قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کی ملتان میں عبداللہ حسیب ایگرو کیمیکلز کے چیرمین کے انتقال پر ان کے فرزندان اور خاندان سے اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو
17 اکتوبر 2026
سوال و جواب
صحافی: مولانا صاحب آپ کا جو بیان ہے دہشت گردی کے حوالے سے، اس پر کچھ جماعتوں کو تحفظات ہیں، انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ہمارے جو جوان شہید ہوتے ہیں ان کے خاندانوں کو غمزدہ کرنی والی بات نہیں ہے؟
مولانا صاحب: دیکھیے! اس دہشت گردی کے ماحول میں گزشتہ سالوں سے جمعیۃ علماء اسلام کے کوئی ڈھائی سو علماء، کارکن شہید ہوئے ہیں، تو یہ بیانیہ اس طرح دینا یہ کسی پارٹی کی ملک کے لیے اور ملک کے سلامتی اور امن امان کے لیے قربانیوں کا مذاق ہے، تو کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے یا اسے یہ بات جچتی ہے کہ وہ اپنے ہی ملک کے وفادار لوگوں کے ان قربانیوں کا مذاق اڑائیں؟ ہم قربانیوں کا مذاق نہیں اڑا رہے ہیں، ہم ان کی پالیسیوں پہ بات کر رہے ہیں، ایک پارٹی اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کے کسی فیصلے پر تنقید کرے اصلاح کی نیت سے، کہ یہ غلطی کیوں ہو رہی ہے اور اگر ان کو ایسی گفتگو نہیں چاہیے، ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ہے کہ ہم ایسی گفتگو کریں جس سے کہ ملک کے اندر ایک بحث چھڑ جائے اور اپنے ہی جوانوں کی اور اپنی ہی اداروں کی قربانیاں جو ہیں اس کو متنازع بنانے کی کوشش کی جائے، تو میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ ہم ذرا اس کا تجزیہ کریں کہ ملک کہاں کھڑا ہے اور ہمیں ان تمام مہمات میں اور ان تمام چیلنجز میں کیوں کامیابیاں نہیں مل رہی ہیں اور ہم جتنا جتنا دوا استعمال کرتے ہیں مرض اتنا ہی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ تو ان چیزوں کو غلط زاویے کے ساتھ پیش کرنا یہ بدنیتی ہے اور میرے خیال میں حکومت، ریاست ایک ذمہ دار ادارہ ہوتا ہے اس کو اس طریقے سے اپنے ملک کے شہریوں یا سیاستدانوں کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔
صحافی: سر! گورنر کے پی کے نے کہا ہے کہ گورنر راج جو ہے وہ مولانا کے بغیر لگا ہے اور چلے گا بھی مولانا کے بغیر، تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ چھ ماہ سے زیادہ کے پی کے میں گورنر راج چل پائے گا؟
مولانا صاحب: یہ کہنا کہ اس کے بغیر چلا ہے اور اس کے بغیر چلے گا، میرے خیال میں ایسا نہیں ہے، یہ تو ایک تاثر دے رہے ہیں جس طرح کہ میرا نام لیے بغیر بھی کچھ لوگوں نے کہا ہے، میں اصولی آدمی ہوں میں نے ہمیشہ اور میری پارٹی نے اگر سن تہتر میں بھٹو صاحب نے بلوچستان میں ایمرجنسی لگائی تھی یا سن انیس تہتر کا آئین جس دن پاس ہوا اور اگلے روز پورے ملک میں ایمرجنسی لگی اور جب تک ان کی حکومت تھی ایمرجنسی میں چلتی رہی، تو ہمارے حضرات نے تو اس سے اختلاف کیا تھا، میرے والد صاحب نے بلوچستان میں ان کی اقدامات پر احتجاج کرتے ہوئے استعفی دے دیا تھا، جب راتوں رات میرے صوبے کے گورنر کو ہٹایا گیا اور میرے صفوں کے اندر سے ایک اہم شخصیت کو اٹھا کر انہوں نے گورنر بنا دیا، تو ہمارا تو اس وقت بھی یہی موقف تھا، تو جہاں پر بھی اس قسم کے اقدامات ہوں گے جو آئینی پروسیجر تو ہو گا اس کے اندر اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ کوئی آئینی پروسیجر استعمال کیا ہوگا لیکن کیا وہ سیاسی قدم ہے؟ کیا وہ جمہوریت سے مطابقت رکھتا ہے؟ جب جمہوریت سے مطابقت نہیں رکھتا اور اگر بدامنی ہی واقعی کوئی وجہ ہے اس کی یا دہشت گردی ہی کوئی وجہ ہے تو کیا بلوچستان میں دہشتگردی نہیں ہے؟ بس اتنی سی بات ہے نا کہ میرے بیانیے سے آپ موافقت کیوں نہیں کر رہے ہیں اور وہ جواب میں کیا کہہ رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کے بیانیے سے مطابقت رکھنے کے لیے تیار ہیں لیکن متفقہ تو بناو، پالیسی متفقہ تو بناو، صوبہ کو اعتماد میں تو لو، جس صوبے میں اپوزیشن کی حکومت ہوگی وہ یہ کہے گا کہ آپ اتفاق رائے کے ساتھ کوئی پالیسی تو بنائیں، یک طرفہ تو ہمارے اوپر کوئی چیز مسلط نہ کریں، ہماری بھی ایک رائے ہے، تو جہاں پر یونٹس ہوتی ہیں، جہاں پر صوبہ جاتی نظام ہوتا ہے وہاں عین ممکن ہوتا ہے کہ کسی ایک یا دو صوبوں میں اپوزیشن کی حکومت ہو، لہذا اپوزیشن کو مجبور تو نہیں کیا جا سکتا، اس کے اپنی ایک رائے ہوتی ہے، اب ہم قومی اسمبلی میں اپوزیشن میں ہیں، پہلے بھی ہم اپوزیشن میں تھے، میں لیڈر آف اپوزیشن تھا، صوبے میں ہماری حکومت تھی ہم نے کتنے مقامات پر مشرف کے ساتھ اختلاف کیا، کیا اس نے مجھے چھ مہینے جیل میں نہیں ڈالا تھا، تو یہ اختلاف رائے ہوتے رہتے ہیں اور جس وقت ہم نے اس زمانے میں دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی قیادت میں عالمی اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو مسلم لیگ ن، جمعیۃ علماء اسلام اور تحریک انصاف ان تینوں کا مؤقف قریب قریب تھا اور ہم مشرف کے فیصلے کے تینوں مخالف تھے، آج اس قسم کے اقدامات کو ہم یکدم کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کے ساتھ وفاداری ہے اور اس سے اختلاف ہوتا وفاداری ہے یہ تو نہیں ہوتا دنیا میں
صحافی: مولانا صاحب! یہ بتائیں کہ جو ملکی حالات ہیں اس وقت وہ کے پی کے میں لوگ، عوام بھی ڈری ہوئی ہے اور دوسرے پورے ملک میں پریشانی کا ایک عالم ہے، مہنگائی بھی ہے اور دہشت گردی کا بھی شور شرابہ ہے، آپ سمجھتے ہیں کہ یہ جمہوریت کب بحال ہوگی؟ جب کہ بیرسٹر گوھر کہتے ہیں کہ شہباز شریف صاحب نے جو عمل کیا ہے یہ انہیں بھی بھگتنا پڑے گا اور فیصل واڈا کہہ رہے ہے کہ یہ قسط ایک ہے، اس کے دو بھی آئے گی، تین بھی آئے گی، آپ سمجھتے ہیں کہ پنجاب میں یا سندھ میں بھی ایمرجنسی لگے گی؟
مولانا صاحب: دیکھیے! مسئلہ بنیادی یہ نہیں ہے کہ وہاں بھی لگے گی، وہاں بھی لگے گی، ہم وہاں بھی اختلاف رائے کریں گے، بنیادی بات یہ ہے کہ سپریم کون ہے؟ کیا پارلیمنٹ سپریم ہے تو پھر پارلیمنٹ فیصلہ کریں، یہ کیا مطلب کہ فیصلے پنڈی میں ہوتے ہیں اور مسلط پارلیمنٹ پہ کیے جاتے ہیں، اس سے ہمارا اختلاف ہے۔
صحافی: مولانا صاحب! یہ بتائیں کہ آپ اپوزیشن میں ہیں اور قومی اسمبلی میں جو اپوزیشن لیڈر ہے محمود خان اچکزئی صاحب، انہوں نے چار روز پہلے پارلیمنٹ کے بعد میڈیا ٹاک کرتے ہوئے آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کی رات جو کچھ ہوا، جو بھی شخصیت ان سے ملنے کے لیے آئی ہے، اسے لے کر آپ کی ذات پر، جے یو آئی پ پر بھی کچھ الزامات کہہ سکتے ہیں لگائے گئے، آپ کا اس حوالے سے کیا خیال ہے؟
مولانا صاحب: دیکھیے! میں نے ان کی تقریر سنی ہے اور سوشل میڈیا پر جو کچھ چلتا رہتا ہے میں وہ زیادہ طور پر اس کا نوٹس بھی نہیں لیا کرتا، نہ محمود اچکزئی سے میرے ملاقات ہوئی ہے، میں جب ابھی ملتان آ رہا تھا تو ان کے ساتھ ایک لمبی نشست میری ہوئی ہے اور دونوں لیڈر تھے اپوزیشن اور میں تین، تینوں ہم بیٹھے تھے اور ایک گھنٹہ ہم نے گفتگو کی ہے، تو اس وقت کوئی ایسی بات نہیں تھی مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کس زاویے سے بات کی ہوگی۔
صحافی: ان کا پیرایہ یہ تھا کہ انہیں آفر کی گئی تھی کہ آپ آٹھ فروری کو الیکشن جیت جائے، لیکن انہوں نے کہا کہ کسی جگہ پر جے یو آئی پ نے اس آفر کو ایکسپٹ کی۔
مولانا صاحب: کون سی؟ ہمیں تو نہیں معلوم، آپ سوال تو کر رہے ہیں، مجھے آپ کے سوال کا مسئلہ نہیں ہے لیکن۔۔۔۔
صحافی: مولانا صاحب! مریم نواز صاحبہ نے کہا ہے کہ مولانا صاحب دہشت گردوں کی پشت پناہی کریں گے، تو مولانا صاحب تو خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
مولانا صاحب: مجھے یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ دہشت گردی کی حمایت کون کر رہا ہے، زیادہ اس کی وضاحت تو کرے نا جی کہ دہشت گردی کی کون حمایت کر رہا ہے۔
صحافی: ان کا کہنا ہے کہ مولانا صاحب اس جماعت کی حمایت کر رہا ہے جو تیرہ سال سے کے پی میں۔۔۔۔
مولانا صاحب: ٹھیک ہے ٹھیک ہے، پھر میں میں بھی ذرا عرض کر دینا چاہتا ہوں، تسلی کے ساتھ سنیے جی، میاں نواز شریف صاحب برملا جلسوں میں کہہ چکے ہیں کہ دو ہزار تیرہ میں فضل الرحمٰن نے ہمیں کہا تھا کہ ہم حکومت بنا سکتے ہیں، پی ٹی آئی کا راستہ روکو، جو ہم نے نہیں مانی اور یہ ہماری غلطی تھی، تو پی ٹی آئی کی حکومت دو ہزار تیرہ میں بنوائی آپ نے اور اب متھے لگا رہے ہو فضل الرحمٰن کے اور پھر یہ کہ آپ پی ٹی آئی کی بات کر رہے ہیں ذرا یہ وضاحت تو کر لینا کہ وہ کس کی بات کر رہے ہیں، آپ پی ٹی آئی کی بات کر رہے ہیں یا آپ سہیل افریدی کی بات کر رہے ہیں، ذرا فرق کیجیے اس میں جی، اگر آپ پی ٹی آئی کی بات کر رہے ہیں تو پی ٹی آئی تو پرویز خٹک بھی تھا آج کہاں بیٹھا ہوا ہے؟ پی ٹی آئی تو محمود خان بھی تھا آج کہاں بیٹھا ہوا ہے؟ پی ٹی آئی تو عثمان بزدار بھی تھا آج کس کے گود میں ہے؟ پی ٹی آئی تو گنڈاپور صاحب بھی ہیں کچھ پتہ نہیں نہ ہیوں میں نہ شیوں میں، تو کس کی بات آپ کر رہے ہیں؟ یہ سارے تو آپ کے بنائے ہوئے لوگ تھے جو فیڈ کیے گئے تھے اور آج نتیجہ صاف ظاہر بتا رہا ہے کہ وہ کس کے گود میں بیٹھے ہیں وہ لوگ، تو اس کو بھی ذرا مدنظر رکھیں جب دوسرے کہ طرف ایک انگلی کرو گے تو چار انگلیاں تیرے طرف بھی ہوں گی اور پھر فوج کے خلاف گفتگو وہ میں نے کی ہے یا نواز شریف صاحب نے خود کی ہے، فوج کو محکمہ زراعت کس نے کہا ہے؟ جلسے میں جنرل باجوہ کا نام کس نے لیا تھا جی؟ اور مسلسل لیتے رہے ہیں جی، یہ محترمہ جو ہیں میری برخوردار ہے لیکن بہرحال انہوں نے جو اس زمانے میں فوج کے بارے میں اظہار رائے کیا ہے وہ بھی ذرا ریکارڈ پہ لے آئے نا جی، تو یہ ساری چیزیں وہ ہیں کہ اس کو ذکر نہ کیا جائے، میں نے کبھی بھی ادارے پہ تنقید نہیں کی ہاں میں پالیسی کی بات زیر بحث لاتا ہوں کہ یہ ملک کے مفاد میں ہے یا نقصان میں ہے، میں نے اگر بات کی ہے تو ملکی معیشت کی بات کی ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کیوں نہیں ہو رہی اور پڑوس میں کیوں ہو رہی ہے، اس کا جو کرائیٹیریا ہے قومی سطح پر، تو بطور طالب علم کے میں کوئی اکانومسٹ نہیں ہوں لیکن بطور طالب علم کے جو دوسرے سے سنا اور سمجھا ہے اس کرائیٹیریا کے مطابق وہاں پر کیوں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور ہمارے ہاں کیوں نہیں ہو رہی، ہمارے ملک کا سرمایہ کار ملک سے باہر پیسہ کیوں نکال رہا ہے؟یہ بدحالی جو میری ملک میں ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں پبلک میں بات نہ کروں، میں پریس کانفرنس میں نہ کروں، میں سیمینار میں نہ کروں، میں جلسہ عام میں نہ کروں تو میری آفر کو لینے کے قومی اسمبلی کا ان کیمرہ اجلاس بلائیں، پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلائیں، ہمیں سمجھاؤ تو سہی، نہ قوم کو اعتماد میں لیتے ہو، مسئلہ قوم کا ہے کہتے ہو قوم شریک ہو جائے دہشت گردی کے خلاف، قوم آئے اور ہمارے شانہ بشانہ کھڑی ہو جائے، قوم آئے اور لشکر بنائے، قوم آئے اور ہمارے مورچے میں ہمارے ساتھ بیٹھے، تو قوم کو اعتماد میں تو لو اور قوم کا فورم کون سا ہے سوائے پارلیمنٹ کے، کون سی بری بات میں نے کی ہے۔
صحافی: تو مولانا صاحب سعودیہ پر جو حملے ہو رہے ہیں اس کی آگ میں پاکستان لپیٹ میں آئے گا یا دیگر جو ممالک ہیں وہ بھی اس لپیٹ میں آ سکتے ہیں اور پاکستان کی جمہوریت کے حوالے سے آپ مستقبل کیا دیکھتے ہیں، عمران خان کا، باقی جماعتوں کا؟
مولانا صاحب: دیکھیے! جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے، پاکستان کا اول دن سے ایک انتہائی قابلِ اعتماد دوست ہے، اور پھر ظاہر ہے کہ اسے ایک تقدس بھی حاصل ہے۔ بھئی، مانا کہ وہ حرمین شریفین کی خدمت کر رہا ہے اور ضیوفُ الرحمٰن کی خدمت کرتا ہے، تو ان کے ان خدمات کی وجہ سے پوری دنیا کی امت مسلمہ کی عقیدت وہاں سے وابستہ ہے۔ سو اس اعتبار سے اگر سعودی عرب پر کوئی حملہ کرتا ہے اور پھر خاص طور پر چند دن پہلے جو ریاض میں ائیرپورٹ پہ حملہ ہوا، اس میں احرام کے اندر عمرہ ادا کرنے والے لوگ قطار میں کھڑے تھے اور یکدم شہید ہو گئے تو اس قسم کے اقدام کے ہم مذمت بھی کرتے ہیں، ہم سعودی قیادت کے ساتھ بھی کھڑے ہیں، سعودی عوام کے ساتھ بھی کھڑے ہیں، وہ پاکستان کا دوست ہے، میں ایک پاکستان کے دوست کو اس نظر سے نہیں دیکھتا کہ فلاں حکمران کا تعلق کیسے تھا، اس کی پالیسی کیا تھی، وہ اچھی تھی یا غلط تھی، لیکن دو یونین پاکستان اور سعودی عرب ایک دوست ممالک ہیں اور ہم ان دوستی کو اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اور حرمین کی تحفظ کے لیے ہم سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔
صحافی: مولانا صاحب اگر آپ کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دعوت دی جاتی ہے اور آپ کو دھرنے کی اجازت دی جاتی ہے، اور آپ اپوزیشن جماعتوں کی سربراہی کرے مارچ کی صورت میں، تو کیا آپ تیار ہیں اپوزیشن جماعتیں کی سربراہی کے لیے؟
مولانا صاحب: دیکھیے! یہ آپ کیوں کہہ رہے ہیں یہ وہی پارٹی خود کہے نہ مجھے، ان کے اور ہمارے درمیان ایسی کوئی بات چیت ہے ہی نہیں سرے سے، پارلیمنٹ کے اندر جائنٹ اپوزیشن کے حد تک ہم کمیٹڈ ہیں اس سے باہر ہماری کوئی کمٹمنٹ نہیں ہے، تو جو باتیں ہے ان کو کہنی چاہیے یا کرنی چاہیے وہ آپ کیوں یہاں کر رہے ہیں۔
صحافی: مولانا صاحب! یہ کہیے گا پی ٹی آئی کی کے پی میں گورنمنٹ تھی اب کہیں پہ گورنمنٹ میں نہیں ہے اور جو موجودہ صورتحال ہے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے وہ سیاسی سطح سے باہر ہوگئی ہے، جب بھی کبھی کوئی ایسی سیاسی پیچیدگی آئی ہے تو آپ کا کردار جو ہے وہ ہمیشہ ثالثی اور جوڑنے کا رہا ہے، اس صورتحال میں پی ٹی آئی اور دیگر جو اپوزیشن جماعتیں بھی ہیں وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، تو کیا کہتے ہیں؟
مولانا صاحب: آپ نے اچھا سوال کیا ہے، دیکھیے! میں تو عمرے سے آیا اور کوئی رابطہ میرا کسی کے ساتھ نہیں ہوا تھا کہ پی ٹی آئی کا وفد آیا اور انہوں نے کہا کہ آپ ثالثی کا کردار ادا کرے، پریس کانفرنس میں بات منظر عام پہ آگئی، اگلے روز حکومت کا وفد آیا، ہمارے سردار آیاز صادق صاحب سپیکر بھی ہیں، ہمارے لئے قابل احترام بھی ہیں، رانا ثناء اللہ صاحب، حضرت چودھدری صاحب، جس کے گھر میں ہم ہمیشہ پی ڈی ایم کی میٹنگیں کرتے رہے ہیں، تو انہوں نے بھی کہا کہ آپ اس میں مداخلت کریں، اب جب دونوں اطراف نے مجھے کہا کہ آپ مداخلت کریں تو پھر ماضی کی ساری باتیں ختم ہو گئیں اور پھر اگلے روز وزیراعظم صاحب نے مجھے باضابطہ دعوت دی اور حزب اختلاف اور پی ٹی آئی کے مکمل منڈیٹ کے ساتھ میں اس مذاکرات میں گیا، تو ہم نے مسئلے کے حل تلاش کر لیے، پی ٹی آئی کا ڈیمانڈ کیا ہے اور حکومت کا ڈیمانڈ کیا ہے، اب دونوں ڈیمانڈ ہمیں معلوم ہو گئے تو ہم نے منیج کرنا تھا اور ظاہر ہے جی کہ اب اس حوالے سے جو منیجمنٹ ہے وہ اب نہ پی ٹی آئی کے کہنے پہ ہوگی اور نہ حکومت کے کہنے پہ ہوگی، اب بیچ والے کے کردار کو تسلیم کرنا پڑے گا، چنانچہ اس حوالے سے جو ہم نے ایک دوسرے کو سیکھا سمجھایا پھر ہم نے پی ٹی آئی کو اعتماد میں لیا اور رات دیر ہو گئی تو ہمارے پرائم منسٹر صاحب رات جلدی سو جاتے ہیں اور صبح جلدی اٹھتے ہیں، تو میں صبح چھ بجے ان کے پاس گیا، میری باتوں کو بھی چھوڑے وہ اپنی باتوں کو بھی چھوڑ دے، میری گفتگو کی جو انہوں نوٹس لیے ہیں اور پھر ایک دفعہ لینے کے بعد کچھ اصلاح کی ہے انہوں نے، دوبارہ پوچھا مجھ سے اور پھر اصلاح کی اپنے نوٹس دے کر فیصلہ کر لے ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ، تو بات یہ ہے بنیادی کہ یہ بے اختیار حکومت ہے اور پھر یہ کہ آپ نے جو کہا نا کہ دہشت گردی اور دہشت گردی، اور اگر یہ دہشتگرد ہیں اور یہ دہشت گردوں کے ساتھی ہیں پھر خود کیوں مذاکرات کی ان کے ساتھ؟ اور پھر دونوں کے درمیان جو مذاکرات ہوئے ہیں دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ معاملہ طے ہو گیا تھا ہمارے درمیان، یعنی معاملہ طے ہونے پر کوئی اختلاف دونوں میں نہیں ہیں، صرف یہ ہے کہ ایک کہتا ہے اس نے بیک آؤٹ کیا ہے دوسرا کہتا ہے اس نے بیک آؤٹ کیا ہے، ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزام تو لگا رہے ہیں لیکن طے ہونے والی بات پر کوئی اختلاف نہیں ہے دونوں میں۔
صحافی: مولانا صاحب! آپ کو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی جو حکومت تھی وہ دہشت گردوں کی سہولت کار تھی؟
مولانا صاحب: دیکھیے! اس طریقے سے سیاسی باتیں کرنا یہ آپ میرے خیال میں ابھی تک ان مشکلات سے نہیں گزرے اور نہ آپ کو یہ اندازہ ہے کہ ریاست کتنے آگ سے گزرتی ہے آپ کے اس ایک سوال کے جواب میں، تو ذرا اس کی عمر میں جب آپ آئیں گے تو پتہ چلے گا کہ کہ سوال کیسے کیے جاتے ہیں۔
صحافی: مولانا صاحب! یہ بتائیں کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان یہ معاملہ کیسے طے ہوں گے کہ جب آپ وزیراعظم کے پاس بھی گئے، پی ٹی آئی بھی کہہ رہی ہے کہ گورنمنٹ کے ساتھ ہمارے مذاکرات ہوگئے تھے، ہم تو کہہ رہے تھے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، اس سے بات کروایا جائے، تو یہ کشیدگی کیسے ختم ہوگی؟
مولانا صاحب: اب تو انہوں نے جو کرنا تھا کر لیا، اب آپ مجھے بتائیں ایک صوبے میں گورنر راج لگا دیا اور اسی صوبے کے اندر ایمرجنسی لگا دی، اب اس کو زیر بحث لایا جا سکتا ہے کہ یہ دو فیصلے ایک صوبے میں کیوں ہوئے ہیں، اگر دہشت گردی وجہ ہے تو بلوچستان میں نہیں ہے پھر وہاں کیوں نہیں؟ کل کوئی وجہ بنا لیں گے جی سندھ میں، اب حضرت یہ ساری ایمرجنسیاں جو پاکستان کے تاریخ میں آئی ہیں یہ قدرت کی بات ہے کہ سب پیپلز پارٹی کے کھاتے میں آئی۔
صحافی: مولانا صاحب! یہ بتائیے گا کہ پی ٹی آئی قومی اسمبلی کو جعلی کہتی ہے اور وہ اسمبلیوں سے استعفے نہیں دے رہے ہیں، گورنر راج لگ چکا ہے آپ کا بھی یہی اشارہ ہے کہ یہ حکومت جو ہے وہ فارم سینتالیس کی پیداوار ہے، اس وقت جمہوریت ملک میں نہیں ہے آپ کے بقول اور پاکستان تحریک انصاف کے بقول، آگے اب ہونے کیا چار ہے آپ اسمبلیوں سے استعفے دے کر کیا احتجاج کرنے جا رہے ہیں، لانگ مارچ کرنے جا رہے ہیں، اور دوسری بات یہ ہے کہ محسن نقوی صاحب کہہ چکے ہیں کہ جو احتجاج کرے گا وہ جماعت بھی نہیں رہے گی اور پھر جماعت کے علاوہ جو اس پر پابندیاں بھی لگ جائے گی، تو آپ کا کیا لائحہ عمل ہے، کیا کرنے جا رہے ہیں؟ آپ کے مذاکرات کے حوالے سے جو باتیں آپ کر رہے ہیں وہ حکومت اون ہی نہیں کر رہی ہے۔
مولانا صاحب: دیکھیے! بات یہ ہے کہ آپ نے جس شخصیت کے حوالے سے سوال کیا اگر آپ اس شخصیت کا حوالہ نہ دیتے تو اچھا ہوتا اور میرا ضمیر یہ گوارہ نہیں کر رہا کہ میں اسے لوگوں کے جوابات بھی دوں۔
صحافی: مولانا صاحب! یہ فرمائیے گا آپ سے پہلا سوال، جس سے مجھے حوصلہ ملا ہے آپ نے ایوان اقبال میں کہا تھا کہ حکومت سے اختلاف کا مطلب ریاست کا چہرہ نوچنا نہیں ہوتا، کیا افریدی کی حکومت اس نہج پہ چل گئی تھی کہ وہ ریاست کا چہرہ نوچ رہی تھی؟ دوسرا سر! آپ ماشاءاللہ جمہوریت پسند اور آئین پسند ہیں، آپ کی بات کو کیوں متنازع بنایا جاتا ہے اور جو جواب دیتے ہیں کیا وہ آپ کے قد کاٹھ کے لوگ ہیں؟
مولانا صاحب: بات یہ ہے جی کہ جمعیۃ علماء اسلام جس وقت جو پنجاب میں انٹری کر چکی ہے اور جس طرح پنجاب کا عوام ہمارے جلسوں میں شرکت کر رہا ہے میرے خیال میں یہ ہضم نہیں ہو رہا ہے ان لوگوں سے، لیکن ان شاءاللہ اب ہم اگلے مہینے میں سرگودھا میں جائیں گے اور اس طرح ہی کانفرنس ہوں گے ان شاءاللہ
صحافی: پہلا سوال حکومت سے اختلاف کا مطلب ریاست کا چہرہ نوچنا نہیں، آپ کا بیان تھا کیا آپ آفریدی نے ریاست کا چہرہ نوچنا شروع کر دیا تھا؟
مولانا صاحب: دیکھیے! میں آپ سے عرض کر رہا ہوں کہ اگر ان کا یہ کہنا ہے کہ اگر دہشت گردی کے خلاف کوئی پالیسی بنانی ہے تو متفقہ بنائی جائے، تو اس کے لئے اگر ایوان کا ان کیمرہ اجلاس بھی بلا لیا جاتا اور تمام فریقوں کو اور صوبوں کو بھی بلا لیا جاتا اور ایک مشترکہ قسم کی تجاویز سب سے لی جاتی ہے اور پھر کمیٹیاں بنا کر اس کو ایک نتیجے پہ پہنچا دیتی ہیں تو یہی طریقہ کار ہوتا ہے، یہ کہ ایمپوز کرنا ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں یہ ریاست ہے، میں حضرت اس حوالے سے واضح طور پر کہہ دوں کہ میں ریاست کا ایک وفادار ہونے کے ناطے اور اس ریاست کے لیے اتنی قربانیاں دینے کے بعد اگر کوئی شخص مجھ پر جبر کرتا ہے تو میں اس سے اختلاف کرنے کا حق رکھتا ہوں۔
صحافی: سر! اگر کوئی قد سے بڑھ کر آپ پر تنقید کرتا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟
مولانا صاحب: اپنا قد بھی تو بڑھانا ہوتا ہے نا
بہت بہت شکریہ
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat
