قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا ساہیوال میں جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے زیر اہتمام ورکرز کنونشن سے خطاب
05 ستمبر 2026
الحمدللہ، الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ ومن بھدیھم اھتدی۔ أَمَّا بَعْدُ
صدر اجلاس، جمعیۃ علماء اسلام صوبہ پنجاب کے تمام ذمہ دار ساتھیوں، بزرگوں اور بھائیوں! آج ہم ایک ایسے وقت میں اس اجلاس کا انعقاد کر رہے ہیں جب ہر طرف سے حالات ناموافق ہیں لیکن جمعیۃ علماء اسلام کے کارکن پورے اخلاص کے ساتھ اور للہیت کے ساتھ شب و روز محنت میں مصروف ہیں اور یہی آپ کی تاریخ ہے، یہی اسلام کی تاریخ ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے زمانے سے لے کر آج تک کن کن حالات سے گزر کر اور کس طرح ہر زمانے کے کشمکش کو عبور کرتے ہوئے آج ہمارے اور آپ تک پہنچا ہے، اس برصغیر میں ہمارے اکابر نے جو تحریک اٹھائی انگریز حاکمیت کے خلاف، ایسٹ انڈیا کمپنی کی حاکمیت کے خلاف، اٹھارہ سو تین سے لے کر انیس سو سینتالیس تک یہ تمام عہد اور تمام دور آپ کے اکابر کی قربانیوں کا تھا، جس کے نتیجے میں ہمیں آزادی ملی۔
تو الحمدللہ ہم نظریاتی حوالے سے اور فکری حوالے سے بے نسب نہیں ہیں، اس جماعت کی بنیاد اخلاص پہ رکھی گئی ہے، یہ جماعت اصلُ التقویٰ کی مصداق ہے اور اسی اخلاص اور للہیت کا نتیجہ ہے کہ آج وہ جماعت بھی موجود ہے، وہ نظریہ بھی موجود ہے اور اس کے لئے کام کرنے کا منہج بھی موجود ہے، ہم نے نہ نظریہ بدلا ہے اور نہ ہی نظریہ کے لئے کام کرنے کا منہج تبدیل کیا ہے اور یہی دونوں چیزیں ہمارے پاس امانت ہیں۔ ہمیں اس پر بھی اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ جمعیۃ علماء اسلام کی آج کے دور کی مقبولیت اور ملک کے سیاسی محاذ پر اس کا عروج نہ تو استعماری قوتوں کی پشت پناہی کی وجہ سے ہے اور نہ ہی ملک کے اندر کسی مقتدرہ کی برکت سے ہے، یہ آپ حضرات کی مسلسل کاوشیں ہیں جنہوں نے اس جماعت کو اور اس کے نظریہ کو امانت سمجھا اور امانت سمجھ کر اس کی حفاظت کی اور آج اللہ تعالی نے آپ کو اس کا مقام عطا کیا ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت ایک جامع نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے، سیاسی جماعت نہ کسی وقتی مسئلے کی بنیاد پر اور نہ ہی کسی جزوی مسئلے کی بنیاد پر تشکیل دی جاتی ہے بلکہ وہ ملک کے لئے ایک جامع نظریہ کے ساتھ تشکیل پاتی ہے، اگر وہ جامع نظریہ قرآن و سنت پر مبنی ہے اور اسے اللہ تعالی کی دی ہوئی تعلیمات اور جناب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی سنت سے اخذ کیا گیا ہے تو پھر یہ جماعت، حق جماعت کہلاتی ہے اور اگر اس کے علاوہ اس کا نظریہ کسی اور مآخذ سے لیا گیا ہو اور اس میں قرآن و حدیث کی رہنمائی نہ ہو تو وہ جماعت باطل کہلاتی ہے، حق اور باطل دو متضاد اور متصادم چیزیں ہیں، لغوی اعتبار سے حق کسی چیز کے رہ جانے کا نام ہے، ہو جانے کا نام ہے اور باطل کسی چیز کی مٹ جانے کا نام ہے، تو جو نظریہ حق پر مبنی ہے اس جماعت کے ساتھ وابستہ ہونا واجب ہے علیکم بالجماعةَ، اب علماء کرام جانتے ہیں کہ یہاں علیکم کی تقدیم لزوم کا فائدہ دیتی ہے، تم پر لازم ہے اس جماعت سے وابستہ ہونا وَالْاِطَاعَةَ۔
تو نظریاتی حوالے سے آپ کو جماعت سے وابستہ ہونا اور پھر جب آپ جماعت سے وابستہ ہو گئے تو پھر اس کی اطاعت کرنا ہے اس کے تمام فیصلوں کی، اس کے منشور کی، اس کے دستور کی اور اس جماعت کے روزمرہ کی ہدایات کی مطابق اور اگر کوئی جماعت جامع نظریہ کی بنیاد پر باطل ہے تو اس سے لا تعلق ہونا واجب ہے اور اس کی مثال یوں ہے کہ جیسے ایک سر سبز و شاداب گھنے درخت ہو لیکن اس گھنے درخت کی کوئی ایک شاخ خشک ہو تو اس ایک شاخ کا خشک ہونا اس کے سائے میں بیٹھنے اور راحت لینے سے بے نیاز نہیں کرتا، مسافر مجبور ہے کہ وہاں سفر کے دوران اس گھنے درخت کے سائے میں کچھ وقت لے، ہرچند کہ اس کا کوئی ایک شاخ خشک بھی ہے تو حق جماعت کا اگر کبھی اجتہادی طور پر کوئی فیصلہ غلط آ جائے تو اجتہادی طور پر جزوی غلط فیصلہ آپ کو اجازت نہیں دیتی کہ آپ اس جماعت کو چھوڑ سکیں اور اگر درخت ایسا ہے کہ جھڑا ہوا ہے، پتے جھڑ چکے ہیں، کوئی ایک شاخ کہیں اس میں ہرا نظر آ رہا ہے کچھ پتے، تو کبھی بھی آپ اس درخت کی نیچے اس لیے نہیں بیٹھیں گے کہ اس کا ایک شاخ جو ہے بھی ہرا ہے تو میں اس کی نیچے بیٹھ جاؤں یہ غلطی کوئی نہیں کرے گا، تو اگر قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی نظریہ ہے تو وہ گھنا درخت ہے چاہے اس کا کوئی ایک شاخ کہیں جا کر خشک بھی ہو، کوئی فیصلے ہمارے کوئی غلط بھی ہو سکتے ہیں اجتہادی طور پر اور اگر عقیدہ ہی باطل ہے تو بھلا اس کا کوئی روزمرہ کے معاملات میں جزوی فیصلہ صحیح بھی ہو تو وہ کبھی بھی جواز فراہم نہیں کرتا کہ اس کی نیچے بیٹھا جائے۔
اس اعتبار سے جمعیۃ علماء قائم کی گئی کہ ہر انسان کو انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی اس میں شریعت کی رہنمائی چاہیے، اگر فرد کا کوئی انفرادی معاملہ ہے تو انفرادی معاملے میں کسی فرد عالم کی رائے تو حجت ہو سکتی ہے، کسی کو نماز کا مسئلہ درپیش ہو گیا، روزے کا درپیش ہو گیا، نکاح، میراث، طلاق کا، تو اپنے گاؤں کے مولوی صاحب کے پاس جاتا ہے، مدرسے کے مفتی کے پاس جاتا ہے، مولوی صاحب میرے ساتھ یہ واقعہ ہو گیا ہے، آپ میرے رہنمائی فرمائیں، کیا فرماتے ہیں علماء دین بیچ اس مسئلے کے، تو وہ عالم دین جو رہنمائی کر دیتا ہے، وہ مطمئن ہو جاتا ہے، ٹھیک ہے۔ لیکن مملکت کے معاملات، امت کے معاملات، ملت کے معاملات، ان کے قومی اجتماعی معاملات اس میں فرد عالم کی رائے حجت نہیں ہوتی۔
سو ضرورت ہے کہ علماء کی ایک جماعت ہو اور اس جماعت کا ایک شورائی نظام ہو اور جب کوئی مسئلہ سامنے آئے تو قرآن و سنت کی رو سے وہ ایک فیصلہ کرے اور وہ قوم کے سامنے رکھے۔
اس نظریے کی بنیاد پر جمعیۃ علماء قائم کی گئی، آج وہ منہج ہمارے سامنے ہیں چاہے جماعت کی صورت میں ہو، چاہے وفاق کی صورت میں ہو، چاہے دوسرے شعبوں میں ہو، سب ہمارے اپنے اکابرین کے منہج ہیں جو انہوں نے ہمیں عطا کیے، لیکن بہرحال یہ باتیں تو ہم اپنے گفتگو میں دہراتے رہتے ہیں لیکن چونکہ ہم مقام دعوت میں ہیں تو دعوت میں تکرار ہوتی ہے، اب اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے اس ملک کے اندر اس نظریے کو قابل عمل بنانا، اسے حکومتی نظام بنانا، اس کے لئے بھی ہمارے پاس اصول ہیں، ہم اس بات کے دعوے دار ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آخری پیغمبر تھے، آخری نبی تھے، نبی کا اطلاق، نبی کے اوپر براہ راست منطبق ہوتا ہے، اس لئے یہاں پر بھی خاتم النبیین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، لا نبی بعدی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تو رسول کا تعلق نبی کے ساتھ لازم ہے، کیونکہ رسول تو فرشتہ بھی ہوتا ہے إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ، حضرت جبریل بھی ہے۔
تو رسول اللہ ﷺ پر دین مکمل ہو گیا اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ دین کامل تعلیمات احکامات کے اعتبار سے ہے وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی اور میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اِتْمَامِ نِعْمَت اس کامل اور مکمل دین کی حاکمیت اور اقتدار کا نام ہے۔ تو جب دین کامل ہے اور اس نعمت کو ہم نے حقیقی جامہ پہنانا ہے تو اقتدار سے کم پر ہم راضی نہیں ہوں گے پھر، لیکن اقتدار بذات خود مقصود نہیں ہونا چاہیے، اقتدار چاہیے عدل و انصاف کے لئے، اقتدار چاہیے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے، اقتدار چاہیے ملک کے ہر باشندے کی جان مال اور عزت و آبرو کے حفاظت کے لئے اور اس کے لئے جو نظام اللہ نے عطا کیا ہے وہی اس کی ضمانت دے سکتا ہے۔
سو دوسری پارٹیاں، دوسری شخصیات ملک کے اندر جو سیاست کرتی ہیں ان کے اور اپنے درمیان امتیاز ملحوظ خاطر رہے، دین اسلام سے بڑھ کر انسانی حقوق کا محافظ کوئی نہیں ہے، ہاں باقی خواہشات کی پیروی ہے اور اسی مقصد کے لئے محنت اور جدوجہد کرنا یہی جہاد ہے، جہاد نام ہے اعلاں کلمت اللہ، اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لئے جو محنت اور جدوجہد ہے۔
سو ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں اس میں ہماری محنت کا ایک دائرہ کار موجود ہے، اس میں ہمارے اکابر نے ہمیں کام کرنے کا منہج بھی بتایا ہوا ہے، تو ہر زمانے میں نئے نئے نعرے تو لاتے ہیں، لگتے ہیں، بعض اوقات جذباتی نعرے قبولیت بھی اختیار کر لیتے ہیں لیکن اس میں دوام نہیں ہوتا، جس طرح علماء کہتے ہیں افضل الذکر مادی ما علیہ، سب سے اچھا ذکر وہ ہے جس پر دوام کیا جا سکے، ایسے ایسے وظیفے کہ دو چار دن کرو تو اکتا جاؤ اور پھر دم توڑ جائیں وہ وظیفے، تو ایسا آسان ذکر کیا کرو جس پر آپ کو کبھی اکتاہٹ نہ آئے اور اس پر تسلسل دوام برقرار رہے۔
تو اس اعتبار سے ہمارے اس وطن عزیز میں ہماری جدوجہد یہ بلکل پاکستان کے آئین اور قانون کے عین مطابق ہے، بھلا آج کوئی حکمران ہو لیکن ہم ببانگ دہل اس حکمران کو کہنا چاہتے ہیں کہ آپ نے جس آئین کا حلف اٹھایا ہے آپ خود اس آئین پر عمل نہیں کر رہے، تو پھر اس کو متنبہ کرنا تو ہماری ذمہ داری ہے، یہاں کوئی بادشاہت تو نہیں ہے، یہاں کوئی ڈکٹیٹرشپ تو نہیں ہے، اب مشکل اور اگئی جمہوریت پر فتوے لگنے شروع ہو گئے۔ اب یہ علماء کرام بہتر جانتے ہیں کہ مقصد اور ذریعے میں فرق ہے یا نہیں، تو اسلام مقصد ہے، جمہوریت ایک ذریعہ ہے۔ ہمارے ملک کے آئین میں ذریعے کو بھی پابند بنایا گیا ہے کہ وہ قرآن و سنت کے تابع ہوگا، بے ہنگم جمہوریت نہیں ہوگی، جس میں سوسائٹی کے خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہاں سوسائٹی کے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے، خواہشات کو نہیں، یہ باتیں میں اس لئے آپ سے کہہ رہا ہوں کہ میرے جو زندگی اس پارلیمنٹ میں گزری ہے تو اس ایوانوں میں، میں نے ایسے ایسے پارلمنٹیرین کو خود سنا ہے جو کہتے ہیں کہ قانون قرآن و سنت کے تابع نہیں ہونا چاہیے، وہ سوسائٹی کے خواہشات کے تابع ہونا چاہیے، یہ لوگ ہیں ملک کے اندر اور یہ جو آئے روز آپ دیکھتے ہیں کبھی خواتین کی صورت میں، کبھی جوانوں کی صورت میں اور جس جس طرح کے وہ مظاہرے کرتے ہیں اور جس جس طرح کے وہ مطالبات کرتے ہیں یہ سب ہمارے آئین و قانون کی خلاف ہے، ناموس رسالت کا قانون واپس لیا جائے تاکہ ہمیں آزادی ہو، ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے شان میں جو بھی زبان استعمال کرے ہمیں اجازت ہو، سو پاکستان میں آئین کے اندر اس پر قدغن لگی ہے، تو آپ کا مقابلہ ان عناصر کے ساتھ ہے، ان نظریات کے ساتھ ہے، اس کے لئے آپ کو کام کرنا ہوگا، اس کے لئے آپ کو بیداری پیدا کرنا ہوگی۔
چراغِ حق جلانا اب ہواوں میں ضروری ہے
چراغِ حق جلانا اب ہواوں میں ضروری ہے
سلگتے اس چمن کو پھر بچانا اب ضروری ہے
اور ہوائیں خوف کتنی ہی چلے پیچھے نہیں ہٹنا
گھروں سے سوئے لوگوں کو جگانا اب ضروری ہے
ہم تو کہتے رہے ہیں کہ اس ملک کو آسی سال میں عروج سے زوال کی طرف کون لایا ہے اور کون ذمہ دار ہے؟ پاکستان بنا کن امیدوں کے ساتھ؟ پاکستان میں تین طرح کے لوگ رہتے ہیں، کچھ لوگ کہتے ہیں اسلام کے لیے بنا تھا، کچھ لوگ کہتے ہیں معیشت کے لیے بنا تھا، کچھ لوگ کہتے ہیں جمہوریت کے لیے بنا تھا، آسی سال میں ان تین میں کوئی چیز نظر آ رہی ہے؟ اسلام کی بات کرنے والے وہ اسلام کے حوالے سے تشنگی محسوس کر رہے ہیں، معیشت کی بات کرنے والے وہ معاشی طور پر اپنی پسماندگی کا گلہ کر رہے ہیں اور جمہوریت والے بیچارے وہ تو ایسی گلی کوچے میں رول رہے ہیں کون ذمہ دار ہے اس کا، مقتدرہ ذمہ دار ہے، بیوروکریسی ذمہ دار ہے، جاگیردار ذمہ دار ہے، سرمایہ دار ذمہ دار ہے، صنعت کار ذمہ دار ہے، ان قوتوں نے میل ملاپ کے ساتھ قسم کھا رکھی ہے کہ اقتدار ہمارے قبضے میں ہوگا اور ہم کسی کو حکومت میں نہیں آنے دیں گے، مرضی چلے گی تو ہماری چلے گی، ہم کمائیں گے، ہم یہ کریں گے، وہ کریں گے اور ہم نے بھی طے کیا ہے کہ ہم آپ کو بھی اس طرح حکومت نہیں چلانے دیں گے۔
یہاں پر ہمیں عزم کی ضرورت ہے، ہمارے کتابوں میں اس کے لفظ حزم استعمال ہوا ہے مضبوط فیصلے، ٹھوس روئے، اضطراب نہیں، پراگندگی نہیں، ٹھوس بنیادوں پر ہمیں آگے بڑھنا ہوتا ہے، اب تو سرکار کے ایوانوں میں بھی کہا جا رہا ہے کہ ہاں ہم آسی سال کی کمزوریوں کا نشانہ ہیں، بابا کس کے ہاتھوں، تیری ہاتھوں، جو لوگ کہتے ہیں کہ نظام فیل ہو چکا ہے اور کسی ایک خاص زمانے کی بات نہیں کر رہا میں تو آسی سالہ تاریخ کی بات کر رہا ہوں تو ہم بھی آپ سے آسی سالہ تاریخ کی بات کر رہے ہیں لیکن یہ آسی سال کی تباہی تمہاری وجہ سے ہے کسی اور کی وجہ سے نہیں، قتل حسین بھی اور ہائے حسین بھی، یہ نہیں چلے گا، ملک کو تباہ کرنے کی تم نے ذمہ داری تسلیم کر لی ہے، اب چھپتے کس چیز کے پیچھے ہو، کہتے ہیں نظام تبدیل کرو، نظام کون سا جو آسی سال آپ کے قبضے میں رہا، اب مزید کوئی نیا طریقہ اپنے قبضے میں رکھنے کا، تو میں نے کہا ظالموں! انگریز کے زمانے کے پڑے ہوئے سبق اور وہی رویہ کم از کم وہ تو تبدیل کر لو، اپنے مخالفین کی خلاف رویوں میں کوئی تبدیلیاں تو لے آؤ، کسی دوسری دنیا میں بھی اس طرح ہوتا ہے تو طریقے تو تبدیل کر لو، ذرا معلوم تو کر لو کہ ہماری معیشت کہاں کھڑی ہے؟ ہمارا امن و آمان کہاں کھڑا ہے؟ ہمارے دو صوبے جل رہے ہیں، دیہاتوں میں عام آدمی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا، نہ وہ دکان پہ جا سکتا ہے، نہ بچوں کو سکول بھیج سکتا ہے، نہ کھیتوں میں جا سکتا ہے، نہ مزدوری کر سکتا ہے، دیہاتیں خالی ہو گئی ہیں، کہیں تو زندگی گزارنی ہے اور یہ کہتے ہیں ہم بیس پچیس سال سے آپریشن کر رہے ہیں، آپریشن پہ آپریشن، تو آپریشن پہ آپریشن، بھئی کس چیز کا آپریشن، جتنا آپریشن کرتے ہو، مرض بڑھتا گیا جو جو دوا