مفتی محمود مرکز پشاور: جمعیت علماء اسلام خیبر پختونخواہ کے امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمان صاحب کا اہم پریس کانفرنس
28 اکتوبر 2026
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ، أَمَّا بَعْدُ۔
مقتدر علماء کرام، پارلیمنٹیرین حضرات، اور میرے بہت ہی قدرمند، عزتمند مشران، دوستوں اور عزیزوں! آج آپ حضرات نے جمعیۃ علماء اسلام صوبہ خیبر پختونخواہ کے مرکز میں تشریف لاکر ہم پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس پر میں آپ تمام ساتھیوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور بارگاہ رب العزت میں دست بہ دعا ہوں کہ اللہ تعالی ہمارے اور آپ کا یہ تعلق تا قیامت اسی طرح قائم و دائم رکھے۔
حالات سے کچھ آپ کو آگاہی بھی ہوئی ہوگی لیکن گزشتہ دن ہمارے مرد درویش حضرت مولانا عطاء الحق درویش صاحب نے سینیٹ میں جس طرح چیلنج کیا اور ہمارے کانوں میں بھنک پڑی کہ یہاں انتظامیہ یا حکمرانوں کا ارادہ کچھ ٹھیک نہیں ہے، میں نے تو صرف صوبائی سالار صاحب سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ ضلع پشاور اور چارسدہ کے سالار حضرات کو بلالو تاکہ ایسا نہ ہو کہ اندھیرے میں ہم ایک مشکل کا شکار ہو جائیں لیکن سوشل میڈیا پر جب یہ خبر چلی تو سالاروں کے ساتھ ساتھ ہمارے جماعتی ساتھی ذمہ دار ساتھی وہ یہاں تشریف لائے، انتظامیہ کو بھی اور بار بار ذمہ داروں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتهم العالیہ ان کی سیکورٹی، ان کی حفاظت ہمیں اپنے جان سے بھی زیادہ عزیز ہے اور ہم نے نہیں، یہاں کی انتظامیہ نے یہ جو سروس روڈ ہے دونوں طرف سے بند کیا ہوا ہے، اب کیوں بند کیا ہے؟ پھر جب یہاں خود قائد جمعیۃ تشریف لاتے ہیں تو پولیس کی نفری بڑھا دی جاتی ہے اور مرکز کے چاروں طرف ان کی نگرانی ہوتی ہے، آج تجاوزات کے نام پر مرکز کے دیواروں کو، مرکز کے صحن کو گرانا حالانکہ ہم نے ان سے کہا کہ ہمارے دفتر کے سامنے جو آپ کو دیوار لگتی ہے یہ دیوار نہیں ہے لیکن بہرکیف ان کا خیال یہ ہے کہ تجاوزات کے نام پر ہم مرکز کو یا مرکزی قیادت کو غیر محفوظ کر لیں گے، ہمارا ایک ایک ورکر بنیان مرصوص بن کر یہاں ڈیوٹی دے گا اور ایسی دیوار ایسی دیوار کھڑی کر دے گا کہ آپ پھر ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ وہ شاعر کہتا ہے کہ؛
یہ منصب ہمیں بھی مل سکتے تھے لیکن شرط حضوری تھی
یہ منصب ہمیں بھی مل سکتے تھے لیکن شرط حضوری تھی
یہ شرط ہمیں منظور نہ تھی بس اتنی سی مجبوری تھی
تو ذرا ہوش کے ناخن لیں اگر ان کو تجاوزات کی اتنی پڑی ہے تو پھر میں نشاندہی کرتا ہوں کہ ذرا کور کمانڈر کے گھر کا سامنا جو ہے جس نے آدھا روڈ بند کیا ہوا ہے گورنر صاحب ذرا اس کی طرف ہاتھ نہیں آنکھ اٹھا کر تو دیکھو، ہاتھ نہیں آنکھ اٹھا کر بھی دیکھو، آپ کی صوبائی اسمبلی اس کے حدود کہاں تک ہیں؟ آیا وہ تجاوزات میں آتی ہے یا نہیں آتی؟ ذرا خالی اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھو، ہم پر تجاوزات کے بہانے سے یہاں قائد جمعیۃ کو یا مرکز کو غیر محفوظ بنانا یہ میرے خیال میں نہ دانش مندی ہے نہ ہوش مندی ہے اور آج ہم نے صرف آپ کو ٹریلر دکھایا ہے صرف کارکنوں کو، ہم نے تو سالاروں کو کہا تھا کہ وہ آ جائیں اگر خدا نہ خواستہ وہ کہتے ہیں کہ ایک امتحان کے لیے خواہش نہیں ہونی چاہیے لیکن اگر امتحان آ جائے پھر ثابت قدم رہنا چاہیے، ہم ان شاءاللہ تعالی اپنی قیادت کی حفاظت بھی کر سکتے ہیں اور اپنے مرکز کی بھی حفاظت کر سکتے ہیں، ہمیں یہاں انتظامیہ کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن بہرکیف ہم نے جب رابطے کیے انتظامیہ سے، تو ہمیں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا اور اب سنا ہے کہ کوئی نوٹس بھی انہوں نے جاری کیا ہے، ابھی تک ہمیں موصول نہیں ہوا ہے لیکن بہرکیف ہم ان کے نوٹس کو ان کے اس کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں ہم کسی قسم کے دباؤ کو قبول نہیں کریں گے اور کسی قسم کے ان کے کسی حربے کو قبول نہیں کریں گے اور اپنے خون سے بھی اس مرکز اور مرکزی قیادت کی حفاظت کریں گے۔
میں جب یہاں آ رہا تھا جب یہ خبریں سوشل میڈیا پر چلی ہیں مختلف اضلاع سے ہمارے ساتھیوں نے رابطے کیے کہ ہم بھی آ جائیں دور کے اضلاع تھے لیکن میں نے ان سے کہا کہ نہیں ابھی ہمیں آپ کی ضرورت نہیں ہے اگر ضرورت پڑی تو ہم خود آپ سے رابطہ کریں گے، بہرکیف ہمارے ورکر، ہمارے ساتھی جس طرح ابھی آپ لوگوں نے نعرہ بھی لگایا کہ اشارے کی دیر ہے اور پھر ان کو منہ چھپانے کیلئے بھی جگہ نہیں ملے گی۔ آپ کو وہ تجاوزات تو نظر نہیں آتی، یہاں ہمارے مرکز کو آپ تجاوزات میں شمار کرتے ہیں میں چیلنج کرتا ہوں کہ آپ میں جرات ہے تو اس طرف آنکھ اٹھا کر دیکھیں میں انہی الفاظ کے ساتھ اپنے تمام ورکروں کا، تمام ساتھیوں کا، سالاروں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔
یہاں میڈیا والے ہیں اگر انہوں نے اس کے علاوہ کوئی بات کرنی ہے بات کریں۔
سوال و جواب
صحافی: ۔۔۔۔۔
عطاء الرحمن صاحب: حضرت آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہمارے بلکل قرب و جوار میں انہوں نے تجاوزات کے نام پر کافی توڑ پھوڑ کی ہے اور شیڈول میں ہماری معلومات کے مطابق نہیں تھا لیکن اب وہ شیڈول بھی جاری کر دیا ہے اور پھر یہاں جس افسر کی ڈیوٹی ہے وہ بھی خاتون، تو خاتون کے متعلق ویسے بھی کہتے ہیں کہ ذرا عقل کے لحاظ سے کمزور ہوتی ہے تو شاید اس کو ہماری بات سمجھ نہ آئے لیکن اس چیز کا آپ حضرات نے جو سوال کیا ہے ایک خدشہ تھا جس پر ہم نے اپنے کارکنوں کو بلایا اور صرف سالاروں کو بلایا تھا، باقی ساتھی تو سوشل میڈیا پر خبر چلنے کی وجہ سے تشریف لائے ہیں، میں تمام ساتھیوں کا شکریہ عطا کرتا ہوں لیکن ہمیں کوئی شوق نہیں ہے شوق انتظامیہ کو ہے تو اپنا شوق پورا کرلے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
صحافی: مولانا صاحب! جس طرح آپ نے کہا کہ مرکز کو یا ہماری قائد کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ جس طرح قائد جمعیۃ مولانا حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب گورنر راج کی مخالفت کر رہے تھے تو اسی بنیاد پر مرکز کو بھی تجاوزات کی آڑ میں وہ گرانا چاہتے ہیں؟
عطاء الرحمن صاحب: جی بالکل یہ حربے پہلے بھی استعمال کیے گئے ہیں اور کئی مرتبہ استعمال کیے گئے ہیں کہ جب بھی قائد جمعیۃ کا موقف ہمارے ذمہ داروں کے سامنے آتا ہے تو پھر مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں، جس میں عرض کروں کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا صاحب کے گھر کو ٹارگٹ کیا گیا، میرے گھر کو ٹارگٹ کیا گیا، کبھی میرے بیٹے کو راستے میں روک کر کبھی مولانا صاحب کے بیٹوں کو روک کر ایک دباؤ ڈالنی کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طریقے سے جمعیۃ علماء اسلام کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جائے، لیکن الحمدللہ ثم الحمدللہ نہ قائد جمعیۃ پیچھے ہٹے ہیں، نہ ان کے ورکر پیچھے ہٹے ہیں، نہ ان کے ساتھی پیچھے ہٹے ہیں۔ جو موقف مولانا صاحب کا جو بیانیہ سامنے آیا ہے ہم اس کو اپنا بیانیہ سمجھتے ہیں، حمایت اور اس کی تائید کرنا تو ہم اپنا بیانیہ سمجھتے ہیں اس کو اور اس بیانیے کیلئے ہم ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔
صحافی: مولانا صاحب! کیا کہیں گے کہ سوشل میڈیا پر کئی دنوں سے دہشتگردی کے نام پر لیکن دہشتگردی بہانہ ہے اور وہ اپوزیشن نشانہ ہے اور ساتھ ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
عطاء الرحمن صاحب: وہ جہاں تک شائد آپ کو بھی یاد ہو اصل جو ہے ہمارے منرلز جو ہیں، ہمارے جو معدنیات ہیں وہ اصل چیز ہے اور بھئی اگر آپ کو معدنیات کی ضرورت ہے، آپ معدنیات کو بیچنا چاہتے ہیں تو ہمارے قوم کو کیوں خون میں لت پت کرتے ہو آپ تو ویسے بھی ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں، پھر ہمارے گورنر صاحب نے کہا کہ بھئی ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، میں کون سے معدنیات ہیں، میں نے کہا کہ معدنیات تو نہیں ہوں گے وہاں پر ہمیں تو علم نہیں ہے لیکن راستے سے گزرنا تو ہوتا ہے ادھر ہی سے، بنوں سے بھی آتے ہیں، ٹانک سے بھی آتے ہیں، لکی مروت سے بھی آتے ہیں، ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی آتے ہیں، تو اپنے راستوں کو محفوظ بنانے کیلئے یہ کاروائیاں ہوتی رہتی ہیں، اور ہمارا سی پیک جو ہے وہ اکثر و بیشتر مغرب کے بعد بند کر دیا جاتا ہے، عام گاڑیاں اس پر نہیں چھوڑی جاتی ہیں۔ لیکن ان کے معدنیات کی گاڑیاں، ان کے جو اپنے لاؤ لشکر ہوتے ہیں وہ گزرتے رہتے ہیں، ان کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا، یہاں جب ہم پنجاب میں داخل ہوتے ہیں تو پنجاب میں غالباً عیسی خیل کے اوپر ایک یہ ٹرن بنا ہوا ہے آپ کو نیچے اترنا پڑتا ہے اور پھر واپس، میں نے اس پر سینیٹ میں بھی بات کی کہ بھئی یہ کیا ماجرہ ہے، کیا مسئلہ ہے، کہ پورا سی پیک کھلا ہوا ہے، اس پر گاڑیاں آ جا رہی ہیں لیکن جب ہم عیسی خیل پہنچتے ہیں تو ایک دفعہ نیچے اتر کے پھر ہمیں اس پر آنا پڑتا ہے۔ تو وہاں بھی انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہ اسی طرح چل رہا ہے۔ تو بہر کیف ہمارا تو خیال یہ ہے کہ اپنے معدنیات کو اور اپنے اس غنڈہ گردی کو اور بدمعاشی کو چھپانے کے لئے یہ سارے حربیں استعمال کیں جاتے ہیں۔
صحافی: اگر صوبائی حکومت نے طاقت کا استعمال کیا اور مفتی محمود مرکز کو گرانے کی کوشش کی تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟
عطاء الرحمن صاحب: ان کا باپ بھی نہیں کر سکتا۔
صحافی: سر! یہ آپریشن تو دس دنوں سے جاری ہے، آپ لوگ کیوں خاموش تھے؟
عطاء الرحمن صاحب: کب؟ ہمارے درویش صاحب نے سینیٹ میں تقریر کی، دوسری بات یہ ہے گزارش یہ ہے کہ ہم نے اس وقت بھی یہ دعویٰ کیا ہے اب بھی ہمارا دعویٰ ہے کہ عام لوگوں کا نقصان ہو رہا ہے اور کروڑوں نہیں اربوں کا نقصان ہو چکا ہے، پھر ان کے پاس اپنے کاغذات، رجسٹری سب کچھ موجود ہے تو اس کے باوجود ان کے ساتھ یہ ظلم کیوں نارواں رکھا جا رہا ہے اور جمعیۃ علماء اسلام کے علاوہ آپ بتائیں کس پارٹی نے اس پر آواز اٹھائی ہے، یہاں تو اور بھی سیاسی پارٹیاں ہیں، سیاسی زعماء ہیں لیکن بتائیں تو اس پر کس نے آواز اٹھائی اور اگر جمعیۃ علماء اسلام نے آواز اٹھائی ہے تو آپ صحافی حضرات کو اس پر بھی اعتراض ہے کہ پہلے کیوں نہیں اٹھائی، اب کیوں اٹھائی ہے، بھئی اٹھائی تو ہے نا ٹھیک ہے۔ بڑی مہربانی
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat
