قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کاقومی اسمبلی کے اجلاس سے مکمل خطاب
28 اکتوبر 2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمده و نصل رسوله الكريم۔
جناب سپیکر! آپ کا مجھے بے حد احترام ہے اور ہمارے تمام پارلمنٹیرین جن کو پاکستان میں وی آئی پی سٹیٹس حاصل ہے اگر ہم خود اپنے کولیگز کو احترام نہیں دیں گے تو پھر پبلک سے ہم کیا توقع رکھیں گے کہ وہ ہمیں احترام دیں، لیکن یہ پارلیمنٹ ہے، عوام کی ایک نمائندہ ادارہ ہے اور یہاں پر اختلاف ایک فطری عمل ہے، لیکن برداشت کی قوت ختم ہو گئی ہے، معاملات بگڑتے چلے جا رہے ہیں، میں جب پانچ سال پہلے کے حالات دیکھتا ہوں بہت مختصر عرصہ ہوتا ہے قوموں کے زندگی میں اور آج جو صورتحال ہے میرے خیال میں وہ وقت اب ہمیں خواب کی طرح نظر لگتا ہے، جن حالات سے آج ہم دو چار ہیں۔
جب لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف آ رہا تھا تو ہمارے پی ٹی آئی کے دوستوں نے بڑی فراخدلی کے ساتھ مجھے کہا کہ اس میں آپ کا کوئی رول ہونا چاہیے اور ظاہر ہے کہ سیاست میں، جمہوریت میں مذاکرات ہوتے ہیں، بات چیت ہوتی ہے، معاملات افہام وتفہیم سے طے کیے جاتے ہیں، اگر انہوں نے اس حوالے سے ابتدا کی تو میں اسے اپریشیٹ کرتا ہوں۔ اگلے دن آپ تشریف لائیں، میرے محترم جناب رانا ثناء اللہ صاحب تھے، پرویز چودھری صاحب تھے اور اسی موضوع پہ بات ہوئی ہر چند کے آپ عمرہ کی مبارک باد دینے کے لئے آئے تھے لیکن اس موضوع پہ تفصیلی بات ہوئی اور آپ نے بھی مجھے کہا کہ ہاں اگر آپ اس پہ آگے بڑھ جائیں تو بہتر ہوگا۔ رات کو پرائم منسٹر کے دفتر سے فون آیا کہ میں آپ کو کھانے پہ بلانا چاہتا ہوں، میں نے پی ٹی آئی کے دوستوں سے رابطہ کیا، گوھر صاحب بھی تھے، اسد قیصر صاحب بھی تھے اور مجھے کہا جی کہ اگر آپ کو بلا رہے ہیں اور آپ ملنا چاہتے ہیں اور اس موضوع پہ کوئی بات آگے بڑھتی ہے ہمارا سو فیصد آپ کو مینڈیٹ ہے، حالانکہ میں کوئی گزشتہ چار پانچ مہینوں سے پرائم منسٹر سے نہیں ملا ہوں اور اس مقصد کے لئے کہ میں پاکستان کے شہریوں کو، ان کے خون کو بچا سکوں، تشدد سے ملک کو بچا سکوں، حکومت کو بھی راستہ دوں اور اپوزیشن کو بھی راستہ دوں اور ملک خون خرابے کی طرف نہ جائے کسی طریقے سے وہ ایک جمہوری ٹریک پہ چلتا رہے اور خوش اسلوبی کے ساتھ معاملات چلتے رہے۔
میں نے ان کی دعوت قبول کی، میں ان کے دعوت کو وہاں رات کو پہنچا، میرے ساتھ اپنے ٹیم کے چار اراکین تھے، حکومت کے ساتھ ان کے آٹھ یا نو اراکین تھے، تفصیلی گفتگو اور اس تفصیلی گفتگو کے بعد پرائم منسٹر صاحب نے مجھے کہا کہ وہ لانگ مارچ کو کال آف کرے، میں نے کہا جی اب اگر میں بیچ میں آ گیا ہوں تو پھر آپ بھی ذرا گزارہ کر لیں، ان سے بھی درخواست کروں گا اگر آپ مجھے ریلیف دیتے ہیں اور کوئی کردار کا ایک موقع مجھے دیتے ہیں تو میں اس سلسلے میں آگے بڑھتا ہوں پھر دیکھتے ہیں کہ مسئلہ کا حل کیا نکلتا ہے۔ میں وہاں سے واپس آیا، میں نے کانفرنس کال پہ ان کے تمام دوستوں سے بات کی، گوھر صاحب تھے، سہیل آفریدی صاحب تھے، اسد قیصر صاحب تھے، شہرام صاحب تھے، جنید اکبر صاحب تھے، اور انہوں نے کہا جی کہ ہمارے طرف سے ہاں ہے، آپ ان سے بات تو کریں ہمارے مطالبات تو مانیں، مطالبات کیا ہیں؟ خان صاحب سے ملاقات اور خان صاحب کے علاج کے لئے آئین کے مطابق جو کورٹ نے فیصلہ دیا ہے اس کے مطابق علاج، میں بڑی آزاد خیالی کے ساتھ بات کرنا چاہتا ہوں دو مطالبات کہ ایک ملاقات اور ایک علاج، اس کے ردعمل میں لانگ مارچ ایک بڑا ردعمل ہے جو میچ نہیں تھا لیکن ان دو مطالبات کے لئے لانگ مارچ کو روکنا اور گولی چلانا اور خون خرابہ کرنا یہ بھی میچ نہیں تھا، دونوں پہلوؤں کو انصاف کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ چنانچہ جب انہوں نے مجھے ہاں کیا اور کہا کہ بلکل ہم معاملات طے کرنے کے لئے تیار ہیں ہمارے دو مطالبات ہیں وہ حکومت مان لیں اور یہ بھی تجویز دی کہ نہ حکومت اور نہ ہم، نہ وہ پہلے نہ ہم پہلے، دو آدمی حکومت کے دو آدمی ہمارے بیچ میں آپ بیٹھ رہے ہیں ایک میز سے ایک فیصلہ اُٹھائیں۔ میں صبح چھ بجے نماز پڑھ کر پہنچا کیونکہ رات کو وہ جلدی سو جاتے ہیں تو میں اُن کو تکلیف نہیں دی جگانے کی اور میں نے صبح اُن کے سامنے ساری تجویز رکھی اور اُنہوں نے مجھے خوش اسلوبی کے ساتھ، محبت کے ساتھ، قدر و احترام کے ساتھ گاڑی تک پہنچا کر رخصت کیا اور میں بڑے اطمینان کے ساتھ گھر آیا کہ معاملہ حل ہو چکا ہے اور میں نے یہ بھی تجویز کیا کہ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ کیبنیٹ میٹنگ جو ہے اگر وہ شام کے ٹائم میں ہو جائے اور صبح آپ کچھ مشاورت وغیرہ دوستوں سے کرنی ہو تو اِس معاملے کو ذرا شریک کیا جائے ایک دوسرے کے ساتھ، تو اُنہوں نے کہا اِس پہ بھی غور کر سکتے ہیں اور اِس وقت اسحاق ڈار صاحب بھی تشریف لے آئے، لیکن ساڑھے نو بجے مجھے کہا گیا ٹیلی فون کیا اُنہوں نے کہ ہم ابھی کابینہ کے سامنے آپ کی گفتگو پیش کر رہے ہیں، جو کچھ آپ نے کیا ہے وہ ہم وہاں پیش کر رہے ہیں تو میرا خیال یہ ہوا کہ اُنہوں نے سوچا ہو گا اِس حوالے سے اور کیبنیٹ کے منظوری کے ساتھ سارے معاملات ہو جائیں گے، ساڑھے دس بجے مجھے اسحاق ڈار صاحب کا فون ایا اور کہا کہ کیبنیٹ نہیں مان رہی اِس بات کو اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ہر قیمت پر گورنر راج لگنا چاہیے وہاں، تو میں نے کہا جی یہ جو کل سے محنت ہو رہی ہے یہ تو مکمل اُس کی نفی ہو رہی ہے، آپ کیا بات مجھ سے کر رہے ہیں، میں تو اِس امید میں تھا کہ الحمدللہ آپ بھی بات مان چکے ہیں، وہ بھی بات مان چکے ہیں، تو ملکی سیاست کو تشدد سے نکالنا اور ایک دلیل کے ماحول پہ لانا، ایک اتفاق رائے کے ماحول پہ لانا، یہ ایک حکومت کر رہی ہے کہ اُس کی نفی کر دے ہم نے تو یہ کوشش کی کہ اِس معاملے کو ٹھیک طریقے سے حل کیا جائے، میں شکر گزار ہوں جناب بلاول بھٹو صاحب کا کہ اُن کے بعد کے بیانات نے میرے اِن کوششوں کو اور میری جو سوچ ہے اُس سے اُن کی تائید نظر آ رہی تھی صراحتاً نہ سہی، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ گفتگو کس زاویہ سے ہو رہی ہے اور مثبت زاویہ سے ہو رہی ہے۔
