۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
2 November 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا جےیوآئی فاٹا کے زیر اہتمام ڈیجیٹل میڈیا ورکرکنونشن سے خطاب

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat • ۲ نومبر ۲۰۲۶
مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا جےیوآئی فاٹا کے زیر اہتمام ڈیجیٹل میڈیا ورکرکنونشن سے خطاب

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا جےیوآئی فاٹا کے زیر اہتمام ڈیجیٹل میڈیا ورکرکنونشن سے خطاب

2 نومبر 2026

الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ ومن بھیدھم اھتدی، اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ، صدق اللہ العظیم

جناب صدر محترم، اس خطہ کے انتہائی غیرت مند قبائل، اسلام پسندوں، اور غیرت کے نام پر سر قربان کرنے والوں دوستو! میں انتہائی شکرگزار ہوں کہ فاٹا جمعیۃ علماء اسلام نے اس کنونشن کا اہتمام کیا، مجھے دعوت دی اور آج میں اس میں شرکت کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔
یہ ملک، یہ سرزمین، یہ اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے، یہ قوم کے ہاتھ میں امانت ہے اور آپ جانتے ہیں کہ امانت کے لیے دیانت چاہیے اور دیانت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اس سرزمین کی حفاظت، اس سرزمین کی خوشحالی اور ترقی کے لیے کوشاں رہیں۔ بدقسمتی سے ایک طویل عرصے سے قبائلی علاقوں کو جسے فاٹا کہا جاتا ہے یا کہا جاتا تھا یا اب دوبارہ ہو گیا ہے اس کو تجربہ گاہ بنائے ہوئے ہیں۔ ہمارا ایک سیاسی موقف تھا اور ہے، اسی نظر سے دیکھا جائے، ہم بات کرتے ہیں دلیل کے ساتھ اور پھر ہم پاکستانی ہیں، ہم اس خطے کے فرزند ہیں، ہمارے ذہن میں کچھ شکوک آتے ہیں، ہمارے ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں، حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ہمارے ان سوالات کا جواب دے، ہمارے ان خدشات کو دور کرے، ہماری تشفی کرے، لیکن سیاسی ماحول کو الزام تراشیوں اور کردار کشیوں سے پراگندہ کر دیا جاتا ہے۔ ہم اختلاف رائے کرنے والے لوگ ہیں۔ یہی فاٹا جس کے اس صوبے کے ساتھ انضمام کی ختم کرنے کی تجویزیں آ رہی ہیں مجھے اعلیٰ سطحی حکومتی شخصیات نے براہ راست کہا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا، مجھے اس ملک کے نظام اور اس نظام کے چلانے والوں نے براہ راست کہا ہے کہ ہم انضمام کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس کی سابقہ پوزیشن کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت تو آپ نے ہم پر الزامات لگائے، اس وقت آپ نے ہمیں کیا جوابات دیئے، اور یہ بھی مجھے علم ہے کہ کل بھی تم نے انضمام کا فیصلہ کس بڑی قوت کے کہنے پر کیا تھا اور آج تم پھر فاٹا کے علاقوں کو وفاق کے زیر انتظام لانے کے لیے کس بڑی طاقت کے مفاد کے لیے کر رہے ہو اسے کہتے ہیں غلامانہ ذہنیت، نوکری کرو ذرا شائستگی کے ساتھ تو کرو، اپنی قوم کو بیچتے ہو، اس وقت فاٹا کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ تھا، فاٹا کے عوام کے سیاسی اور آئینی مستقبل کا مسئلہ تھا، تو ہم نے اس حوالے سے رائے دی تھی کہ ابھی حالات ایسے نہیں ہیں، آج تک اس انضمام کے ترمیم کے دس سال پورے ہو رہے ہیں بندوبستی نظام نہیں آسکا، پٹواری آج تک نہیں جا سکا، قانون گو نہیں جا سکا، چھ سات پشتوں کی پرانی وہ جائدادیں جو قوموں کی ملکیت تھی تم اس کی تقسیم نہیں کر سکے، تم وہاں پر پولیس منظم نہیں کر سکے، تمہارا ڈپٹی کمشنر وہاں پر حیران و پریشان بیٹھا ہے کہ میں کروں تو کیا کروں، آج مسئلہ سیاسی نہیں، آج مسئلہ آئینی نہیں، آج مسئلہ فاٹا کے وسائل کا ہے اور فاٹا کی معیشت کا ہے۔ لہذا سمجھنا چاہیے کہ اس وقت مدنظر کیا تھا اور آج مدنظر کیا ہے، اس وقت کی صورتحال کو اس وقت کی صورتحال میں دیکھا جائے اور آج کی صورتحال کا تجزیہ آج کی صورتحال میں کیا جائے۔ اور یہ مجھے معلوم ہے، میں ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کر رہا ہوں اور کہتا رہا ہوں اور گورنر راج لگنے سے پہلے اور ایمرجنسی لگنے سے پہلے میں کہتا رہا ہوں کہ قبائلی علاقوں میں معدنی ذخائر کا مسئلہ ہے، معدنی ذخائر کے حوالے سے ہم پوری دنیا کی یہاں سرمایہ کاری کرنے کے اصول سے اختلاف نہیں کر رہے، ملٹی نیشنل کمپنیاں آتی ہیں وہ سرمایہ کاری کرتی ہیں، امریکہ بھی بے نیاز نہیں اس سے، روس بھی بے نیاز نہیں، چین بھی بے نیاز نہیں، برطانیہ اور فرانس بھی بے نیاز نہیں اور ہم تو پچھلے درجے کے لوگ ہیں ہم تو محتاج ہیں کہ یہاں پر کوئی سرمایہ کاری کرے، پاکستان میں پیسہ آئے، پاکستان میں ترقیاتی کام ہوں۔ اب مجھے بتایا جائے کہ چین کی سرمایہ کاری جو سی پیک کے حوالے سے تھی اور سی پیک کسی سڑک کا نام نہیں ہے، وہ ایک پیکج ہے اس کے اندر صنعتی علاقے ہیں، ان صنعتی علاقوں کے لیے بجلی کی کھپت میں اضافہ کرنے کا مسئلہ ہے، بجلی گر بنانے کا مسئلہ ہے، آج کی جو بجلی ہے اور اس بجلی کو اٹھانے کے لیے جو آپ کے پاس ٹرانسمشن لائن ہے آپ نے کئی گنا اس سے بجلی بڑھانی ہوگی، اس کے لئے بجلی گر بنانے کا عمل شروع ہوا، جگہ طے ہوئی، صنعتی علاقے طے ہوئے، آج آپ نے چین کو مایوس کر دیا ہے، ان کی سرمایہ کاری کو راستے میں روک دیا ہے اور جب ایک چین مایوس ہوگا تو دوسری دنیا بھی آپ کے ملک میں سرمایہ کاری کے لیے نہیں آئے گی اور اس کی جگہ کون لے رہا ہے؟ اس کی جگہ امریکہ لے رہا ہے، یہ بات خود امریکی بھی میرے سامنے کر چکے ہیں اور ہمارے بڑے محترم؛ بکسے میں یہاں کے پتھروں کے خوبصورت خوبصورت پتھر لے جا کر وہاں کے دفتر میں بھی پیش کر چکے ہیں اور یہاں جو ان کی اس وقت سفیر ہیں وہ بھی اپنے انٹرویو میں کہہ چکی ہیں۔
تو جب ہم اپنے ملکی ذخائر کو اس طرح بیچتے ہیں تو پھر یہ بات واضح ہے، یہ پاکستانی سیاستدان ان کو میں جانتا ہوں، ان کی ترجیحات کو میں جانتا ہوں، اس قسم کے تمام معاملات میں پہلے وہ اپنے حصے کا تعین کرتے ہیں اس کے بعد پھر ملک کے لئے سوچتے ہیں وہ بھی بعد میں پہلے آقاؤں کے مفادات کے لئے سوچتے ہیں۔ اب اگر اس میں میری تشویش ہے، اگر اس میں میرا سوال ہے، تو بجائے اس کے کہ مجھے اس سوال کا جواب دیا جائے گورنر راج لگایا گیا ایمرجنسی لگائی گئی، کس بات پہ؟ دہشت گردی ہے، صوبائی حکومت دہشت گردی کے بیانیے کے ساتھ ہے، مملکتی بیانیے کا ساتھ نہیں دے رہے، دہشت گردی دہشت گردی دہشت گردی کو اتنا اٹھایا گیا کہ جیسے ہم کوئی واقعی غلط بات کر رہے ہیں۔ تو صاحب امریکہ نے پوری دنیا میں فوجیں بھیجنے کے لیے افغانستان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے، عراق کو تہہ و بالا کرنے کے لیے، لیبیا کو تہہ و بالا کرنے کے لیے، عرب دنیا میں فساد پھیلانے کے لیے، پہلے دہشت گردی کا طوفان اٹھایا اور پھر وہاں فوجیں بھیجنے کے لیے جواز پیدا کیا۔ جب تمہارے آقا وہ ہیں تو ہم کیسے سوچیں گے کہ آپ کا یہ واویلا کچھ اور مقاصد کے لیے تھا، اس مقصد کے لیے نہیں تھا جس کی آپ نے بات کی۔
سو جونہی گورنر راج لگ گیا اور جونہی ایمرجنسی لگ گئی دہشت گردی کا موضوع ختم ہو گیا اور بحث ان کی طرف سے چھڑی ہے معدنی ذخائر، آپ ایک حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں اس کے لیے پہلی ضرورت یہ ہے کہ گورنر صدر مملکت کو لکھے گا، کوئی خط نہیں لکھا گیا، کابینہ کے فیصلے کو سمری بنا کر صدر کے پاس بھیجا گیا جو کوئی پروسیجر نہیں ہے قانونی اور دستوری لحاظ سے، صدر مملکت کو لکھنا پڑتا ہے کہ میں مطمئن ہوں کہ صوبے کے حالات یوں ہیں، یوں ہیں اور وہاں سول گورنمنٹ نہیں چل رہی، ایسا کوئی لفظ موجود نہیں ہے ان کی تحریر میں کہ میں مطمئن ہوں، یہ آئینی الفاظ ہیں یہ قانونی الفاظ ہیں، یہ کوئی میں زبردستی نہیں کہہ رہا۔ اب آپ مجھے بتائیں کہ اگر ہم قوم کی بات کرتے ہیں، قوم کے امانتوں کی بات کرتے ہیں، اس سرزمین کی امانت کی بات کرتے ہیں، قوم کے حق کی بات کرتے ہیں، تو پھر صاف بتاؤ نا؛ پہلے یہ بتاؤ کہ معاہدہ کہاں ہے؟ معاہدہ کن شرائط پہ ہوا ہے؟ معاہدات اور معاملات میں شفافیت ہونی چاہیے، قوم پر واضح ہونا چاہیے۔ لیکن قوم سے کیوں چھپایا جا رہا ہے؟ ایک ہی صوبے کے اندر دو نظام کیوں؟ ایک حصے میں گورنر راج اور دوسرے حصے میں ایمرجنسی اور کہتے ہیں کہ اگر وجہ دہشت گردی نہ ہوتی تو پھر ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کو اس میں کیوں شامل کیا گیا، پھر بنو اور لکی کو کیوں شامل کیا گیا اور میں آج نئی بات آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ کوہاٹ کو بھی شامل کر رہے ہیں۔اب میں ایک بات تلخ کہنے والا ہوں، ذرا سینہ تھام کے سنو اب اس بات کو، تم دلیل بنا رہے ہو کہ چونکہ دہشت گردی وجہ ہے اس لیے ہم نے سیٹل ایریا کے ڈیویژن بھی اس میں ڈال دیے ہیں، نہیں، آج بھی تم نے افغانستان کے وہ تمام راستے جہاں سے قانونی تجارت ہوا کرتی تھی وہ راستے بند کر دیے ہیں، لیکن چوری کے راستے تو اب بھی کھلے ہیں، تو قبائلی علاقوں کے ذخائر کے لیے سمگلنگ کا راستہ کون سا ہے یا ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان ہے اور بنو اور لکی ہے یا کوہاٹ ہے، اپنی سمگلنگ کے لیے تم نے یہ راستے ایمرجنسی میں ڈال دیے ہیں، اب اگر میں غلط بات کہہ رہا ہوں تو مجھے اس طرح کا جواب دو نا، دہشت گردی میں تو کوئی فرق نہیں آیا، تمہارے ٹرک زیادہ گزرنے شروع ہو گئے ہیں، مال کدھر جا رہا ہے؟ اور جب ہم الیکشن سے پہلے حکومت میں تھے شہباز شریف صاحب کی حکومت میں تھی اور ریکوڈک کا مسئلہ آیا تو ریکوڈک کے مسئلے پر بھی ہمارے تحفظات تھے، ہم کابینہ کا حصہ ہوتے ہوئے بھی ہم نے حکومتی فیصلے سے اختلاف کیا اور ہمارے چار وزراء نے کابینہ اجلاس کا واک آؤٹ کیا تھا، قوم کی امانت قوم کی امانت ہوا کرتی ہے، تم لاکھ میڈیا کو استعمال کرو، تم لاکھ مجھے گالیاں دو، جن کا رواں رواں کرپشن میں لتھڑا ہوا ہے، جن کا عنصری جسم کرپشن سے ابھرا ہے، وہ میرے گھر کے کچن کی پیچھے پھر رہے ہیں اور میرے گھر کے جنریٹر کی پیچھے پھر رہے ہیں، کچھ شرم کرو کچھ حیاء کرو، بات کرو سلیقے کے ساتھ کرو، لچر قسم کے لوگوں کو میرے پیچھے گالیوں کے لیے ڈال دیا ہے، یہ حربے کب تک چلیں گے، اگر یہ وطیرہ ہے تمہارا تو یہ وطیرہ آج کا تو نہیں ہے، میں تو 1993 سے اس قسم کی صورتحال کا مقابلہ کر رہا ہوں، کبھی میرے نام پر پلازے الاٹ ہو جاتے ہیں، کبھی میرے نام پر فیکٹریاں الاٹ ہو جاتی ہیں، کبھی میرے نام پر ہوٹل الاٹ ہو جاتے ہیں، کبھی میں دن میں آسی ہزار کا لسی پی لیتا ہوں، یہ کیا باتیں ہیں جو تم کر رہے ہوں، تمیں شرم آنی چاہیے اس بات پر کہ آپ ایک مکالمے کو اس قسم کی گھٹیا انداز کے ساتھ تبدیل کرتے ہو، آپ آئیں مکالمہ کریں، آپ قوم کو مطمئن کریں، آپ اس پروپیگنڈوں سے مجھے متاثر کر سکتے ہیں خدا کی قسم میرے ادنی کارکن کو بھی آپ متاثر نہیں کر سکتے، پوری دنیا نے تمہیں دھتکار دیا ہے۔

مولانا جمال الدین صاحب نے کچھ باتیں کی یہاں پر، میں ایک بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں ایک وضع دار ادمی ہوں، میرے روایات ہیں، پشتون روایات بھی ہیں اسلامی روایات بھی ہیں، جو لوگ میرے گھر آئے ہیں میں ان کو آج بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، جنہوں نے میرے گھر میں قدم رکھا ہے میں ان کے قدم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، اگر میرے گھر میں بیٹھ کر انہوں نے چائے کی ایک پیالی پی ہے انہوں نے میری عزت کی ہے، میں کل بھی ان کی عزت کرنا چاہتا ہوں، میں آج بھی ان کی عزت کی نظر سے دیکھتا ہوں اس بارے میں حدیث میں آتا ہے: وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ، کسی کو عار نہ دلایا کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، یعنی مسلمانوں کو ایذا نہ دیا کرو، انہیں عار نہ دلایا کرو اور ان کے ذاتی و نجی معاملات کو نہ ٹٹولا کرو۔ فَإِنَّهُ مَنْ تَتَبَّعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ رَحْلِهِ اور جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیوب اور نجی معاملات کو ٹٹولنے کے درپے ہوگا، اللہ تعالیٰ بھی اس کے عیوب کو ظاہر کر دے گا اور اسے اس کے گھر کے اندر ہی رسوا کر دے گا۔

اب یہ ساری چیزیں کون کر رہا ہے؟ یہ وہ زبان کر رہی ہے جو میرے آرمی چیف کی ناک کے نیچے ہیں، میں برملا ان سے شکایت کرتا ہوں اور اگر کبھی مجھے ملے تو میں یقیناً ان کے سامنے یہ شکایت رکھوں گا کہ آپ اخلاقی گراوٹ میں مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ حافظ قرآن بھی اس طرح اخلاقی طور پر گرے گا، یہ جو بچونگڑے بولتے ہیں یہ ان کے اپنی زبان نہیں ہے، یہ کہاں سے بولتے ہیں، ہمارے خواجہ آصف صاحب میرے محترم ہیں، میرے بڑے بھائی ہیں، میں نے تو اس کی تھوڑی سی گدگدی کی تھی لیکن ان کو غصہ اگلے دن آیا، اگلے دن والا جو غصہ ہے نا جی جو آپ کا مکہ اٹھا ہے تو پھر وہ مکا اپنے چہرے پر گونس دینا چاہیے، دوسرے کے چہرے پر نہیں لگتا وہ جی، کیا بات تھی؟ اسمبلی میں تو مسلم لیگ کی طرف سے مجھے جواب دے دیا گیا اور اس جواب سے مجھے کوئی شکایت بھی نہیں ہے، میرے سوالات کا جواب نہیں تھا اس میں، اپنا بیانیہ، اس نے اعادہ کیا، خوب دہرایا، ٹھیک ہے آپ دہراتے رہے آپ کو حق پہنچتا ہے، لیکن میرے سوالات کیا ہیں آپ نے اس کا جواب کیوں نہیں دیا؟ اپنی ہی بات کا تکرار کرتے رہے۔
تو اس حوالے سے جو مسائل ہیں، معاملات ہیں اس میں بلاوجہ تلخی پیدا کی جا رہی ہے، میں تلخی کی طرف نہیں جا رہا ہوں، میں آج بھی اپنی گفتگو، اپنے نقطہ نظر کے حوالے سے، اپنے دلائل کے حوالے سے، اپنے سوالات کے حوالے سے، اپنے شبہات کے حوالے سے اور اپنے خطرات کے حوالے سے پیش کر رہا ہوں۔ اور میں پاکستان کا ایک شہری ہوں آپ کو میرے سوالات و خدشات کا جواب دینا ہوگا، گالیاں اس کا جواب نہیں ہیں، فیک ویڈیوز بنانا یہ کوئی جواب نہیں ہیں اور میں عزت نفس بھی رکھتا ہوں اور شرعاً میں اس کا جواب دینا بھی جانتا ہوں، اگر یہ علماء بیٹھے ہیں اگر کوئی کسی گھر کے کھڑکی سے آپ کے گھر کے حرمت کو تاکتا رہے اور آپ نے اس کے آنکھ میں خنجر مار دیا اس پر قصاص ہے؟ تو یہ یاد رکھیں کہ ہم تو تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن اگر ہم نے جواب دیا تو پھر آپ کے لیے بھی برداشت کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا، مجھے پتا ہے ساری سیاسی دنیا اس وقت گونگ ہے، خاموشی چھائی ہوئی ہے اور اس ماحول میں اگر کوئی آواز ہے تو آپ کی آواز ہے اور اس قوم کے حقوق اس ملک کے حق اس کی امانت کی حفاظت کرنا ہے، ہم کوئی تجارت کا انکار تو نہیں کر رہے، اللہ رب العزت نے فرمایا: نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا.
یعنی ہم نے دنیا کی زندگی میں ان کے درمیان ان کی معیشت تقسیم کی ہے، اور ہم نے بعض کو بعض پر درجات میں فوقیت دی ہے، تاکہ ان میں سے بعض، بعض کو خدمت کے لیے استعمال کریں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی صلاحیتوں اور وسائل میں بھی فرق رکھا ہے۔ ایک کے پاس دولت کی طاقت ہے تو دوسرے کے پاس محنت کی طاقت؛ ایک کے پاس وسائل ہیں تو دوسرے کے پاس ٹیکنالوجی، لہٰذا کسی کے پاس وسائل ہیں اور کسی کے پاس ٹیکنالوجی؛ ایک دوسرے کی ضرورت پوری کرتے ہوئے باہمی تعاون کا یہ نظام دنیا کی اجتماعی زندگی کو آگے بڑھاتا ہے۔ آئیں کھل کر معاہدے کریں دنیا پر بھی واضح ہو قوم پر بھی واضح ہو اور یہ معلوم ہو کہ میرا اس میں حصہ کتنا ہوگا، باہر کی کمپنی کا حصہ کتنا ہوگا اور مقامی آبادی کا حصہ کتنا ہوگا، آج بھی قبائل عوام کو اس کے معاشی حق سے محروم کیا جا رہا ہے، اس وقت ان کے سیاسی حق سے محروم کیا گیا، آج ان کے معاشی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
تو میں نے تو قبائل کی بات کی ہے اور آپ مجھے بتائیں کہ جہاں ایمرجنسی ہے وہ براہ راست وزارت داخلہ کے ماتحت ہو گئے وفاقی وزارت داخلہ کے ماتحت اور جہاں پر گورنر راج ہے وہ براہ راست وزیراعظم کو جواب دہ ہیں اور وہاں ایک کونسل بنائی گئی ہے جو گورنر راج کے علاقوں کے روزمرہ کی بنیاد پر نگرانی بھی کریں گے اور ہدایت بھی دیتے رہیں گے اس میں گورنر کہاں ہیں؟ گورنر کدھر ہیں؟ گورنر تری پی سوٹ میں ہے، بس، پھر کہتے ہیں مولانا صاحب کو افغانستان چلا جانا چاہیے اگر افغانستان ان کو بہت عزیز ہے، بابا افغانستان تو پشتونوں کا بھی وطن ہے، افغانوں کا بھی وطن ہے، پاکستان بھی یہاں پڑوس میں پشتون رہتے ہیں ان کے، ان کو تو ہم سنبھال لیں گے بات، لیکن تم بتاؤ اپنا نسب نامہ، تم اپنی تاریخ بتاؤ، تمہارے آباؤ و اجداد کل بھی انگریز کے وفادار تھے یا نہیں، تمہاری تعلیم و تربیت آج بھی وہی ہے یا نہیں جو انگریز نے دی تھی، تو پھر میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم نے اگر اس پاکستان میں رہنا ہے تو آپ کو پاکستان میں رہنے کا حق حاصل نہیں ہے، جاؤ برطانیہ چلے جاؤ، وہی تمہاری اقامت گاہ کا بن سکتی ہے۔
اٹھارہ سو تین سے لے کر انیس سو سینتالیس تک میرے آباؤ اجداد نے اس سرزمین کی آزادی کے لیے خون پیش کیا ہے، جس سرزمین پر آج تم حکومتیں کر رہے ہو اور عیاشیاں کر رہے ہو، یہ میرے آباؤ اجداد اور میرے اسلاف کی خون سے رنگی ہوئی ہے، تمہارا کردار کیا ہے یہاں؟ اپنا ملک خون میں ڈوبا ہوا ہے اور بیرون ملک ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو اور کیا ہے تمہارے پاس، تمہارا بیانیہ کمزور ہے، تمہارا مقدمہ کمزور ہے، تم پتہ نہیں کس کے مفاد کی جنگ لڑ رہے ہو، ہم پاکستان کے مفاد کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ تم مجھے بتاتے ہو ریاست کیا ہوتی ہے، تم مجھے بتاتے ہو ریاست کا مقام کیا ہوتا ہے، ریاست کو بدنام کیا ہے تو تم لوگوں نے بدنام کیا ہے، اچھی بھلی ماں، لیکن اس پر اگر سوالات اٹھے ہیں تو تمہارے کردار کی وجہ سے اٹھے ہیں، پھر ناراض بھی ہوتے ہو، میرا کوئی جھگڑا نہیں ہے، میرا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے، جہاں کوئی میرا ساتھی ملا جماعت کا آدمی ہے، کاروبار کر رہا ہے، ان کو اپنے دفتروں میں بلا کر گھنٹوں گھنٹوں بٹھایا جاتا ہے کہ فضل الرحمن کے خلاف بیان دو، علماء کو فون کیے جاتے ہیں فضل الرحمن کے خلاف بیان دو۔ اس پر کیچڑ اچھالو، جمعیۃ کے ممبران اسمبلی کو، صوبائی اسمبلی کے ممبران کو رابطے میں لیا جاتا ہے فضل الرحمن کے خلاف بیان دو، یہ فرمائشی بیانات اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا؛ مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید
حال دل ان کو سنایا تو برا مان گئے
آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے
جھوٹ سے پردہ اٹھایا تو برا مان گئے
اتنی سی بات کہی تھی تو برا مان گئے
تو اس حوالے سے ہم نے اپنے اکابر و اسلاف کی تعلیمات کو بھولنا نہیں ہے، اس سرزمین پر قرآن و سنت کے نظام کو نافذ کرنے کے لئے ہم نے آئین بنایا تھا، پہلے ملک بنایا، پہلی دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد پاس ہوئی، پھر انیس سو تریہتر کا آئین بنایا جس کا آج قرارداد مقاصد آرٹیکل ٹو اے اس کا حصہ ہے، آپ گورنر راج تو نافذ کر رہے ہیں، ایمرجنسی تو نافذ کر رہے ہیں آئین کے آرٹیکل دو سو بتیس کا حوالہ دے رہے ہیں، آئین کے آرٹیکل دو سو چونتیس کا حوالہ دے رہے ہیں، لیکن دو سو بتیس ہو دو سو چونتیس ہو آرٹیکل دو کے ساتھ بھی پڑھو نا، جو کہتا ہے کہ حاکمیت اللہ رب العالمین کی ہوگی اور عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے سے اس نظام کو چلایا جائے گا۔ اب اقتدار میں تبدیلی لاؤ لیکن اس شق کو بھی تو دیکھو نا آئین کے، آپ نے جو جبر کیا، حکومت کو ہٹانا تھا تو حکومت کو ہٹانے کی بھی طریقے ہوتے ہیں اور اگر میں تھوڑا سا اور بھی پردہ اٹھا لوں آپ کو بھی مزہ آ جائے گا، پی ٹی آئی کی حکومت دو ہزار تیرہ سے ہے، دو ہزار تیرہ سے ہے نا، پہلے وزیراعلی کون تھا ان کا پرویز خٹک؛ آج کہاں بیٹھا ہوا ہے؟ کس کے گود میں ہے؟ محمود خان وزیراعلیٰ تھا آج کہاں ہے؟ عثمان بزدار وزیراعلی تھا کہاں ہے؟ گنڈا پور وزیراعلی تھا آج کدھر ہے؟ تو ذرا یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کس طرح ان کے اندر اسٹیبلشمٹ گھسی ہوئی تھی اور ان کو اپنی مرضی کے مطابق ہانکتی تھی۔ جمعیۃ علماء کو آپ اپنی مرضی سے نہیں ہانک سکتے، لیکن پھر بھی ہم اس ملک کے اندر ایک صحت مند سیاست دیکھنا چاہتے ہیں، سیاسی پارٹیوں کو آزادانہ کردار ادا کرنا چاہیے، آئین کو سامنے رکھتے ہوئے، اب لانگ مارچ یہاں سے جا رہا تھا، لانگ مارچ پر بھی میرے سوالات تھے، ایسا نہیں ہے کہ میرے سوالات نہیں تھے جو میں نے ان کے پارٹی لیڈرز کے سامنے پیش بھی کیں، لیکن مطالبہ کیا تھا؟ کوئی بڑا مطالبہ نہیں، بس خان صاحب سے ملاقات کرنے دو اور خان کو عدالتی فیصلے کے مطابق علاج کے لئے اسپتال لاؤ، جب صورتحال ٹھن گئی آپس میں، تو پھر میرے پاس آئے کہ مسئلہ کا حل لاؤ، میں اسی دن عمرے سے ایا تھا، اگلے دن حکومتی وفد آیا ہاں جی آپ بالکل اس میں کردار ادا کریں، رات کو وزیراعظم کی طرف سے مجھے دعوت ملی کہ آپ میرے ہاں کھانا کھائیں، میں نے کہا کھانا میں آپ کے ساتھ کھاؤں گا انسانوں کی زندگیاں بچانے کے لئے، ملک کو کسی شدت کی طرف جانے سے روکنے کے لئے، لیکن میں کوئی خفیہ ملاقات نہیں کروں گا، کھل کر بات ہوگی۔ آپ اپنی دعوت کو وائرل کرلے، ہم اپنی ٹیم لے کر گئے، ان کی بھی ٹیم بیٹھی ہوئی تھی، آج میں آپ کے سامنے یہ بات رکھنا چاہتا ہوں کہ مسئلے کے حل کا طریقہ بھی مجھے وزیراعظم نے خود بتایا کہ اس طرح کر لو تو پھر اچھا ہو جائے گا، ہم بھی مان لیں گے، میں نے پی ٹی آئی کی قیادت سے بات کی انہوں نے کہا ہمیں قبول ہیں، رات کو وہ جلدی سو جاتے ہیں تو میں صبح نماز کے وقت پہنچا، تو میں نے ان کو حل بتائے، جو میری تجویز تھی میں نے وہ بھی ان کو بتائی، جو پی ٹی آئی کی تجویز تھی وہ بھی بتائی، لکھتے بھی رہے، کوئی بات سمجھ میں نہیں آئی تو پھر دوبارہ لکھا پہلے کو کاٹ کے اور خوشی خوشی مجھے رخصت کیا۔ پھر ساڑھے نو بجے مجھے فون کیا کہ میں کابینہ کے سامنے پیش کرنے والا ہوں آپ کی ساری گفتگو، آج ان کے وزراء کہہ رہے ہیں، میں نہیں کہہ رہا جو کابینہ میں موجود تھے کہ کابینہ کے اجلاس میں فضل الرحمن کی کوئی بات نہیں کی گئی، اب بتاؤ کس پہ اعتماد کریں ہم اور پھر ساڑھے دس بجے میرے پاس اسحاق ڈار صاحب کا فون آیا کہ کابینہ نہیں مان رہی ہے، بھئی اس وقت تک تو آپ نے پیش ہی نہیں کیا تو ماننے کی کیا مطلب ہے، پھر بیچ میں وقفہ ہوتا ہے پھر وقفے کے بعد کسی سے مشورہ ہوتا ہے پھر آ کر بیٹھتے ہیں گورنر راج لگاؤ، گورنر راج لگاؤ، یہ ٹھیک ہے، یہ حکومتی لیول کی گفتگو ہے، اتنی بڑے لیول پر آپ مذاق کر رہے ہیں لوگوں کے ساتھ، اتنی بڑے لیول پر تمہارے کوئی زبان نہیں ہے، حیرت ہوتی ہے کہ اتنی بڑے مناصب پر بیٹھ کر بھی ان کو اپنی زبان کے قدر و قیمت کا پتہ نہیں ہے۔ اب بیانیہ ہیں بنائے جا رہے ہیں، تو بنائے جا رہے ہیں، اب ان کے آپس بھی بیانیوں کے تضاد آ گیا ہے تو ایک ایک کی تاویل کر رہا ہے تو دوسری دوسری کی تاویل کر رہا ہے سمجھ میں نہیں آتی کہ سچ کیسے بنائیں، سب آنے تک جھوٹ نے گاؤں کو برباد کر دیا ہوتا ہے۔