کا، اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کی حکمتِ عملی میں ڈیفالٹ ہے، کہیں جھول ہے، کہیں کمزوری ہے، میری تنقید کو برا ماننے کی بجائے کہیں اپنی کمزوری بھی تو ٹٹولو ایک دن، اپنے لئے صرف یہ کہ میرے اقدار پر قبضہ کیسے رہے بس، چاہے قوم برتی رہے، ہم بھی مانتے ہیں ریاست اہم ہے لیکن ریاست عوام سے بنتی ہے عوام کے بغیر ریاست ایک خالی برتن ہے، خالی ڈھول ہے، کیا حیثیت ہے اس کی پھر؟ اور حکومت یہ لوگوں کے معاملات کا نظم، تدبیر، انتظام ہے۔
تو ریاست ہو، عوام ہو، حکومت ہو، ان تین چیزوں کے ساتھ ریاست مکمل ہو جاتی ہے، جہاں امن و امان نہیں ہیں وہاں معیشت کیا ہوگی؟ آج ہندوستان دنیا کی چوتھی معیشت بن گیا ہے اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سات سو ارب کے لگ بھگ پہنچ گئے ہیں اور ہمارے ہاں لوگوں سے خیرات مانگ کر کوئی دس گیارہ ارب ڈالر جمع ہو گئے ہوں گے، تو ہو گئے ہوں گے، کہاں دس گیارہ کہاں سات سو، اس طرح ملک چلائے جاتے ہیں؟ جمعیۃ علماء اسلام نے اپنے منشور میں لکھا ہے کہ ہم میٹرک تک تعلیم مفت کریں گے، میٹرک تک، دو ہزار دو میں ہمارے صوبے میں حکومت آئی اور ہم نے ایک سال کے بعد خود کو اس مقام پہ لے آئے کہ ہم نے پرائمری کی کتابیں مفت کر دی سرکاری اسکولوں میں، اگلے سال ہم نے مڈل کی تعلیم مفت کر دی، اگلے سال ہم نے میٹرک کی مفت کر دی، اب ہمارا منشور مکمل ہو گیا لیکن ایک سال ہمیں اور ملا تو ہم نے بی اے اور بی ایس سی کی کتابیں مفت کر دی اور پورے اسمبلی میں ہم نے بار بار کہا کہ پورے صوبے کے ہر علاقے کا یہاں ایم پی اے بیٹھا ہوا ہے اگر کسی کے حلقے کے دور دراز پہاڑ کی چوٹی پر بھی ایک سرکاری اسکول ہو اور اس میں رجسٹر ایک طالب علم اور اسے کتاب نہ ملی ہو ہمارے نوٹس میں لائے جائے، نہیں لائے جا سکتا، حزب مخالف بھی تھے وہ بھی نہیں لا سکے، پھر ہم نے صحت کی طرف توجہ دی ہم نے آغاز کیا ایمرجنسی مفت ہو گی، ہم نے آغاز کیا کہ ہر ضلع میں اے لیول ہاسپٹل ہوگا اور اس میں ہم کافی آگے بڑھے، اس کے بعد لوگ پیچھے آرہے ہیں آگے جا ہی نہیں رہے، تمام شعبوں میں خرابی ہے، نوکریاں رشوتوں کی بنیاد پر پیسے لے کر لوگوں کو روزگار دے رہے ہیں، پھر کہیں گے ہم نے تین لوگوں کو روزگار دیا ہوا ہے یہ کیا حکومت ہے؟
اس لئے میرے جمعیۃ کے ساتھیوں اپنے آپ کو اس قابل بناو کہ آپ اپنے عقیدے اور اپنے منشور پر دیانت کے ساتھ عمل کر سکیں کیونکہ دین اسلام ابتدا امانت اور دیانت سے کرتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ، جن و انس کو صرف اپنے عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور جب آپ کے اندر عبادت آئے گی تو امانت آئے گی، ایمان آئے گا، دیانت آئے گی، دین آئے گا۔ جب افراد یہ مقام حاصل کر لیں اس کے بعد پھر جائیں کہ وہ ملک کے نظام کو سنبھالیں، اقتدار کو سنبھالیں اور جب ایک حکومت عادلا قائم ہو جائے اس کے بعد پھر ہماری دفاع کی بھی ضرورت ہوگی وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ، آج کے زمانے میں ہم نے اس پر عمل کرنا ہے اس آیت پر، تو قوت میں عموم ہیں وہ عوام کی طرف، رِبَاطِ الْخَیْلِ میں خصوص ہے تو وہ خاص اداروں کی طرف عموم اور خصوص کی مغایرت کی وجہ سے عطف آئی ہے اور پھر یہ بھی بتا دیا کہ ایک ہے حصولِ قوت اور ایک ہے استعمالِ قوت، آپ کے ہاتھ میں بندوق آگئی تو اس کا یہ معنی نہیں کہ فوراً بس چلانے شروع کر دو، طاقت کا حصول دشمن کی اوپر رعب اور دبدبہ رکھنے کے لئے، ہمیں حق پہنچتا ہے کہ ہم پاکستان کو دفاعی لحاظ سے طاقتور بنائیں لیکن مشکل یہ ہے کہ نوآبادیاتی نظام تو ختم ہو چکا، لیکن عملاً برقرار ہے، براہ راست تو نوآبادیات ختم ہو گئی لیکن بلواسطہ نوآبادیات برقرار ہیں سیاسی لحاظ سے بھی، معاشی لحاظ سے بھی، دفاعی لحاظ سے بھی، آج بھی بین الاقوامی ادارے فیصلے کرتے ہیں، جنرل اسمبلی، اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، انسانی حقوق کنونشن، یہی فیصلے کرتے ہیں اور اگر انہوں نے عالمی سطح پر ایک قانون پاس کیا تو ہمارے ملک میں وہ مؤثر ہوگا ہمارا اپنا قانون غیر مؤثر ہو جائے گا، ہمارا آئین غیر مؤثر ہو جائے گا، اس کا معنی یہ ہے کہ سیاسی طور پر غلامی کے کچھ حصے ابھی باقی ہیں، اثرات باقی ہیں اس کی، شکل تبدیل ہو گئی ہے۔ معاشی طور پر ہم اپنے آپ کو ہزار آزاد کہیں لیکن ہم ورلڈ بینک کے، آئی ایم ایف کے، ایف ای ٹی ایف کے، ایشین بینک کے اور قرضہ دینے والے ممالک کے نظام سے وابستہ ہیں ہم ان کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے، ہم اپنے وسائل نہیں استعمال کر سکتے اور آج بھی اگر ہمارے پاس معدنیات ہیں، معدنی ذخائر ہیں، تیل کے ذخائر ہیں، گیس کے ذخائر ہیں یا سونے چاندی اور تانبے کے ہمارے پاس ذخائر ہیں تو ہم اس کے مالک نہیں ہیں، ہمارے سینڈک کا پروجیکٹ، جب سے پاکستان بنا ہے اس پر کام ہو رہا ہے ناکام اور چین بھی ہاتھ اٹھا رہا ہے اس سے، ریکوڈیک کہاں کھڑا ہے، اگر کہیں پر مائننگ ہو رہی ہے کون کر رہا ہے؟ اور کہاں لے جائے جا رہا ہے؟ اور کس طرح عوام کو لا تعلق کر دیا اس سے، ملکیت ہے ہماری، آج ساری باتیں ہو رہی ہیں صوبوں کو تقسیم کرو، مسائل کا حل یہ ہے کہ صوبوں کو تقسیم کرو، صوبہ تقسیم ہونا، ایک ہے اس کے اصولی حیثیت ایک یہ ہے کہ کیا عملی طور پر ہم اس پر عمل درآمد کے قابل ہیں یا نہیں، حالات ہمیں اجازت دیتے ہیں یا نہیں، ماحول اجازت دیتا ہے یا نہیں۔
تو دنیا میں صوبے بنتے ہیں، انڈیا میں بنتے ہیں، افغانستان میں بنتے ہیں، لیکن ہم نے 80 سال ایک نظام میں گزار دیے اب جو اس وقت آپ نے صوبوں صوبوں کی بات شروع کی تو مجھے پتہ ہے، تمہارے اندر کا حال میں جانتا ہوں جب صوبہ صوبہ ہو رہا تھا بہاولپور صوبہ، سرائیکی صوبہ، ہزارہ صوبہ، وغیرہ وغیرہ تو اس وقت تو آپ ہی مخالف تھے، آج کون سی نئی وحی آگئی تم پر؟ پندرہ صوبے، تیرہ صوبے، بیس صوبے، پچیس صوبے، کچھ پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے، تو یہی میں نے کہا کہ بھائی گھر میں آگ لگی ہوئی ہے ادھر کمروں میں آگ ہے، ادھر کمروں میں آگ ہے اور بھائی آپس میں بیٹھ کر کہتے ہیں آؤ ذرا گھر کی تقسیم کر لیں، کوئی عقل کی گل ہے، ایسے عقل والے ہمارے اوپر مسلط ہیں، سمجھ میں نہیں آرہی ہیں صوبے بنانے ہیں، اپنا ملک کو ٹھیک کرو پہلے اور میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کیوں ایسا ہو رہا ہے؟ معدنی ذخائر اب صوبوں کی ملکیت ہیں اٹھارویں ترمیم کے بعد، یہ ہضم نہیں ہو رہا ہے ان سے کہ صوبے کے غریب عوام کون ہوتا ہے اتنے بڑے ذخائر کے مالک بننا والا اور دوسرا ہے ملک کی مجموعی محصولات میں صوبوں کا حصہ، جس کے بارے میں آئین کہتا ہے کہ بڑھ سکتا ہے، گھٹ نہیں سکتا ہے، ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے یہ ہضم نہیں ہو رہا ہے ان سے، اب کیا علاج کریں صوبوں کو توڑیں، یعنی مرض کا علاج کرنے کے بعد بندے کو دفنا دو۔
تو یہ چیزیں نہیں چل سکتی اور پھر ظاہر ہے کہ یہ بھی کہتے ہیں اتفاق، آج کہتے ہیں اتفاق رائے چاہیے صوبوں کا اتفاق رائے، عوام کا اتفاق رائے، تو یہ تو ہم کہہ رہے تھے، اب جب صوبوں کے لیے عوام کا اتفاق، صوبوں کا اتفاق چاہیے اور نظام بھی کوئی آج یا کل کا بندہ ذمہ دار نہیں،80 سال کی ذمہ داری یہ تو ہم دہائیوں سے بات کہہ رہے ہیں تو سرکار میں بیٹھ کر یہ باتیں کیوں کرتے ہو آؤ جمعیۃ علماء اسلام کا حصہ بن جاؤ پھر اس تاریخ سے ان شاءاللہ آپ تحریک کا حصہ ہو جائیں گے۔
تو یہ ساری وہ صورتحال ہے حضرت، کہ جب نہ امن و امان ہو، نہ معیشت ہو، نہ جمہوریت ہو، اسمبلیاں بنائی جاتی ہے عوام کے ووٹ سے نہیں، ڈمی قسم کی اسمبلیاں، اس سے حکومتیں بن جاتی ہیں، اب آپ باہر ملک میں بھی جائیں تو وہ ملک بھی آپ کی قدر نہیں کریں گے وہ بھی سوچیں گے کہ ہیں تو پاکستان کے وزیر اعظم لیکن ان لوگوں کے نمائندہ تو نہیں ہے کتنی بری بات ہے، اپنی سرزمین خون سے سرخ ہے اور باہر جا کر آپ سرخ قالینوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں یہ کون سی حکومت ہے؟
تو اس اعتبار سے ہم نے اپنی اس جدوجہد کو جاری و ساری رکھنا ہے اور ان شاءاللہ العزیز یہ سلسلہ ہمارا قائم و دائم رہے گا، آپ حضرات کو پوری جماعت کو نیا امیر بھی مبارک ہو اور آپ نے جو اعتماد کیا اللہ تعالیٰ آپ اس کو اس کا اجر عطا فرمائے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبر زٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat
