۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
7 November 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

قائد جمیعت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا اسلام آباد میں قومی تعلیمی کانفرنس سے اہم خطاب

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat • ۷ نومبر ۲۰۲۶
قائد جمیعت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا اسلام آباد میں قومی تعلیمی کانفرنس سے اہم خطاب

قائد جمیعت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا اسلام آباد میں قومی تعلیمی کانفرنس سے اہم خطاب

7 نومبر 2026

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین. أَمَّا بَعْد

جناب صدر، محترم اساتذہ كرام، قابل قدر ساتھیوں! یہ ایک بڑا باوقار اجتماع ہے جہاں اساتذہ کرام، معلمین اور شعبہ تعلیم سے وابستہ حضرات مجتمع ہیں، دو روز پہلے یہاں اسلام آباد میں طلبہ کا اجتماع ہوا تھا اور آج یہاں پر اساتذہ کرام کا اجتماع ہو رہا ہے۔ ہر دو اجتماعات میں جہاں منعقد ہونا تھا وہاں طاقتور قوتوں نے نہ طلبہ کو جمع ہونے دیا اور نہ اساتذہ کو، یہ ہے ان کی نظر میں تعلیم کی قدر و قیمت، یہ ہے ان کی نظر میں طالب علم کا مقام، یہ ہے ان کی نظر میں استاد کا مقام، آپ کو شائد سزا اس بات کی مل رہی ہے کہ آپ کا نظریہ، آپ کا فکر، آپ کی سوچ کا زاویہ جمعیۃ علماء اسلام سے ملتا ہے اور یہ بھی کہ آپ کے اجتماع سے فضل الرحمان خطاب کرنے والے ہیں، لیکن ہم نے اپنے بزرگوں سے یہی سیکھا ہے کہ کمزور لوگ اشتعال دلاتے ہیں، بہادر لوگ اشتعال میں نہیں اتے۔ جو کچھ انہوں نے کیا اس میں حماقت بھی ہے اور اس میں دناعت بھی، سوائے اس کے کہ وہ اپنے خلاف نفرت پیدا کر رہے ہیں، نفرت کس کے خلاف پیدا ہوگی، حکومت کے خلاف، ملکی نظام کے خلاف تو یہ چیزیں انہیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی ہیں۔ کون پالیسیاں بناتا ہے، کون فیصلے کرتا ہے یہ جو نامعلوم ہیں، یہ سب ہم کو معلوم ہے۔
میرے محترم بزرگوں، دوستوں اور بھائیوں! جنابِ رسول اللہ ﷺ کے دو فرمودات ہیں ایک دفعہ آپ فرماتے ہیں؛ اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا، میں اُستاد بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں؛  بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ، میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں، یعنی دو چیزیں مقصود ہیں تعلیم بھی اور تربیت بھی، تعلیم نہیں تو اندھیرا ہے اور صرف اندھیرا ہی نہیں پھر انسان کو انسانیت کا مقام بھی نہیں مل سکتا،أُوْلَـٰۤىِٕكَ كَٱلۡأَنۡعَـٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّ کی مصداق بن جاتے ہیں اور تربیت نہیں تو سکہ ہے لیکن کھوٹا، مارکیٹ میں اس کی قیمت نہیں، جیب پر بوجھ ہے، اور نفع بخش نہیں۔ ہمیں جو اپنے اکابر نے اپنے درسگاہوں میں نظام عطاء کیا ہے اس میں تعلیم بھی ہے اور اس میں تربیت بھی ہے، ابھی جو میں آپ کی باتیں سن رہا تھا آپ نے تعلیمی نظام کے حوالے سے جو بات کی ہے وہ ظاہر ہے کہ اس تعلیمی نظام کے حوالے سے ہے جو سرکار کے کنٹرول میں ہے، سرکار کے زیر انتظام نظام تعلیم اس کی جو جو کمزوریاں آپ نے بتائی ہیں وہ معمولی نہیں ہیں اور اس نگرانی کے اندر اگر نظام تعلیم کا یہ حال ہے تو ہمارے دینی مدارس کا بھی یہی حال کرنا چاہتے ہیں، اس کو بھی اپنے زیر کنٹرول لانا چاہتے ہیں۔
بہاولپور کا جامعہ اسلامیہ عباسیہ جہاں مولانا شمس الحق افغانی پڑھایا کرتے تھے، جہاں پر جامعہ اشرفیہ کے مولانا ادریس کاندھلوی پڑھایا کرتے تھے، بریلی مکتبہ فکر کے اعلیٰ علماء پڑھایا کرتے تھے وہاں، آج حالت دیکھ لیں سرکار کے قبضے میں آیا، تو ملتان کے ایک کالج اور ان کے کالج میں کوئی فرق نہیں، پشاور میں جو اسلامیہ کالج ہے اس کی بنیاد ڈالی گئی تھی تو دار العلوم الاسلامیہ کے نام سے ڈالی گئی تھی، لیکن جب سرکار کے قبضے میں آیا آج کہاں کھڑا ہے وہ، اور بھی مثالیں ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ دینی مدارس صرف مولوی پیدا کرتے ہیں، قومی دھارے میں نہیں آتے، اب قومی دھارہ کس کو کہتے ہیں؟ قومی دھارے کی تعریف کیا ہے؟ یعنی ان کی تعلیم کو یوں تبدیل کیا جائے کہ وہ سرکاری ملازمت کے اہل ہو جائیں، اب یہاں ایک باریک فرق کو سمجھنا ہے، علم عام، وہ تو ہےوَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا، تمام علوم حضرت آدم کو دے دیے گئے اور حضرت آدم علیہ السلام کو تمام علوم عطاء کرنے کا معنی یہ ہے کہ بنی آدم کے اندر یہ استعداد ہوگی کہ وہ سارے علوم حاصل کرسکے اور ہر چیز کا ادراک کرسکے۔ تو یہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے، کوئی بھی انسان، کسی بھی ملک کا، کسی بھی خطے میں نئی ایجادات کرتا ہے، نئی تخلیق کرتا ہے، تحقیق کرتا ہے، وہ انسانی مقصد کو حاصل کر رہا ہے، لیکن کسی بھی نبی کے دور میں اس علم کا نہ ہی انکار کیا گیا ہے نہ اس کی نفی کی گئی ہے۔ دنیا کے علوم ہیں، فنون ہیں، انسانی زندگی میں انسان کو اس کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے ذریعے سے وہ اپنی زندگی کو بہتر بناتا ہے۔ لیکن ایک ہے علم خاص، جس کو ہم وحی سے تعبیر کرتے ہیں علم القرآن، یہ خاص علم ہے اور بہت اچھی تعبیر کی کہ قرآن کریم یہ در حقیقت ہر وہ علم جو آپ نے حاصل کیا ہے اس کے سمت کا تعین کرتا ہے جائزہ اور ناجائز، حلال اور حرام کے حدود کا تعین کرتا ہے۔ تو انبیاء کرام تو اس مقصد کے لئے اللہ نے بھیجے ہے، اب اگر ایک انسان یہ چاہتا ہے کہ میں انبیاء کا علم حاصل کرنا چاہتا ہوں یہ ایک شعبہ ہے، میں اس شعبے میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہوں تو انہی لوگوں کے لئے کہا گیا ہے  العلماءَ ورثةُ الأنبياءِ، دین کے جو علماء ہیں یہ انبیاء کے وارث قرار دیے گئے ہیں۔ إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، یہ جو ہمیں کہا جاتا ہے کہ بے روزگار ہیں، کھائیں گے کہاں سے، پیسے کہاں سے کمائیں گے، تو اگر انبیاء کے علوم کو حاصل کرنا ہے تو اس کا مقصد تو روپے پیسہ نہیں ہے یہ تو وہ علم ہے کہ جو آپ کو زندگی کا سمت متعین کرتا ہے کہ آپ نے یہ کام کس حد تک کرنا ہے، اس کے جائز حدود کیا ہیں، ناجائز حدود کیا ہیں، حلال کے حدود کیا ہیں، حرام کے حدود کیا ہیں، اس فرق کو ہمیں سمجھنا ہوگا اور دینی مدارس کا قیام اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ جہاں انبیاء کا علم ہوگا اس میں پھر انبیاء کا اثر تو آئے گا اور انبیاء کی بعثت کا اساسی مقصد وہ انسانیت کی آزادی اور حریت کا تھا۔آزادی اور حریت اس کا بنیادی مقصد تھا، شریعت کا راستہ مشکل راستہ ہے، یہ مشکل گزرگاہ ہے اور اسی لئے اس کو العقبہ سے تعبیر کیا گیا ہے، عقبہ ایک مشکل گذرگاہ کو کہتے ہیں، جب شریعت کو مشکل گزرگاہ سے تعبیر کیا گیا تو پھر اس کا اولین تقاضا کیا ہے؟ اولین تقاضا ہے فکو رقبہ، گردن چھڑانا، ایک فرد غلام سے لے کر قوم کی آزادی تک کہ کسی جابر کی بالادستی جو ہے وہ قبول نہ کرے اور اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ اگر ایک حکمران بھی آپ کو مجبور کرے کہ آپ نے میرے حکم کو ماننا ہے اور شریعت کی رو سے اس کی اجازت نہ ہو تو آپ کو ایسے حکمران کی اطاعت بھی آپ پر لازم نہیں ہے۔ اس مملکت خدادات پاکستان میں روز اول سے لے کر آج تک حکمرانوں کے خواہشات کے مطابق تو قانون سازی ہوتی رہی ہے لیکن شریعت کی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے قانون سازی نہیں ہوئی، سن انیس سو تہتر میں جب آئین بنا تو سن تہتر ہی میں اسلامی نظریاتی کونسل قائم ہوئی اور آج تک اس نے تمام قوانین کا جائزہ لے کر جو سفارشات مرتب کی ہیں وہ متفقہ ہیں، ورنہ اٹھانویں فیصد متفقہ ہیں لیکن ایک سفارش بھی آج تک کسی قانون ساز ادارے کے سامنے پیش نہیں کی گئی، یہ ہے ہمارے حکمرانوں کا اللہ کی دین سے اور اس پاکستان کے مقصد حقیقی سے دلچسپی، اپنے مفادات کی بات ہو تو فوراً قانون سازی، لیکن شریعت کا تقاضا ہو تو کرلیں گے جی اور کرلیں گے اور ہو جائے گا، ہم مسلمان ہیں، ہم سب مسلمان ہیں، اسلام سے میرا کوئی سروکار نہیں ہے، تو ٹھیک ہے مسلمان ہیں کلمہ گو ہے لیکن ملک کو جس قانون کی ضرورت ہے ہم اس کی بات کر رہے ہیں۔
تو سب سے پہلے آزادی کا تصور، اس کے بعد معاشی خوشحالی، جب بھوک ہو تو کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، اب یہ قرآنی تصور ہے، ایک بھوکے فرد سے لے کر پوری قوم کی معاشی ضرورت کو سامنے رکھنا یہ قرآن کریم کا تقاضا ہے۔ تو آزادی پہلا تقاضا، خوشحال معیشت دوسرا تقاضا، اور اس کے بعد مفلوک الحال طبقے، کمزور طبقے، یتیما ذہ متربہ او مسکینا ذہ مقبرہ، یتیم بھی ہو قرابت دار بھی ہو مسکین ہو اور بیچارے کی جسم پر کپڑا نہ ہو گرد آلود ہو، ان طبقوں کو جو ترجیح اللہ رب العزت نے اپنے کلام میں عطاء کی ہے یہ شریعت در حقیقت اس انسان کی فلاح و بہبود کے لئے ایک نظام عطاء کرتا ہے، ہم نے دین اسلام کو صرف عبادات تک محدود کر دیا ہے اور اس کے سیاسی نظام کا ہم انکار کر رہے ہیں، زبان سے نہیں تو عملاً انکار کر رہے ہیں، اس پہلو کو ہمیں مدنظر رکھنا ہوگا، یہاں پر تو حکمران خوشحال بنتے چلے جا رہے ہیں، ان سے نہیں پوچھا جاتا کہ تم دس بیس سال میں لاکھوں ایکڑ کے اراضی کے مالک کیسے بن گئے؟ ان سے نہیں پوچھا جاتا کہ تم سیاست میں آئے اور آج تم پورے ملک کے بڑے صنعتکار بن گئے ہو اور یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں اس پر مقدمے چلے ہیں، سزائے ہوئی ہیں، قیدوبند آئے ہیں ان کے اوپر، لیکن جس دن وہ وفاداری کا اعلان کر دیتے ہیں اسی روز سب دھل جاتے ہیں۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ آپ ذرا اپنی تاریخ کو بھی دیکھیں، آپ نے انگریز کی خلاف جنگ لڑی ہے، انگریز کے خلاف جنگ در حقیقت ہندوستان سے وفاداری تھی، اپنے وطن سے وفاداری تھی، لیکن اگر آپ نے اس وقت کے اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف کیا اور اس کے خلاف آپ نے آواز بلند کی تو وطن کی وفاداری کام نہیں آئی، آپ کو غدار کہا گیا، آج بھی آپ پاکستان کے وفادار بنیں، سو دفعہ وفادار بن جائیں لیکن آج کی اسٹیبلشمنٹ کی پیروکاری اگر آپ نے نہ کی اور ان کی خواہشات کے مطابق آپ نے زندگی نہ گزاری تو آپ غدار قرار دیے جاتے ہیں اور پھر دشمنی بھی کی جاتی ہے، اختلاف بھی کیا جاتا ہے، لیکن بڑے لوگ اس میں بھی وقار رکھتے ہیں۔ یہاں تو حالت یہ ہے کہ گھٹیا قسم کے اقدامات، آج آپ میڈیا دیکھیں، میں کیا کہہ رہا ہوں اور یہ کیا کہہ رہے ہیں؛
من چہ می گویم و طنبورہ من چہ می سرایم
یہ فارسی کا ایک مقولہ ہے وہ ایک شخص تھا مرلی بجا رہا تھا، تو مرلی بجانے والا اندر سے ایک گانا گا رہا ہوتا ہے اور اس گانے کے راگ میں وہ انگلیاں ہلاتا ہے اور اس کے مطابق اس کی مرلی چل رہی ہوتی ہے، جو اس فن کے ماہر ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جو مرلی بجا رہا ہے یہ کون سی شعر کہہ رہا ہے اور کون سا گانا گا رہا ہے، تو اس نے کہا یار میں اندر سے کچھ گا رہا ہوں اور میری مرلی کچھ اور گا رہی ہے۔
بھئی ہمارا دعویٰ کیا ہے اور تم میڈیا پر بحث کیا کر رہے ہیں، فلانا نوٹس مل گیا اور فلانا نوٹس مل گیا اور فلانا نوٹس مل گیا تو یہ نوٹس نوٹس ساری زندگی ہم بھگت رہے ہیں، بات یہ ہے سیاسی طور پر کہ تم نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج کیوں نافذ کیا؟ تم نے خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کیوں لگائی؟ دعویٰ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف، دہشت گردی تو جب بھی آپ نے دہشت گردی کے خلاف قدم اٹھایا ہے تو دہشت گردی بڑھتی جا رہی ہے اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کے آپریشنز یہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہیں ہے اس کے پردے میں چھپ کر کوئی اور مقاصد ہیں، جیسے ہمارے کچھ ساتھی ازرائے تفنن کبھی کہہ دیتے ہیں کہ یار ایک اور مظاہرہ کرو تو پیٹرول مہنگا ہو جائے گا تو اور مظاہرہ کرو آٹا مہنگا ہو جائے گا تو اور مظاہرہ کرو تو کوئی اور چیز مہنگی ہو جائے گی، تو یہاں بھی ہمارا ایک سوال ہے، ہم پبلک ہیں، ہم پبلک کی نمائندگی کر رہے ہیں، ہم قبائل کی نمائندگی کر رہے ہیں، صوبوں کے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ تمہارے اقدامات دہشت گردی کے خلاف ہے یا تمہارے اقدامات ہمارے پہاڑوں میں معدنی ذخائر ہیں، ان کو لوٹنا ہے۔ میرا احتساب لیتے ہو، جنریٹر باہر پڑا ہوا ہے، کیبن غلط لگا ہوا ہے، جمعیۃ علماء اسلام کے مرکز کے سامنے کھڑے ہو گئے کہ تم نے تجاوز کیا ہے، یہ باتیں نہ کرو، تم بتاؤ تمہارے پیٹ میں جو پہاڑ پڑے ہوئے ہیں اس کا کیا کریں گے، شرم و حیا والوں کو آدمی ایک دفعہ کہتا ہے وہ فوراً سمجھ جاتا ہے، آپ بار بار کہتے ہیں ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اب جناب ان کو پتہ نہیں کوئی چالیس سال کے بعد، کوئی تیس سال کے بعد، کوئی بیس سال کے بعد یاد آگیا فلانا نوٹس، فلانا نوٹس اور ہمارا مدرسہ اس کا نظام یہ ہوتا ہے آپ جانتے ہیں کہ مدرسہ ایک مہتمم کے زیر انتظام ہوتا ہے، وہی اس کے لئے زمین بھی پیدا کرتا ہے، چندہ بھی کرتا ہے، تعمیر بھی کھڑی کرتا ہے، سارا نظام اس کا اپنا ہوتا ہے، پھر وہ جا کر وفاق المدارس کے نظم میں شامل ہوتا ہے، وہ ایک امتحانی نظم، یہاں پر کہا گیا کہ فضل الرحمان کے بیس ہزار مدارس ہیں، تو مولوی صاحبان آپ فارغ ہیں، یعنی الزام لگانا، پروپیگنڈا کرنا، کوئی سلیقہ بھی تو نہیں آنا چاہیے نا، بیس ہزار میرے مدارس ہیں، اتنے رجسٹرڈ ہیں، اتنے نان رجسٹرڈ ہیں یعنی میں کوئی مدرسہ سمگل کیا ہو۔ یہ جو بے موقع آپ کو غصہ آتا ہے گزرنے کے بعد اور غصے میں آپ گھونسا اٹھاتے ہیں تو یہ گھونسا پھر اپنے منہ پر گھونس دینا چاہیے یا اپنے منہ پر مارو، یہ ہمارے طرف متوجہ نہیں ہوسکتا، اور یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے یہ جو پاکستان میں سیاسی پارٹیاں بنتی ہیں اور حکومتیں بنتی ہیں یہ کمزور لوگ ہوتے ہیں، یہ انہی کے بنائے ہوتے ہیں تو پھر یہ خود تحلیل کرتے ہیں ان کو، جمعیۃ علماء آپ کی بنائی ہوئی نہیں ہے، جمعیۃ علماء انگریز اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آزادی کی تحریک اٹھا کر بنی ہیں اور آج بھی اسی کا ہم تسلسل ہیں، تم روز روز ہمیں اشتعال دلا رہے ہو لیکن ہم بھی بڑے تجربہ کار ہیں ہم بھی اشتعال میں نہیں آتے، ان شاءاللہ العزیز یہ حربیں ہمیشہ چلتے رہتے ہیں، ان کے ہم عادی ہو چکے ہیں، جو آپ کو گالیاں دیتا ہے وہ ایوان صدر میں بیٹھتا ہے، جو آپ کو گالیاں دیتا ہے وہ وزیراعظم اور وزیراعلی بن جاتے ہیں، جو آپ کو گالیاں دیتا ہے وہ وزیر دفاع بن جاتے ہیں اور جو کہتا ہے کہ ملک بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے آج وہ معتوب ہیں اور وہ ملک میں جلسہ نہیں کرسکتے، اجتماع نہیں کرسکتے، لیکن اللہ کی زمین وسیع ہے ایک جگہ سے روکو گے تو دوسری جگہ بیٹھ جائیں گے اور ہم تو آباؤ اجداد سے خیموں میں رہنے والے لوگ ہیں، صحراؤں میں بسیرہ ڈالنے والے لوگ ہیں، آپ ہمیں دھکیلیں گے تو ہم وہاں چلے جائیں گے، اگر کسی کو پاکستان میں رہائش کا حق نہیں، ایک ایک گھر کے پیچھے پھر رہے ہو، ایک ایک کمرے کے پیچھے پھر رہے ہو کہ تم یہاں رہتے کیسے ہو؟ کسی کو کاروبار کا حق حاصل نہیں اگر آپ سے اختلاف کرتا ہو، کسی کو عزت کی زندگی گزارنے کا حق نہیں ہے اگر آپ سے اختلاف کرتا ہو، تو پھر آپ کی جنگ حق کے خلاف ہے، آپ کی جنگ عزت کے خلاف ہے، آپ کے اقدامات ریاست کے خلاف ہیں، آپ کے اقدامات شرافت کے خلاف ہیں، پاکستان ہمارا ہے اور اس پاکستان کا ہم دفاع کریں گے، اس کے نظام کا دفاع کریں گے اس کے امانتوں کا دفاع کریں گے اور تمہاری سارے حربیں خس و خاشاک ہو جائیں گے، آپ نہیں جانتے ہم تحریکی لوگ ہیں ہم مسلسل آگے بڑھتے ہیں اور تحریک یاد رکھو، یاد رکھو اساتذہ کرام! تحریک تشدد کا نام نہیں، تحریک تسلسل کا نام ہے۔ کبھی آپ گوادر پہ نظر ڈالے ہوئے ہیں، کبھی آپ بلوچستان کے سمندر اور کوسٹل ایریا پہ نظر ڈالے ہوئے ہیں، کبھی آپ صوبہ سندھ کے جزیروں پہ نظر ڈالے ہوئے ہیں، یہ عوام کے حقوق ہیں، میں نے تو اسی لئے کہا تھا کہ یہ سارا کچھ جو ہو رہا ہے یہ دو باتوں کے لئے ہو رہا ہے ایک صوبوں کے وسائل پر قبضہ کرنا، ان کے معدنی ذخائر، ان کے سمندری ساحل، ان کے جزائر اور دوسرا این ایف سی ایوارڈ جو اس وقت صوبوں کے محصولات کے بڑے حصے ہیں ان کو کٹ کرنے کے لئے سب کچھ ہو رہا ہے۔
یہ تو ایسے ترمیم ہیں جو متفقہ ہیں یا پاکستان کا آئین متفقہ ہے یا ختم نبوت کی ترمیم متفقہ ہے یا اٹھارہویں ترمیم متفقہ ہے۔ آپ قوم کی اتفاق رائے کو تباہ کر رہے ہیں، ایک بھائی فاٹا کا انضمام کر رہا تھا تو ہم نے کہا مت کرو، آپ کو فاٹا کا مطالعہ نہیں ہیں، ہم نے جو دلائل ان کے سامنے دیے وہ بضد تھے کہ نہیں، انضمام لازم ہے۔ اس کے پشت پر کون تھا؟ وہ بھی مجھے معلوم ہے، آج دس سال کے بعد اس کا دوسرا بھائی کہتا ہے یہ انضمام غلط چیز تھا وہ پرانے پوزیشن واپس کر دیں، تو اس طریقے سے دس سال کے بعد اس بات پر آنا کہ وہ غلط تھا ہمیں پرانے پوزیشن پر واپس بحال کر لینی چاہیے اور وفاق کے زیر انتظام فاٹا کو ایمرجنسی کا علاقہ قرار دیا گیا۔ وہ وفاق کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔
تو یہ وہ ساری صورتحال جس پر ہمارے ایک نکتہ نظر ہے، سیاسی نکتہ نظر ہے، بجائے اس کے کہ ہمیں مطمئن کیا جائے ہم پر طعن کی جا رہے ہیں، ہم پر الزامات لگائے جا رہے ہیں اور ان کا خیال یہ ہے کہ ہم اس کے دباؤ میں آ کر اپنا بیانیہ تبدیل کر دیں گے، ہم بھی آپ کے منہ پر یہ ملتے رہیں گے، آپ کی مرضی ہے آپ جو کچھ کرے، تمہارے یہ ادارے یہ آپ کے کنٹرول میں ہیں ان سے ہمیں انصاف کی کوئی توقع نہیں اور میں اپ کے اساتذہ کے اس اجتماع سے بڑے وضاحت کے ساتھ انہیں پیغام بھیجنا چاہتا ہوں کہ احتساب کہ آپ کے ادارے انتقامی ادارے ہیں یہ احتساب کے ادارے نہیں ہے۔
تو اس حوالے سے ہم نے اپنی بات کرنی ہے، دلائل کے ساتھ کرنی ہے، ہم کسی سے جھگڑا نہیں کر رہے، تم ہمیں تنگ کر رہے ہو اس لیے کہ ہم مشتعل ہو جائیں، تم ہمیں تنگ کرتے ہو اس لیے کہ ہم پنجہ آزمائی کر لیں، ہم پنجہ آزمائی کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ہم اس ملک کو بھی دیکھتے ہیں، تمہیں ملک کی پرواہ نہیں ہے، تمہیں اپنے پیٹ کی پرواہ ہے، تم قوم کے سرمائے کو سمیٹنے کی کوشش کرو، ہم اس وطن کو بچانے کی جنگ لڑیں گے۔
تو اس حوالے سے میں اساتذہ کرام سے یہ عرض کروں گا کہ اس مؤقف کو سمجھانے کی کوشش کرے، اپ سوسائٹی کے لوگ ہیں، آپ پڑھے لکھے لوگوں میں بیٹھتے ہیں اور اس حوالے سے جو ہمارا موقف ہے اس کو ہائی لائٹ کریں، میں میڈیا سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ میں کچھ کہہ رہا ہوں اور اپ کچھ کہہ رہے ہیں، ان کی اگر میرے خلاف کوئی نوٹس اتے ہیں روزانہ اچھال رہے ہو، بھئی میرا دعوی اچھا لو، یہ ملک کا مسئلہ ہے۔ یہ صوبوں کے عوام کا مسئلہ ہے، ان کے حقوق کا سوال ہے اور جو کر رہے ہو وہ آئین کی نفی ہے، وہ قانون کی نفی ہے، وہ حق کی نفی ہے۔ تو اس حوالے سے میں اج کے اس اجتماع سے اور اس کی وساطت سے یہ ضرور کہوں گا کہ ملک میں ایک فضا بنائی جا رہی ہے جیسے کہ ہم بڑے کوئی بدعنوان لوگ ہیں اور ہمارا الحمدللہ 74 سال کی عمر میں جا رہا ہوں اج تک کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوا اور ایک دفعہ پیشی ہوئی وہ بھی ختم نبوت کے سلسلے میں، تو یہ حربیں اپ کے کامیاب نہیں ہو سکیں گے، کبھی ہمارے ساتھیوں پہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے، کوئی کاروباری ہے اس پہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے، میرے خاندان پہ دباو ڈالا جا رہا ہے، جماعت کے اہم ذمہ داروں پہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے، او بابا ہم ان دباؤ کے عادی ہیں، اس دباو کے ہم عادی ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہم اپنے حق کی اواز روک دیں گے یہ نہیں ہوگا، ہمیں مطمئن کرو کیا ہو رہا ہے؟ ہماری تشویش کو دور کرو، قوم کی تشویش اس کو دور کرو اور یہ بھی اپ کو بتا دوں کہ اس وقت کوئی سیاسی جماعت نہیں بول رہی، کوئی قوم پرست نہیں بول رہا، سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ اس ماحول میں ایک ہی اواز ہے اپ کی، اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ اکیلے ہیں، اکیلے نہیں، اگر ہم نے کال دے دی تو پھر وہ قوم ائے گی ان شاءاللہ کسی چیز کے محتاج نہیں ہوں گے۔
بہت شکریہ اپ حضرات کا، میں نے اپ کا بڑا وقت لے لیا ہے اور ان شاءاللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اللہ تعالی ہمیں استقامت نصیب فرمائے۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
‎#teamJUIswat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پچھلی خبر جمعیت طلباء اسلام کے زیر اہتمام منعقدہ مفتی...