۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
1 September 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی لاڑکانہ میں صحافیوں سے گفتگو

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat ۳۱ اگست ۲۰۲۶
مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی لاڑکانہ میں صحافیوں سے گفتگو

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی لاڑکانہ میں صحافیوں سے گفتگو

31 اگست 2026

سوال و جواب

صحافی: مولانا صاحب صوبوں کی حوالے سے بڑی باتیں ہو رہی ہیں، تقسیم کی باتیں ہو رہی ہے لیکن سارا صوبہ ایک طرف ہے اور وہ کہتے ہیں کہ سندھ کو تقسیم ہونے نہیں دیں گے، کراچی میں کل بڑا احتجاج ہوا ہے اور اسمبلی میں بھی زیر بحث آیا ہے۔ تو آپ اس حوالے سے کیا کہیں گے؟ دوسرا یہ کہ جو وفاقی وزیر ہے محسن نقوی صاحب، اس کا کس پارٹی کے ساتھ تعلق ہے کہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، نواز لیگ بھی تسلیم نہیں کر رہی ہے، کوئی بھی پارٹی تسلیم نہیں کر رہی ہے۔ تو آپ پارلیمنٹ میں ہے اس کی وضاحت کرے کہ اس کا کس پارٹی سے تعلق ہے اور کس کے کہنے پر یہ کر رہا ہے؟
مولانا صاحب:   بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم. نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
جہاں تک نئے صوبوں یا موجودہ صوبوں کی تقسیم کا سوال ہے یہ بحث اس سے پہلی بھی بار بار ملک میں اٹھی ہے، اس شکل میں نہ سہی لیکن مختلف شکلوں میں، تو ایک ہے مسئلہ کا اصولی حیثیت اور ایک ہے مسئلہ کی عملی حیثیت، ہر چند کے دنیا میں صوبے بنتے ہیں، انڈیا میں بھی بنے ہیں، افغانستان میں بھی بنے ہیں، باقی علاقوں میں بھی بنتے ہیں اور اصولی طور پر ہم صوبوں کے نئے یونٹس کے قیام کو اگر اصولی طور پر جائز بھی سمجھیں تب بھی آپ کے اپنے سوالات سے بھی یہ بات ظاہر ہو گئی کہ نہ ماحول ہے نہ تیاری ہے، لہٰذا جب کسی سنجیدہ معاملے کے لئے نہ ماحول ہو اور نہ تیاری ہو تو اس میں ہاتھ ڈالنا یہ در حقیقت پھر ملک کی سلامتی کے لئے ایک مسئلہ بن جاتا ہے اور ہماری بدگمانی یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت جو صوبوں کو اختیار دیے گئے تھے اس میں صوبوں کے جو وسائل ہیں، صوبوں کے پاس جو ذخائر ہیں، وہ ہضم نہیں ہو رہے، اس پر وہ ہر قیمت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، کچھ وہ علاقے جو پاکستان کے لئے آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ بنتے ہیں اسے وفاق کے تحت لینے کے ایک سوچ، خواہش اور دوسرا یہ کہ این ایف سی ایوارڈ جو صوبوں کا حق ہے محصولات میں وہ ان کو ہضم نہیں ہو رہا ہے۔ تو اس لئے یہ چیزیں جو ہیں وہ اٹھائی جاتی ہیں اور غیر سیاسی لوگوں کے زبان پر یہ باتیں لائی جاتی ہیں اور جس طرح کوئی بات اہم بات بھی جب غیر اہم لوگوں کے ذریعے سے پبلک میں پھینکی جاتی ہے تو اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، اس لئے یہ بحث اس وقت تک تو میں سمجھتا ہوں کہ کوئی زیادہ پذیرائی نہیں مل رہی اس کو اور جو حکومت میں شامل جماعتیں ہیں وہ بھی اس تجویز کے بارے میں تحفظات کے شکار ہیں۔
صحافی: سر آپ نے دو ہزار چوبیس سے پہلے لانگ مارچ کیا، نواز لیگ کا ساتھ دیا اور انہوں نے آپ کا کندھا استعمال کرکے عمران خان کی حکومت کو گرایا، لیکن اس کے بعد آپ ان کے خلاف بھی کھڑے ہوگئے، اور آج وہی تحریک انصاف، جس کے لیے آپ کے مختلف بیانیے سامنے آئے، آپ ان کے ساتھ ہیں، اس کو کس طرح دیکھا جائے؟
مولانا صاحب: ہم نے پیپلز پارٹی کی خلاف بھی تحریک چلائی تھی اور پاکستان کی تحریک تاریخ کی سب سے بڑی تحریک تھی پی این اے کی، پھر مارشل لاء آ گیا، پھر اسی پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر ایم آر ڈی بھی بنایا، انگریز کی خلاف ہم نے جنگ بھی لڑی، پھر تقسیم ہند کے وقت ان کے مذاکرات میں ان کے ساتھ بیٹھے بھی رہے، سیاسیات میں کوئی کسی کے ساتھ حتمی دشمنی نہیں ہوا کرتی بلکہ ان حالات میں ایک خاص اصول کے تحت اور ایک مشترک مقصد کے تحت سیاستدان اختلاف رائے بھی کرتے ہیں اور اتفاق رائے بھی کرتے ہیں، ہم نے نہ دو ہزار اٹھارہ کے نتائج کو تسلیم کیا ہے نہ دو ہزار چوبیس کے، ہم وہیں کھڑے ہیں، اب جب ہم اسی موقف پہ کھڑے ہیں اور وہیں کھڑے ہیں تو حالات جب بدلتے ہیں تو کون ہمارے ایک طرف اور دوسری طرف دائیں بائیں کھڑا ہوتا ہے، یہ تو پھر ان حالات پر ہوتا ہے لیکن جے یو آئی جو ہے وہ یہ نہیں کہ یا مسلم لیگ کے ساتھ تحریک ہم ہی چلا رہے تھے وہ ہمارے کنٹینر پر ہوتے تھے، آج بھی پورے ملک میں اگر کوئی آواز گونج رہی ہے اور کوئی مسلسل پبلک کو شعور دلا رہا ہے، پبلک میں بیداری پیدا کر رہا ہے تو وہ جے یو آئی کی آواز ہے۔ تو اس حوالے سے جمعیۃ علماء اسلام بات کرنا بھی جانتی ہے، اپنی بات کے لیے الفاظ کا چناؤ بھی جانتی ہے، قانون اور آئین کے رو سے ان کے حدود کو بھی جانتی ہے کہ ہم نے کس حد میں بات کرنی ہے، تو اس حوالے سے الحمدللہ قوم کی جس طرح ہم رہنمائی کر رہے ہیں اس میں ہمیں پذیرائی مل رہی ہے اور عوام کے طرف سے ایک بڑا اچھا مثبت ردعمل آرہا ہے۔

صحافی: مولانا صاحب اپنا پی ٹی آئی کے حکومت میں جب وزیراعظم عمران خان تھے تو مہنگائی تھی، پیٹرول کی بھی قیمتیں بڑھ رہی تھی تو مختلف جو اپوزیشن تھیں وہ احتجاج بھی کر رہے تھے، ہر چیز ہو رہی تھی۔ لیکن اب جو دیکھا جائے پیٹرول کی ہر روز کے بنیاد پہ قیمتیں بڑھ رہی ہے، مہنگائی اتنی ہے کہ جو غریب طبقہ ہے وہ دو وقت کی روٹی تک نہیں کھا سکتا، ملک معاشی اتنے مسائل کا شکار ہے، یہ آخر پاکستان کے مسائل کیسے حل ہوں گے؟
مولانا صاحب: یہ آپ کا بہت اہم سوال ہے اور اگر کوئی سیاستدان امن و امان کو نظر انداز کرے، معاشی صورتحال کو نظر انداز کرے تو ظاہر ہے کہ میری نظر میں وہ ایک سیاسی کھوتا ہی ہوگی، اسی لیے جب ہم نے جائنٹ اپوزیشن کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں سے کہا وہ بھی میرے گھر آئے، میں بھی ان کے ہاں لیڈر آف اپوزیشن کے چیمبر میں گیا، بات چیت ہوئی، تو ہم نے یہی تجویز دی کہ آپ ملک کی مسائل کو ایڈریس کریں، آپ ملک میں امن و امان کو ایڈریس کریں، انسانی حقوق کو ایڈریس کریں، آپ مہنگائی کو ایڈریس کریں، معیشت کو ایڈریس کریں اور اگر یہ صوبوں کی باتیں چل رہی ہیں اس پر ہمیں ایک واضح رائے بنانے چاہیے، تمام سیاسی قیدیوں کے ہمیں بات کرنے چاہیے کہ جو جیلوں میں ہیں ان کو کیوں جیلوں میں رکھا گیا ہے، کشمیر میں جو اس وقت ایک اضطراب ہے اس کو ہمیں ایڈریس کرنا چاہیے۔ تو ملک کو جو درپیش چیلنجز ہیں جب تک سیاسی پارٹیاں ان کو ایڈریس نہیں کرے گی تو یہ پھر سیاست کا حق ادا نہیں کر سکتی، تو الحمدللہ اس حوالے سے جو ترجیحات ہم نے متعین کی، جائنٹ اپوزیشن کے سامنے پیش کی ہے وہ انہوں نے تسلیم کی ہے اور قبول کر لی ہے، اسی پیٹرن پہ ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔

صحافی: سر دو ہزار چوبیس کے انتخابات کو آپ نہیں مانتے، آپ کہتے ہیں کہ دوبارہ الیکشن ہو اور اسی طرح جس طرح سیٹ اپ چل رہا ہے اس میں دوبارہ انتخابات ہوتے ہیں یا ائندہ عام انتخابات ہوتے ہیں تو آپ سمجھتے ہیں کہ وہ امپارشل ہوں گے، آزادانہ ہوں گے؟
مولانا صاحب: دیکھیے! بات یہ ہے جی کہ ہمارا تو مطالبہ بہرحال یہی ہوگا کہ کوئی ادارہ اس میں مداخلت نہ کرے، عوام کی جو بھی مرضی ہو اس کے مطابق نتائج کو تسلیم کیا جائے، انہی کو حکومت کرنے کا حق دیا جائے، تو ایک صحیح موقف لے کر ہم میدان میں آئے ہیں اب اس میں عوام کی جتنی جتنی طاقت شامل ہوگی اتنا ہی اس موقف میں طاقت آئے گی اور پھر یہ ہے کہ کبھی ہمیں ایک حالت سے دوسرے حالت کی طرف جانا ہوتا ہے جو ایک عبوری دور ہوتا ہے اس میں ہم ایک حالت سے دوسرے حالت کی طرف کیسے جاتے ہیں، تمام خرابیوں کے بعد ایک اچھائی کی طرف سفر کیسے شروع کرتے ہیں، اس کے لئے کبھی معروضی اقدامات بھی آپ کو کرنے ہوتے ہیں، جو بظاہر آپ کو کچھ سوالات آپ کے ذہن میں آئیں گے کہ بھئی یہ تو فلاں مسئلہ ہے، فلاں، لیکن ایک سفر ہوتا ہے، جمہوریت میں یک دم کوئی انقلابی قدم نہیں اٹھایا جاتا، جمہوریت میں اصلاحات اور تدریجی اصلاحات کا تصور ہوتا ہے اور اس حوالے سے ہم نے آگے اقدامات کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

 

جاری ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پچھلی خبر مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا سکھر میں...