قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا ڈاکٹر عبد القیوم سومرو کی رہائشگاہ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو
1 ستمبر 2026
علامہ راشد سومرو : جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مرکزی امیر حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب پانچ روزہ دورہ سندھ پر تشریف لائے۔ کراچی، سکھر، لاڑکانہ اور ایک مرتبہ پھر سکھر میں یہاں موجود ہیں جہاں جمعیۃ علماء اسلام کی جنرل کاؤنسل اور صوبائی مجلس عاملہ کی اجلاس میں انہوں نے شرکت کی بہت اہم فیصلے کیے گئے۔ ملکی، علاقائی، عالمی سیاسی صورتحال پر غور و خوض کیا گیا۔ 19، 20 اور 21 مارچ 2027 کو سکھر میں امن عالم اجتماع کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور نئے بننے والے انتظامی یونٹس یا صوبوں کو جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سندھ نے یکسر سے مسترد کیا ہے اور ملک کے اندر صاف شفاف انتخابات اور دیگر معاملات، امن و امان کے لیے مولانا فضل الرحمان صاحب کی قیادت میں بھرپور تحریک چلانے کا عزم بھی کیا ہے۔
آپ یہاں تشریف لائیں آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور بغیر کسی تمہید کے سوال و جواب کا نشست شروع کرتے ہیں آپ کے سوالات اور مولانا صاحب کے جوابات ہوں گے بسم اللہ کرے جی
صحافی: ماضی میں آپ جمہوری حکومتوں کا حصہ رہے ہیں، اب آپ نے اختلاف میں جو ہے وہ آواز بلند کی ہے، موجودہ دور کو ماضی کے تناظر میں کس طرح دیکھ رہے ہیں کہ حکومت اور ملک پاکستان کس طرح جا رہا ہے؟
مولانا صاحب: دیکھیے! موجودہ اور کل اور پھر اس کے بعد آنے والا کل اس پر تو باتیں کر کرکے ہم تھک چکے ہیں، میرے خیال میں ہمیں بنیادی طور پر دیکھنا چاہیے کہ آسی سال ہمارے ملک کے ہو رہے ہیں، ہم امن و امان کے حوالے سے بھی ابتر حالات کی طرف جارہے ہیں، اور ہم معاشی طور پر بھی ابتر حالات کی طرف جارہے ہیں، آسی سال میں ہم پاکستانی کو ایک پاکستانی قوم نہیں بنا سکے، یہاں پر تعصبات چاہے لسانی ہو، چاہے قومی ہو، چاہے علاقائی ہو، چاہے صوبائی ہو، چاہے فرقہ وارانہ ہو، یہی ہمیں اس ملک میں ابھی تک دیا ہے، کس کی وجہ سے، یہ جو قوت ہم پر حکومتیں کرتے رہی ہیں ان کی پالیسیوں کے تسلسل کی وجہ سے، یہ باہم تو اقتدار کی لڑائی لڑتے ہیں لیکن جو بنیادی پالیسیاں ہیں وہ یکساں چل رہی ہوتی ہیں، اب ہمیں خود ذرا سوچنا چاہیے اپنے حالات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ ہندوستان جب ہم ایک ہی دن میں آزاد ہوئے اور وہ ہندوستان آج دنیا کی چوتھی معیشت بن چکا ہے تو کیا ہم ان کے ساتھ اس حوالے سے کوئی موازنہ کر سکتے ہیں، اگر آج اس کے پاس چھ سے لے کر سات سو ارب ڈالر تک زرمبادلہ کے ذخائر ہیں تو ہمارے پاس کتنے ہیں ذرا اس کا موازنہ کر دینا چاہیے۔
تو یہ ساری چیزیں وہ ہیں کہ اس پر ہمیں دو ٹوک بات کرنی چاہیے، اگر ہم نے ترقی کرنی ہے تو ہمیں ملک کے اندر ہم آہنگی کرنی چاہیے، ہمیں بھائی چارے کا ماحول پیدا کرنا چاہیے، ہمیں نفرتوں کی سیاست ختم کرنی چاہیے اور پھر جب ہمارے الیکشنز کبھی تو ہوتا تھا کہ کئی دبیز پردوں کے پیچھے، چھپ کر کسی نے کوئی کاروائی ڈالی ہو اور قوم کو ادراک نہ ہو سکے اس کا، لیکن اب تو ننگے ہاتھ ہوتے ہیں بالکل ننگے، میز کے اوپر آپ سے جبر کرتے ہیں، زیادتی کرتے ہیں اور الیکشنوں میں دھاندلیاں کر کے اپنے من کی حکومتیں بناتے ہیں، تو پھر اس طریقے سے تو ملک نہیں چلے گا اور نہ اس پر قوم اعتماد کرے گی، چلو میں اپنے مفاد کو قربان کر دوں گا، مجھے سیٹیں کم ملی ہے، زیادہ ملی ہے، مجھے حق دیا، نہیں دیا گیا، مارا گیا، جو بھی، اپنے حق کو بھی اگر میں قربان کر دوں تب بھی کیا جن کو جعلی اکثریتیں دی گئی ہیں ان پر عوام اعتماد کر رہی ہیں اور جب عوام سپورٹ نہ کریں تو آپ کوئی مسئلہ حل نہیں کر سکتے، خطے میں آپ تنہا ہو جاتے ہیں اور تجارت آپ کے ہر طرف سے بند ہو جاتی ہے، معیشت پر قدغنیں لگ جاتی ہیں، لوگ ہر وقت اضطراب میں رہتے ہیں کہ خدا جانے میرا کل کیسے ہوگا؟ کوئی دن تو آنا چاہیے جب ایک قوم سوچ سکے کہ میں صدیوں تک مطمئن ہوں اور مجھے کوئی مشکلات پیش نہیں آنے والی، لیکن ہم تو آئے روز کے لئے خوف محسوس کرتے ہیں، یہ ہماری مشکلات ہیں۔
صحافی: مولانا صاحب یہ اٹھائیس ویں آئینی ترامیم آرہی ہے اور جے یو آئی کہاں سٹینڈ کرے گی، کیوں کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کو آپ نے سپورٹ کیا تھا۔
مولانا صاحب: چھبیسویں آئینی ترمیم کو ہم نے سپورٹ نہیں کیا تھا، اس میں آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر چھپن آرٹیکلز تھے تو ہم نے کوئی پینتیس آرٹیکلز سے ان کو دست بردار کرایا اور بیس اکیس آرٹیکلز پر آ کر وہ رک گئے، تو اس پر تو پھر اپوزیشن کا بھی اعتراض نہیں تھا، پی ٹی آئی کا بھی مزید اعتراض نہیں رہا، ہاں ہم نے اپنے پانچ ترامیم اس میں ڈالے ہیں جس میں سود کا خاتمہ ہے یکم جنوری 2028 سے، جس میں وفاقی شرعی عدالت کو با اختیار بنانا ہے اور جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات کو ڈیبیٹ کے لئے پیش کرنا ہے۔
تو یہ کچھ چیزیں جو جمعیۃ علماء اسلام نے اپنے ایجنڈے کے تحت اور اپنے منشور کے تحت آئین میں ڈلوائے اس میں ہمیں کامیابی ملی ہے، لیکن ستائیسویں ترمیم میں، چھپیسویں ترمیم کے اندر جو کچھ انہوں نے چھوڑا تھا اسے دوبارہ جو ہے وہ، تو یہ چیزیں نہیں ہونی چاہیے کہ آج آپ ایک فورم پر اور ایک ہی فورم ہے ایک ہی پارلیمنٹ ہے اس پر ایک بات تسلیم کر رہے ہیں اور جو ہی دو دن نکلتے ہیں پھر آپ اس کو آپ صاف چاٹ لیتے ہیں، تو یہ رویہ جو ہے یہ ملک کے اندر عدم اعتماد کا ماحول پیدا کرتی ہے، کس پر اعتماد کیا جائے؟ کل وہ کیا کریں گے ہمارے ساتھ؟ اور کس طرح کا ان کا رویہ ہوگا۔
صحافی: موجودہ جو حالات ہیں وہ صدارتی نظام کی طرف جا رہے ہیں، تو ایسے ماحول میں آپ پیپلز پارٹی کو اپوزیشن میں دیکھ رہے ہیں یا پی ٹی آئی کو حکومت میں؟
مولانا صاحب: ابھی تک کوئی ایسی سنجیدہ تجویز نہیں آئی، لیکن پاکستان کی تاریخ میں صدارتی طرز حکومت ناکام ہو چکا ہے اور ہر مارشل لاء میں صدارتی طرز حکومت رہا ہے، تو چاہے وہ جزوی مارشل لاء تھا سکندر مرزا کا وہاں بھی صدارتی نظام تھا، ایوب خان کے گیارہ سال یا دس سال گزرے وہ بھی صدارتی نظام تھا، جنرل ضیاء الحق صاحب کے گیارہ سال گزرے وہ بھی صدارتی نظام تھا، جنرل مشرف کا دور گزرا وہ بھی صدارتی نظام تھا، تو یہ آمریت کی علامت بن چکا ہے یہ نظام اور اگر ہم نے پبلک کو دیکھنا ہے اور کوئی اس کو ایک جمہوری تعارف اس کو دینا ہے تو وہ صرف پارلیمانی طرز حکومت کی صورت میں ہمارے اکابرین نے طے کیا ہے۔
صحافی: مولانا صاحب یہ بتائیے کہ کے یو آئی صوبے کے معاملے میں کہاں کھڑی ہے، سندھ کے لوگ سندھ سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ وہ دھرتی کو ماں سمجھتے ہیں وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ سندھ کو ہے وہ دو ٹکڑے ہو، جے یو آئی کا کلئیر سٹینڈ صوبوں کے بارے میں کیا ہے؟ اس میں تھوڑا مولانا صاحب ایڈ کروں گا کہ ایسا ماحول پیدا کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں نئے صوبوں کا ایک شوشہ چھوڑا گیا ہے، یہ پارلیمنٹ نے، وزیراعظم ہاؤس نے، یا کسی نے اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، تو یہ شوشہ جو چھوڑا گیا ہے اس کی کیا وجوہات ہے؟
مولانا صاحب: آپ نے خود جب اس کو شوشہ کہہ دیا ہے تو بس یہ شوشہ ہی ہے۔
صحافی: مولانا صاحب کہا جا رہا ہے کہ یہ سسٹم کولیپس کر گیا ہے، تو یہ کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے، کوئی نہ کوئی لولی پوپ دیا جاتا ہے کہ ہم ایک نیا فارمولا لے کر آئیں ہیں، اس طرح کریں، اس طرح کر دیں، تو سسٹم صحیح کیوں نہیں کیا جا رہا ہے، لا قانونیت کیوں ہے، کرپشن کیوں ہے، سسٹم کب صحیح ہوگا؟
مولانا صاحب: تب صحیح ہوگا جب عوام کے حقیقی نمائندے آئیں گے، جس کو عوام کی تائید حاصل ہوگی، جس کو عوام کا اعتماد حاصل ہوگا، جہاں پبلک کو یقین ہے کہ یہ میرے نمائندے نہیں ہیں، یہ حکومت میری نمائندہ نہیں ہے، تو عوام کے اعتماد اور تائید کے بغیر حکومتیں مسائل حل نہیں کر سکتی۔
صحافی: مولانا صاحب! پمز سانحے میں منسٹر سے استعفیٰ مانگی جا رہی ہے مصطفیٰ کمال صاحب سے، آپ کیا کہتے ہیں؟
مولانا صاحب: دیکھیے! وقوعہ تو بہت افسوسناک ہوا ہے اور مطالبہ کون کر رہا ہے، ہمیں تو یہ بھی اطلاع دی جا رہی ہے کہ انہوں نے استعفیٰ دیا ہے لیکن منظور نہیں کیا جا رہا، بہرحال جو بھی ہے ایک منسٹر جب اس حوالے سے ذمہ داری محسوس کرتا ہے لیکن یہ بھی دیکھنا ہے کہ جو اسپتال کی اپنی انتظامیہ ہے، اس کا جو اپنا نظام ہے، اس میں ان بچوں کو تحفظ کیوں نہیں دیا جا سکتا، اس کو سیاسی مسئلہ بنانے کے لئے تو ہم منسٹر اور پارٹی کا نام لے لیں گے لیکن جن کی وہاں پر مقامی ذمہ داریاں ہیں وہ اپنی ذمہ داریوں سے کیوں غافل رہے ہیں، ان کا تذکرہ اس لیے نہیں کیا جائے گا کہ وہ خبر نہیں بنے گی، یہ چیز نہیں ہونی چاہیے۔
