قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا ملتان میں عظیم الشان مفتی محمود کانفرنس سے ولولہ انگیز خطاب
15 اکتوبر 2026
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعھم باحسان الی یوم الدین. أَمَّا بَعْد فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ. وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ. صَدَقَ اللَّهُ الْعَظِيمُ۔
جناب صدر محترم، اکابر علماء كرام، مشائخ عظام، میرے بزرگوں، دوستوں، اور میرے وطن کے سپوتوں! آج یہ عظیم الشان اور فقید المثال اجتماع پاکستان کے قدیم تاریخی اور روحانی شہر مدینۃ الاولیاء ملتان میں منعقد ہو رہا ہے اور ملتان کی تاریخ اور جس قلعہ میں ہم یہ اجتماع منعقد کر رہے ہیں یہ وہی مقام ہے جہاں محمد ابن قاسم نے فتح کے پرچم لہرائے تھے، جھنڈے گاڑے تھے، مولانا مفتی محمود مفکر اسلام اسی تاریخ کا تسلسل ہے، میرے قبلہ گاہ مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمود ایک ایسی تاریخ ہے کہ جس کی روشنی میں ہم نے آج کے اس اجتماع تک چھیالیس سال کا سفر طے کیا ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ آنے والی صدیوں تک ہمارے آنے والی مستقبل، ہمارے آنے والی نسلیں مفتی محمود کی رہنمائی سے روشنی حاصل کرے گی۔
میرے محترم دوستو! انہوں نے اپنی زندگی کا نصف حصہ ملتان کے سپرد کر دیا تھا، یہاں سے قرآن و حدیث کے علوم اور فقہ کے علوم برصغیر، افغانستان اور ایران تک اس کی روشنی پھیلی ہوئی ہے اور آج خطہ پنجاب اور اس کا سرائیکی وسیب بجا طور پر فخر کر سکتا ہے کہ اس بڑی شخصیت سے ان کو نسبت حاصل تھی اور اس بڑی شخصیت کو ان سے نسبت حاصل تھی۔
میرے محترم دوستو! قیام پاکستان کے بعد ہمارے اکابر علمائے کرام نے پاکستان کے مقصد وجود کو فراموش نہیں کیا، علامہ شبیر احمد عثمانی جو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کے رکن تھے انہوں نے قرارداد مقاصد کا مسودہ تیار کیا اور نواب زادہ لیاقت علی خان وزیر اعظم پاکستان نے اسی قانون ساز اسمبلی سے قرارداد مقاصد پاس کیا تھا، یہ صرف قرارداد مقاصد نہیں تھا، یہ نظریہ پاکستان کی وضاحت اور تشریح تھی، پاکستان کے علمائے کرام کے تمام مکاتب فکر کے اکابرین نے انیس سو اکیاون میں بائیس اسلامی دفعات طے کیے جو پاکستان میں نظام اسلام کے لیے رہنما وصول تھے اور میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ نے جب جمعیۃ علمائے اسلام کا منشور تیار کیا تو بائیس اسلامی دفعات کے ایک ایک دفعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے منشور کا حصہ بنایا اور مفتی صاحب جب پارلیمنٹ میں پہنچے اور سن تریہتر کا دستور بن رہا تھا تو قرارداد مقاصد کو آئین پاکستان کا حصہ بنا دیا تھا، یہ وہ کمٹمنٹ تھی اپنے عقیدے اور نظریے کے ساتھ اور پاکستان کے مقصد وجود کے ساتھ جنہوں نے ہر قدم پر اس کی لاج رکھی تھی اور وہ جس طرح فرمایا گیا:
کہ وہ اپنے زیست کے لمحوں کی لاج رکھتا تھا
وہ کل کو اپنے تصرف میں آج رکھتا تھا
وہ ایک مرد قلندر بھی کیا سکندر تھا
جو اپنے پاؤں کے ٹھوکر پر تاج رکھتا تھا
میرے محترم دوستو! آج جب ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قیام پاکستان کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے سب سے پہلے ان طبقات کی نشاندہی کی جو طبقات اس ملک کے اسلامی نظام کے راستے میں رکاوٹ ہیں، پاکستان کے مقصد وجود کے راستے میں رکاوٹ بننے والے طبقات کی نشاندہی کی اس میں جاگیردار شامل تھا، اس میں سرمایہ دار شامل تھا، اس میں بیوروکریٹ شامل تھا اور اپنی سیاست کا آغاز کیا، ان طبقوں کو نشانہ بنایا اور جہاں تک ان کا بس چل سکتا تھا ان کے غرور کو خاک میں ملایا اور ان کے تکبر کو زمین بوس کیا اور سردار، خان، نواب، وڈیرہ جاگیردار، سرمایہ دار، اس کو احساس دلا دیا کہ پاکستان پر تمہیں حکومت کرنے کا حق نہیں، پاکستان پر راج ہوگا تو غریب عوام کا ہوگا، مسکین عوام کا ہوگا اور قوم کے اندر اس شعور کو بیدار کیا۔
یہ ایک وقتی نعرہ نہیں تھا، ایک لمحے کے لیے اور صرف اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے لیے انہوں نے ایک نعرہ لگایا، عوام کو جوش دلایا اور اقتدار کی کرسی پر پہنچنے کے بعد وہ جوش، جذب اور ولولہ سرد ہو گیا، انہوں نے قوم کو ہمیشہ کے لیے ایک نظریہ عطاء کیا، جب آئین بنا تو اس آئین میں مفتی صاحب نے سب سے پہلے بنیاد یہ رکھی کہ اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہوگا، تمام قوانین قرآن و سنت کے تابع ہوں گے اور کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنے گا۔ یہاں ہمارے کچھ سیکولر فکر کے لوگ وہ یہ سوال اٹھاتے تھے کہ یہاں تو فرقہ بندی ہے، کس مسلک کا اسلام؟ سنی کا اسلام یا شیعہ کا اسلام، دیوبندی کا اسلام یا بریلوی کا اسلام، وہابی کا اسلام، کس کا اسلام اس ملک میں ہونا چاہیے؟ مفتی صاحب کی قیادت میں آئینی طور پر اسلامی نظریاتی کونسل تشکیل دی گئی اور اس اسلامی نظریاتی کونسل میں آئینی ماہرین شامل، قانون کے ماہرین شامل، شریعت کے ماہرین شامل، اور تمام مکاتب فکر کی نمائندگی تھی۔ جب تمام طبقات کے اور تمام مکاتب فکر کی نمائندے اکٹھے ہوئے اور انہوں نے اسلامی قانون سازی کے لیے سفارشات مرتب کئے، آج انیس سو تریہتر کے بعد دو ہزار چھبیس ہے اور اس تمام دورانیے میں اسلامی نظریاتی کونسل نے سفارشات مرتب کئے ہیں، تمام قوانین کا جائزہ لیا ہے اور نناوے فیصد سفارشات متفقہ ہیں، تمام مکاتب فکر اسلامی قانون سازی کے لیے ایک آواز ہے، قرارداد مقاصد بھی متفقہ، بائیس اسلامی دفعات بھی متفقہ، آئین کے اسلامی دفعات بھی متفقہ، اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات بھی متفقہ، کونسل کے اندر بھی تمام مکاتب فکر کا اتفاق، کونسل سے باہر بھی تمام مکاتب فکر کا اتفاق، پھر کیا معنی ہے کہ آج بھی قانون سازی شریعت کے مطابق نہیں ہو رہی؟ تو معلوم ہوا اور سارے دنیا کو معلوم ہونا چاہیے، سیکولر دنیا کو معلوم ہونا چاہیے، ان جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو معلوم ہونا چاہیے، اس بیوروکریسی کو معلوم ہونا چاہیے، اس اسٹیبلشمنٹ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام کے راستے میں ملا رکاوٹ نہیں، اسلام کے راستے میں مذہبی اختلاف رکاوٹ نہیں، اسلام کے لئے اگر کوئی رکاوٹ ہے تو تمہارے اقتدار کی لالچ اور تمہارے دنیا کے مفادات رکاوٹ ہیں۔
ہم تمہیں جانتے ہیں، تمہارے خمیر کو جانتے ہیں، تمہارا خمیر انگریز کی سیاست سے بنا ہے، تم انگریز کے وارث ہو اور ہم برصغیر کی آزادی کی سپوتوں کے وارث ہیں۔ ہم اپنی تاریخ کو جانتے ہیں اور تم بھی اپنی تاریخ کو جانتے ہو، لیکن ہم نے امن کا راستہ اختیار کیا، ہم نے سیاسی راستہ اختیار کیا، ہم نے جمہوریت کا راستہ اختیار کیا، ہم نے پارلیمنٹ کا راستہ اختیار کیا اور آج آپ بھی دیکھ رہے ہیں اور دنیا بھی دیکھ رہی ہے کہ پارلیمانی سیاست کو، جمہوری سیاست کو، عوام کی سیاست کو اگر سبوتاژ کر رہی ہے تو وہ کون سے قوت ہے، اب یہ باتیں کوئی مخفی نہیں رہی ہیں، ایک طاقتور قوت اپنی ذات میں طاقت کے ارتکاز کے ساتھ تمام عوامی اور سول اداروں کی اختیارات کو اپنے اندر مرتکز کرنی کی کوشش کر رہی ہے، یہ روش ٹھیک نہیں ہے، آپ اتنا زیادہ بار اختیار اپنے کاندھوں پر لاد رہے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں بہت قریب ہے جب تم خود اس دباؤں کے نیچے دب جاؤگے اور اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکو گے، ملکی سیاست میں ہم توازن کے قائل ہیں، ہم کسی کی نفی نہیں کر رہے، فوج کا ادارہ بھی ناگزیر، بیوروکریسی بھی نا گزیر، تاجر طبقہ بھی نا گزیر، کاروباری طبقہ بھی نا گزیر، مزدور طبقہ بھی نا گزیر اور پارلیمانی اور جمہوری سیاست بھی نا گزیر، لیکن سب اداروں کے بیچ میں توازن ہونا چاہیے تب جا کر ملک چلے گا۔
میرے محترم دوستو! آج ذرا مطالعہ کیجئے جب پاکستان بنا تو آج مختلف لوگ ہیں اپنے اپنے خیالات کے اعتبار سے وہ اپنی اپنی تعبیر کر رہے ہیں، اپنی اپنی تشریح کر رہے ہیں، کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ملک اسلام کے لیے بنا تھا، کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں یہ ملک معاشی آزادی کے لیے بنا تھا، کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ ملک جمہوریت کے لیے بنا تھا، آپ ان تینوں جذبات کو، تینوں نظریات کو، تینوں احساسات کو، سامنے رکھتے ہوئے اپنے آسی سالہ تاریخ پر نظر دوڑائیں، کیا یہ ملک آسی سال میں اسلامی بن سکا؟ اور کیا یہ ملک آج آسی سال کے بعد معاشی خوشحالی حاصل کر سکا؟ جو ہم کہتے تھے ہمارا وطن ہوگا، آزاد وطن ہوگا اور ہم مسلمان آزادی سے اپنے مذہب پر عمل کریں گے، ہماری معیشت آزاد ہوگی، ہندو سے آزادی حاصل کریں گے، وہ بنیاں جو میری معیشت کو قبضے میں رکھے گا ہم اس سے جان چھڑاتے ہیں، تو جان چھوٹ گئی، انگریز بھی چلا گیا ہندو بھی وہاں رہ گیا لیکن آج اس ملک میں آپ ہی کے ہاتھوں نہ تو اسلام کا نظام مکمل ہو رہا ہے، نہ معیشت ہماری بہتر ہو رہی ہے اور نہ جمہوریت محفوظ ہے۔ ہر دور میں طاقتور قوتوں نے جمہوریت پر شب خون مارا ہے اور پاکستان کو آمریت کی طرف دھکیلا ہے۔
تو یہ تینوں لوگ بھی آج پاکستان میں محروم ہیں اور تینوں لوگ ایک ہی قوت کے خلاف مدعی بنے ہوئے ہیں، کیوں اس طرف جا رہے ہو؟ کیا ضرورت ہے ملک کو اس مایوسی کی طرف دھکیلنا؟ اس محرومی کی طرف دھکیلنا، اس محکومی کی طرف دھکیلنا، اس ملک میں چار صوبے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے آئین میں چاروں صوبوں کی خودمختاری کی بات کی ہے، کس بات کی خودمختاری؟ یہ کوئی کنفیڈریش نہیں ہے کہ کوئی یونٹ جب چاہے آزادی حاصل کرے اور الگ ہو جائے، یہ فیڈریشن ہے کہ جس فیڈریشن کے تحت تمام یونٹیں اور تمام صوبے اپنے وسائل پر اختیار رکھتے ہیں، اپنی قانون سازی پر اختیار رکھتے ہیں، لیکن ہر چند کے آئین صوبوں کو اختیار دیتا ہے، صوبوں کے عوام کو اختیار دیتا ہے اور ہر صوبے کے وسائل پر وہاں کے عوام وہاں کے بچوں کے حق کو تسلیم کرتا ہے لیکن جب بھی دیکھا، جب بھی دیکھا صوبوں کے اختیار پر شب خون مارا گیا، مجھے یاد ہے جب انیس سو تریہتر میں بلوچستان حکومت توڑی گئی اور وہاں گورنر راج نافذ کیا گیا وہ بھی پاکستان پیپلز پارٹی جو کہتی ہے کہ جمہوریت میری شناخت ہے، جس جماعت کی شناخت جمہوریت ہے اسی نے سن ستر کے الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا، اسی نے بنگال کی اکثریت کو تسلیم نہیں کیا، اسی نے بٹے ہوئے پاکستان کے اندر بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر دیا اور صوبہ سرحد میں راتوں رات گورنر کو تبدیل کر دیا اور اس کے نتیجے میں مولانا مفتی محمود تھا جس کے ضمیر نے گوارا نہ کیا کہ ایک لمحے کے لیے بھی مزید حکومت جاری رکھے اور اپنی وزارت کے منصف سے استعفیٰ کا اعلان کر دیا، اور ماشاءاللہ جب بھی کسی صوبے میں گورنر راج لگا ہے پنجاب میں لگا، بلوچستان میں لگا، خیبر پختونخواہ میں لگا، جب بھی لگا یہ جمہوریت کی علم بردار پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے نامدار سربراہ آصف زرداری ہی کی قسمت میں آیا۔
یہ ہماری تاریخ ہے ہمارے درمیان بعض دفعہ اتفاق بھی ہوتا ہے لیکن بہرحال یہ تاریخ ہے اس کو تنقید نہ سمجھا جائے، اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا جائے کہ آج ایک بار پھر صوبہ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج نافذ کیا گیا، لیکن ذرا اس گورنر راج کا جائزہ تو لے لیں ایک صوبہ ہے آدھے میں گورنر راج اور آدھے میں ایمرجنسی، اب آپ مجھے ایک بات بتائیں دو ہزار سترہ میں جب فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جا رہا تھا تو ہم نے ایک اختلاف رائے کیا تھا، اس بات پر نہیں کہ ضم نہیں کیا جانا چاہیے ہم نے انضمام کی مخالفت نہیں کی تھی، ہم نے یہ کہا تھا کہ یہ قبائلی عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، انضمام بھی ایک صورت ہو سکتی ہے، مستقل صوبہ بھی ایک صورت ہو سکتا ہے اور جس صورتحال میں چلا آ رہا ہے اس کو برقرار رکھنا بھی ایک صورت ہے، ان تینوں صورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے فاٹا کے عوام سے پوچھا جائے، لیکن فاٹا کے عوام سے نہیں پوچھا گیا، میاں نواز شریف صاحب کے ذہن میں انضمام یہ فاٹا کے عوام کے فائدہ میں تھا، وہ صوبہ بن گیا اس صوبہ کے پہاڑ اور اس پہاڑوں کے نیچے معدنی ذخائر زخائر وہ صوبہ خیبر پختونخوا کی ملکیت بن گئے، انضمام کے بعد ان تمام ذخائر اور وسائل پر صوبہ کے عوام کا حق ثابت ہو گیا، آج کیا وجہ ہے کہ پورے صوبہ میں گورنر راج نہیں لگایا جا رہا اور صرف قبائلی علاقہ سابق فاٹا اور چار ضلعے صرف یہ بتانے کے لیے یہ دھوکہ دینے کے لیے قوم کو کہ یہاں تو بدامنی ہے، تو فاٹا میں بھی بدامنی ہے، تو ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی بدامنی ہے، تو ٹانک میں بھی بدامنی ہے، لکی مروت میں بھی بدامنی ہے، بنوں میں بھی بدامنی ہے، یہ صرف آپ کو دکھانے کے لیے کہ ہم نے یہ سارا کام بدامنی کی وجہ سے کیا ہے، اگر بدامنی ہی وجہ ہے تو آج کل تو آپ کو کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں زبردست مار پڑ رہی ہے اس کو کیوں باہر رکھا ہے؟
تو آپ کی چوری ہم جانتے ہیں، بدامنی کی بات کرتے ہو، دہشت گردی کی بات کرتے ہو، اگر بات بدامنی کی ہے تو بلوچستان کے حالات خیبر پختونخوا سے زیادہ خراب ہیں، اگر گورنر راج اس لیے لگایا جا رہا ہے کہ بدامنی ہے، اگر ایمرجنسی اس لیے لگائی جا رہی ہے کہ بدامنی ہے تو پھر اس کا زیادہ حقدار اگر کوئی بن سکتا تھا تو وہ تو صوبہ بلوچستان بن سکتا تھا، بلوچستان میں اس لیے نہیں لگا رہے کہ وہاں کا وزیر اعلیٰ آپ کا مدح سرا اور آپ کا حدی خوان ہے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں اپوزیشن کی حکومت ہے، بات پی ٹی آئی کی نہیں ہے، بات ایک کا اصول کی ہے کہ جہاں اپوزیشن کی حکومت ہو آپ وہاں پر ان کی حکومت کو اڑانے اور وہ فاٹا جس کے ذخائر و وسائل صوبے کا حصہ بن چکے تھے آپ نے ایمرجنسی لگا کر ان کے تمام وسائل کو وفاق کے تابع بنا دیا ہے، کل جس ہاتھ سے آپ نے ان کو کچھ دیا تھا آج دوسرے ہاتھ سے آپ نے واپس چھین لیا ہے۔ یہ ملک تمہاری ملکیت ہے؟ تمہارے باپ دادا کی ملکیت ہے؟ یہ عوام تمہارے نوکر ہیں؟ عوام تمہیں جانور نظر آتے ہیں؟ جیسا چارہ چاہو ان کے سامنے ڈال دو، یاد رکھو! آپ کے اس غیر جمہوری اور جابرانہ اقدام اس کا مقابلہ کوئی پارٹی نہیں کرے گی، ان شاءاللہ جمعیۃ علماء اسلام ایسے اقدامات کے مقابلے میں میدان میں رہے گی اور آج ملتان کا اجتماع آپ کے فیصلے پر عدم اعتماد کر رہا ہے اور ان شاءاللہ 26 نومبر کو سرگودھا میں اتنا ہی بڑا اجتماع پنجاب کے عوام کی طرف سے آپ کے ان ناپاک فیصلوں کا مقابلہ کرے گا۔
جب میں نے جناب شہباز شریف صاحب سے پوچھا کہ آپ لانگ مارچ کو روک رہے ہیں اور پوری قوت کے ساتھ روکنا چاہتے ہیں اور لانگ مارچ آئے گا تو پھر آپ ریاستی طاقت سے اس کو واپس کریں گے، گولی چلائیں گے، سو دو سو لوگوں کو شہید کریں گے، کس کے بدلے میں؟ مسئلہ کیا ہے؟ اس بات پر کہ وہ ملاقات چاہتے ہیں، وہ اپنے لیڈر کی علاج کے لیے اسپتال لانا چاہتے ہیں، اس مطالبے پر آپ سینکڑوں لاشیں بچھائیں گے، کس طرح سوچتے ہو تم لوگ سمجھ میں نہیں آتی بات اور پھر میرے استدلال کو تسلیم کرنے کے باوجود، میں تو آپ سے سات بجے چلا گیا تھا صبح اور نو بجے دو گھنٹے کے اندر اندر آپ پھر گئے، اتنے مجبور حکمران ہو تم، مجھے خدا اتنا مجبور حکمران نہ بنائے، میں ایسے گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے تیار نہیں جس کے لگام میرے ہاتھ میں نہیں ہوں گے، آپ جعلی حکومت ہیں، آپ ہارے ہوئے لوگ ہیں، جو لوگ آپ کو دھاندلیوں کے ذریعے اقتدار میں لائے ہیں یہ کرسی انہی کی مرہون منت ہے اور آپ حق نمک ادا کر رہے ہیں اور کچھ نہیں ہے کوئی حکومت نہیں ہے ان کے پاس۔
تو میرے محترم دوستو! آج ہمیں ان تمام حالات کی طرف دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم اس ملک اور وطن عزیز کو ان کے حوالے کر دیں؟ جیسے ہماری قسمت کے ساتھ کھیلتے رہیں گے، جس طرح ہمارے نظام کو تل چٹ کرتے رہیں گے، ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا اور میں یہ واضح طور پر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ:
ابھی آنکھوں کے شمعیں چل رہی ہیں، پیار زندہ ہے
ابھی مایوس مت ہونا، ابھی بیمار زندہ ہے
ہزاروں زخم کھا کر بھی میں ظالم کے مقابل ہوں
خدا کا شکر ہے، اب تک دل خوددار زندہ ہے
کوئی بیعت طلب جا کر خبر دے کہ میں زندہ ہوں
جب تک جرات انکار زندہ ہے
میرے محترم دوستو! یہ ہے وہ مشن، یہ ہے وہ فکر، یہ ہے وہ نسب العین جو مفکر اسلام نے امت کو عطا کیا، آج ملک معاشی لحاظ سے تباہ حال ہو چکا ہے، آج آسی سال کے بعد پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ ہندوستان کہاں کھڑا ہے؟ بنگلہ دیش کہاں پہنچ گیا ہے؟ ایران تمام تر مشکلات کے باوجود اپنی معیشت پر قابو پائے ہوئے ہیں، افغانستان چھیالیس سال سے جنگوں کی آماجگاہ بن کر بھی وہ افغانستان جہاں پاکستان کا نو سو پاکستانی روپیے کی قیمت ایک لاکھ افغانی کی ہوا کرتی تھی آج وہ افغانی، آج وہ افغانی وہ پینسٹھ اور ستر روپے کے درمیان ڈالر کے مقابلے میں ہے اور آپ دو سو آسی روپے تک جا کر ڈالر کے مقابلے میں، بھوک اور پیاس ہے، کل میں خبر سن رہا تھا کہ کراچی میں ایک خاندان نے جہاں ماں باپ اور تین بچے لٹک گئے اور خودکشی کر لی ایک ہی بات تھی کہ وہ بھوکے تھے اور مزید وہ زندگی برداشت نہیں کر سکے، بچوں کی بھوک برداشت نہیں کر سکے، قوم یہاں تک پہنچ گئی ہے تمہاری وجہ سے، کہتے ہیں معیشت میں ترقی کے اشارے مل رہے ہیں کہ اشارے رکھو اپنے جیب میں، ہمیں غریب کا روزگار چاہیے، مہنگائی کے ہاتھوں کمر ٹوٹ گئی ہے قوم کی، بڑے بڑے بنگلوں میں اور بڑے بڑے عالیشان کوٹھیوں میں بیٹھ کر عیاشیاں کرنا آسان ہے، ذرا آؤ تو صحیح، ذرا میرے صوبے میں آؤ، کیا کوئی پرامن شہری گھر سے باہر نکل کر اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے؟ آپ کہتے جی ہم لڑ رہے ہیں میں کہتا ہوں ٹھیک ہے آپ لڑ رہے ہیں میں نے کب انکار کیا، لیکن جمعیۃ علماء اسلام کے ڈھائی سو علماء کرام اور کارکن اس تمام بحران میں شہید ہو چکے ہیں، کس قیمت پر؟ صرف اسی قیمت پر کہ ہم ملک کے ساتھ کھڑے ہیں، علماء کرام کی قربانیاں اسی لیے ہے کہ وہ پاکستان کے آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے ہیں، ملک کے آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، اس کی سزا ہمیں مل رہی ہے۔ اگر تمہیں اپنی قربانیوں کی قدر ہے اور مجھ سے آپ کا مطالبہ ہے کہ میرے قربانیوں کی قدر کرو، میں آپ کی قربانیوں کی قدر کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن میرے شہداء کی قدر کرنا کیا یہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے؟ آپ کا سپاہی شہید ہوتا ہے تو میں اس کے لیے رو رہا ہوں، لیکن جب میرا کارکن شہید ہوتا ہے تو تمہاری ہونٹوں پر مسکراہٹ ہوتی ہے، تمہاری آنکھوں میں آنسو کا ایک قطرہ بھی نہیں آتا، ہم آپ کو اس وطن کا شہری سمجھتے ہیں آپ ہمیں کوئی بیگانہ سمجھ رہے ہیں، تعاون ہو معاونت ہو یہ دو طرفہ ہوا کرتا ہے یک طرفہ نہیں ہوا کرتا اور ایک سیاسی جدوجہد ہے یہ آج کا اجتماع، یہ آج کا جمعیۃ علماء یہ کوئی اسٹیبلیشمنٹ کی بنائی ہوئی جماعت نہیں ہے کہ آج بن جائے اور کل اقتدار تک پہنچ جائے، ہم نے وہ جماعتیں دیکھی ہیں جو ایک دن بنتی ہے اور ہفتے کے بعد اقتدار تک پہنچ جاتی ہیں، آسی سال کے مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں آج جمعیۃ علماء اسلام، میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ پاکستان کی سب سے بڑی عوامی قوت ہے اور کسی پارٹی کے بعد بیک وقت اتنے لوگ جمع ہونے کی نہیں ہے جو آج جمعیۃ علماء کے پاس موجود ہیں۔
یہ آپ کی حکمت عملی ہے ہندوستان کے ساتھ لڑائی پوری مشرقی سرحد بند ہو گئی، افغانستان کے ساتھ لڑائی پوری مغربی سرحد بند ہو گئی، تجارت بند ہو گئی، لوگوں کے روزگار اور کاروبار تباہ ہو گئے، چین ہمارے اوپر اعتماد ختم کر چکا ہے، اور میں کہتا ہوں اگرچہ ابھی تک آن ریکارڈ کوئی بات نہیں ہے، باضابطہ پر کوئی بات نہیں ہے لیکن تم نے جو ایمرجنسی لگائی ہے فاٹا کے علاقوں پر یہ وہاں کے معدنی ذخائر پر قبضہ ہے اور صرف قبضہ ہی نہیں امریکیوں کے ساتھ جو تم نے سودے کیں ہیں اور جس طرح ہماری سرزمین پر ہمارے وسائل کا مالک تم امریکہ کو بنا رہے ہو اور ان کے سرمایہ کاری کے لیے راستے کھول رہے ہو اور اس کے بدلے میں اگر کچھ سکے آپ کو مل جائیں اور آپ اکتفا کرنے کی طرف جا رہے ہو، یاد رکھو! یہ سیاست اب ہمیں قبول نہیں ہے اور چین اور روس کو اس پر تحفظات ہیں، منطقے میں آپ باہر کی قوتوں کو لا رہے ہیں میں کہتا ہوں ملٹی نیشنل کمپنی آتی ہیں، امریکہ میں بھی جاتی ہیں، یورپ میں بھی جاتی ہیں، چائنا میں بھی جاتی ہیں، روس میں بھی جاتی ہیں، سرمایہ کاری کرتی رہتی ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے لیے لوگ آ رہے ہیں اور پاکستان سے سرمایہ کار اپنا پیسہ باہر لے جا رہے ہیں؟ سرمایہ کاری کے لیے سب دنیا دو تین چیزوں کو دیکھتی ہے سب سے پہلی بات یہ کہ جہاں کوئی امن ہو، سیکیورٹی ہو، تو وہاں پر وہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ نمبر دو یہ کہ وہاں پر معاہدات اور معاملات میں شفافیت ہو تو وہاں جا کر وہ سرمایہ کاری کرتے ہیں اور تیسری بات ہے کہ جس ملک میں قانون کی حکمرانی ہو وہاں پر لوگ جا کر سرمایہ کاری کرتے ہیں، ان تین حوالوں کو سامنے رکھتے ہوئے آپ اپنے آپ سے خود سوال کریں کہ ان تین باتوں کے ہوتے ہوئے افغانستان میں کیوں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور پاکستان میں کیوں نہیں ہو رہی؟ اور ہمارا اپنا پاکستانی سرمایہ کار اپنا سرمایہ باہر کیوں لے جارہا ہے؟ ان کی معیشت کو تباہ و برباد کر دیا تم لوگوں نے اور نخرے کر رہے ہو کہ ہم ملک کو بچا رہے ہیں، تم تو مجھے یاد ہے بہت سے نوجوانوں کو پتہ نہیں ہوگا جب پاکستانی فوج پلٹن میدان میں ڈھاکہ میں سرنگوں ہو رہی تھی اور اسلحہ رکھ رہی تھی تو اس سے ایک دن پہلے جنرل آغا محمد یحییٰ خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ہم لڑیں گے، گلی گلی کوچے کوچے لڑیں گے، کارخانوں میں لڑیں گے، پہاڑوں میں لڑیں گے، جنگلوں میں لڑیں گے، میدانوں میں لڑیں گے اور نہیں جھکیں گے اور یہ بات اس وقت کہہ رہا تھا جب ہماری فوجیں اسلحہ رکھ کر پلٹن میدان میں داخل ہو رہی تھیں، مجھے تمہاری تاریخ معلوم ہے اور پھر اس یحییٰ خان کو فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا، تمہیں شرم نہیں آئی ہے اس وقت؟ آج پھر اس تاریخ کو دہرا رہے ہو، آج اس جانب بڑھ رہے ہو اور ہم ملک کی سلامتی پاکستانی ہو کر آپ کے رحم کرم پہ چھوڑ دیں، ہماری نظر ہے ہم قوم کو شعور دے رہے ہیں، قوم کو آگاہی دے رہے ہیں کہ ان حالات پہ نظر رکھو، یہ آپ کے وطن کے ساتھ ہو رہا ہے، ملک کے ساتھ ہو رہا ہے اور ان حالات میں بھی یہاں پاکستان میں ہم نے بڑے بڑے لوگوں کو دیکھا، سنا جو اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ یہ جمعیۃ علماء کی طاقت ہیں جس نے میدان میں اتر کر اس فکر اور اس نظریہ کا راستہ روکا، آج ستر آسی ہزار فلسطینی صہیونیوں کو ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں، ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں اور بھوک اور بیماری کی وجہ سے شہید ہو چکے ہیں، ان بدلتے ہوئے حالات سے ہم ذاتی دشمنی نہیں کیا کرتے، ہم ہر بات کو مستقل نظر سے دیکھتے ہیں، جب آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا تو جمعیۃ علماء اسلام نے سب سے پہلے اس کو تائید کی، جب ترکی اس پر شامل ہوا تو ہم نے اس کی تائید کی، اس لیے کہ جمعیۃ علماء اسلام کا منشور ایک اسلامی بلاک کی بات کرتا ہے وزارت خارجہ کے اصول کی روشنی میں لیکن وہ راستہ بھی رک گیا اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ جس ایران نے اس اتحاد میں شامل ہونا تھا وہ عمل رک گیا ہے، جس مصر نے اس اتحاد میں شامل ہونا تھا وہ سلسلہ رک گیا ہے اور سعودی عرب پر حملے ہو رہے ہیں، حرمین پر حملے ہوئے ہیں، مدینہ منورہ پر راکٹ آئے ہیں، مکہ مکرمہ پر راکٹ آئے ہیں اور پرسوں ترسوں ریاض میں ہوائی اڈے پر راکٹ آئے اور احرام کے اندر عمرہ کرنے والے لوگ جو قطار میں کھڑے تھے شہید ہو گئے، ایسے حالات میں ہم اس قسم کے جارحانہ حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور سعودی حکومت ہو یا عوام ہو ہم ان کے ساتھ یک جہتی کا اعلان کرتے ہیں اور حرمین اور شریفین کے تحفظ کے لیے اپنی جان کے نذرانوں کو پیش کرنے کے لیے بھی ان شاءاللہ سب سے آگے ہوں گے۔
تو ہماری خارجہ پالیسی بڑی واضح ہے کہ پاکستان کے مفادات کے گرد گھومنی چاہیے، آج پاکستانی مفادات ہماری خارجہ پالیسی کی زد میں ہے، وہ خارجہ پالیسی جہاں اپنے ملک کے مفادات روندھے جائیں اور تباہ و برباد ہوں کس طرح ہم خاموش رہ سکتے ہیں، کس طرح ہم خاموش رہ سکتے ہیں، تو خطے میں پاکستان کو اُس کا حقیقی مقام دینا، اسلامی دنیا میں پاکستان کو اُس کا اعلیٰ مقام دینا، پاکستان کو معاشی ترقی کے راہ پہ گامزن کرنا اور مفاد پرست طبقے سے پاکستان کی معیشت کو آزاد کرنا یہ جمعیۃ علماء کی آواز ہے اور ان شاءاللہ ہم اصول کی جنگ لڑتے رہیں۔
تو میرے محترم دوستو! یہ بات آپ ذہن میں رکھیں کہ:
کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لئے
کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لئے
مقتل شہر میں ٹھہرے رہے ہجرت نہیں کی
ہم کے دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیں
ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی
ان شاءاللہ العزیز یہ سفر جاری رہے گا، امن عالم کانفرنس کی لئے راشد سومرو صاحب نے بھی اور مولانا حیدری صاحب نے بھی آپ کو بتایا ان شاءاللہ یہ بہت بڑی عوامی قوت ہوگی امن عالم کانفرنس اور 26 نومبر کو ان شاءاللہ سرگودھا میں بڑا جلسہ عام ہوگا اب یہ سفر چل پڑا ہے اور قصور کی ایک بستی سے شروع ہوا ملتان تک پہنچا، اب ملتان سے سرگودھا ہوگا اور آگے کا فیصلہ جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کرے گی اللہ تعالی ہماری رہنمائی فرمائے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat
