قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا مرکزی مجلس عمومی کے دو روزہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو
21 ستمبر 2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمده و نصلی على رسوله الكریم۔
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس عمومی یا آپ اسے مرکزی جنرل کونسل کہیں اُس کا دو روزہ اجلاس 19 اور 20 ستمبر پشاور میں منعقد ہوا۔ اُس اجلاس میں جو امور زیر غور آئے اور ملک کے اندر کی صورتحال اور خطے کی صورتحال پر جہاں جماعت نے اپنا موقف طے کیا آج ہم وہ آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔
ملک میں بد امنی کی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا اور خاص طور پر دو صوبوں کے اندر بد امنی کی صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ ہماری مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس جو کراچی میں طے تھا لیکن بلوچستان کے حضرات وہ کہہ رہے تھے کہ ہم اپنے راستوں سے وہاں اجلاس میں نہیں پہنچ سکیں گے، جس کی وجہ سے ہم نے وہ اجلاس پشاور کی طرف منتقل کیا، کبھی آج تک ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے امن و آمان کی وجہ سے، راستوں کے غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے اپنا اجلاس ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں منتقل کیا ہو، اسی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملک کے اندر کی داخلی صورتحال امن و آمان کے حوالے سے کس حد تک پہنچ چکی ہے۔ ہم بار بار اس بات کا اظہار تو کرتے رہے ہیں کہ دو صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے اور سندھ میں بھی جائیں تو وہاں بھی ڈاکو کا راج ہے اور سٹریٹ کرائمز ہیں، اب بلوچستان میں دن دہاڑے بینک لوٹے جاتے ہیں اور بینک سے باہر سڑک کے کنارے پیسے تقسیم کیں جاتے ہیں، گٹھلیاں باندھی جاتی ہیں اور کوئی نظام نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک کے بینکوں کو تحفظ دے سکیں، شہریوں کو تحفظ دے سکیں۔ کل ہمارے ایک سینیٹر عبدالشکور خان اچکزئی وہ سینیٹ کے پریویلج کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں اور اس کے باوجود ان کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا اور چین کے جانے کا طے شدہ پروگرام اس پر وہ سفر نہیں کر سکے، پتہ نہیں کون سی قوتیں ہیں ہمارے صوبے میں تو باقاعدہ منسٹرز ان کو گاڑیوں سے اتار دیا جاتا ہے، مسلح لوگ آتے ہیں ان کے گاڑیوں کے ٹائر پر فائرنگ کرتے ہیں اور منسٹروں کو اٹھا دیا جاتا ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی حکومت کہیں پر بھی موجود نہیں ہے، طاقتور ادارے اس وقت حکومت کر رہے ہیں، جہاں مرضی ہو جس کے ساتھ جو رویہ اختیار کریں، نہ وہ کسی آئین کے پابند ہیں، نہ وہ کسی قانون کے پابند ہیں، یہاں تک کہ وہ کسی اخلاق کی بھی پابند نہیں ہیں۔
تو ایسی صورتحال میں ظاہر ہے کہ قوم کا تشویش میں ڈوبنا ایک فطری بات ہے، ملک میں قرضوں کا دباؤ، اگر ہم پچھلی حکومت سے شکایت کرتے تھے کہ انہوں نے ملک کی قرضے دو گناہ بڑھا دیے، تو آج جو ہمارے کنٹینروں پر اس پر تنقید کرنے والے تھے حکومت کر رہے ہیں اور یہاں پر قرضوں کا دباؤ اس سے بھی کہیں زیادہ آگے بڑھ گیا ہے، مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے اور یہاں تک کہ اب لوگ کہیں پر اپنا مداوا بھی نہیں دیکھ رہے، کہاں روئے، کس کے سامنے روئے، نہ کوئی حکومت ہے اور جو حکمران ہیں نہ ان کی آنکھیں ہیں، اور نہ ان کے کان ہیں، نہ وہ دیکھ رہے ہیں اور نہ وہ سننے کے لئے تیار ہیں، بس طاقت کا استعمال ہے، اندھا دھند طاقت کا استعمال، کہاں ملک کو پہنچانا چاہتے ہیں؟
ابھی اسلام آباد میں چند روز بعد کچھ جماعتوں نے مظاہروں کا اعلان کیا ہے پورے اسلام آباد کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا ہے، پاکستان کے دارالخلافہ کا جو تصور ہے دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے اور ہم ہیں کہ ہم نے کسی کو بھی احتجاج کرنے کا حق نہیں دینا، اظہار رائے کا حق نہیں دینا اور پھر جب لوگوں کو آپ آواز بند کر دیتے ہیں اور وہ دیوار سے جا کر لگ جاتے ہیں اور اس کے بعد پھر زبان کی بجائے وہ ہاتھ استعمال کرتے ہیں تو پھر ان کو باغی بھی کہا جاتا ہے، تو ملک کے لئے باغی تو آپ بنا رہے ہیں، کشمیر کے اندر تو کسی کے پاس بندوق نہیں ہے، ان کو تو لاشیں دی جا رہی ہیں، تین مہینے سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ کیے گئے وعدے اور وہ مطالبہ جو تسلیم کیے جا چکے ہیں اسے حکومت واپس لے چکی ہے اور ہر ایک پر الزام ہے کوئی را کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی آفغانستان کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی ایران کا ایجنٹ بن جاتا ہے اور صرف یہی پاکستانی رہ گئے ہیں، جس طرح خوارج جو ہیں وہ صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اسی طریقے سے ہمارے طاقتور بھی اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیں اور اپنے علاوہ کسی کو پاکستانی نہیں سمجھتے ہیں۔
تو یہ روئے جو ہیں یہ ناقابل برداشت ہوتے جارہے ہیں اور اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے، اگر اسمبلیاں ہیں، اگر حکومتیں ہیں، تو پھر ان کے رٹ بھی نظر آنی چاہیے، ان کی اختیارات کو کوئی چیلنج نہ کرے ورنہ پھر ہر ایک ایک دوسرے کے اختیار کو چیلنج کرے گا، آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں، گزشتہ کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے، پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، افغانستان کے سرحدات ہوں یا انڈیا کے سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں، تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا جو ہے وہ مشکل ہو گیا ہے، چائنا کا ہم اعتماد کھو بیٹھے ہیں وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں لے رہا، تو ایک محصور ریاست کی شکل پاکستان نے اختیار کر لی ہے، بد امنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، پولیس پر حملے ہو رہے ہیں، فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں، اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے، کتنی بری بات ہے، ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے، گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں، کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود کے ڈھیر پر ہم بیٹھے ہوئے ہیں اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہوسکتی۔
مسائل ہیں ڈسکس کیں جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے اور حکومت خاموش، حکومت میں شامل جماعتیں خاموش، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے، ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے، وہ جس کے گھر کا نوکر ہے اس کے گھر کی اپنی نوکری کرے، اس کی برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، یہی ان کی ڈیوٹی ہے، ملکی مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں، اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں اور ہم تماشہ دیکھتے رہیں، اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل کا پاکستان متحمل نہیں ہے، نئے صوبوں کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے، ہر چیز کو ایک خاص حد کے اندر لینا چاہیے، حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے، شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔
ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائے نا کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دئیے گئے ہیں اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیام امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو بتایا تو جائے اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا ایک ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے اور ان کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے؟ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا، پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس میرے خیال میں وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لی۔
تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے، سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ، گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہیں وہ دفاعی معاہدہ ہیں لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسری ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں، اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا، اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کا عمل کا ایک تسلسل تھا وہ فی الحال رک گیا ہے، تو اس میں ہمیں قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے، تو اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا، ملک کے اندر اسلحہ کے راستے اپنے اپ بنائے جا رہے ہیں اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں، پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے آمن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے آمن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاھدین سے آمن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے آمن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے آمن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیام امن اور ہمارے جان مال، عزت و آبرو کے محافظ ہیں اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے، ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا آمن دے رہے ہیں؟
یہاں پر چھبیسویں ترمیم میں کچھ چیزیں تسلیم کی گئی تھی جس میں یکم جنوری دو ہزار اٹھائیس سے سود کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا، اس کو آئین کا حصہ بنایا گیا، اب تک اس حوالے سے کسی قسم کی چیزیں سامنے نہیں آ رہی ہیں، سود اور ربا کے الفاظ کو پھر سے موضوع بحث بنانے کی کوشش کی جا رہی ہیں، جبکہ اس پر ایک باقاعدہ کنونشن ہو چکا ہے علماء کرام اور تاجر برادری کا، جس میں ہمارے وزیر خزانہ شریک ہوئے، سٹیٹ بینک کے صدر شریک ہوئے اور انہوں نے کہا کہ سود وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ ہے اور سٹیٹ بینک اور جو نیشنل بینک ہے وہ اپنے اپیلیں واپس لیں گی، تو اس وقت آپ کس خوشی میں اس میں شریک ہوئے تھے؟ آپ نے کس خوشی میں یہ باتیں کی کہ ہم سب کچھ کر رہے ہیں اور ہم سود کو حرام سمجھتے ہیں اگر کل آپ نے آئین کا احترام کیا اور آپ نے اپنی رائے دے دی اور آج آپ اس میں پھر ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں کہ سارے چیزیں بحث مکمل ہو چکی ہے، عدالت میں ایک دفعہ بحث ہوتی ہے، ہمارے ہاں تو دو تین دفعہ بحث ہو چکی ہے اور مکمل بحث، باہر سے ماہرین معیشت بلائے گئے، علماء بلائے گئے، ملک کے اندر بلائے گئے، شریعت کے حوالے سے جو ماہرین معیشت ہیں وہ بلائے گئے، ان کے آراء لی گئے ہیں اور بہت لمبی چوڑی بحث جو ایک سال سے زیادہ عرصہ محیط رہی اس کے بعد فیصلے کئے گئے ہیں، پھر نئی نسل آتی ہے اور نئی نسل کے سامنے ایک نئے سوال رکھ دیا جاتا ہے، تو یہ کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔
جاری ہے
