۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
12 August 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

قادیانیوں کے خلاف قرارداد التوا۔ سینیٹر مولانا عطاء الرحمن

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۱۲ جون ۲۰۲۴

قرارداد التوا

1973 کے آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے اور آئین کی رو سے یہ اپنے عقیدے کا پرچار نہیں کر سکتے لیکن صوبہ سندھ کے ضلع تھر پار کر میں یہ دھڑلے سے کروڑوں روپے لگا کر سڑک کنارے کئی ایکڑ زمین خرید لی ہے۔ ساتھ ہی یہ لوگ وہاں کے غریب لوگوں کو روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں اور بدلے میں ان لوگوں کو قادیانی مذہب قبول کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ وہاں کے سکول میں قادیانی اساتذہ بھرتی کئے گئے ہیں جن کی کارکردگی روزانہ کی بنیاد پر چیک کی جاتی ہے۔ بچوں کو مرزا غلام احمد قادیانی کی سیرت پڑھائی جارہی ہے، مرزا کے پانچ خلفاء کے نام یاد کروائے جارہے ہیں، سکولوں کی دیواروں پر مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے خلفاء کی تصاویر لگائی گئی ہیں، یہ سب کچھ انتہائی خاموشی سے ہو رہا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ غربت، بھوک اور افلاس انسان کو کفر تک لے جاتے ہیں اس میں سندھ حکومت، مقامی انتظامیہ شامل ہیں۔ لہذا گزارش ہے کہ سینیٹ کی کارروائی روک کر ختم نبوت کے حوالے سے اس انتہائی اہم دینی معاملے پر بحث کی جائے۔

 سینیٹر مولانا عطاء الرحمٰن

پارلیمانی لیڈر جے یو آئی پاکستان

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اگلی خبر جے یو آئی کے مرکزی اور صوبائی ناظمین... پچھلی خبر رباب کی محبت سے توہین رسالت تک۔ حافظ...