۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
3 November 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

مولانا فضل الرحمان صاحب کا مانسہرہ میں شمولیتی تقریب سے خطاب

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat • ۳ نومبر ۲۰۲۶
مولانا فضل الرحمان صاحب کا مانسہرہ میں شمولیتی تقریب سے خطاب

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب کا مانسہرہ میں شمولیتی تقریب سے خطاب

3 نومبر 2026

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ أَشْرَفِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ، وَعَلَىٰ آلِهِ وَصَحْبِهِ وَمَنْ تَبِعَهُمْ بِإِحْسَانٍ إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ۔

میرے انتہائی قابل احترام جناب ملک وحید صاحب، میرے قابل قدر علماء کرام، جمعیۃ علماء اسلام کے سپوتوں! میں سب سے پہلے جناب ملک وحید صاحب کو جمعیۃ علماء اسلام میں شمولیت پر دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں اور قافلہ شیخ الہند میں شامل ہونے پر ان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
میرے محترم دوستو! ملک نوید صاحب کی صورت میں یہ خاندان ہمارے ساتھ رہا اور ملک وحید صاحب ان کے بڑے بھائی ہیں، ان کو جمعیۃ کے طرف مائل کرنے، رغبت دینے، دعوت دینے میں ملک نوید صاحب کا ایک بہت بڑا کردار ہے، میں انہیں بھی ان کے عالی کردار اور ان کاوشوں پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
میرے محترم دوستو! وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے آج جس محاذ پر آپ کھڑے ہیں شائد پاکستان کی تاریخ آپ کا منتظر رہا ہے، پاکستان کا مستقبل آپ کا انتظار کر رہا ہے، اس ملک کو طاقتور بنانے اس ملک کو مستحکم بنانے، انہیں معاشی لحاظ سے خوشحال بنانے اور اس ملک کے اندر داخلی وحدت کے لئے جمعیۃ علماء اسلام کی کردار کی ضرورت ہے۔ یہاں پر قوم کو لڑایا جا رہا ہے، یہاں پر قوم کے حقوق پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں، اگر اس قوم کے حقوق پر کوئی ڈاکہ ڈالتا ہے، اس کے سیاسی حق پر ڈاکہ ڈالتا ہے، اس کے جمہوری حق پر ڈاکہ ڈالتا ہے، اس کے معاشی حق پر ڈاکہ ڈالتا ہے، اس کے معدنی وسائل پر ڈاکہ ڈالتا ہے، کوئی بولے نہ بولے میں دیکھ رہا ہوں ہر طرف سناٹا ہے اور اگر اس کے اندر کوئی آواز گونج رہی ہے تو وہ آپ کی آواز گونج رہی ہے، جمعیۃ علماء کی آواز گونج رہی ہے اور ہم عالمی قوت ہو یا ملک کے اندر کی قوت ہو، ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کو بھی عوام کے حقوق اس طرح آسانی سے ہضم نہیں کرنے دیں گے۔
میرے محترم دوستو! وقت کم ہے، زیادہ تفصیل سے بات کرنے کی گنجائش نہیں ہے لیکن ناجائز قوتیں ان کی ناجائز پالیسیاں ہماری سرزمین کے ہمارے حقوق پر عالمی قوتوں کو سانپ کی طرح بٹھانا یہ کسی قیمت پر بھی ہمیں قابل قبول نہیں ہے، آئیں! آپ کے پاس ٹیکنالوجی ہے ہمارے پاس وسائل ہیں، اللہ تعالیٰ کا نظام ہے کسی کو ایک صلاحیت دی تو کسی کو دوسری صلاحیت دی، کسی کو دولت کی طاقت دی تو کسی کو محنت کی طاقت دی، کسی کو وسائل عطاء کیے تو کسی کو ٹیکنالوجی عطاء کی اور اسی لیے اللہ رب العزت نے فرمایا:
نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا
یہ مختلف صلاحیتوں سے مالا مال انسانی معاشرہ یہ ایک دوسرے کو مسخر کرنے کے لیے کہ ایک کی ضرورت دوسرا پورا کرے اور دوسرے کی ضرورت پہلا پورا کرے، آؤ ہمارے ملک میں آپ سرمایہ کاری کریں لیکن یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کا حصہ کیا ہے، ہمارا حصہ کیا ہے، مقامی آبادی کا حصہ کیا ہے، دہشت گردی کے آڑ میں چھپ کر پاکستان کے وسائل پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس لئے مسئلہ یہ نہیں ہے دو ہزار دس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو رہی ہے، آپریشنز ہو رہے ہیں، بارہ تیرہ آپریشنز ہو چکے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کا، کیا مسئلہ ہے ریاستی طاقت استعمال ہو رہی ہے، ریاستی قوت استعمال ہو رہی ہے، باہر سے آپ کولیشن فنڈ لے رہے ہیں، ڈالروں کی صورت میں لے رہے ہیں اور دہشت گردی ہو یا مسلح گروہوں کی وسعت ہو اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کمی نہیں ہو رہی، اس کا معنی یہ ہے کہ آپ اس کے آڑ میں کوئی اور ایجنڈہ رکھتے ہیں جس ایجنڈے کی تکمیل کے لیے آج آپ لوگ حرکت میں آئے ہیں۔
میں پاکستانی ہوں، آپ پاکستانی ہیں، ہم اس ملک کے مالک ہیں، اس ملک کے وسائل کے مالک ہیں، اس ملک کے وسائل پر اپنا حق رکھتے ہیں، ہمارے ذہنوں میں اگر سوالات پیدا ہوں گے، ہمارے ذہنوں میں اگر شکوک پیدا ہوں گے، کیا حکمرانوں کا اور طاقتور قوتوں کا فرض نہیں ہے کہ وہ ہمارے اشکالات کو دور کریں؟ ہمارے شکوک شبہات کو دور کریں, کیا اُن کا فرض نہیں حکمرانوں کا کہ وہ اپنے قوم کو اطمینان دلائے اور اُس کو مطمئن کریں؟ اس کے جواب میں الزام تراشیاں، اس کے جواب میں کردار کشیاں، کچھ تو شرم کرو، کچھ تو حیا کرو۔
یہ تو آپ کا پرانا نعرہ ہے “قائدہ اشارہ کوا بیا ئی تماشہ کوا”، اب وہ مرحلہ آگیا ہے، دوسری پارٹیوں کی طرح بلوں میں نہیں گھسنا، سڑکوں پہ آنا ہوگا، قربانیوں کے لئے نکلنا ہوگا، یہ وطن ہمارا وطن ہے، ہم اس میں کوئی باہر سے آکر نہیں بسے ہیں، کہ ہم اس مٹی سے نکلے ہیں اور ہمارے جسم میں اور ہمارے خون میں یہ مٹی دوڑ رہی ہے، اس کا ناموس دوڑ رہا ہے، اس کی عزت دوڑ رہی ہے، لیکن میں اپنی ریاست پر کسی کو ناجائز حملہ نہیں کرنے دوں گا اور مد مقابل میں ہم آگے بڑھتے رہیں گے، پاکستانی قوم ہمارے ساتھ ہے، عوام ہمارے ساتھ ہیں، پبلک ہمارے ساتھ ہے، تم دھاندلیوں کے ذریعے سے ہم پر حکومتیں مسلط کروگے تو ہم بار بار کہیں گے کہ ہم اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، ہم نے دو ہزار اٹھارہ کا الیکشن تسلیم نہیں کیا، ہم نے دو ہزار چوبیس کا الیکشن تسلیم نہیں کیا اور ہم آئندہ بھی لڑنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں تم کب تک لڑتے رہو گے، تم کب تک لڑتے رہو گے، تو میں نے کہا کہ وہ کسی نے مچھلی سے کہا تھا کہ تم کب تک تیرتے رہو گے، سمندر نے کہا تم کب تک تیرتے رہو گے، اس نے کہا جب تک تیرے اندر موجیں مارنے کی طاقت ہے تب تک میرے اندر تیرنے کی طاقت ہے۔
تو ان شاءاللہ یہ سفر جاری رہے گا، جرات و ہمت کے ساتھ جاری رہے گا، بلا خوف و خطر جاری رہے گا، جان کو ہتھیلی پر رکھ کر جاری رہے گا اور ان شاءاللہ العزیز یہ وطن ہمارا ہے، اس قوم کا ہے اور اس کے حقوق و وسائل کی ملکیت آپ کی ہے، یہ ہم حاصل کر کے رہیں گے۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔
ایک بار پھر جناب ملک وحید صاحب کو جمعیۃ علماء اسلام میں شمولیت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس قافلے کو ان شاءاللہ آگے لے جانا ہے۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
‎#teamJUIswat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پچھلی خبر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا جےیوآئی فاٹا کے...