صحافی: مولانا صاحب! وزیر داخلہ کی کارکردگی آپ کیسے دیکھتے ہیں، بہت مہربان رہی ہے ان پر حکومت، کبھی ان کو گورنر بنایا جاتا ہے، کبھی نگران وزیراعلی پنجاب بنایا جاتا ہے، وزیر داخلہ وہ ہیں ان کی کارکردگی آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
مولانا صاحب: چھوڑئیے کارکردگی کو، آپ نے اس ملک میں محمود قریشی کو وزیراعظم بنتے نہیں دیکھا، آپ نے اس ملک پر شوکت عزیز کی حکومت نہیں دیکھی جہاں وہ عوام کے دو قومی اسمبلیوں سے بیک وقت جیت گیا تھا اور پھر آپ کا حکمران رہا، تو پاکستان میں حضرت اصل حکومت جن کی ہے وہ جس ایرے غیرے کو لا کر آپ کے سر پر مسلط کر دے آپ کو قبول کرنا ہوگا اور آپ نے پھر شخص پر بحث کرنی ہوگی، یہ ملک کے اتنے اعلیٰ منصب کی بے توقیریاں آج نہیں ہو رہی مسلسل پاکستان کی تاریخ میں ہوئی ہے۔
صحافی: ۔۔۔۔۔
مولانا صاحب! یہ جو آسی سال سے سسٹم چل رہا ہے کیا یہ ایسا چلتا رہے گا یا آگے کے لیے ملک کے لیے بھی سوچا جائے گا؟
مولانا صاحب: دیکھیے! ہماری پارٹی اس بات کی ذمہ داری محسوس کرتی ہے کہ ہمیں اس سسٹم کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، ہم کھلونا نہیں بننا چاہتے کہ ہم باتیں اچھی کریں کل ہمیں کہیں کہ آپ ذمہ داری سنبھالیں اور پھر اس کے بعد ہمارے پر کاٹنے لگ جائیں یہ سیاست نہیں چلے گی، ہم چاہتے ہیں کہ سب ایک رخ پہ ہم چلیں، پورا ملک، عوام، ادارے، اسٹیبلیشمنٹ، بیوروکریسی ہر قسم کے ادارے جو ہیں وہ ایک ہی رخ پہ چلیں اور اس میں ایک قوم ہم نظر آئے ہیں، ہم ایک قوم نظر نہیں آ رہے ہیں جس کے وجہ سے مشکلات آ رہی ہیں۔
صحافی: مولانا صاحب پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا جو معاہدہ ہو گیا ہے، اس کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
مولانا صاحب: دیکھیے! جمعیۃ علماء اسلام کا منشور ہے کہ ایک اسلامی بلاک ہونا چاہیے، اسلامی دنیا ایک اتحاد بنے کیونکہ ریجنل اتحاد ہوتے رہتے ہیں جیسے سارک ہے، آسیان ہے، عرب لیگ ہے، یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں لیکن ایسا کوئی با اثر، مضبوط قسم کا معاہدہ موجود نہیں ہے۔ اگر سعودی عرب نے، ترکی نے، پاکستان نے اور اس کے بعد اگر باقی اسلامی دنیا کے مؤثر ممالک کچھ مؤثر اقدامات کے لئے اکٹھے ہو جائیں، بامعنی مقصد کے لئے اکٹھے ہو جائیں، تو ہمارا منشور ہے ہم اس کی حمایت کریں۔
صحافی: ۔۔۔۔۔
مولانا صاحب: ہم بات سچی کریں گے پھر انجام اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
صحافی: صوبوں کی تقسیم کے خواہشمند حضرات کو سکھر سے کیا پیغام دیں گے؟
مولانا صاحب: دیکھیے! اس پر میں اپنی رائے رکھتا ہوں، یہ جو آپ حضرات لکیر کھینچ لیتے ہیں کہ آپ اس کے خلاف ہیں یا موافق، جبکہ وہ ڈیبیٹ کا محتاج ہوتا ہے، مکالمے کا محتاج ہوتا ہے، یونٹیں پوری دنیا میں بنتی ہیں، انڈیا میں بنتی ہیں، ایران میں بنتی ہیں، پاکستان میں آسی سال ہو گئے ہم نے کوئی نیا یونٹ نہیں بنایا، اب کیا آج ان حالات میں یونٹس بنانا اس کے لئے ماحول ہے؟ کیا اس کے لئے تیاری ہے؟ میرے خیال میں نہ ماحول موجود ہے، نہ تیاری ہے اور اس قسم کے فیصلوں کا انجام بھی وہی ہوگا جو فاٹا انضمام کا ہوا۔
صحافی: مولانا صاحب! اپوزیشن کی جماعتیں جو ہیں کیا ان کی اتحاد صرف سیاسی مزاحمت تک رہے گا یا امن و امان یا موجودہ صورتحال ہے مہنگائی ہے ان تک بھی جائیں گے؟
مولانا صاحب: دیکھیے! اس وقت ہم صرف پارلیمنٹ کی حد تک پارلیمنٹ کے اندر ایک جائنٹ اپوزیشن کے طور پر منظم ہونا چاہتے ہیں اور اس میں ہم نے اپنی ترجیحات کا تعین کیا ہے۔ نمبر ایک امن و امان، نمبر دو ملکی معیشت، صوبوں کا معاملہ، قیدیوں کی رہائی اور کشمیر کی صورتحال، یہ پانچ پریاریٹیز جو ہیں اس کو ابھی تک ہم تائید کر چکے ہیں اور ان شاءاللہ انہی موضوعات پر ہم اپنا سیاسی کردار ادا کرتے رہیں گے۔
صحافی: سندھ میں پیپلز پارٹی بیس سالوں ہونے کو ہے حکمران جماعت اس وقت تک ہے، صوبوں کی حوالے سے اسی پیپلز پارٹی کے منشور میں پنجاب میں دیگر صوبوں بنانے سے متعلق ہیں، لیکن جب سندھ کی بات آتی ہے تو پھر وہ پیپلز پارٹی اپنی کارکردگی کو بھی لوگ یہ کہتے ہیں کہ چھپاتی ہے کیونکہ کوئی اچھے حالات تو سندھ میں بھی نہیں ہیں کہ عوام کو ان کے حقوق دئیں جائیں، جو عوام کے وسائل ہیں وہ عوام پر استعمال تو سندھ میں بھی نہیں ہوتے، تو کیا وہ اپنی کارکردگی کو لے کر اس صوبے کے نعرے کے پیچھے چھپنا چاہتی ہے؟
مولانا صاحب: نہیں بات یہ ہے کہ ایسی جو ایشوز ہوتے ہیں اس پر قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، یک دم ایک رائے آگئی اور آپ نے فوراً ایمپلیمنٹ کیا، تو وہ تباہی کا باعث بنتی ہے، آپ چھوڑ دیں کچھ چیزوں کو ڈیبیٹ کے لیے، وقت کے ساتھ حالات بنتے جائیں گے، تو اگر پیپلز پارٹی اور اس کی سیاست زیادہ تر صوبہ سندھ تک محدود ہو گئی ہے تو پھر آج ان کو دوبارہ غور کرنا پڑے گا کہ جو پارٹی ایک صوبے تک محدود ہے اس کو دوسرے صوبے کے بارے میں منشور دینا چاہیے یا نہیں دینا چاہیے، یہاں ان کو غور کرنا ہوگا۔
صحافی: مولانا صاحب! آپ نے ہمیشہ طاقتور حلقوں کے خلاف بات کی، سر آپ کی بات کا اثر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ہے؟
مولانا صاحب: یہ تو آپ ان سے پوچھتے۔
صحافی: مولانا صاحب! اس وقت ملک میں جمہوریت ہے یا مارشل لاء ہے؟
مولانا صاحب:
میں تو ہر طرح سے اسباب ہلاکت دیکھوں
اے وطن کاش تجھے اب کے سلامت دیکھوں
وہ جو بے ظرف تھے اب صاحبِ میخانہ ہوئے
اب بہ مشکل کوئی دستار سلامت دیکھوں
بہت شکریہ جی
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat
