اسلام آباد: اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی میڈیا سے گفتگو
4 نومبر 2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
میں ان تمام اکابرین کا انتہائی شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمیں عزت دی اور آج ایک بہت سنجیدہ مشاورت ہوئی ہے۔ مشاورت کا یہ عمل مزید آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کے لئے کمیٹی بنا دی گئی ہے اور جو باہمی کچھ تحفظات ہیں ان کو دور کرنے کے لیے بھی سب کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ تو ان شاءاللہ العزیز یہ سفر اب آگے بڑھتا جائے گا اور جو اقدامات اب تک ہوئے ہیں چاہے وہ گورنر راج کے حوالے سے ہیں، چاہے ایمرجنسی کے حوالے سے ہیں، چاہے معدنی ذخائر کے حوالے سے ہیں، اس پر ہم نے قوم کی نمائندگی کی ہے، ہم نے عوام کی امانت کی بات کی ہے اور اس امانت کی تحفظ کے لئے ہم اپنا کردار ادا کریں گے۔ کبھی ہمارے ایکٹ پاس کیے جاتے ہیں مائنز اینڈ منرلز کے حوالے سے اور اگر وہ یہاں پاس نہیں ہو سکتے تو پھر پوری حکومت اور اسمبلی کو اڑا دیا جاتا ہے، تو اس طریقے سے بلوچستان میں بھی یہ ہے کہ گوادر پر ان کی نظریں ہیں کہ ان کو وفاق کے ماتحت لایا جائے اس طرح کوسٹل ایریا جو ہے وہ سمندر کے کنارے جتنے بھی وہاں پر منافع بخش مقامات ہیں ان کو وفاق کے تحت لانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ اسی طرح سندھ میں جزیروں کی باتیں ہو رہی ہیں کہ ان کو وفاق کے کنٹرول میں دے دیا جائے۔ تو اس طرح صوبائی حقوق اور اٹھارویں ترمیم کے تحت جو ہر صوبے کے عوام کو ان کے بچوں کو حقوق ملے ہیں ان کو اب واپس لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کبھی فاٹا کا انضمام کیا جا رہا تھا تو ہم نے اس وقت بھی بات کی تھی کہ ابھی آپ اس کے متحمل نہیں ہے اور ملک متحمل نہیں ہے، آج اس کو دوبارہ ختم کیا جا رہا ہے اور اس کو وفاق کے زیر اہتمام لائے جا رہا ہے۔ تو اس وقت جو عوامل تھے وہ سیاسی تھے اور اس وقت جو عوامل ہیں وہ وسائل کے ہیں۔ لہٰذا ان کے پالیسیوں میں کوئی پتہ نہیں چلتا کہ آج قوم کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے، کل کیا کھیل کھیلا جائے گا اور انضمام ہے تو وہ بھی فاٹا کے عوام کے لئے نعمت عظمیٰ اور اگر اس کو ختم کیا جا رہا ہے وہ بھی فاٹا کے عوام کے لئے نعمت عظمیٰ، یہ متضاد قسم کی جو پالیسیاں اور حکمت عملیاں چلائی جا رہی ہیں اس پر ہمارے تحفظات ہیں، ہم نے اپنی شکایات سامنے رکھی ہیں اور پوری دلیل کے ساتھ سامنے رکھی ہیں، ہم نہ کسی کی کردار کشی کر رہے ہیں، نہ کوئی ہم الزام تراشیوں کا سہارا لے رہے ہیں، ہم بلکل ایک پولیٹیکل لینگویج کے ساتھ ملک کی اہم مسائل کو سامنے لا رہے ہیں اور حکومت اس پر بات کرنے کی بجائے ذات کو چھیڑتی ہے، ان پر حملے کر رہے، تاکہ لوگوں کی توجہ اس طرف رہے کہ اس کے گھر میں جنریٹر کیوں لگا ہوا ہے، یہاں پر کیبن کیوں رکھا ہوا ہے، کچن کہاں بنا ہوا ہے۔
یہ ساری چیزیں مضحکہ خیز ہیں اور اس مضحکہ خیزی میں وہ پبلک کے ذہن کو اور طرف لے جا رہے ہیں، ہم کوئی جواب نہیں دیں گے، ہم کسی بات پر اپنا دفاع نہیں کریں گے، ہم تمام مشکلات کو عبور کریں گے، لیکن قومی امانتوں کا تحفظ کریں گے، نہ بین الاقوامی کسی ادارے کو اپنے ملک کے اثاثوں کو لوٹنے دیں گے اور نہ پاکستان کے اپنے اداروں کو عوام کے حقوق کو لوٹنے کی اجازت دیں گے۔
الیکشن ہوتا ہے تو ووٹ لوٹا جاتا ہے اور حکومتیں بنتی ہیں تو وسائل لوٹے جاتے ہیں، علاقے لوٹے جاتے ہیں، یہ چیزیں کسی قیمت پر پاکستان کی نہ جمہوریت کا تقاضا ہے، نہ آئین کا تقاضا ہے، نہ شریعت کا تقاضا ہے اور اس طرح سے قوم کو بے خبر رکھ کر جب اس پر شب خون مارا جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ کوئی تو آواز بلند کرے گا، تو ہم اس میدان میں ہیں اور ان شاءاللہ العزیز اس حوالے سے ہم اپنے تمام مشکل مراحل کو عبور کریں گے ان شاءاللہ اور آگے بڑھیں گے۔
سوال و جواب
صحافی: اپوزیشن لیڈر سے میرا سوال ہے، سر! ان کا جواب تو آگیا ہے انہوں نے یہ جو پاکستان میں سیاست دانوں کو بدنام کر رہے ہیں جو قوتیں، غیر جمہوری قوتیں، مولانا صاحب تو نشاندھی کر چکے ہیں، نام بھی لے چکے ہیں، بتا بھی چکے ہیں، کون ہیں وہ آپ نے یہ کہا کہ ہم کردار کشی کی مذمت کرتے ہیں، آپ بتانا چاہیں گے کہ وہ کون ہے جو سیاست دانوں کو بدنام کر رہے ہیں؟
محمود خان اچکزئی: سیاسی پارٹیوں کو بھی نئے سرے سے غسل کرکے، وضو کرکے یہ اعلان کرنا پڑے گا کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف غیر جمہوری قوتوں کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں، غیر جمہوری قوتیں پاکستان کو یہاں تک پہنچا چکے ہیں کہ تمام دنیا میں یہ تنہا ہو گیا اور ابھی بربادی کے طرف، ہم کسی کو بھی یہ وطن ہمارا ہے ہم کسی کو بھی یہ ملک توڑنے یا اس کو میدان جنگ بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
صحافی: یہ بتائیے گا کہ ایک الیکٹورل ریفارمز کے حوالے سے محمود اچکزئی صاحب آپ اپوزیشن لیڈر ہیں، آپ سے بھی رابطہ کیا گیا ہوگا یا پی ٹی ائی کے ساتھ، مولانا صاحب آپ دونوں کا موقف۔۔
محمود خان اچکزئی: الیکٹورل ریفارمز جو بھی ہے وہ ٹھیک ہے، ابھی یہاں الیکشن نہیں کرنے دیا جاتا، کون نہیں کرنے دیتا، آپ بھی جانتے ہیں، ہم بھی جانتے ہیں۔ الیکشن کی بات تب ہوگی جب ہم خوب ایک زور کا جھٹکا دیں گے، پھر ہم صحیح جمہوری پاکستان کی طرف بڑھیں گے، پھر اس پہ بات ہوگی۔
صحافی: مولانا صاحب! آج پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے تھوڑی دیر قبل ہی ایک معاشی سیمینار میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سمیت ملکی معاملات کو پارلیمان میں کہیں لایا ہی نہیں جاتا اور کوئی متبادل کوئی فورم ہی بنا دے جہاں پہ کوئی اور، انہوں نے کہا کہ حاظر سروس نہ سہی کوئی ریٹائرڈ ہی بندہ ہو جو آ کر ہمیں پالیسیوں پر بتائے تو سہی، اس کا مطلب ہے پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت میں سے جب آن ریکارڈ اس طرح کی اسٹیٹمنٹس آ رہی ہیں تو آپ کا اتفاق رائے کیا موجودہ اپوزیشن تک ہی رہے گا یا باقی اسٹیک ہولڈرز کو بھی اعتماد میں لیں گے؟
مولانا صاحب: اس حوالے سے میں ایک سے زیادہ مرتبہ ایوان کے فلور پر کہہ چکا ہوں کہ اگر وہ پبلک کے سامنے کچھ چیزیں نہیں رکھنا چاہتے، تو اسی قومی اسمیلی یا سینیٹ یا مشترکہ کا ایک ان کیمرہ اجلاس ہو جائے تاکہ ہمیں بتایا جائے، قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے، تو اس حوالے سے کیوں لیت و لعل کیا جا رہا ہے؟ کیوں اس سے فرار اختیار کیا جا رہا ہے؟ ہم عوام کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں، یہ عوام سے چوری چھپے سارے اقدامات اور فیصلے کرتے ہیں اور نوید قمر صاحب نے جو بھی بات کی ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ حکومت میں ہوتے ہوئے حق کی بات کر رہے ہیں اور انہوں نے آہ شھیدا شاھد من اھل، اپنے خاندان سے ہی ان کے اوپر ایک گواہی سامنے آ جاتی ہے، تو اس حوالے سے پیپلز پارٹی کو بھی اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے اور جو کچھ ہو رہا ہے اگر سندھ کے عوام وہ کینالز کے مسئلے پر اٹھ سکتے ہیں اور وہ اپنے حق پر بات کر سکتے ہیں، تو پھر ہمیں یہ بھی یہ حق حاصل ہے، ہر صوبے کے لوگوں کو یہ حق حاصل ہے، بلوچستان کو یہ حق حاصل ہے، کے پی کے کو یہ حق حاصل ہے، پنجاب کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے وسائل اور اپنے ریسورسز کے لئے نکلیں اور اس کے لئے تحریک چلائیں اور اس کے تحفظ کے لئے آواز بلند کریں۔
صحافی: مولانا صاحب! آپ نے کچھ عرصہ پہلے جوتوں کی نوک پر رکھنے کی بات کی تھی، نیب کی طرف سے آپ کو نوٹس جاری ہوا تھا، تو موجودہ جتنے بھی نوٹس جاری ہوئے کیا یہ بھی جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اور ساتھ ساتھ محمود خان اچکزئی صاحب سے میرا سوال ہے کہ موجودہ مسائل کی بات کی، کہ ملکی مسائل ہے تو ملکی مسائل کا ذمہ دار حکومت کو سمجھتے ہیں یا اسٹیبلیشمنٹ کو سمجھتے ہیں؟
مولانا صاحب: دیکھیے! بات بڑی صاف ہے، بہت مختصر عرصے میں یہ جو ہفتہ دس دن گزرے ہیں اسی میں ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ جو اپنے آپ کو منتخب حکومت کہتے ہیں یا اپنے آپ کو سویلین حکومت کہتے ہیں وہ کتنی بے بس ہے، اس کی بے بسی کا مشاہدہ میں کر چکا ہوں، لہٰذا آپ کا سوال جو ہے وہ بالکل واضح ہے اور اس کا جواب بھی بڑا واضح ہے۔
صحافی: سر! سیز فائر کا کوئی امکان ہے، ویسے لگ تو رہا ہے کوئی سیز فائر کا امکان ہے، کوئی معافی تلافی ہوگی یا کیا کوئی سیز فائر یہ جو سیاسی گولہ باری ہے؟
مولانا صاحب: حضرت! بات یہ ہے کہ ہم نہ کوئی جذباتی بات کر رہے ہیں، نہ ہمیں کسی سے لڑنا ہے، نہ ڈنڈا اٹھانا ہے، نہ بندوق اٹھانی ہے، ہم بالکل سیاسی لب و لہجے میں سیاسی راستے پہ چلتے ہوئے سیاسی حدود میں اپنی بات کر رہے ہیں۔ ہمیں اسی حوالے سے جواب دیا جائے، یہ جو ادھر اُدھر سے کردار کشی کی باتیں ہوتی ہیں میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ وہ اپنے حقوق اپنے وسائل اپنے ریسورسز سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے ذاتی جنگ چھیڑ دیتے ہیں جی، سو اس جنگ کا میں عادی ہو چکا ہوں، یہ انیس سو ترانوے چورانوے سے میں اس قسم کی صورتحال کا سامنا کر رہا ہوں، یہ میرے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے اور وہ بھی یہ نہ سوچیں کہ ان قسم کی چیزوں سے یہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں گے، مرعوب ہو جائیں گے اور پھر وہ اپنی بات نہیں کہہ سکیں گے، جتنا تم یہ جذبہ دباؤں گے اتنا بڑھتا جائے گا اور ہم کبھی بھی سرنڈر ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں، اپنے ملک میں ہم نے اپنی جنگ لڑنی ہے، اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، ہم نے نہ ہجرت کرنی ہے، نہ ہم نے ملک کو کسی کے حوالے کرنا ہے، ہم اپنے قوم کی بات کرتے ہیں، قوم کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور اس پر ہمیں نہ کوئی روک سکتا ہے اور نہ ہم رکیں گے، یہ قافلہ بڑھتا جائے گا، چلتا جائے گا اور ان شاءاللہ ہم اپنے ملک کے وطن کے مقاصد کو حاصل کرتے رہیں گے۔
صحافی: مولانا صاحب! ایک سوال ہو رہا ہے کہ جب سے مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے اس کے بعد ایگریشن آیا ہے آپ کی طرف سے دوسروں کی طرف، تو کیا یہ مذاکرات ہی سبب ہیں یا اسباب کچھ اور ہیں؟
مولانا صاحب: نہیں! یہ تو ہمارا ایک موقف رہا ہے پہلے بھی اور آپ بھی میری باتیں سنتے رہتے تھے کہ وفاق کو اس وقت دو چیزیں تکلیف دے رہی ہیں ایک این ایف سی ایوارڈ اور ایک معدنی ذخائر، یہ ہم اس اقدامات سے پہلے ہر جلسے میں کہتے رہے ہیں، سو وہ حقیقت سامنے آگئی ہے۔ یہ جو کہا جا رہا ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں، کس لیے بنایا جا رہے ہیں؟ اس کا ایجنڈا کیا ہے؟ یہ جو کہہ رہے ہیں کہ ضلعی حکومتیں بنائیں جائیں، ان کو فائننشل جو ہے اس کے اختیارات دے دینے چاہیے، تو صوبے کی مقابلے میں اس کے ماتحت اداروں کے مقابلے میں لائے جا رہا ہے، تو جس طرح اسٹیبلیشمنٹ حکومت کا ماتحت ادارہ ہے لیکن حکومت سے طاقتور بن گیا ہے اس طرح وہ اب ضلعی حکومتوں کو بھی اس طرح بنا رہے ہیں کہ صوبائی حکومت کے مقابلے میں طاقتور نظر آئے۔ تو یہ نظام کو تباہ و برباد کرنے والی باتیں ہیں، ہم نظام کے اندر توازن چاہتے ہیں آئین اور قانون کے روشنی میں۔
صحافی: مولانا صاحب! جس طرح تحریک تحفظ آئین اور پی ٹی آئی کی جانت سے جناب عمران خان کے حوالے سے ان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، آپ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں؟
مولانا صاحب: میں سو فیصد ان کی حمایت کرتا ہوں، اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن یہ ضرور کہتا ہوں کہ ہمیں تمام قیدیوں کی بات کرنی ہوگی اور جو پی ٹی آئی کے کارکن جیلوں میں ہے ہمیں ان کے بھی بات کرنی ہے اور یہ اتفاق رائے ہے، کوئی ایسی بات نہیں ہے، ہاں ان کے جو شخصی حوالے سے کچھ معاملات ہیں اگر وہ ذکر ہوئے ہیں تو بجا طور پر ہوئے ہیں اس سے کوئی مجھے اختلاف نہیں ہے، لیکن پولیٹیکل ایشوز کو پولیٹیکل انداز میں اور اسی وسعت کے ساتھ پیش کرنی چاہیے۔ بہت بہت شکریہ
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat
