرف جائیں، گفتگو کریں اپنا موقف سمجھائیں یا سمجھیں، اس کا ماحول ہونا چاہیے۔

صحافی: سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود عمران خان کو شفاہ انٹرنیشنل ہاسپٹل میں علاج کی اجازت نہیں دی گئی، سرکاری ہاسپٹل میں لے کر گیا اور پھر جو ہے اڈیالہ جیل لے کر گئے، اس پر آپ کیا کہیں گے؟
مولانا صاحب: میرے خیال میں اس حوالے سے سپریم کورٹ کو رجوع کیا گیا ہے اور اب سپریم کورٹ ہی اس پر فیصلہ کر رہی ہے کہ ہمارے حکم کی خلافت ورزی ہوئی ہے، حکم عدولی ہوئی ہے یا نہیں ہوئی۔

صحافی: سر! عمران خان کی رہائی کے حوالے سے پی ٹی آئی سرگرم عمل ہے اور سندھ میں کچھ دن بعد وزیراعلی کے پی آرہے ہیں اور یہاں پر عوامی مہم چلانا چاہتے ہیں، کیا آپ اس میں ان کا ساتھ دیں گے یا اس حوالے سے انہوں نے آپ سے کوئی رابطہ کیا ہے؟
مولانا صاحب: دیکھیے! بنیادی بات یہ ہے کہ ہم کسی سیاسی آدمی کو جیل میں رکھنے کے حامی نہیں ہیں، نہ کسی پولیٹیکل ورکر کو ہم جیل میں رکھنے کے حامی ہیں، اس طرح میں آپ کے سامنے بیٹھا ہوں اور باتیں کر سکتا ہوں، ہر سیاستدان کو قوم کے سامنے بات کرنے کا حق حاصل ہے، تو میں تو بار بار اس کا اعادہ کر چکا ہوں کہ میرا شدید مخالف بھی کیوں نہ ہو وہ بھی میری طرح آزاد گفتگو کرے، ڈیبیٹ کرے، ہم ایک دوسرے سے بات کریں، گالم گلوج کی سیاست نہ کریں، کردار کشی کی سیاست نہ کریں، بلکہ ہم علیٰ الوجہ بصیرت گفتگو کریں اور اگر اختلاف رائے ہیں تو اختلاف رائے کوئی بری چیز نہیں ہے جمہوری ماحول میں اختلاف رائے بھی ہوتا ہے، بات کو سنا بھی جاتا ہے، سمجھا بھی جاتا ہے اور اگر مجھے تسلیم ہو جائے کہ میری بات غلط ہے تو مجھے صحیح بات کو تسلیم کر لینا چاہیے۔

صحافی: مولانا صاحب! ایک چرچا چل رہا ہے سوشل میڈیا پر بلاول بھٹو کی شادی ہو رہی ہے، زرداری صاحب باہر گیا ہوا ہے، آپ کے قریبی دوست بھی ہیں آپ کو کیا معلومات ہے اس حوالے سے؟
مولانا صاحب: شادی آپ کی بھی ہوئی ہوگی ان شاءاللہ مجھے یقین ہے، شادی میری بھی ہوئی ہے، میرے ادھر ادھر بیٹھے ہیں ان کی بھی شادی ہوئی ہیں یہ کون سی ایسی اچھنبے کی بات ہے جس کو ہم مجلس میں زیر بحث لائیں۔

صحافی: محسن نقوی صاحب نے جو سٹیٹمنٹ دیا ہے کہ یہ جو نظام ہے یہ تباہ ہوچکا ہے اور نئے نظام بنانے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
مولانا صاحب: اب یہ تو بتائیں کہ انہوں نے کس پر یہ الزام لگایا ہے؟ کس کے ہاتھوں تباہ ہو چکا ہے؟ تباہی کی باتیں تو ہم بھی کر رہے ہیں لیکن میں نے آپ سے کہا کہ جمہوری ماحول میں اصلاحات کی سیاست کی جاتی ہے، انقلابات کی سیاست نہیں کی جاتی، ہم نے ایک نظام ملک میں بنایا ہے اور اس کے اندر اصلاح چاہتے ہیں، ہم نے اگر ترامیم دی ہے تو آئین کے مطابق قانون سازی کے لیے دی ہے، یہاں نہ آئین کے مطابق قانون سازی ہو رہی ہے بلکہ ابھی جو قانون سازی ہوئی ہے اس پر تحفظات ہیں۔ تو اس قسم کی چیزیں جب آئین کے خلاف ہوں گی تو پھر قوم میں تو اختلاف آئے گا، ہمیں قوم کو یکجا کرنے والی اقدامات کرنی چاہیے، ریاست ماں ہے اور ماں بچوں کو اکھٹا کرتی ہے، اکھٹا دیکھ کر خوش ہوتی ہے، آباد محسوس کرتی ہے، نہ کے ان کو تقسیم کرکے اور لڑا کے وہ اچھی زندگی گزار سکے گی۔

صحافی: مولانا صاحب! ابھی پمز میں جو واقعہ ہوا چودہ بچوں کا، لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وفاقی وزیر استعفیٰ دے،اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟
مولانا صاحب: ہمارے ہاں استعفوں کا کوئی خاص رواج نہیں ہے لیکن اگر انہوں نے استعفیٰ دیا تو یہ ایک اخلاقی قدم ہوگا، ہاں البتہ یہ ہے کہ وہ کس حد تک ذمہ دار ہے اور اس میں بچوں کی اس طرح کی اموات بہت دل روتا ہے اس کے اوپر، اور انتہائی ہر شخص رنجیدہ ہے کہ نومولود بچوں کے ساتھ اس طرح کا عدم تحفظ، جب کہ یہ ایک مستقل شعبہ ہے وہاں نومولود بچوں کے لیے، مستقل نظام موجود ہے اس کے باوجود وہاں آتشزدگی کیوں ہوئی؟ اور ہوئی تو بجھایا کیوں نہیں جاسکا؟ اور اتنے زیادہ بچوں کی اموات کیوں کر وہاں ہوئی، واقعی ایک کرب کا واقعہ ہے جس سے ہمیں سبق بھی لینا چاہیے اور آئندہ کے لیے ٹھوس اقدامات ہمیں کرنے چاہیے۔

صحافی: مولانا صاحب! عموماً اس طرح ہوتا ہے کہ عوام کو اس صوبوں کی جنگ میں لگا کے پھر کوئی نیا اقدام اٹھانے جا رہے ہو یا کوئی آئینی ترمیم آنے کا اندیشہ ہو، عموماً قوم کو کسی اور ایشو میں لگا کے کچھ اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے کام کیا جاتا ہے۔
مولانا صاحب: لگتا ہے میری دل کی بات کر رہے ہو۔
بڑی مہربانی جی

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
‎#teamJUIswat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اگلی خبر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا ڈاکٹر عبد القیوم... پچھلی خبر مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا سکھر میں...