تو اس جھوٹ سے سیاست نہیں ہوتی، ہماری طرح شفاف سیاست کرو، جو سوال ہے کیا کرو، آپ ہمیں مطمئن کر دیں ہم سوال واپس لے لیں گے، ہم کوئی تشدد والے لوگ تو نہیں ہیں، تمہیں کچھ نظر نہیں آیا تو جمعیۃ کے اوپر الزام لگا دیا کہ وہ تو دہشت گردی کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے، شرم نہیں آتی یہ بات کرتے ہوئے عوام کی سطح پر اور عوام کی محاذ پر اگر پورے ملک کے کسی کا کلیدی کردار ہے، مسلح جدوجہد کی نفی کرنے میں وہ تو واحد جمعیۃ علماء اسلام ہے، تم اپنے ملک کے ایک موقر اور محترم سیاسی جماعت اور اُس کے کارکنوں کے قربانیوں کا مذاق اڑا رہے ہو اور ہم برداشت کرتے رہیں اس لئے کہ صاحب بہادر نے کہہ دیا ہے، اوئے ایسے صاحب بہادر بہت سے گزرے ہیں ہمارے سر کے اوپر سے، وہ ہمارے سر پر بیٹھنا چاہتے تھے ہم نے بغل کی نیچے دبایا ہے ان کو، ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
تو نہ ہم سیاست میں مرعوب ہونے والے ہیں یہ جو حربیں تم استعمال کر رہے ہو دقیانوسی قسم کے حربیں ان حربوں سے ہم گزر چکے ہیں یہ کامیاب نہیں ہوں گے اور اگر پھر آزمانا ہے تو پھر ذرا ہاتھ لگا کر دیکھ لو پھر دیکھو کہ پاکستان میں ہمارا کارکن کہاں تک جاتا ہے، ہم نے پچیس سال، ہم نے پچیس سال اپنے اس حلقے کو پورے مذہبی حلقے کو چاہے کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہو ان کو اپنے ملک کے آئین کے ساتھ باندھا ہے، اپنے وطن کے ساتھ باندھا ہے اور آپ ہے کہ ہمیں دھکیل رہے ہیں روزانہ ان کی طرف، اس کے باوجود ہم کہتے ہیں کہ ملک ہمارا ہے ہم نے اپنے فیصلے خود کرنے ہیں، تمہارے اکسانے پہ ہم نہیں اکسائے جائیں گے۔ تو ہمیں شرافت، اصول، وفاداری اور اعتماد کی سیاست کرنے دیجیے، تشدد سے پاک، دلیل و برہان کی بنیاد پر ہمیں اپنا کام کر دے دیجیے اور اگر آپ غلطیاں کریں گے، قوم کے امانتوں پہ ہاتھ ڈالیں گے، چوری کریں گے اور قوم سے اپنے معاملات کو خفیہ رکھیں گے تو پھر ظاہر ہے کہ اس پر بات کرنا یہ ہمارا شرعی فرض بن جاتا ہے أفضَلُ الجِهادِ كلمةُ عَدْلٍ عند سُلطانٍ جائرٍ؛ پھر یہ ہمارا جہاد ہے، افضل جہاد ہے اور ہم اس پر فخر کرتے ہیں۔
تو میرے خیال میں وقت بھی پورا ہو رہا ہے اور باتیں بھی، پشتو میں بیان کرتا لیکن یہاں میڈیا والے بیٹھے ہیں اس لیے ان کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے، اور یہ جو لوگ پشتو پشتو کی بات کرتے ہیں، قسم سے ان کے تمام خاندانوں پر اپنے پشتو کی ایک ناخن دینے کو تیار نہیں ہوں۔
بہرحال ہم قومی سیاست کرتے ہیں، ملکی سیاست کرتے ہیں، ہم تعصب کی سیاست نہیں کرتے، قوموں کو آپس میں لڑانے کی سیاست نہیں کرتے، فرقوں کو لڑانے کی سیاست نہیں کرتے، اختلاف اپنی جگہ لیکن اپنے بیچ اچھے تعلقات، وحدت اور قومی وحدت یہ ہمارا ہدف ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس میں کامیابی عطاء فرمائے۔
الحمدللہ رب العالمین، والصلوات والسلام علیٰ خیر خلقہ محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
‎#teamJUIswat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پچھلی خبر مولانا عطاء الرحمان صاحب کا مفتی محمود مرکز...