قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمن صاحب کا دو روزہ مرکزی مجلس شوری کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو
20 اکتوبر 2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
چونکہ آج میں نے دو روزہ مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلے آپ کے سامنے رکھنے ہیں، آپ کی وساطت سے قوم کے سامنے رکھنے ہیں، میں اور ہماری جماعت اس مزاج کی ہے اور یہ خواہش رکھتی ہے کہ سیاسی معاملات ہو، ملکی اور قومی مسائل ہو اس پر ڈیبیٹ ہو، مکالمہ ہو اور اگر حکومت کی پالیسیوں پر کوئی تحفظات ہیں تو بجائے الزام تراشیوں کے اور کردار کشی کے ان کا معقول جواب دینا چاہیے۔ صرف میڈیا پرسنز کے سامنے ایسی باتیں کہہ دینا جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، باقاعدہ ایسے فورم تشکیل دیئے جائیں پارلیمنٹ کا فورم سب سے زیادہ مفید ہے، ان کیمرہ بلا لیا جائے اور ہمارے تحفظات اور ہماری تجاویز سن لی جائیں۔ ہمیں مطمئن کیا جائے، قوم کو مطمئن کیا جائے، ابہام کے اندر معاملات کو چلانا اور بے سروپا سوالات اٹھانا اور کردار کشی کرنا یہ شاید مسئلہ کا حل نہیں ہے۔
تو میں اس وقت آپ کے سامنے مرکزی مجلس شوریٰ کا جو موقف ہے موجودہ حالات کے حوالے سے وہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور جزوی ایمرجنسی مسلط کرنے کے صدارتی فرمان کو پاکستان کے سیاسی نظام کو کمزور کرنے کا اقدام قرار دیا، حکمرانوں کا اس کے جواز کے لیے بیانیہ عوام کے اعتماد کے لیے کافی نہیں ہے۔ دو ہزار ایک سے دو ہزار دس تک اور دو ہزار دس سے دو ہزار چھبیس تک دہشت گردی کے خلاف مکمل سرکاری اور ریاستی وسائل کے استعمال کے باوجود دہشت گردی میں اضافہ حکومتی فیصلوں کو صرف غلط نہیں بلکہ موجودہ اقدامات کو مشکوک بلکہ بدنیتی پر مبنی قرار دیتی ہے۔ شوریٰ نے ان اقدامات کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ مسلم لیگ ہی کی حکومت نے دو ہزار سترہ میں فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا اور آج مسلم لیگ ہی کی حکومت میں فاٹا کو صوبہ کے نظام سے نکال کر دوبارہ مرکز کے کنٹرول میں دے دیا ہے۔ عوام کی دل و دماغ میں شکوک کا پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے کہ دہشت گردی ان اقدامات کے لیے جواز اور صوبے کے معدنی ذخائر پر قبضہ کرنا ان کا اصل مقصد ہے اور اس طرح صوبے کے عوام کو محروم کر کے معدنی ذخائر کو اپنے مفادات تک محدود کر دیا ہے اور عالمی قوتوں کے ہمارے وسائل تک رسائی سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے۔ چنانچہ جمعیۃ علماء اسلام اپنی اس تجویز کا اعادہ کرتی ہے کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس طلب کرکے نمائندگان قوم کو اپنے اقدامات سے آگاہ کریں، ان اقدامات کی پشت پر حکومت کی حکمت عملی سے پارلیمان کو آگاہ کریں اور اراکین کے تجویز لیے جائیں، جمعیۃ علماء اسلام جس طرح گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدام کو ملک کا سیاسی نقصان اور اسے بلا جواز سمجھتی ہے اس طرح اس حوالے سے جو کونسل تشکیل دیے جا رہے ہیں جمعیۃ علماء اسلام کا کوئی رکن اس میں شامل نہیں ہوگا۔ حکومت ہٹانا، نیا نظام بنانا، انتقال اقتدار طاقت کے ذریعے یا عوامی رائے کے ذریعے اس بات کو واضح ہونا چاہیے، آئین کو یا قانون کو غلط طور پر استعمال کرنا اور یہ کہنا کہ ہم نے آئینی پروسیجر کو مکمل کیا ہے تو جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے زمانے میں بھی اور بعد کے آصف علی ذرداری صاحب کے زمانے میں بھی جب ایسے اقدامات ہوئے جہاں وفاق کی مخالف حکومتوں کو برطرف کرنے کے لئے یہ اقدام کیا گیا اس وقت بھی تو آئین ہی کا سہارا لیا گیا تھا اور کیا اس وقت مسلم لیگ یا ان کے کچھ اور اتحادی اس کے حق میں تھے؟ اس وقت طاقت اور قوتوں کے فیصلے کے تحت طاقت کا استعمال ہو رہا ہے اور صدر مملکت نے نہ تو قانونی طریقہ کار کی پیروی کی اور نہ اپنے اطمینان کا اظہار کیا اور دستخط کر دئیے جو آئینی تقاضی کی نفی کرتے ہیں۔
جمعیۃ علماء اسلام کی جو سیاست ہے اس میں ہم اپنے جماعتی منشور اور نظریہ کو دیکھ کر اسی ترازو کے ساتھ اختلاف بھی کرتے ہیں اور اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ہم اتفاق بھی کرتے ہیں، میں ذرا پہلے جملے میں ذرا اضافہ کر دوں کہ حکومت میں ہوتے ہوئے ہم اختلاف بھی کرتے ہیں، ہم نے حکومت میں ہوتے ہوئے بہت سے مسائل پر جو جمعیۃ علماء اسلام کے نقطہ نظر سے ہٹ کر ہوں اس پر اپنی رائے دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی اور چاہے آپریشنز کا مسئلہ ہو، چاہے فاٹا انضمام کا مسئلہ ہو ان سارے حوالوں کے ساتھ ہم نے آزادانہ طور پر ہمیشہ اپنی رائے پیش کی ہے اور اس سے قوم کی تربیت ہوتی ہے، سیاسی ماحول کی ایک تربیت ہوتی ہے کہ آپ نے اپنی رائے کو کن دلائل کے ساتھ قوم کے سامنے رکھنا ہے۔ ہم عوام کے نمائندے ہیں، ہم نے عوام کی ترجمانی کرنی ہوتی ہے، ہم نے پاکستان کے مفاد کا تعین کرنا ہوتا ہے، کوئی ایک طاقت صرف پاکستان کے مفاد کا فیصلہ نہیں کر سکتی، یہ قوم کا اجماعی اور اجتماعی معاملہ ہے۔
ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ عالمی سطح پر تغیرات ابھر رہے ہیں اور یہ بات آج ہم نے نہیں کہی، سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اور نائن الیون کے بعد جو دنیا میں تبدیلیاں آئیں اور جس طرح امریکہ یا قطبی نظام کا مالک بنا آج وہ قطبی نظام ختم ہو رہا ہے، کسی زمانے میں روس اور اس کا نظام مد مقابل تھا اور آج چائنا اس کا مد مقابل ہے اور اس وقت ایشیا دوبارہ ایک عالمی سطح کا معاشی حب بنتا جا رہا ہے، ہمیں اس حوالے سے اپنی گرد و پیش کی صورتحال کو دیکھ کر پالیسیاں بنانی ہیں کہ ہم نے ایک طویل المدت مستقبل کا تعین کرنا ہے۔ ہم اس حوالے سے سمجھتے ہیں کہ اگر ہماری بات اصحاب اقتدار سمجھتے ہیں تو اس پر مکالمہ ہونا چاہیے تاکہ قوم کی معاشی مستقبل کا تعین کیا جا سکے۔
جمعیۃ علماء اسلام کا منشور کہتا ہے کہ ایک اسلامی بلاک ہونا چاہیے اور اسلامی دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر ہونا چاہیے اگرچہ اسلامی تنظیم کانفرنس ایک پلیٹ فارم ہے لیکن غیر مؤثر ہے، اس میں اتنی طاقت نہیں ہے ایک مضبوط اتحاد جو سیاسی معاشی اور دفاعی اعتبار سے متحد ہو جائے یہ سلسلہ جب چلا پاکستان سعودی عرب کے درمیان مکہ معاہدہ ہوا بعد میں ترکیہ اس میں شامل ہوا، پاکستان میں ایک کانفرنس ہوئی ہر چند کے حکومت سے ہمیں اختلاف ہے لیکن ان اقدامات سے ہمارا نظریاتی اختلاف نہیں تھا تو ہم نے اس کو سپورٹ کیا، بلا جھجک کیا ہے اور ہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کے اوپر حوثیوں کے حالیہ حملے یہ اسلامی دنیا کی اتحاد کی طرف پیشرفت کا راستہ روکنا ہے جو بظاہر اب رک بھی چکا ہے اور ہم ایران سے بھی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے موثر کردار ادا کرے تاکہ اسلامی اتحاد کا عمل آگے بڑھے اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان تحفظات یا بدگمانیاں اسے دور ہو جانے چاہیے۔
ہم تو یہ بھی چاہتے ہیں کہ آج جب دنیا بدل رہی ہے تو ہمیں ہمارے پاس ہر چند کے سارک ایک پلیٹ فارم موجود ہے، آسیان کا پلیٹ فارم ہمارے پاس موجود ہے لیکن وہ غیر مؤثر ہے۔ ہم ایک مستقل ایشیاٹک فیڈریشن جو باہمی اقتصادی تعاون کی طرف سنجیدگی سے اور مؤثر انداز کے ساتھ آگے بڑھے، ہم تو اپنی جمعیۃ کی تاریخ میں اس نظریے کی تسلسل کو پا رہے ہیں اور ہم آج بھی اس کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں۔
یہاں پر ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی پاکستانی فوج نے اس کا جواب دیا، بنیان مرصوص کے نام سے، سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کا ساتھ دیا یہ خیال کیے بغیر کہ فوج کی پالیسیاں ہوں یا حکومت کی پالیسیاں ہوں ہم اس کے مقابلے میں حزب اختلاف میں بیٹھے ہیں لیکن ملک کے لیے ہم نے ایک صف ہونے کا اعلان کیا اور کہیں سے بھی ہمارے بیان کے منافی کوئی بیان کسی گوشے سے نہیں آیا۔
اگر پاکستان نے ایران امریکہ کے درمیان مصالحتی کردار ادا کیا تو سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کو سپورٹ کیا اگرچہ کچھ حضرات کا اگر تحفظات تھے بھی لیکن ان کو بھی یہ موقع نہیں ملا کہ وہ اس پر اپنے منفی تاثرات کو سامنے لائے، جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے اگر فوج کو یہ دعویٰ ہے کہ وہ بطور ادارہ کے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، قربانیاں دے رہا ہے تو مجھے بتایا جائے کہ سیاسی محاذ پر عوام میں اور مذہبی طبقے میں جمعیۃ علماء اسلام کے علاوہ کون ہے جس نے باقاعدہ ایک تسلسل کے ساتھ اپنا نقطہ نظر عوام میں واضح کیا ہے اور ہم اس مسلسل اپنے موقف کے پاداش میں اپنے ڈھائی سو اکابر علماء سے لے کر عام کارکنوں تک کی قربانی دے چکے ہیں، یہ ملک کے لیے دی ہے، ملک کے امن کے لیے دی ہے، اگر ہمارے امن کو کوئی بھی خراب کرتا ہے تو پھر ظاہر ہے کہ ہم اس کے ساتھ نہیں دے سکتے، ہم نے بندوق کی سیاست کی نفی کی ہے اور مشرف کی پالیسیوں کے نتیجے میں جب یہاں کے مذہبی نوجوان کو اشتعال دلایا گیا اور اس کو مجبور ہونا پڑا کہ وہ بندوق اٹھائے اور افغانستان میں جائے اور امریکہ کے خلاف جنگ میں شریک ہو، یہاں پاکستان میں دینی مدارس کا ماحول تمام مکاتب فکر کا مذہبی ماحول جمعیۃ علماء اسلام کے زیر اثر تمام علاقے ان میں ہم نے پاکستان کی پارلیمنٹ، پاکستان کے آئین اور پاکستان کے ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا اور آج بھی ہم اس پر قائم ہیں۔ لیکن پالیسی ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں، پالیسیاں جن قوتوں کے ہاتھ میں ہیں وہ ہمیں ذرا اپنے نتائج سے تو آگاہ کریں کہ آج تک ان کی پالیسیوں کے نتائج میں پاکستان نے کیا کامیابی حاصل کی ہے؟ جنرل پرویز مشرف نے دو ہزار دو میں نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو “قومی تعمیر نو” کے نام سے ایک ادارہ بنایا، نیا بلدیاتی نظام دیا، ناکام ہوا کے نہیں؟ نیا انتظامی ڈھانچہ دیا ناکام ہوا یا نہیں؟ میجسٹریسی نظام کا خاتمہ کیا، آج آنے والی حکومتوں کے لیے مشکلات اس میں ہیں یا نہیں؟ اور میجسٹریسی نظام کو دوبارہ بحال کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں یا نہیں ہو رہی ہیں۔ پولیس کو انتظامیہ سے لا تعلق کیا جن کے نقصانات چاروں صوبوں میں ظاہر ہوئے، پھر ان کو اب واپس دینے کی باتیں ہوئیں یا نہیں ہوئی؟ آج پھر پچیس سال کے بعد اسی نظام کو دوبارہ بحال کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
دو ہزار سترہ میں فاٹا کا انضمام کیا گیا اسے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا گیا، ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ اس پر مشاورت ہونی چاہیے، پارلیمنٹ میں، آئین میں ترمیم ہوئی صرف آئین کے دو دفعات کو تبدیل کیا گیا اور پورے آئین کو بغیر ڈیبیٹ کے فاٹا کے علاقے پر تھونپ دیا گیا، آج کہا جا رہا ہے کہ وہ شائد فیصلہ غلط تھا اور ایمرجنسی انہی علاقوں میں نافذ کی گئی ہے مطلب یہ کہ وہ جو فاٹا کا علاقہ جو وفاق کے کنٹرول میں ہوتا تھا آج ایمرجنسی کے نام پر وفاق کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے اور میری معلومات یہ ہیں کہ قبائلی عمائدین کو بلایا بھی گیا ہے اور ان سے مشاورت بھی لی گئی ہے کہ کیا فاٹا نظام کا انضمام جو تھا وہ کامیاب ہے یا ناکام اور اتفاق اس پر ہوا ہے کہ وہ ناکام ہو چکا ہے، پرانی حیثیت کو بحال کر دیا جائے۔ اس قسم کی چیزیں پس دیوار ہو رہی ہیں ہماری معلومات میں ہیں اور یہ سب کچھ جو ایمرجنسی کا عمل ہے یہ اس طرف جانے کا عمل ہے۔ اب آپ فیصلے کرتے ہیں، ہم اس وقت بھی آپ پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں، وقت اور حالات آپ بتائیں کہ ہمارے موقف کی تائید کر رہی ہیں یا آپ کے فیصلوں کی تائید کر رہی ہیں؟ تو پھر کیوں ہمیں ملامت کیا جاتا ہے ہر بات کے اوپر؟ کیوں نت نئی باتیں اڑائی جاتی ہیں؟ کیوں کردار کشی کی جاتی ہے؟ کیوں الزام تراشیاں کی جاتی ہیں؟ یہ چیزیں میرے خیال میں پاکستان کے لیے صحت مند عمل نہیں ہے، ہم سنجیدگی کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں، ہم اپنے مخالفین کا احترام کرتے ہیں، میاں نواز شریف میرے لئے پہلے بھی قابل احترام تھا، آج بھی قابل احترام ہے، میاں شہباز شریف صاحب کل بھی ہمارے لئے قابل احترام تھے آج بھی، آصف علی زرداری ذاتی تعلق بھی ان سب کے ساتھ ہے، احترام بھی ہے۔ ہم نے کوئی ان کے بارے میں ایسا کمزور لفظ استعمال ہی نہیں کیا ہے، پورے احترام کے ساتھ ہم ان سے ایک اختلاف رائے کر رہے ہیں، ان فیصلوں کو ملک کے خلاف سمجھتے ہیں، ملک کے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں، ان پر ہمیں تشویش ہے کہ بین الاقوامی مداخلت اس میں ہے اور اس زمانے میں جب کورن پاول وہ امریکی وزیر خارجہ تھا تو اس نے بھی وضاحت کے ساتھ کہا تھا کہ فاٹا میں فوج بھیجنے کی تجویز ہماری تھی اور آج معدنی ذخائر کے حوالے سے پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور باقاعدہ ایک پوسٹ کارڈ کر رہی ہے اور جس میں وہ معدنی ذخائر کے حوالے سے اپنی منصوبے کے اور اپنی سرمایہ کاری کی بات کر رہی ہے، میں صاف صاف کہہ دوں ہمیں سرمایہ کاری سے اختلاف نہیں ہے، پوری دنیا میں ملٹی نیشنل کمپنیاں آتی ہیں، یہاں صرف ایک امریکہ دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟ باقی دنیا کی دلچسپیاں ان کے لیے رکاوٹیں کیوں بنائی جا رہی ہیں؟ تو قوم کے سامنے رکھا جائے کیونکہ دو تین چیزیں کسی بھی ملک کے اندر سرمایہ کاری کے لیے کرائیٹیریا کی حیثیت رکھتی ہیں وہاں کی سیکیورٹی، سرمایہ کاری کے لیے معاہدات اور اس میں شفافیت اور قانون کی حکمرانی اس کی ایک اجمال ہے، اس کی تفصیل پھر آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ کیا کیا تقاضے ان تین چیزوں کے ہوتی ہیں۔
اگر پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری کرتا ہے تو میں اس کو اچھی علامات سمجھتا ہوں لیکن پاکستان کے حوالے سے لوگ پوچھتے ہیں کہ اس میں ہمارا مفاد کیا ہے، ہم باہر کے مفاد کے لیے یہ سب کچھ کر رہے ہیں یا اپنے ملک کے مفاد کے لیے کر رہے ہیں، ہمارے اپنے ملک کے مفاد کا تعین ہونا چاہیے اور وہاں جو قوم آباد ہیں وہاں جو غریب لوگ آباد ہیں مقامی آبادیوں کے مفادات کو مقدم رکھا جائے، اس کا پہلے سے تعین کیا جائے، خفیہ طریقوں سے یہ چیزیں نہیں، یہ باہر آتی رہتی ہیں اور جب باہر آتی ہیں تو شکوک و شبہات پیدا کرتی ہیں، جب آپ ان شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں تو وہ ناراض ہوتے ہیں، پھر ہماری کردار کشی شروع ہو جاتی ہیں، پھر الزام تراشیوں کا ہم نشانہ بن جاتے ہیں۔
تو میرے خیال میں اس طریقے کا جو روش ہے وہ صحیح نہیں ہے اس پر ہم اپنی پوزیشن واضح کرنا چاہتے ہیں اور میں یہ کہہ رہا ہوں آج ان اپنے تمام لوگوں سے کہ ہمیں مرعوب نہ کیا جائے ان باتوں سے، ہم کسی سے بھی اپنے حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ نہیں مانگ رہے ہیں؛
اور وہ کہہ رہے ہیں محبت نہیں وطن سے مجھے
وہ کہہ رہے ہیں محبت نہیں وطن سے مجھے
سکھا رہے ہیں محبت مشین گن سے مجھے
میں بے شعور ہوں کہتا نہیں ستم کو کرم
یہی خطاب ملا ان کے انجمن سے مجھے
تو ہمیں اس بے شعوری کے اوپر فخر ہے، کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے، بھلا کہتے رہو لیکن ہم پاکستانی ہیں، یہ وطن ہے ہمارا اور ہم نے بارہا پارلیمنٹ کے اندر کھڑے ہو کر جو حلف اٹھایا ہے ہم آج بھی اس حلف کی پاسداری کر رہے ہیں، وہ لوگ اپنے گریبان میں جھانکیں جو حلف اٹھاتے ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور پوری سیاست کو کنٹرول کر رہے ہیں۔
تو اس پر تحفظات تو آ سکتی ہیں لہذا ملکی معاملات پر اگر مکالمہ ہوتا ہے تو مکالمے کا کوئی عیب نہیں ہے، دلیل کا جواب دلیل سے ملنا چاہیے، اسمبلیوں کے ممبران بڑی تفصیل کے ساتھ جو وہاں کے اسمبلیوں کے کمیٹیوں کے اراکین ہیں اور جن کو تمام تفصیلات کمیٹی کے اندر سے معلوم ہیں وہ تفصیلات سامنے لا رہے ہیں ہم، ان پر توجہ ہونی چاہیے، اس کو سنجیدگی سے لیا جائے، بلاوجہ ہمارے ملک کی سیاست میں اشتعال کے راستے نہ کھولے جائیں، ہم معقول اور اشتعال سے بالاتر سنجیدہ سیاست، اختلاف اور مکالمے پر یقین رکھتے ہیں اور ان شاءاللہ اسی طرف ہم آگے بڑھیں گے اور یہ مجلس شوریٰ کی سوچ تھی جو میں نے آج آپ کے سامنے رکھ دی ہے۔ میری ایک درخواست ہوگی کہ آج کی اس مجلس کو ہمارے شوریٰ کے ان فیصلوں تک محدود رکھا جائے اگر آپ سوالات کریں گے تو ایسی ایسی باتیں آپ لے آئیں گے کہ جس سے ساری مجلس جو ہے وہ پس منظر میں جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے، تو میں گزارش کروں گا کہ ایسے سوالات سے احتیاط کیا جائے۔
سوال و جواب
صحافی: مولانا صاحب آپ نے بہت احترام سے نام لیا جتنے بھی سیاستدان تھے جن کے ساتھ آپ کا ایک اچھا رشتہ بھی آپ نے بتایا کہ ریلیشن ہے لیکن کیا آپ کو مایوسی ہوئی کہ انہی سیاستدانوں کے ساتھ کبھی پی ڈی ایم کے صورت میں کنٹینر پر کھڑے ہوئے، آج وہی آپ پر الزام تراشی کر رہے ہیں؟
مولانا صاحب: میں اس کا جواب دوں گا لیکن اگلے کسی پر مرحلے پر دوں گا آج نہیں۔
صحافی: مولانا صاحب گزشتہ روز آپ کے اسی شوریٰ کے بیان کی تسلسل میں یہ جو آپ کے فیصلے ہیں ایمرجنسی کے بارے میں، گزشتہ روز جن کا آپ نے بڑا احترام سے نام لیا ہے نواز شریف صاحب کا، تین بار میڈیا نے ان سے سوالات کئے ایمرجنسی اور گورنر راج کے، جو آپ سے منصوب بیان ہے وہ چھپ رہے، دوسری بار سوال ہوا کہ آپ اُس کی حمایت کرتے ہیں، چھپ رہے، تیسری بار سوال ہوا جھٹکا دیکھے جرنلسٹ کو اور وہ گاڑی میں بیٹھ کے چلے گئے، وہ شرم سار ہیں؟ یا ہچکچا رہے ہیں؟ یا خوفزدہ ہے، یہ کہانی کیا ہے؟
مولانا صاحب: تو میری تائید کر رہے ہیں، میری سپورٹ کر رہے ہیں بہت شکریہ آپ کا
صحافی: مولانا صاحب آپ نے یہ نہیں بتایا کہ مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟
مولانا صاحب: ہم میدان میں ہیں اور ان شاءاللہ العزیز ہم فاٹا کے معاملے میں فاٹا جرگہ بھی بلا رہے ہیں، یہ نومبر کے ابتدائی ہفتے میں ہوں گے ساری باتیں، ہم فاٹا ورکرز کنونشن بھی کر رہے ہیں، ہم اسلام آباد میں ملک گیر طلبہ کنونشن بھی کر رہے ہیں، یہ جے ٹی آئی کے زیر اہتمام ہو رہا ہے، ہم اسلام آباد میں اساتذہ کنونشن بھی کر رہے ہیں پورے ملک کے اساتذہ کرام کو بلائیں گے، پڑھے لکھے طبقے کے ساتھ ہم بات کرنا چاہتے ہیں، ہم چھبیس نومبر کو ان شاءاللہ سرگودہا میں عوامی اجتماع بھی کر رہے ہیں، ہم چناب نگر ختم نبوت کانفرنس میں بھی بھرپور شرکت کر رہے ہیں۔
تو ایک بات کا جو شوریٰ نے ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات ناقابل قبول تھے ان کے نتائج، دو ہزار چوبیس کے الیکشن کے نتائج بھی ناقابل قبول ہیں، دوبارہ ایک شفاف انتخابات ملک میں کرائے جائیں اور حقیقی نمائندہ ایوان تشکیل دیا جائے۔
صحافی: مولانا صاحب! آپ نے سابقہ فاٹا کی بات کی کہ جب مرجر کر رہے تھے تو اس کے بعد جس طرح کے خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا تو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ جب افغانستان میں مذاکرات ہو رہے تھے تو سب سے پہلا مطالبہ بھی انہی کا یہی تھا کہ فاٹا مرجر کا جو فیصلہ ہے وہ واپس لیا جائے اور ایف سی آر لاگو کیا جائے اس پر آپ کیا کہیں گے؟
مولانا صاحب: میں آپ کی بات سمجھ گیا ہوں، آپ کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، میں پوری بات سمجھ گیا ہوں۔ دیکھیے! ایک مہربانی کریں زاویہ تبدیل نہ کرے بات کا جی، دو ہزار سترہ میں ہمارا موقف آ چکا ہے اور شدت کے ساتھ آیا ہے، مسلم لیگ کے ساتھ حکومت میں شراکت کے باوجود آیا ہے اور آپ کے لوگ مذاکرات کے لئے جاتے ہیں پانچ سال کے بعد، اب پانچ سال کے بعد اگر وہ یہ بات کرتے ہیں تو یہ کہو نا کہ وہ بھی آپ کی تائید کر رہے ہیں یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ آپ ان کی تائید کر رہے ہیں یعنی آپ جمعیۃ علماء اسلام کی سیاسی سوچ، سیاسی فکر، سیاسی عمل کو دہشت گردی کے اور مسلح لوگوں کے گروہوں کے ساتھ وابستہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہی وہ چیز ہے جس پر میں احتجاج کرتا ہوں اور حکمرانوں سے بھی کہتا ہوں کہ یہ باتیں نہ کی جائیں، ہم پہلے نظریہ دیتے ہیں، ہم پہلے اس کا اظہار کرتے ہیں، ہمارا کوئی رابطہ کیا ہے ان کے ساتھ، ہمارا سلسلہ کیا ہے، آج اگر گورنر راج کی مخالفت کی ہے تو ہم نے تو ابھی نافذ نہیں ہوا تھا تو اس کی مخالفت کی ہے تو اس کے آ جانے کے بعد اگر پانچ دن کے بعد کسی ایک تنظیم کا بیان آ گیا اب آپ میرے پوری پارٹی کے موقف کو ان سے جوڑیں گے، یہ بہت بڑا ظلم ہے، اس طرح نہ کیا کریں، جمعیۃ اپنی ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے اور آپ دہشت گردی کے خلاف پوری میڈیا کو استعمال کریں ہر جو بھی کریں، اس پر تو میری سوچ میں، میں آپ سے آگے ہوں میرے پوری جماعت کی قربانیاں ہیں، میری سوچ واضح ہے اس حوالے سے، کوئی ابہام نہیں لیکن اس واضح موقف کے باوجود ریاست میرا تحفظ نہیں کر پا رہی ہے، میری زندگی غیر محفوظ ہے، میرے کارکن غیر محفوظ ہیں، میرے علماء غیر محفوظ ہیں، میرے مساجد غیر محفوظ ہیں اور جب وہ غیر محفوظ ہیں اور مجھے تحفظ ہی نہیں دیا جا رہا تو مجھے زندہ رہنے کے لئے اپنی حکمت عملی خود بنانی ہوگی، میں آپ کی ڈکٹیشن نہیں لوں گا۔
صحافی: مولانا صاحب! آپ نے کچھ دن پہلے یہاں پہ کہا تھا کہ آپ کوئی اے پی سی بھی کرنے جا رہے ہیں اپوزیشن سے مل کے، اس کا مستقبل کیا ہے؟ شوریٰ کیا کہتی ہے؟ دوسرا مولانا صاحب! گورنر راج اور ایمرجنسی کی جو آپ نے بات کی یہ کوئی مستقل علاج تو نہیں ہے ظاہر ہے حکومت بار بار مذاکرات کی دعوت دے رہی ہے اور اس کو ریورس کرنے کی بھی باتیں کر رہی ہیں، تو کیا آپ کی شوریٰ نے کوئی یہ بھی بات کی ہے کہ آپ کا کیا کردار ہوگا اس کو ریورس کرنے میں، جو فریقین ہیں دونوں ان کے درمیان دوبارہ بات چیت ہو سکتی ہے؟
مولانا صاحب: دیکھیے! اس کے لئے تو اب جب وہ ہماری گفتگو اور مذاکرات سے پہلے ہی اپنا پلین بنا چکے تھے اور پھر عمل درآمد بھی ہو گیا، اب کس بات پہ مذاکرات، آپ نے کسی کو قتل کر دیا اور قتل کرنے کے بعد آپ کہتے ہیں کہ آئیں ذرا بات چیت کرتے ہیں، تو قتل کرنے کے بعد بات چیت کا کیا فائدہ ہے کیا وہ زندہ ہو سکتا ہے، لہٰذا اس سے ملک کمزور ہو جاتا ہے، اگر آپ واپس بھی کریں گے، آپ کی ان اقدامات سے ملک کی سیاسی ساکھ کمزور ہوا ہے جس کا ہم نے اپنے شوریٰ کے فیصلے میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔
صحافی: سر! آپ کیا مطمئن ہے جو سابقہ حکومت تھی آپ کے صوبے کی، جو قومی سلامتی کے معاملات ہیں جو اقدامات لگ رہے ہیں ان کے ساتھ وفاق کے ساتھ وہ تعاون کر رہی تھی یا جو اقدامات ہیں آپ ان کے اقدامات سے مطمئن ہیں جو صوبائی حکومت کر رہی تھی؟
مولانا صاحب: کس کے اقدامات؟
صحافی: پی ٹی آئی کے ؟
مولانا صاحب: ہاں پی ٹی آئی نے مجھے اتنا بتا دیا جائے ذرا ایک کوئی صحافی میرے رہنمائی فرمائے کہ دہشت گردی کے خلاف اگر آپریشن جاری تھا صوبے میں، تو صوبائی حکومت کہاں رکاوٹ بنی سوائے اس کے کہ ان کے بیانیے سے اتفاق نہیں کر رہے تھے، لیکن عملاً کہاں رکاوٹ بنی؟ کوئی ایک جگہ تو بتا دیا جائے اور پھر اپوزیشن اپوزیشن ہوتی ہے اپوزیشن کی حکومت کسی ایک یونٹ میں بھی آ سکتی ہے صوبے میں آ سکتی ہے تو پھر اس کے بیانیے میں بھی فرق ہوگا، لہذا اگر انہوں نے یہ کہا ہو کہ وفاق کا بیانیہ غلط ہے یہ ایک الگ شکل ہے، لیکن اگر وہ یہ کہتے ہوں کہ ایک باہمی مشاورت کے ساتھ اتفاق رائے سے ایک پالیسی بنائی جائے تو اس میں تو کوئی قباحت کی بات نہیں ہے، ایک اپوزیشن جماعت یہ بات کہہ سکتی ہے۔
صحافی: مولانا صاحب! آپ نہیں سمجھتے کہ جن جماعتوں نے بشمول جے یو آئی نے چھبیس ویں آئینی ترمیم یا جو بھی آئینی ترامیم کی جس سے سیاسی جماعتیں کمزور ہوئیں اور پارلیمنٹ کا جو کردار تھا وہ منیمائز ہو گیا جس کی وجہ سے یہ ساری صورتحال آج پیدا ہوئی؟
مولانا صاحب: دیکھیے! میں ایک بات عرض کر دوں، کامران مرتضی صاحب تشریف فرما ہے چھبیس ویں ترمیم میں سیاسی نظام کو کمزور کرنے کی جتنے شقیں تھی پینتیس کے قریب، ان شقوں سے ہم نے حکومت کو دستبردار کرایا ہے اور پھر سود کے خاتمہ، وفاقی شرعی عدالت کو مظبوط کرنا، اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات کو ڈیبیٹ کے لیے ایوان میں پیش کرنا، یہ ترامیم ہماری طرف سے تھی جو نظام کو مضبوط کر رہی تھی، لہٰذا نظام کو کمزور کرنے کی تمام شقیں اس سے نکلوا دی ہم نے اور ہم تنہا مذاکرات کر رہے تھے اور مظبوط کرنے کے لیے پانچ ترامیم ہم نے ڈالی جو قبول ہوئی، کیا اس پر عمل ہوا اور جن شقوں سے وہ دستبردار ہوئے پھر ستائیسویں ترامیم میں ان سب کو واپس لیا انہوں نے اور کیوں لیا کہ اب ان کے پاس خریدے ہوئے لوگ موجود تھے، وہ ان خریدے ہوئے لوگوں کے ذریعے سے دو تہائی اکثریت پوری کر گئے، لہذا سیاسی حوالے سے ستائیسویں ترمیم ایسی ہی ہے جیسے ماضی کے آپ کے مارشل لاؤں کے دوران میں ترامیم ہوتی رہی ہے اور پھر اس کے بعد ہم واپس لیتے رہے اس کو، تو یہ چیزیں فرق کرنی چاہیے کہ کیا کچھ ہوا تھا چھبیسویں ترمیم میں، پی ٹی آئی اور ہم بالآخر رابطے میں ہم ان کو آن بورڈ لیتے رہے، یہاں پر باہر آپ تمام صحافیوں کے سامنے اتفاق کرائے کہ اظہار کیا گیا، اسمبلی میں ہم نے ان کو تجویز دیا تھا کہ آپ ووٹ نہ کریں، یہ ہماری تجویز تھے ان کو، کیونکہ ان کے حالات ایسے تھے کہ وہ ووٹ نہیں کر سکتے تھے، لیکن جو کچھ ہم نے اچیو کیا تھا اگر ہم بھی ووٹ نہ کرتے تو وہ ضائع ہو جاتی، تو انہوں نے اس سے اتفاق کیا تھا۔ تو اب مہربانی کریں یہ چھبیسویں ترمیم کو ستائیسویں ترمیم سے نہ ملایا کریں، وہ کامیابی تھی۔ ستائیسویں ترمیم میں انہوں نے سارا معاملہ الٹا کر دیا۔
ہاں ایک بات میں عرض کر دوں کہ ہم اگلے سال مارچ میں سندھ کے اندر ایک امن عالم کانفرنس کر رہے ہیں مارچ کے مہینے میں، تین روزہ کانفرنس ہوگی اور ان شاءاللہ اس میں پچاس لاکھ تک لوگوں کے شرکت کی توقع ہے ان شاءاللہ العزیز، ملکی معیشت کے حوالے سے بھی مجلس شوریٰ نے یہ بات کی ہے کہ معیشت تباہ ہے، کسان برباد ہو گیا ہے، عوام روزی کے لئے ترس رہے ہیں، کراچی میں خودکشی کے واقعات ہو گئے، پڑے لکھے لوگوں نے خودکشی کی ہے اور مہنگائی کے ہاتھوں جو اس وقت صورتحال ملک میں ہے کہ بھوک ہے اور خودکشیاں ہیں یہ وہ حالات ہیں جس پر ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے اور حکومت کی کمزور پالیسیوں کو کی نشاندہی کرتے رہیں گے، یہ اشارات کی بات کرتے ہیں، اشارے ہیں، تو معیشت کی بہتری کی اشارے ہیں، تو اشارے ہیں، ہر حکومت آتی ہے اور کہتے ہے جب ہم حکومت میں آ رہے تھے تو ملک ڈیفالٹ کے کنارے کھڑا تھا، ہم نے اتنے مہینے میں ڈیفالٹ سے نکال لیا ہے، آج بھی وہی باتیں کی جا رہی ہیں ہمارے سامنے، جبکہ عوام کے اوپر کوئی اثرات اس کے نہیں ہیں۔ لہٰذا پالیسیوں کو بہتر بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات اس پر بھی ہمیں سوچنا پڑے گا اور تنازعات کو کس رخ پہ ہمیں لے جانا چاہیے تاکہ پاکستان کا مفاد اس میں محفوظ ہو، اس طرف ہم جائیں گے۔
صحافی: مولانا صاحب! ایک خبر گردش کر رہی ہے کہ اگر آپ کا لہجہ سخت ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو گورنر سیٹ چاہیے تھی، اس کا آپ کیا جواب دیں گے؟
مولانا صاحب: یہ ہماری توہین ہے، یہ ہماری توہین ہے، آپ ہماری بات سنیں، یہ ہماری توہین ہے کہ ہم نے خدا نخواستہ کوئی اپنے مفاد یا جماعتی مفاد کے لئے کوئی بات کسی مجلس میں کی ہو اشارے سے کنائے سے اور ان کے لوگ خود کہہ چکے ہیں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی، جس نے بھی یہ بات کی ہے وہ غلط کی ہے اس نے، تو میں تو کہہ رہا ہوں کہ کردار کشی نہ کی جائیں، میں اس کا تذکرہ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن میں اگر مطالبہ کروں گا تو گورنری کا مطالبہ کروں گا؟ میں مطالبہ کروں گا تو پھر وزیراعظم کا مطالبہ کروں گا، پھر صدر کا مطالبہ کروں گا، کوئی بات تو بنے۔
صحافی: مولانا صاحب! صدر آصف علی زرداری نے تو آپ کے ساتھ شائد صدر کا معاہدہ کیا تھا۔
مولانا صاحب: نہیں؛ کوئی معاہدہ نہیں، ایسی کوئی بات ہی نہیں تاریخ میں
صحافی: مولانا صاحب! سارا پلین آپ کے سامنے ہے، آپ پارلیمان کی جماعت ہے، صوبے میں بھی، سینیٹ میں بھی آپ کی نمائندگی ہے، آپ کیا کردار ادا کریں گے گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ جلدی ختم ہو اپنے ٹائم سے پہلے یا پھر ٹائم پہ،تاکہ ایکسٹینشن نہ ہو، آپ کا کردار کیا ہوگا؟
مولانا صاحب: بھئی ہم ایک سیاسی جماعت ہیں، ہم کوئی حکومت نہیں ہیں، ہم کوئی دس گیارہ اراکین کے ساتھ اسمبلی میں موجود ہیں، ہم اپنی بات بڑے زور شور سے کر رہے ہیں قلیل تعداد میں ہوتی ہوئے بھی آج پوری قوم کی آواز جے یو آئی ہے اور دہشت گردی کے خلاف، مسلح جدوجہد کے خلاف اگر پبلک میں کوئی مسلسل بول رہا ہے اور گفتگو کر رہا ہے اور قربانیاں دے رہا ہے، باقی تو انکار میں نہیں کر رہا، اے این پی نے بھی کافی نقصان اٹھائے ہیں، شہادتیں دی ہیں، شیرپاؤ خان پر بھی کئی حملے ہوئے ہیں، میں یہ نہیں کہتا، لیکن جس تسلسل کے ساتھ جمعیۃ علماء اسلام کو نشانہ بنایا گیا اور بنایا جا رہا ہے جبکہ وہ علماء ہیں، وہ مذہبی لوگ ہیں اور اس فورم کے اوپر ملک بھر کے پانچ سے چھ لاکھ تک علماء کرام ہی کا فورم ہے اتنا بڑا فورم دنیا میں نہیں ہے دنیا میں۔
صحافی: مولانا صاحب! اگر حکومت نہیں مانتی تو یہ بتائیں کہ جے یو آئی کا اگلہ لائحہ عمل کیا ہوسکتا ہے؟
مولانا صاحب: کوئی بات نہیں کروں گا میں، آپ شوریٰ کے میرے فیصلوں کو پس منظر میں دھکیل رہے ہیں یہ اگلی اجلاس میں کریں گے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

ماشاءاللہ بہت خوب، اللہ تبارک وتعالیٰ سہیل سہراب صاحب اور محمد ریاض صاحب کو اس کاوش کا اجر دے۔ یقیناً یہ بہت ہی بڑی کاوش ہے کیونکہ اس کاوش کی بدولت ہم اپنے اکابرین اور اسلاف کی سونح حیات، سیاسی جدوجہد، دین اور اپنے اقدار کی خدمت اور قربانیاں اپنے آنے والی نسلوں تک بہ آسانی پہنچا سکتے ہیں۔
میرا نام احتشام الحق ہے اور میں بھی اپنے اسلاف اور اکابرین کی قربانیوں کو سمیٹ کر اور تاریخ سے خود کو با خبر رکھنا چاہتا ہوں لہٰذا ٹیم JUI Swat سے ایک درخواست ہے کہ اگر آپ کے پاس قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کی ابتدائی سیاسی زندگی پر یعنی سن 1980 سے لیکر 2001 تک لکھا گیا یا ذخیرہ کیا گیا مواد یعنی اس کی تقاریر اور انٹرویوز کا مجموعہ موجود ہیں تو مجھے عنایت کیجیئے۔ میں آپ کا نہایت احسان مند اور مشکور رہوں گا ۔ شکریہ
درج ذیل میرا واٹس ایپ نمبر اور ای میل ایڈریس موجود ہے اس پر ارسال کیجیئے گا۔
03162270323
ahtishamkhan202001@gmail.com