اب مناسب بات یہ ہے جی کہ وہاں پر گورنر راج بھی لگایا گیا ایمرجنسی بھی ایک ہی صوبے، کچھ حصوں میں گورنر راج اور کچھ حصوں میں ایمرجنسی، یہ شاید پہلی مثال ہے کہ ایک صوبے میں آدھا کچھ اور آدھا کچھ، ایک زمانہ تھا کوئی سن تریپن کا زمانہ جہاں پر لاہور میں جزوی مارشل لاء لگا تھا لیکن آج ہمارے ہاں جزوی گورنر راج اور جزوی ایمرجنسی لگائی گئی ہے، اس بات کو ذرا مدنظر رکھا جائے کہ ہم کہتے تھے کہ گورنر راج اس لئے نہیں لگایا جا رہا کہ صوبائی حکومت کا کوئی اختلاف ہے بلکہ کچھ اور معاملات ہیں جس میں بین الاقومی قوتیں دخیل ہیں اور وہ صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں میں معدنی ذخائر تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں، ہم اس کے خلاف نہیں ہیں کہ کوئی ہماری ملک میں سرمایہ کاری کرے، لیکن قوم سے کیوں چھپایا جاتا ہے؟ پارلیمنٹ سے کیوں چھپایا جاتا ہے؟ معاہدے ہوں، اس بات کا اطمینان دلایا جاتا ہے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو کہ یہاں سیکورٹی ہے یا نہیں، یہاں ان کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ معاہدات و معاملات میں شفافیت ہے یا نہیں، اس کے پیچھے اس کی تفصیل ہے، ان کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ یہاں ملک میں قانون کی حکمرانی ہے یا نہیں، کوئی مسئلہ پیدا ہوا عدالت میں ہم جائیں گے عدالتوں کی پوزیشن کیا ہے؟ قانون کی عملداری کیا ہے، یہ ساری چیزیں پرکھنے کے بعد یہاں یہ سب چیزیں معدوم تھی اور سوال اٹھایا گیا کہ اصل چیز دہشت گردی ہے، صوبائی حکومت دہشت گردی کے بیانیے میں ہمارے خلاف ہے اور وہ وہاں پر دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے اور ضروری ہے کہ ہم وہاں پر گورنر راج لگائیں۔
اب ان ایک ایک چیز کو ذرہ الگ الگ ہم زیر بحث لانا چاہتے ہیں، پہلی بات یہ حکومت کی طرف سے ان کے بینچوں کے طرف سے ہمیں کہا جاتا ہے سر! ہم نے تو آئینی پروسیجر مکمل کیا ہے، آئین میں اس کی گنجائش ہے، جناب والا! آئین میں گنجائش ضرور ہوتی ہے لیکن جہاں پر امرانہ ذہنیت دخیل ہو وہ آئین کو غلط استعمال کرتا ہے، حکومت نے بھی آئین کو غلط استعمال کیا ہے، ایک ہے استعمال کرنا ایک ہے آئین کا غلط استعمال کرنا، یہاں پر جس طرح قانون کو غلط استعمال کیا جاتا ہے، آئین کو غلط استعمال کیا گیا اور اگر آپ سمجھتے ہیں تو اصول کی بنیاد یہ ہے کہ انتقال اقتدار طاقت کے ذریعے یا عوامی رائے کے ذریعے یہ واضح ہونا چاہیے، انتقال اقتدار طاقت کی بنیاد پر یا عوامی رائے کے ذریعے سے یہاں پر طاقت کے ذریعے سے انتقال اقتدار کا عمل لایا گیا، میں بھی شائد ایک حکومت کے بارے میں تحفظات رکھتا ہوں لیکن تبدیلی کا طریقہ یہ تو نہیں کہ انقلاب لا کر تل چٹ کر لیا جائے ساری چیز، بلکہ اس کے لیے بھی عوام کی طرف جانا ہوگا، اگر صوبائی حکومت اس بات کے حوالے سے کہ وہ تو ہمارے ساتھ بیانیہ شریک نہیں کر رہی، کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ وہاں اپوزیشن کی حکومت ہے، کیا اپوزیشن اور حکومت کا بیانیہ ایک ہوتا ہے؟ ہم نے بھی وہاں حکومت کی ہے، یہاں ہم اپوزیشن میں تھے، میرے والد بھی وہاں وزیراعلیٰ رہے اور یہاں پر وفاق میں حکومت کا بیانیہ اور ان کا بیانیہ اور ہوتا تھا، اے این پی بھی اگر یہاں اپوزیشن میں تھی تو وہاں پر ان کا بیانیہ اور ہوتا تھا، ہر دفعہ جب وفاق میں کوئی پارٹی اپوزیشن میں ہوتی ہے اور کسی صوبے میں اس کو اکثریت مل جاتی ہے تو اس کو کہتے ہیں وہاں اپوزیشن کیا ہوتی ہے، لہٰذا اس طریقے سے ان کو ہٹانا اور پھر یہ کہ آپ آرٹیکل دو سو بتیس کی بات تو کرتے ہیں، آپ آرٹیکل دو سو چونتیس کی بات تو کرتے ہیں لیکن اگر آپ آرٹیکل دو سو بتیس اور دو سو چونتیس کو آرٹیکل ٹو اے کے ساتھ پڑھیں گے تو آپ بتائیں اللہ کی حاکمیت کے ساتھ عوام کے ووٹ کا ذکر ہے یا نہیں ہے؟ عوامی نیابت کا ذکر ہے یا نہیں ہے؟ ایک حصے کو دوسرے سے بلکل الگ تھلگ رکھ کر جبکہ آئین کے تمام دفعات ایک برابر ہیں اور جہاں پر ان کے درمیان تصادم آئے گا وہاں آپ کو اس میں تطبیق لانی پڑے گی، آپ نے بغیر تطبیق لائے ہوئے آرٹیکل ٹو اے کو نظرانداز کر دیا اور دو سو بتیس اور دو سو چونتیس پر عمل کر کے ایک غیر جمہوری اقدام کیا، غیر سیاسی اقدام کیا، ملکی سیاست کو نقصان پہنچایا۔
دوسری بات یہ ہے کہ کیا وہ حکومت اس لئے ہٹائی گئی کہ دہشت گردی کو روکنے میں ناکام ہوئی، تو آپ مجھے بتائیں کہ کیا بلوچستان میں حالات اس سے خراب نہیں ہیں، وہاں کی حکومت دہشت گردی کو روکنے میں ناکام نہیں ہے، یہاں تو پھر بھی کچھ اضلاع بہتر ہیں، وہاں تو اول تا آخر، میری پارٹی کی جنرل کونسل کا اجلاس ہوتا ہے جس کے چودہ سو اراکین ہیں، کراچی میں اجلاس مقرر کیا جاتا ہے اور کراچی میں بلوچستان کے میرے اراکین کہتے ہیں ہم بلوچستان کی علاقوں سے نہیں گزر سکتے ہم کراچی کے اجلاس میں نہیں آئیں گے، تو پھر اجلاس منتقل کر کے پشاور میں رکھنا پڑتا ہے تاکہ وہ اراکین بھی شریک ہوسکے۔
یہ حالات وہاں کے اور اب تو میں سن رہا ہوں کہ وہاں پر کمشنر بھی اغواہ ہو جاتے ہیں، پتہ نہیں کتنے بڑے بڑے حیثیت کے لوگ اغواہ ہو جاتے ہیں اور سنا ہے کہ آج ہمارے خان آف قلات کے بیٹے کو بھی اغواہ کر لیا گیا ہے، آپ خود اندازہ لگائیں وہاں کے امن و امان کا، اگر بات بیانیے کی ہے تو پھر میرا وہ جواب ہے جو میں عرض کر چکا ہوں، اگر بات ناکامی کی ہے تو پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ناکامی میں دو درجے آگے ہے بلوچستان، وہاں پر پھر اس ناکامی کو سامنے رکھتے ہوئے گورنر راج سے کیوں گریز کیا گیا؟ وہاں پر ایمرجنسی سے کیوں گریز کیا گیا ہے؟ اور چھوڑیے اس بات کو ایک صوبہ بھی ناکام دوسرا صوبہ بھی ناکام، کیا وفاق ملک میں امن و امان برقرار رکھنے میں کامیاب ہے؟ کیا وفاقی حکومت اس ملک میں کامیاب ہے؟ اور ہمیں بدنام کیا گیا یہ تو دہشت گردی کو سپورٹ کر رہے ہیں، یہ تو دہشت گردی کا ساتھ دے رہے ہیں، بھئی دہشت گردی کے خلاف عوام میں اگر کسی نے جنگ لڑی ہے تو میں نے لڑی ہے، ڈھائی سو شہداء میں نے دیے ہیں، میری جماعت اس محاذ پر شہداء کی جماعت ہے اس وقت، اور آپ مجھے طعنہ دے رہے ہیں، میں اگر اس محاذ پر اگر آپ کے ساتھ نہ ہوتا آج آپ اڑ چکے ہوتے، نظر بھی نہیں آتے، لیکن ہم ملک میں آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں، ہم پارلیمانی جمہوریت کی بات کرتے ہیں، ہم عوام کی مرضی کی حکومت کی بات کرتے ہیں اور اللہ کی حاکمیت کی بات کرتے ہیں۔
تو اس حوالے سے ہماری بھی قربانیاں ہیں، ہماری قربانیوں کا مذاق اڑایا گیا، آپ کو اپنے شہداء نظر آتے ہیں میرے شہداء نظر نہیں آتے ہیں آپ کو، آپ کا خون مقدس ہے میرا خون ضائع ہے، اس طرح تو نہیں چلے گا، آپ کو عزت دینی ہوگی، آپ ایک جمہوری پارٹی ایک مذہبی ہونے کے ناطے تمام مذہبی ماحول کو کہ جس پر پوری دنیا کا الزام ہے کہ وہاں شدت ہے، وہاں بندوق کی سیاست ہے، وہاں لوگ بم دھماکے کر رہے ہیں، تباہیاں مچا رہے ہیں، اس ماحول کو آپ نے نہیں کنٹرول کیا، اس ماحول کو جمعیت علماء اسلام نے کنٹرول کیا ہے، پچیس سال میں نے گزار دئیے اس محاذ پر جنگ لڑتے ہوئے، کتنے بڑے بڑے علماء کی شہادتیں ہی ہم نے دی، کارکنوں کی شہادتیں ہم نے دی، ایک اجتماع میں میرے نوے ساتھی بیک وقت شہید ہوتے ہیں اور آج جو سلسلہ تھم نہیں رہا اسی باجوڑ میں پرسوں میرا ایک اور ساتھی شہید کر دیا ہے۔ ہم کہاں کھڑے ہیں اور آپ ہمیں کہاں سمجھتے ہیں اس لیے کہ آپ کی رائے سے ہم نے اختلاف کر لیا ہے، کشمیر جل رہا ہے پرواہ نہیں ہے اس بات کی، لوگ دھرنے میں بیٹھے رہے ہیں یہاں سوئی ہے حکومت کو پتہ ہی نہیں ہے ان چیزوں کا، بیٹھے رہے اور بیٹھے رہے، کہاں جائے گی یہ بات، بلآخر بات جائے گی یہاں کہ کشمیر آپ کا حصہ نہیں رہے گا پھر، یہ جو باہر آپ نے بینر لگائے ہوئے ہیں یہ یہی رہ جائیں گے، آپ کو قوم کو مطمئن کرنا ہوتا ہے، آپ کو نئے نسل کو مطمئن کرنا ہوگا، ان کے مستقبل کو مطمئن کرنا ہوگا، اگر آپ اس طریقے سے تشدد کی طرف جائیں گے تو پھر تشدد کا راستہ تو فرعون نے اختیار کیا تھا اِن لِفِرْعُونَ عَلَىٰ فِي الْأَرْضِ اُس نے روئے زمین میں سرکشی اختیار کی وَجَعَلَ اَهْلَهَا شِيعًا اور اس نے روئے زمین کے لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ آج یہی کام ہم کر رہے ہیں مذہبی لوگوں کو تقسیم کرو، سیاسی لوگوں کو تقسیم کرو، قوموں کو تقسیم کرو، زبانوں کو تقسیم کرو، آپس میں لڑاؤ اور ریاست کو ماں بھی کہو، کیا ماں کا یہ کردار ہے کہ وہ اپنے اولاد کو لڑاتی ہے؟ تقسیم کرتی ہے؟ تشدد میں مبتلا کرتی ہے؟ یا ان کو یکجا کرتی ہے، ایسی ماں پر تھو کہ جو قوم کو آپس میں لڑاتی ہے، آپ ماں کا کردار نہیں ادا کر رہے جی، آپ قوم کو اپنے اولاد نہیں سمجھ رہے، آپ تسلط کی بنیاد پر قوم کو ایک مفتوح قوم سمجھ رہے ہیں، قوم کو غلام بنا رہے ہیں اور پھر ردعمل آئے گا۔
میں ریاست کی بات کر رہا ہوں خدا نہ کرے میرے بھی ماں تھی، ہم نے ماں کو دیکھا ہے، میری اولاد کی بھی ماں ہیں، میری بھی بہنیں ہیں، میری بھی بیٹیاں ہیں، ہم اس حرمت کو اور اس کی قدر و قیمت کو سمجھتے ہیں، ہم یہی تو توجہ دلا رہے ہیں کہ ریاست کو بھی اسی طرح کا ماں ہونا چاہیے جس طرح آپ ایک ماں کی طرح تڑپ رہی ہیں اپنے اولاد کے لیے، بات بنیادی یہ ہے کہ جب ہم نے کہا تھا کہ عالمی قوتیں اور ہمارے طاقتور قوتیں وہ ہمارے پہاڑوں میں معدنی ذخائر پہ نظر رکھے ہوئے ہیں اور دہشت گردی کو اس کا ذریعہ بنا رہے ہیں، یہ دہشت گردی کی پیچھے چھپ کر آپ اس قسم کے مقاصد کب تک حاصل کرتے رہیں گے؟ افغانستان پر قبضہ کرنے کے لیے امریکہ نے دہشت گردی کا ڈھونگ رچایا، پورا یورپ اور نیٹو آپ کے خلاف حرکت میں آیا، اسلامی دنیا کے خلاف حرکت میں آیا، افغانستان کے خلاف حرکت میں آیا، عراق کے خلافت میں حرکت میں آیا، لیبیا کے خلاف حرکت میں آیا، سارے ملکوں میں ہنگامے کھڑے کر دئے تاکہ مسلمان بحیثیت مذہب کے اور ایک امت کے وہ مشتعل ہو جائے اور ریاستوں کا خاتمہ کر دیا جائے۔
اب ہماری بات تو غلط، ہم نے تو الزام لگایا، ہم نے تو ریاست کو بدنام کیا، اصل چیز تو دہشت گردی ہے، ہم تو دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں، یہ تو دہشت گردی کے خلاف ہمارا ساتھ نہیں دے رہے، آج جب وہاں راج لگ گیا، آج جب وہاں ایمرجنسی لگ گئی تو پھر معدنیات کی بحث تم نے چھیڑی ہے یا ہم نے چھیڑی ہے؟ گورنر صاحب نے چھیڑی ہے یا ہم نے چھیڑی ہے؟ آج وہ ساری باتیں کس لیے ہو رہی ہیں؟ اور امریکہ کی طرف سے بھی یہ باتیں آئی ہیں کہ ہم وہاں دلچسپی رکھتے تھے اور رکھتے ہیں، امریکی سفیر انٹریو دے کر کہہ رہی ہے، کس کس کو آپ روئیں گے، کون کون سی چیزیں ہم یہاں لائیں ہیں، بعض باتیں جو ہیں وہ شائد اتنی پبلک میں لانے کی نہیں ہوتی لیکن ہم جو بات کرتے ہیں، جو موقف لیتے ہیں میں پورے اطمینان کے ساتھ لیتے ہیں میں کبھی تذبذب میں رہ کر موقف نہیں دیا کرتا جب تک مجھے اطمینان نہ ہو، آئین کہتا ہے کہ اگر صدر مملکت مطمئن ہو کہ اس صوبے میں امن و آمان خراب ہے اور حکومت نہیں چل رہی تو پھر وہاں پر گورنر راج لگایا جائے، جن الفاظ کے اوپر صدر مملکت نے دستخط کیے ہیں اس میں یہ لفظ نہیں ہے کہ میں مطمئن ہوں، آئینی پروسیجر پورا نہیں کیا گیا اس میں، یہ سوالات ہیں، آپ نے وہاں پر کیا کر دیا؟ آج تجاوزات کے نام پر آپ وہاں پر بس یہی شغل رہ گیا ہے، آج ہم نے اپنی پارٹی کے وہاں مفتی محمود مرکز کو بچانے کے لیے ورکر کو بلانا پڑا ہے کیونکہ وہ تجاوزات نہیں ہیں، وہ حکومت کی طرف سے تجاوزات ہیں، حکومتی تجاوزات کو روکنے کے لیے ہم اپنی عوامی قوت اور جماعتی قوت کو سامنے لا رہے ہیں، تم نے غلط دعویٰ کیا ہے ہمارے اوپر، ہم نے کوئی تجاوز نہیں کیا ہے، ہم اپنی زمین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور جب ہم بنیاد ڈال رہے تھے تو انتظامیہ اور اس سے متعلقہ محکموں کے مشورے کے ساتھ اُن کی اجازت کے ساتھ رکھا تھا، ایسا بھی نہیں کہ ہم نے خود بخود جا کر وہاں پر اینٹ رکھ دی۔
اب حضرت بات یہ ہے کہ بیرسٹر گوھر صاحب نے بھی آپ کے سامنے نے ساری بات رکھی ہے جس طرح کارکنوں کو، معززین کو، پارلیمنٹیرین کو گرفتار کیا جاتا ہے، جس طرح اُن کے مناظر پھر پبلک کے سامنے لائے جاتے ہیں، آج جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے، جس جلسے میں، میں جاتا ہوں اُس جلسے میں اب کہا جا رہا ہے کہ خبر دار اگر آپ نے ان کو بلایا، کون کہتا ہے؟ ڈپٹی کمشنر کہے تو سمجھ میں آئے نا، کمشنر صاحب کہے تو سمجھ میں آئے نا، ایس پی صاحب کہے تو سمجھ میں آئے، یہ پتہ نہیں چلتا کہ کون کہہ رہا ہے اور ڈپٹی کمشنر کیوں کہتا ہے میں مجبور ہوں؟
تو یہ چیزیں بھی آپ لوگوں کو ذرا مدنظر رکھنی چاہیے، یہ جو کہتے ہیں کہ آپ نام لے لیں اس کا معنی ہے کہ آپ کو نام آتا ہے، اور سپیکر صاحب! آپ کو بھی نام آتا ہے لیکن نام لینا نہیں ہے۔ تو بات پھر وہی بس ابھی فی الحال چھوڑ دیتے ہیں اس چیز کو، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے ہمارے صوبے میں اگر تو آپ دہشت گردی کے خلاف کچھ بھی ایک انچ آگے بڑھ چکے ہوتے تو میں اقرار کرتا آج کہ گورنر راج آنے کے بعد کچھ علاقے بہتر ہو گئے ہیں وہاں دہشت گردی کم ہو گئی ہے، اگر تو کوئی اس میں ایک انچ پیشرفت میں دیکھتا تو میں اعتراف کرتا، آج پہلے سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔ عجیب مثال دیتا ہوں آپ کو ایک شخص گرفتار ہو گیا، تھانے میں لاک اپ بند ہو گیا، کچھ دوست گئے انہوں نے پولیس سے بات کی کہ بھئی اس کو چھوڑ دو، کہا ابھی کہتا ہوں، دو گھنٹے کے بعد کہ نہیں چھوڑ رہے پھر انہوں نے فون کیا کہ بھئی ہمارے بندے چھوڑ دو، اس نے کہا جی کہ میں ابھی کہتا ہوں، جب براہ راست تھانے دار سے رابطہ کیا گیا کہ آپ ہمارے بندے کو کیوں نہیں چھوڑ رہے آپ کو اوپر سے دو دفعہ حکم آ چکا ہے، تو انہوں نے کہا پورے تھانے میں ایک ہی آدمی ہے جو لاک اپ میں بند ہے باقی پورا تھانہ محلوں میں بکھرا ہوا ہے، کوئی سپاہی کسی کے گھر میں، کوئی کسی کے گھر میں، رات تھانے میں بھی اب نہیں گزار سکتے، گھروں میں بیٹھ کر رات گزارتے ہیں اور ایک تھانے پر پولیس سٹیشن پر حملہ ہوا اڑا کے رکھ دیا تو آج پورے ٹانک کے علاقے میں تمام چوکیاں بند ہیں، سب کے سب جگہوں میں طالبان آ چکے ہیں اور عوام اپنے گھروں کو چھوڑ رہے ہیں، یہ تو ہمارا دیہاتی علاقہ ہے شہر تو بہت کم وہاں پر موجود ہے، تو وہاں کے لوگ گھروں کو چھوڑ رہے ہیں اور ہجرت کر رہے ہیں اپنے ملک میں، نہ بچوں کو پڑھانے کے قابل، نہ زمین پر جانے کے قابل، نہ کاروبار کرنے کے قابل اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ معدنی ذخائر تک رسائی حاصل کرنے کے لئے حکومت کا خاتمہ چاہتے تھے، آپ نے بلکل بھی دہشت گردی کی خلاف بات نہیں کی اور میں اس موقف پر قائم ہوں اور ان شاءاللہ یہ موقف پبلک میں بھی لے جاؤں گا اور جب میری پارٹی کے جلسے کا وقت آئے گا اور روکا جائے گا پھر اس وقت دیکھا جائے گا کہ دما دم مست قلندر کیا ہوتا ہے کیا نہیں ہوتا، اگر حکومت اس کے لئے تیار ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ٹکر لے تو ہم ان کے ساتھ ٹکر لینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں، لیکن یہ بات ذہن میں رکھیں جناب خواجہ آصف صاحب بھی تشریف فرما ہیں وزیر دفاع، دفاعی معاہدہ ایران میں ہو رہا ہے، میٹنگ ہو رہی ہے، دفاعی وزیر یہاں بیٹھا ہوا ہے، خارجہ وزیر یہاں بیٹھا ہوا ہے، وہاں بھی وزارت داخلہ کی ڈیوٹی ہوتی ہے، وہ اپنے عزت و مقام اور کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے اور اس بات کو بھی اور اس بات کو بھی مدنظر رکھیں میں آپ کی وساطت سے حکومت کے بینچوں سے کہنا چاہتا ہوں، ان سے ادب کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ دن یاد رکھو جب آپ پر سخت وقت تھا اور فرنٹ لائن پر فضل الرحمان لڑ رہا تھا، نواز شریف کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے، مریم نواز کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے، شہباز شریف کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے اور اپنے تمام دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں اس حد تک نہ جائیں کہ کل دوست آپ کے ساتھ بیٹھنے کے قابل نہ رہے اور ہمارے ہاتھ کافی زمانہ ہوا ہمارے ہاتھ لڑے نہیں ہیں اب خارش کر رہے ہیں لڑنے کے لیے، ہم اپ سے درخواست کرتے ہیں میں جو دن رات ایک کر کے نیندیں حرام کر کے اپ سے گفتگو کر رہا تھا اسی خون خرابے سے بچانے کے لیے جس کی طرف اپ ہمیں دھکیل رہے ہیں، جس کی طرف اپ کی خواہش ہے کہ یہ کسی خون خرابے کی طرف جائیں، ملک کو انارکی طرف لے جانا اپوزیشن تو کرتی ہے حکومت تو بچاتی ہے، اج تو اپ انارکی کی طرف لے جا رہے ہیں اور اپوزیشن جو ہے وہ اس کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
تو ذرا کچھ عقل و خرد سے کام لینا چاہیے اس طریقے سے معاملات نہیں چلتے، معاملات چلیں گے بھائی چارے سے چلیں گے، دوستی سے چلیں گے، افہام و تفہیم سے چلیں گے، مذاکرات سے چلیں گے اور ائیں ملک میں کوئی جمہوریت نہیں ہے اس وقت، ملک میں کوئی ائین نہیں ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں ہے، میں دعوت دیتا ہوں حکومت کو بھی، میں دعوت دیتا ہوں اپوزیشن کو بھی، تمام جو باہر پارٹیاں بیٹھی ہوئی ہیں میں دعوت دیتا ہوں کہ ائیں ایک میز پر بیٹھیں اور ایک نیا میثاق جمہوریت کریں، ازسر نو ملک کے مستقبل کو طے کریں، ائین پر عملداری کیسے ہو؟ قانون کی بالادستی کیسے ہو؟ سیاسی بالادستی کیسے ہو؟ عوام کی بالادستی کیسے ہو؟ سویلین سپرمیسی کس طرح ہو؟ ائیں میں دعوت دیتا ہوں اس پارلیمنٹ کے فلور پر کہ بیٹھ کر اس میں حکومت بھی ہو اپوزیشن بھی ہو، تمام پارٹیاں بیٹھیں، بات کرنے کے لیے تیار ہیں، بہتر مستقبل کے لیے تیار ہے، اس ملک کو امریت سے بچانے کے لیے تیار ہیں، اس ملک کو کسی غیر ائینی اور غیر جمہوری اقدام سے بچانے کے لیے تیار ہیں، اس ملک کو تشدد سے بچانے کے لیے تیار ہیں، اس ملک کو خون خرابے سے بچانے کے لیے ہم تیار ہیں، ائیں اور بیٹھ کر گفتگو کے لیے امادہ ہوں ان شاءاللہ العزیز حالات بہتر ہوں گے، خراب نہیں ہوں گے۔ لیکن اگر اپ ہر قیمت پر خراب کرنا چاہتے ہیں، ہر قیمت پر ہمیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں، ہر قیمت پر ہمیں رسوا کرنا چاہتے ہیں، ہم مرنے کو تیار ہیں ہم اپ کے ہاتھوں مرنے کو تیار ہیں، تاریخ کے ہاتھوں مرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ ہم لڑیں گے، عزت بھی عزت ہوتی ہے، غیرت بھی غیرت ہوتی ہے، حمیت بھی حمیت ہوتی ہے، یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں ہے، یہ ملک نہ کسی فوجی کی جاگیر ہے نہ کسی جرنیل کی جاگیر ہے، یہ ملک ہم سب کا ہے، قوم کا ہے، عوام کا ہے اور اس کے لیے ہم نے جنگ لڑی ہے یہ جنگ میں نے اپ کے شانہ بشانہ بھی لڑی تھی اور یہ جنگ اج بھی میں لڑ رہا ہوں، اگرچہ اپ وہاں چلے گئے، پی ڈی ایم کا سر ادھر ہے دھڑ اُدھر ہے، یہ اپ کی سیاسی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ خدا حافظ
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat
