۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
6 November 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

جمعیت طلباء اسلام کے زیر اہتمام منعقدہ مفتی محمود کانفرنس سے مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا خطاب

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat • ۶ نومبر ۲۰۲۶
جمعیت طلباء اسلام کے زیر اہتمام منعقدہ مفتی محمود کانفرنس سے مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا خطاب

جمعیت طلباء اسلام کے زیر اہتمام منعقدہ مفتی محمود کانفرنس سے قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا خطاب

5 نومبر 2026

الحمد للہ وکفی وسلام على عباده الذين اصطفیٰ لاسیما على سید الرسل وخاتم الانبیاء وعلى آله وصحبه ومن بهدیهم اهتدی اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِينَ۔ بَلِ اللَّهُ مَوْلَاكُمْ ۖ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ۔ صدق اللہ العظیم

جناب صدر، میرے نوجوانوں، جمعیۃ طلباء اسلام کے پروانوں! مجھے یاد ہے جمعیۃ طلباء اسلام کے زیر اہتمام چند سال قبل اسی اسلام آباد میں کنوینشن سنٹر میں مفتی محمود کانفرنس منعقد ہوئی تھی اور جس کے مہمان خصوصی وزیراعظم جناب میاں شہباز شریف صاحب تھے، مجھے آج وہ اس قدر بے بس نظر آ رہے ہے کہ وہ اسلام آباد کی ٹیریٹوری میں پاک چائنہ سنٹر میں آپ کو اجلاس کی اجازت نہیں دلا سکے، اور اب اللہ تعالیٰ کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں وہ جب انتقام لینے پہ آتا ہے تو طاقتور سے طاقتور کی بھی شامت آ جاتی ہے اُدھر ٹرمپ ہار گیا، اب ٹرمپ جو ہے وہ خالصتاً کاروباری آدمی تھا، وہ سرمایہ داریت کی اپنی ذات میں علامت تھا، جہاں وہ دنیا کے معدنی ذخائر دیکھتا تھا وہاں پر وہ پہنچتا تھا، چاہے جنگ کے ذریعے سے ہو اور آپ جانتے ہیں کہ ونزویلا کے علاقے میں یہ ذخائر موجود ہیں تو اس پر قبضہ کرنے کے لیے جب وہاں کی حکومت اجازت نہیں دے رہی تھی تو پوری امریکی قوت کو ساتھ لے جا کر وہاں کے پریزیڈنٹ اور اس کی اہلیہ کو گرفتار کر کے لے آیا امریکہ، یہاں تک جاتے ہیں۔ اب جب ان کا احتساب شروع ہوگا، آپ تو ہمارا احتساب کرنے لگے ہیں نا، کچن کا اور جنریٹر کا احتساب کرنے لگے ہیں اور وہاں واشنگٹن سے جب احتساب شروع ہوگا تو یہ احتساب یہاں اسلام آباد کی وزیراعظم ہاؤس تک بھی پہنچے گا اور یہاں کی پنڈی تک بھی پہنچے گا۔
تو اس قسم کے حربے اختیار نہ کرو، اللہ کا انتقام بڑا سخت ہے، اس سے ڈرو، یہ جو جمعیۃ طلباء اسلام یا جمعیۃ علماء اسلام یا ہماری پوری جماعت یا کارکن یا ہمارے ساتھ وابستہ لوگ یا انصار الاسلام یہ اس لیے نہیں ہیں کہ وہ پاکستان کی فوج سے لڑیں گے، یہ اس لیے نہیں ہیں کہ وہ اپنے ملکی نظام کے ساتھ لڑیں گے، اختلاف کریں گے۔ جو آئین ہمیں حق دیتا ہے ہم اس حق کو استعمال کریں گے۔ ہم عوام کی حق کی بات کریں گے۔ ہم عام آدمی کی ملکیت کی تحفظ کی بات کریں گے۔ ہم ان کی مشکلات کی بات کریں گے۔ ہم مہنگائی کی بات کریں گے۔ تو یہ باتیں آپ کو اتنی بڑی لگ گئی ہیں کہ لچر قسم کا، گھٹیا قسم کے اقدامات کر رہے ہو، کوئی وقار ہے کوئی شائستگی ہے، یہ کام کم از کم خاندانی لوگوں کا نہیں ہوا کرتا۔ یہ جدید پشتی غلام ہیں اور ہم جدی پشتی غلامی کے خلاف جہاد کرنے والے ہیں۔ ہمیں ان کا بھی نسب نامہ معلوم ہے، ہمیں اپنا بھی نسب نامہ معلوم ہے، اور ان حربوں سے تم کس کو ڈراتے ہو، جو انگریز سے نہیں ڈرا، جو امریکہ سے نہیں ڈرا وہ آپ کے ان چچیرے قسم کے حربوں سے ڈرے گا۔
تو میں اب بھی ان کو نصیحت کرتا ہوں کہ سیدھے ہو جاؤ، انسان بن جاؤ، کسی ضابطے کے پابند ہو جاؤ، یہ جمعیۃ طلباء اسلام کا اجتماع ہے، اور اس میں ہمارے نوجوان موجود ہیں، ہمیں آپ کی مستقبل کی فکر ہے، سب سے پہلی چیز کہ آپ علم کی زینت سے آراستہ ہو، علم بذات خود ایک قوت ہے، جو انسان کو انسان بھی بناتی ہے اور انسان کو قوت بھی بخشتی ہے، روشنی ہے انسان کو راستہ بتاتی ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کو بہت بڑا شرف عطاء کیا ہے اور اس شرف کی سب سے بڑی وجہ علم، وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا، ہم نے انسان کو عزت اور شرف اور احترام عطاء کیا ہے اور بحر و بر پر اس کو حاکمیت عطاء کی، اسلام حجروں میں بیٹھنے کا نظام نہیں ہے، اس پر اکتفا کر لینا کہ بس مسجد کا محراب اور چھوٹا سا حجرہ اس میں بیٹھ کر دین اسلام کے لیے اس کو کافی سمجھنا، حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ ایسے لوگ دیندار تو دور کی بات ہے یہ تو دین کے دامن پر سیاہ دھبہ ہے۔ اس حوالے سے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی طرف دیکھنا ہے، سب سے پہلی چیز علم، ایک ہے علم عام، جو ہر شعبے میں، ہر فن کا احاطہ کرتا ہے اور یہ علم بھی حضرت آدم علیہ السلام کو عطاء کیا گیا؛ وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا، ایک ہے علم خاص، علم القرآن قرآن کا علم عطاء کیا گیا، انبیاء پر کتابیں نازل ہوئیں، آسمانی کتابیں، صحائف نازل ہوئیں، یہ خاص علم یہ اس عام علم کے لیے سمت کا تعین کرتا ہے، یہ سمت حلال ہے، یہ سمت حرام کا ہے، جائز اور ناجائز کے حدود کا تعین کرتا ہے، حلال اور حرام کے حدود کا تعین کرتا ہے اور دنیا میں ایک پاک زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی فرماتا ہے۔
جمعیۃ طلباء اسلام میں دونوں طرح کی تعلیم حاصل کرنے والے لوگ موجود ہیں، عصری علوم حاصل کرنے والے، دینی علوم حاصل کرنے والے، یہ سب کا مجموعہ ہے۔ انبیاء کرام کو بھی دنیائی فنون کا علم حاصل تھا لیکن وہ انسانیت کی رہنمائی اللہ کی بتائے ہوئے وحی کے ذریعے کیا کرتے تھے۔ جس جماعت میں یہ دونوں طرح کی علوم اکٹھے ہو جاتے ہیں، تو جہاں یہ دونوں طرح کی علوم اکٹھے ہوں گے یہ انسان کامل بنے گا اور انسان کامل جب بنے گا تو وہ پھر مستحقِ خلافت ہوگا۔ اگر یہ صفت انسان میں نہیں ہے تو وہ خلافت کا مستحق نہیں بن سکتا، لہذا ہر انسان وہ خلافت کا مستحق نہیں ہے، اگر وہ نافرمان ہے، عصیان و طغیان کا راستہ اختیار کیا ہے، کفر کا راستہ اختیار کر لیتا ہے، ایسے باغی کو اور اللہ کے منکر کو اللہ کی نیابت کا حق حاصل ہو سکتا ہے؟ اللہ تو بہت بڑی ذات ہے، خالق کائنات ہے، انسان بھی اپنے گدی پر اپنے نافرمان کو نہیں بٹاتا، تو یہ مقام انسانیت کو عطاء کرنا اور اس حوالے سے تربیت کرنا، یہ جمعیۃ طلباء اسلام کا موضوع ہے اور پھر اس امت کی یہ خاصیت ہے کہ نبوت کی تکمیل جناب رسول اللہ ﷺ پر ہوئی، یہاں پر رسالت مکمل ہوئی اور یہی پر اللہ کا دین مکمل ہوا، تمام انبیاء کرام مسلمان تھے، تمام انبیاء کرام کی تعلیم اور ان کا دین اسلام تھا، اور اب آکر الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا، آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے، اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی، دین کے مکمل ہونے کا کیا معنی ہے؟ یعنی احکامات و تعلیمات کے اعتبار سے دین مکمل ہوگیا۔ آگے وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي، اور میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے، نعمت اور تمام نعمت، اس نعمت کا خارج میں مصداق کیا ہے؟ نعمت کس چیز سے تعبیر ہوگی؟ ہمارے علماء اکابر فرماتے ہیں کہ جب چیز مطلقاً ذکر ہوتی ہے تو خارج کے فرد کامل مراد ہوتا ہے، تو الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ یہ دین کامل و مکمل جو تعلیمات و احکامات کے لحاظ سے کامل ہو گیا ہے، وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي، میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے، نعمت تمام خارج میں اس کامل، مکمل دین کا اقتدار اور اس کی حکومت ہے۔ اگر اس کی حاکمیت نہیں ہے تو پھر دین کامل تو ہے لیکن قوم کی مملکتی اور اجتماعی زندگی میں وہ انسانیت کی رہنمائی کیسے کرے گا؟ اور اس پر میں ایک حوالہ ذکر کروں گا آپ کے سامنے کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص لائی گئی اُن کے والد کے پاس، اُن کو دور سے خوشبو آئی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے سامنے جب اُن کی قمیص لائی گئی اور آپ کی چہرے پر ڈالی گئی اور آپ کی بینائی لوٹ آئی، تو پوچھا کہ این ترکت یوسف، یوسف کو کہاں چھوڑ آئے ہو؟ تو جواب دیا کہ ملک مصر، وہ تو مصر کا حاکم ہے، بادشاہ ہے۔ دوسرا سوال کیا، علی ای دین ترکت، کس دین پر آپ چھوڑ کے آئے ہیں اُن کو؟ تو جواب دیا علی دین الاسلام، جب اُن کے والد نے دین الاسلام کا لفظ سنا تو فرمایا الآن تمت النعمة، اب اللہ کی نعمت مکمل ہوگئی، یعنی حاکمیت سے نعمت مکمل ہوگئی۔
ہمارے اکابر نے ہماری رہنمائی کے لئے جو دین اسلام کی تعبیر کی ہے، تشریح کی ہے، جمعیۃ طلباء اسلام کو اُس منہج پر دین کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی، ورنہ انسان من حیث الانسان وہ تو خسارے میں ہے، إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ، اب جب انسان خسارے میں ہے اور یہاں علماء کہتے ہیں کہ الانسان میں الف لام استغراق کے لیے ہے یعنی فرد انسان وہ خسارے میں ہے، تو پھر استثناء ہو گیا إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا، یعنی خسارے میں ہے، اب کامیابی کی ایک چیز وہ سب سے پہلی چیز ایمان ہے، اللہ پر ایمان، انبیاء پر ایمان، رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان، تمام ضروریات دین پر ایمان، آخرت پر ایمان، یہ کامیابی کی پہلا زینہ ہے، ایمان کے بغیر کچھ نہیں، اس کے بعد دوسری کامیابی کی چیز وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ، نیک کام کرنا، ہر جگہ ایمان کے ساتھ عمل صالح کا لفظ آیا، ایمان عمل صالح، ایمان عمل صالح یعنی جس طرح آپ کا عقیدہ ہے جو آپ کا فیتھ ہے آپ کے عملی زندگی اس ایمان کے ساتھ، اس عقیدے کے ساتھ مطابقت رکھتا ہو، ایمان قلب کا عمل ہے اور اعمال وہ اعضاء کا عمل، آپ کے جوارح و اعضاء جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کے اندر کی ایمان کی علامت ہونی چاہیے، وہ آپ کے اندر کی ایمان پر دلالت کرے، تیسری کامیابی کی علامت وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ، حق کا پرچار کرنا ہے۔ اب حق کسے کہتے ہیں؟ یہاں بھی حق کا لفظ مطلقاً ذکر ہوا ہے تو پھر اس کا بھی خارج بھی تعریف فرد کامل کیا ہوگا، اب حق کے فرد کامل کا تعین مشکل ہے، تو ہمیں اس کے تعین کرنے کے لیے اس کی ضد کی طرف جانا ہوگاتُعْرَفُ الأَشْيَاءُ  بِأَضْدَادِهَا، تو حق کا ضد باطل ہے، اب حق کے جو لغوی معنی ہیں وہ کسی چیز کے ہونے اور ثابت رہنے کا نام ہے اور باطل کسی چیز کے مٹ جانے اور نیست و نابود ہونے کا نام ہے، قیامت تک اگر زندہ رہے گا تو حق زندہ رہے گا اور جو چیز باطل ہوگی کچھ عرصہ اپنا کام کرتا ہے پھر مٹ جاتا ہے۔ اب باطل کا خارج میں مصداق کیا ہے، بڑا مصداق، کامل و مکمل، تو ہمارے اکابر فرماتے ہیں کہ باطل کا خارج میں کامل اور مکمل فرد وہ باطل کی حکمرانی ہے، باطل حکمران اور اس کی حکمرانی، اب جب باطل کا تعین ہو گیا کہ ظلم اور جبر اور اللہ کی نافرمانی پر مبنی ایک نظام موجود ہے، تو حق اس کے مقابلے میں جو حق ہوگا وہ اس حکمرانی کی مقابلہ کرنا ہوگا، تو حق جو ہے وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ،  باطل حکمران کی مقابلے میں حق کی بات کہنا، أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ، باطل حکمران کے مقابلے میں کلمہ حق کہنا، یہ حق کی اصل طاقت اور اس کی دلیل ہے۔ دلیل چوتھی چیز ہے، ایمان، عمل صالح، تو وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ،وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ یہ  وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ،کی دلیل ہے۔ چونکہ آپ کمزور آدمی کے سامنے جب حق بولیں گے وہ آپ کے سامنے کوئی بات بھی نہیں کر سکتا، وہ آپ کو جواب ہی نہیں دے سکتا بیچارہ، لیکن جب حکمران کے سامنے آپ حق بولیں گے تو آپ پر آزمائشیں آئیں گی، تکلیفیں آئیں گی اور انبیاء کرام نے اپنے دور کے باطل قوتوں کے خلاف جب آواز بلند کی تو سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء پر آئیں، أشدُّ الناسِ بلاءً الأنبياءُ ، ثم الأمثلُ فالأمثلُ، تو اس لئے اللہ تعالی نے خاص فرما دیا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ کہ پھر ان آزمائشوں کے مقابلے میں صبر و استقامت کا مظاہرہ بھی کرنا پڑے گا۔

تو چار چیزیں آپ کے سامنے آگئیں ایمان، عمل صالح، باطل حکمران کے مقابلے میں کلمہِ حق اور اس کی طرف سے آنے والی آزمائشوں پر صبر و تحمل اور استقامت کا مظاہرہ، یہ چار چیزیں آگئیں تو آپ خسارے سے نکل گئے، آپ کامیاب ہوگئے، سبق سمجھ میں آگیا ہے نا، تو جو کچھ ہمارے پاس ہے، ہماری تعلیمات، ہمیں اپنے اکابر کے پڑھائے ہوئے اسباق، ہماری تاریخ اور جمعیۃ علماء اسلام کا جو منشور ہے یہ اسی قرآن و سنت سے اخذ کیا گیا ہے، اسی قرآن و سنت سے اخذ کیا گیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جنابِ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد حالات بدلے، صحابہِ کرام دنیا کے مختلف علاقوں میں چلے گئے، تو تین مدرسے وجود میں آئے ایک مدرسہ کوفہ کا جہاں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ تھے، ہزاروں صحابہِ کرام تھے۔ دوسرا مدرسہ مدینہ منورہ کا جہاں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ یہ موجود تھے اور تیسرا مدرسہ مکہ مکرمہ کا جہاں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، اب تینوں مدرسے میں صحابہِ کرام تھے، وہ آگے کے لوگوں کو پڑھاتے تھے، رسول اللہ ﷺ کے حدیث سناتے تھے۔ تو تین مدرسوں کے تعلیم میں ظاہر ہے کچھ نہ کچھ فرق ہو گئی لیکن اس کا منبع جو ہے وہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات تھی، تو یہ کچھ اجتہادی قسم کی اختلافات آجاتے ہیں لیکن سب محترم ہیں، صحابہِ کرام کے اختلافات وہ بھی اجتہاد کے زمرے میں آتے ہیں اور جہاں اجتہادی اختلاف ہوگا وہاں یہ علماء نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں حق کون سا ہے، ثواب کیا ہے، صحیح کیا ہے اور خطا کیا ہے۔ جہاں علماء کی نظر میں ان کو کسی ایک کا قول قریب من الحق نظر آئے گا وہ ضرور اس قول کو چنے اور اس کی پیروی کرے گا لیکن اجتہادی رائے، اگر ان کی نظر میں کسی کی رائے خطا ہے تو اس کو خطا ضرور کہے لیکن اس پر طعن کرنے کی اجازت نہیں ہے، طعن جائز نہیں ہے۔ لہٰذا اجتہاد میں ایک رائے صحیح ہو سکتی ہے امکان خطا کے ساتھ اور دوسری رائے خطا ہو سکتی ہے امکان صحت کے ساتھ اور اس لیے فرمایا گیا کہ مجتہد جو ہے اگر وہ صحیح رائے قائم کرتا ہے تو لہ اجرین اور اگر وہ خطا ہو جاتا ہے فلہ اجر واحد، اب جب اجر واحد ہے اس کے لیے اور ہم طعن کریں اس کے اوپر، یہ سب ہمارے اساس ہیں، یہاں سے دین ہمارے تک آیا ہے لیکن اس میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ کی ایک خصوصیت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: کہ  رضيتُ لأُمَّتِي ما رَضِيَ لها ابنُ أمِّ عبدٍ.، امت کے لئے جس بات پر عبداللہ ابن مسعود راضی ہو جائے میں اس پر راضی ہوں۔

تو امام ابو حنیفہ نے اکثر کوفے میں تھے انہی کی تعلیمات کو امت کے سامنے پیش کیا اور آپ انہی کے وارث ہیں، آپ کی جو بھی رائے بنتی ہے اور جس پر بھی آپ پر شرح صدر ہو آپ وہ کریں لیکن دوسرے پر طعن نہ کریں، چھوٹے چھوٹے مسائل پر ایک دوسرے پر طعن کرنا، مباحثہ کرنا، مناظرے کرنا، مجادلے کرنا یہ تو ٹھیک طریقہ نہیں ہے، امت تقسیم ہو جاتی ہے، تو امت کی تقسیم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الجماعةُ رَحمةٌ والفُرقةُ عذابٌ، جماعت ایک ہونا یہ رحمت ہے امت کے لئے، نفرت میں پڑنا، تفرق میں پڑنا، تعصبات میں پڑنا یہ عذاب ہے، بنفس نفیس یہ اختلاف عذاب نہیں ہے، جائز اختلاف ہے، دونوں طرف سے دلائل ہیں، ہر ایک اپنے شرح صدر کے ساتھ، میرے پیچھے ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا تو اس نے پہلی رکعت میں آمین بالجہر کیا، میں نے سن لیا، دوسرے رکعات میں نہیں کیا، تو میرے نماز کے بعد ان سے پوچھا کہ آپ نے پہلے رکعات میں آمین بالجہر کیا، دوسری میں کیوں نہیں کیا، تو کہنے لگا کہ میں نے سوچا کہ سب نہیں کر رہے تو آپ کیوں کر رہے ہیں، میں نے کہا نہیں اگر آپ کا اس پہ اطمینان ہے کہ آمین بالجہر ہونا چاہیے تو آپ اس اطمینان پر عمل کرے، یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ حضرت مولانا شیخ التفسیر حضرت احمد علی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کی مسجد میں مہمان نے آنا تھا اور وہ اہل حدیث سے تھے، تو اپنے مقتدیوں کو بتایا کہ دیکھو آج ہمارے مہمان ہیں اور وہ نماز میں ہوں گے، وہ پانچ چھ لوگ ہیں سارے، اتنی بڑی جماعت میں جب پانچ چھ لوگ آمین بالجہر کریں گے تو ذرا ان کو عجیب محسوس ہوگا کہیں شرمندگی محسوس نہ ہو تو آپ سب نے بالجہر کرنا ہے، اب ہوا ہے یہ کہ وہاں انہوں نے بھی مشورہ کیا تھا کہ آج تو ہم نے احناف کے پیچھے نماز پڑھنی ہے تو وہ تو امین بالجہر نہیں کریں گے اور ہم پانچ چھ لوگ زور زور سے آمین، تو ہم نے نہیں کرنا۔ تو پوری جماعت میں ان پانچ چھ لوگ نے آمین بالجہر نہیں کیا باقی سب نے کیا۔

اپنے اکابر کی ان رویوں کو دیکھو نا، ان سے سبق حاصل کرو، یہ ساری وہ چیزیں ہیں جو ہمارے اور آپ کے رہنمائی کے لئے اور اللہ تعالی نے ہمیں یہ جماعت مہیا کیا، اس کا نظریہ اور عقیدہ ہمیں مہیا کیا، لیکن پاکستان کی سیاست ہے نہ اس کا آیا معلوم ہے نہ اس کا شایا معلوم ہے، نہ آگا معلوم ہے نہ پیچھا معلوم ہے، سیاست ہے تو سیاست کی ابتدا بھی تو عبدیت سے ہوگی، پھر دعوت سے ہوگی، پھر حاکمیت سے ہوگی۔ یہ ساری چیزیں ہمارے مدنظر ہے اور اس میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ آپ اس ملک میں شرعی نظام نافذ کریں، آسی سال ہوگئے یہ ایمرجنسی نہیں ہے، آسی سال ہوگئے یہ ایمرجنسی نہیں ہے، لیکن اگر حکمرانوں کا مفاد ہو اور ان کے مراعات ہوں تو وہ ترمیم جو ہے وہ بڑی ایمرجنسی ہے، ملک کو اس کی ضرورت ہے، جلدی کرو جلدی کرو، آج ہی پاس کرو، اس وقت پاس کرو، یہ جلدی کیوں آ جاتی ہے؟ چھبیسویں ترمیم میں جب حکومت نے ہم سے بات چیت کی تو کہا کہ جی صبح صبح ووٹ کرنا ہے، کل پیش کرنا ہے، تو پرسوں پیش کرنا ہے، جلدی کریں آپ جلدی کریں۔ ہم نے کہا بابا! یہ قوم کی امانت ہے، یہ آپ کی چیز نہیں ہے، یہ قوم کی چیز ہے، ہم ایک ایک حرف پڑھیں گے، ایک ایک حرف پڑھیں گے اور جب ہم نے ایک مہینہ اور ایک ہفتہ اس پر بحث و تمحیص لمبی کی، تو یقین جانیے ہم نے کوئی پینتیس شقوں سے ہم ان کو دستبردار کر دیا، یہ سارا گند تھا اور ہم نے استقامت کا مظاہرہ کیا اور کامران مرتضیٰ صاحب نے اس میں جماعت کی جو نمائندگی کی ہے بطور وکیل کے اور قانون دان کے ہم ان کو آج بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

ہم نے تو امانت کا لحاظ رکھا، ہم نے کہا سود ختم کرو، ہم نے کہا وفاقی شرعی عدالت کو طاقتور بناؤ، ہم نے کہا اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات کو بحث کے لئے پیش کرو، نہ سود کے خاتمے کے لئے ابھی تک کوئی قدم اٹھایا گیا، نہ وفاقی شرعی عدالت کو طاقتور بنانے کے لئے آئینی شق پر عمل کیا گیا اور نہ آج تک ایک سفارش قومی اسمبلی یا سینیٹ میں بحث کے لئے پیش کی گئی۔ یہ ان کی دلچسپی ہے، اب جب شریعت اور اللہ کی دین کا سوال آتا ہے تو ان حکمرانوں کی ماں مرتی ہے اور اپنا مفاد ہو تو بہت جلدی ہے، بہت جلدی ہے اور جب ہم نے ان کو لا جواب کر دیا اور وہ غلاظت ہم نے قبول نہیں کی تو پھر ستائیسویں ترمیم آگئی، ستائیسویں ترمیم میں انہوں نے وہ سارا کچھ دوبارہ شامل کیا، اب یہ بدیانتی نہیں تو کیا ہے، یعنی اس وقت ہمارا ووٹ اس کے بغیر دو تہائی اکثریت نہیں بنتا، بعد میں کچھ لوگ خرید لئے اور ان خریدے ہوئے ووٹوں سے انہوں نے ترمیم پاس کی اور اب اگر اٹھائیسوی ترمیم آئے گی خدا نہ کرے وہ بھی انہیں بکے ہوئے لوگوں کے ذریعے سے آئے گی، قوم اعتبار کرے گی اس کے اوپر؟ اب ہمارے خلاف تو مقدمات بنائے جا رہے ہیں آج یاد آگئی ہماری ان کو، جب ہم اختلاف رائے کر رہے ہیں تو ان کو ہماری کرپشن یاد آجاتی ہے؛
ما ہيچ نداريم و غم ہيچ نداريم
دستار نداريم و غم پيچ نداريم
کیا حاصل کرو گے، جو لوگ اونٹ چرایا کرتے تھے اور آج وہ لاکھوں ایکڑ کے مالک ہیں پہلے ان کا حساب کرو نا، ہمارے ساتھی بھی عجیب لوگ ہیں، ایک بات ذہن میں رکھیں میرے گھر میں جو بھی آتا ہے وہ میرا مہمان ہوتا ہے، وہ آپ کا بھی مہمان ہوتا ہے، حکومت کا آدمی ہو، حزب اختلاف کا آدمی ہو، کوئی معزز شخصیت ہو، چھوٹا ہو بڑا ہو، میں اپنے گھر میں اس کو مہمان بھی سمجھتا ہوں اور اپنے گھر کے لئے عزت بھی سمجھتا ہوں، کل بھی آئے تو میرے لئے معزز تھے، آج بھی آئیں گے تو میرے لئے معزز ہیں، کل بھی آئیں گے تو میرے لئے معزز ہیں۔ ہمارے روایات یہ نہیں ہیں کہ ہم کسی کو عار دلائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اس سے؛ فرمایا؛ لا تؤذوا المسلمين، مسلمانوں کو ایذا نہ دیا کرو، ولا تعيروهم، اور ان کو عار نہ دلایا کرو، ولا تتبعوا عوراتهم، اور ان کی نجی پوشیدہ باتوں کو نہ ٹٹولا کرو، من تتبع عورة أخيه المسلم تتبع الله عورته، اور جس نے بھی اپنے مسلمان بھائی کی نجی پوشیدہ معاملات کو ٹٹولنے کی کوشش کی، تتبع الله عورته،پھر اللہ تعالیٰ اس کی بھی نجی معاملات کی ٹٹولنے گا، پیچھا پیچھا کرے گا، اس کو گھر کے چار دیواری کے اندر اللہ رسوا کر دے گا، بیٹھے بٹھائے رسوا ہو جائے گا۔ تو نہ چھیڑ ملنگا نوں۔
تو اعلیٰ قسم کے اخلاق و اقدار ہمارے ہونے چاہیے، آج آپ کو اندازہ لگتا ہوگا کہ دھاندلیوں کے ذریعے سے دھاندلی کرنے والا اور دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں لانے والے یہ کس کٹیگری کے لوگ ہیں، ان کا کوئی اقدار نہیں، یہ خود اپنے ذات میں عزت والے نہیں ہیں، یہ طاقت کے بل بوتے پر رویوں کا تعین کرتے ہیں، اخلاق کی بنیاد پر نہیں کرتے ہیں، اختلاف رائے برداشت نہیں کرسکتے ہیں، مولوی بڑا تنگ نظر ہے، مولوی بڑا شدت پسند ہے، اب بتاؤ تنگ نظر تم ہو یا ہم ہیں، ہم تو اب بھی تمیں برا بھلا نہیں کہہ رہے ہیں لیکن اتنا ضرور کہہ رہے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے اندر ان کے وسائل کے مالک وہاں کے صوبے کے عوام ہیں، اب اگر تم خیبر پختونخواہ کے معدنی ذخائر پر لوٹ مار مچاتے ہو اور پبلک کے سامنے کہتے ہو کہ ہم تو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور ہم نے اس لیے وہاں پر گورنر راج لگایا اور اس لیے ہم نے وہاں پر ایمرجنسی لگائی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے اور صوبائی حکومت تعاون نہیں کر رہی تھی، یہ ایمرجنسی اور گورنر راج تو نے آج لگایا، ہم تو اس سے پہلے کہہ رہے ہیں آپ سے، کتنے جلسوں میں، میں نے یہ بات کہی ہے کہ نہیں، دو چیزیں ہیں جو گورنر راج کی باتیں ہو رہی ہیں وہ دو چیزیں ہیں دہشت گردی نہیں ہیں ایک ہمارے معدنی ذخائر اور ایک این ایف سی ایوارڈ، صوبوں کے جو محصولات کا حق ہے وہ جب اٹھارویں ترمیم پاس ہوئی تھی تو آئین میں لکھا گیا تھا کہ بڑھ سکتی ہے کم نہیں ہوسکتی اور جب صوبوں کے محصولات کے حقوق بڑھ گئے تو ان کو تکلیف ہونے لگی، تو ایک اس پہ نظر ہے ایک معدنی ذخائر، لوگوں کے سامنے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، تو دہشت گردی کے خلاف تم دو ہزار دس سے لڑ رہے ہو، سولہ سترہ سال ہو گئے ہیں مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کا، تم لڑ رہے ہو اور دہشت گردی بڑھتی جا رہی ہے، پہلے کہیں فاٹا کی علاقوں میں ہوتی تھی اب وہ ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی تک آگئی، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان تک آگئی، اب اس کو بھی ذرا دیکھیں کیا یہ دہشت گردی آگے بڑھی ہے یا بڑھائی گئی ہے، اس لئے کہ سی پیک کا راستہ روکا جائے، چاہے خیبر پختونخوا میں یہ حالات بنے، چاہے بلوچستان میں یہ حالات بنے، پہلے کیوں نہیں تھے اور آج یہاں تک صورتحال کیوں آگئی ہے اور تم تو پہلے دن سے پتہ نہیں کون کون سے آپ آپریشن کرتے رہے ہیں اور کس کس نام سے کرتے رہے ہیں، تو یہ ریاست پیچھے کیوں آرہی ہے، ریاست اتنی کمزور کیوں ہے، کہ دہشت گرد آگے بڑھ رہا ہے اور اپ پیچھے آرہے ہو، یہی سے پتہ چلتا ہے کہ ان معاملات میں عالمی مفادات کا دخل ہوتا ہے، دنیا چاہتی ہے کہ ہم چائنا کا راستہ روک لیں اور امریکہ چاہتا ہے کہ ہم یہاں قبائلی پہاڑوں میں یہاں پر سرمایہ کاری کریں اور ان کو دعوت دینے میں گیا تھا؟ امریکہ کے اوول ہاؤس میں پریزیڈنٹ ٹرمپ کو ہمارے پہاڑوں کے معدنیات کے نمونے میں نے پیش کئے تھے؟ نمونے تم پیش کرتے ہو، ترغیب تم دلا رہے ہو، تمہارا آپس میں ایک معاملہ ہے بھئی قوم کے سامنے رکھو یہ چیزیں، ہم کسی کی سرمایہ کاری کی خلاف نہیں ہیں، یہ بھی غلط ہے کہ چین کی سرمایہ کاری کا راستہ روکا جائے، ہم امریکہ کی سرمایہ کاری کے بھی خلاف نہیں ہیں، ہم ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے بھی خلاف نہیں ہیں، لیکن معاملے میں شفافیت ہونی چاہیے، معاہدات میں شفافیت ہونی چاہیے، قوم کے سامنے تمام شرائط رکھے جائیں، کس شرائط پر معاہدہ ہوا ہے، ہمارے ملک کے منافع کا تعین ہو، ان کے منافع کا تعین ہو، مقامی ابادی کے منافع کا تعین ہو، چوری چھپے اب کہتے ہیں کہ اگر دہشت گردی کی خلاف بات نہ ہوتی تو پھر تو ایمرجنسی صرف فاٹا میں ہونی چاہیے تھی، یہ نیچے اضلاع میں کیوں ہوئی، اب مجھے بھی پھر کچھ کہنا پڑ رہا ہے کیا کریں کہ یہ سمگلنگ کے راستے ہیں اس لئے وہاں ایمرجنسی ہے، بہت سے قبائلی یہاں نوجوان ہوں گے جن کے علاقوں میں ہفتے میں دو دن کرفیو ہوتا ہے، ہوتا ہے نا دو دن، تو پانچ دن دہشت گردی نہیں ہوتی وہاں پر؟ پانچ دن دہشت گرد کہیں چلے جاتے ہیں غاروں میں چھپ چاتے ہیں اور صرف دو دن باہر آتے ہیں تو پھر آپ ان کے خلاف کاروائی کر رہے ہوتے ہیں۔

تو یہ کرفیو کس لئے لگائی جاتی ہے؟ ہمیں کہا جاتا ہے دہشت گرد آ رہے ہیں، غاروں میں بند رہو، باہر مت او، ہم لڑ رہے ہیں، وہ پتہ چلا کہ وہاں سے ٹرک گزر رہے ہوتے ہیں۔ اب مجھے آپ بتائیں ہمیں نہ معاہدہ پر اعتراض، نہ کسی کی سرمایہ کاری پر اعتراض، یہاں سے اگر مال نکلتا ہے تو جائز راستے سے آئے نا، تو جائز راستے ہم نے بند کیے ہیں، افغانستان کے ساتھ ہماری بندش ہے، تو چوری کے راستوں سے مال تو آ رہا ہے، تو ہمارے محصولات میں اگر اضافہ ہوتا ہے تو ٹیکس کی وجہ سے ہوتا ہے اس کی ڈیوٹی ہوتی ہے وہ ادا کرو، اس سے ملک چلتا ہے۔ اب اگر ہم حکمران ہوتے ہوئے اس طرح کے کاروائیاں کریں گے کہ پتہ نہیں اپنے منافع کے لیے تم نے کون سے چوری کے راستے بنا لیے ہیں اور قوم کے خزانے کی پرواہ نہیں ہیں، عوام کی تمہیں پرواہ نہیں ہے۔
تو ہم قوم کے حق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آپ کی نظر گوادر پر ہے، تم نے گوادر کو وفاق کے ساتھ وابستہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو بلوچستان کا حق بنتا ہے، ساحلی علاقہ جو بلوچستان کا حق بنتا ہے تمہاری اس پر نظریں ہیں کہ کس طرح کوسٹل ایریا کو وفاق کی طرف کیا جائے، ہم ان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ صوبہ سندھ میں جزیرے ہیں جن کے منافع کے حق دار سندھ کے عوام ہیں تم ان پر قبضہ کر رہے ہو اور وفاق کے کنٹرول میں لے رہے ہو۔ تو ظاہر ہے جب ایک دفعہ آئینی طور پر یہ ساری چیزیں صوبوں کے عوام کے حق قرار دیے جا چکے ہیں آپ اس طریقے سے اس پر قبضہ کریں گے، یہ تو قومی امانت ہے، تم اتنی بڑی خیانت کے مرتکب اور ہمارے پیچھے لگ گئے ہو، پتہ نہیں کیا کیا چیزیں کر رہے ہو، گھر کا نقشہ پاس نہیں کیا، فضائی ڈرون حملے کرایا جا رہے ہیں گھر معلوم کیا جا رہا ہے۔ میں نے ایک دفعہ ایک سرکاری لوگوں کے مجلس تھی تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کی انضمام کا فیصلہ غلط تھا اور دیکھو ابھی تک وہاں پٹواری نہیں جا سکتا، وہاں پر قانون گو نہیں جا سکتا، وہاں تحصیل دار نہیں جا سکتا، یہ تو پانچ چھ پشت پہلے انگریز کے زمانے سے ان قوموں کے نام پر زمین تھی اب جب آپ نے اس کو بندوبستی بنا لیا ہے تو زمینوں کا بندوبست کیسے کرو گے؟ یہ تو اور فساد مچے گا، ایک افسر مجھے کہتا ہے کہ حضرت ہم سیٹلائٹس کے تصویریں لے رہے ہیں ان علاقوں کی اور وہاں سے ہم زمینوں کی تقسیم ان کے خاندانوں میں کر رہے ہیں، تو میں نے کہا زمین پر او گے یا نہیں یا سیٹلائٹس پر رہو گے، اور اس عقل پر ان کو فخر بھی ہے، اب آج کیا کہہ رہے ہیں پتہ ہیں، آج کہہ رہے ہیں کہ وہ فیصلہ غلط تھا، جب فیصلہ غلط تھا تو اب کیا کریں تو ایمرجنسی لگاؤ واپس وفاق کے کنٹرول میں لاؤ، یہ ابتدا ہے اور ہمیں کہا جا رہا ہے کہ حضرت وہ جو انضمام کا فیصلہ تھا وہ شائد غلط تھا، ہم دوبارہ اس کو واپس لینا چاہتے ہیں۔ تو ان کا خیال یہ تھا کہ فضل الرحمان جشن منائے گا کہ ہماری رائے صحیح نکلی یا نہیں، یہ بات تو اپنی جگہ کہ ہماری رائے صحیح تھی اس وقت یا جو بھی تھی، لیکن میں نے کہا کہ وہ دس سال پہلے کی جشن تم نے فاٹا کے عوام کو کچھ نہیں دیا، ہر سال تم نے سو ارب روپے دینے تھے، بتاؤ کتنے دیئے ہیں؟ کوئی ترقیاتی کام نہیں کیے، اسی طرح پسماندہ کا پسماندہ رہا، اس وقت مسئلہ تھا ان کی سیاسی مستقبل کا، ہمارا موقف ان کی سیاسی مستقبل کے حوالے سے تھا کہ تم نے آئین کی دو دفعے ختم کرنے تھے اور دو سو دفعے ان کے اوپر لاد دیے، تو ہم نے کہا ان کی سیاسی مستقبل کا فیصلہ ان کے مشاورت سے کرنا ہے، براہ راست مت کرو۔ آج ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ اب مسئلہ قبائل کے اندر وسائل کا ہے، معدنی ذخائر کا ہے، تو اس وقت کا عنوان موضوع اور تھا آج کا عنوان اور موضوع اور ہے، اٹھارویں ترمیم کے تحت وہ تمام وسائل صوبے کی ملکیت بن چکے ہیں، اب جب تمہارے ان پہ نظر پڑ گئی ہے اور وہ چیزیں نکل آئیں تو اب آپ ان کے وسائل پہ قبضہ کرنے کے لئے وہ فیصلہ تبدیل کر رہے ہیں، تو اس کے اثرات کیا تھے اس کو الگ دیکھنا ہے، اس کے اثرات کیا ہوں گے اس کو الگ دیکھنا ہے۔
لہذا ساری چیزوں کو الگ طور پر بیٹھ کر پارلیمنٹ سے تو مشورہ کرو، میں نے بار بار کہا ہے کہ اگر آپ کوئی چیز پبلک کے سامنے نہیں رکھ سکتے، پبلک کے نمائندوں کے سامنے تو رکھو, اور ان کیمرہ اجلاس کرو، وہ بھی نہیں کرتے۔ تو یہ چیزیں ہم نے قوم کے حقوق کا مسئلہ اجاگر کیا ہے، قوم کے ملکیتوں کا، قوم کے وسائل کا جو جس پر آپ کے بچوں کا اور صوبوں کے عوام کا حق ہے، ان کے بچوں کا حق ہے، اس کی بات ہم کر رہے ہیں، یہ کون سی جرم کی بات ہم کر رہے ہیں؟ میرے سوالات ہیں، میں پاکستان کا شہری ہوں، آپ میرے ساتھی ہیں، آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہو گیا اب اس سوال کو وحی تو نہیں آئے گی نا کہ ہمارے اس سوال کو ختم کرے گا، آپ بھی آپ کو نہیں ختم کرنی ہے، حکمران نے ختم کرنا ہے، تو حکمران کیوں نہیں ختم کر رہے، الٹا الزام تراشیاں لگاتے ہیں، لچر قسم کے لوگوں کو ہمارے پیچھے ڈالتے ہیں، کیا ہو گیا؟ کچھ بھی نہیں، نواز شریف کو آپ نے دس سال باہر رکھا، کرپشن کے الزام میں جیلوں میں رکھا، آج وہ حکمران ہے، زرداری صاحب کو آپ نے آٹھ سال جیلوں میں رکھا سب سے بڑا کرپٹ آدمی، میں نے نہیں کہا، تم نے کہا، ان کو تم نے جیل میں رکھا ہے، آج وہ صدر صاحب ہے۔ یہ ساری چیزیں قوم دیکھ رہی ہے، نئی نسل دیکھ رہی ہے، سب اس کو پڑھ رہے ہیں ان چیزوں کو، یہ چھپ نہیں سکتی، یہ حربے آپ کے کچھ بھی کام نہیں آئیں گے۔ آپ کے صدر صاحب کہہ رہے ہیں کہ جے ٹی آئی بہت پرعزم ہے اور ہر مقابلہ کے لیے تیار ہیں۔
اب کوئی ایک جگہ تو ہو نا جہاں اطمینان ہو، خیبر پختونخوا میں امن و آمان کا مسئلہ، اب یہ دوسرا مسئلہ کے کر ائے ان کے وسائل کا مسئلہ، بلوچستان میں امن و آمان کا مسئلہ، وہاں پر بین الاقوامی سرمایہ کاری کا مسئلہ، ان کے مختلف علاقوں کی آئینی حیثیت کا معاملہ، سندھ کے عوام کا مسئلہ، ان کے حقوق کا معاملہ، یہ ساری وہ چیزیں ہیں کہ جس پر اگر ہم بات کرنا چاہتے ہیں تو یہ ہمارا بیانیہ ہے، معقول بیانیہ ہے، سیاسی، آئینی قانونی بیانیہ ہے۔ اس پر یہ کوئی جرم کی بات نہیں ہے، ہم اپنے حد سے آگے نہیں جا رہے، نہ ہم آپ کو گالیاں دے رہے ہیں، نہ ہم آپ کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، لیکن ہم نے ضرور یہ بات آپ کو ایک دو دفعہ تھوڑی سی گدگدی کی ہم نے کہ جب آپ نے ہمیں چھیڑا، آپ نے ہماری تقریر کے ایک لفظ کو اٹھا کر ہمارے خلاف جو تحریک اٹھائی ہم نے بھی آپ کو ایک دو جواب دیے ہیں، اس کے بعد تمہاری بولتی ہم نے بند کردی، ہم اس ملک میں جھک کر چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہم اس ملک کے شہری ہیں اور باعزت شہری کی طرح زندہ رہنا چاہتے ہیں۔
ابھی سنا ہے کہ کامران مرتضیٰ کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ یہ افغانی ہیں، اب وہ بیچارہ کشمیری ہے اور یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ بھئی اگر کشمیر سے آئے ہیں یا پنجاب سے آئے ہیں اور وہاں کوئٹہ میں سیٹل ہوئے ہیں اس سے اور عجیب بات میں آپ کو بتاؤں گا آپ کو مزہ آ جائے گا، ہمارے حافظ حمدللہ صاحب ہے نا، حافظ حمدللہ صاحب ہے اس کا بیٹا فوج میں بھرتی ہوا، اس کے بیٹے کا فوج میں کمیشن ہو گیا، بیٹا فوج میں کمیشن لے رہا ہے اور باپ کو کہا جاتا ہے کہ تم افغانی ہو، تم پاکستانی نہیں ہو، اس کو کہتے ہیں اندھیر نگری، اب ہمارے کشمیری جو ہیں وہ اپنے حقوق کی بات کر رہے ہیں، عام حقوق کی بات کر رہے ہیں، وہ کوئی ایسا نہیں ہے کہ اسلحہ اٹھائے ہوئے ہیں، ان پر ظلم، بالآخر کیا ہوگا؟ یعنی وہاں پر تو باقاعدہ نظریاتی فرق ہے کچھ لوگ ہیں جو الحاق پاکستان کے قائل ہیں اور کشمیر بنے گا پاکستان کی بات کرتے ہیں، کچھ لوگ ہیں جو خود مختار کشمیر کی بات کرتے ہیں، آپ پورے کشمیری کو دھکیل رہے ہیں خود مختار کشمیر کی طرف، کشمیر کے اندر بھی اور پورے دنیا میں جو کشمیری ہے وہ الحاق پاکستان کی لڑا ہے، آپ کا وکیل رہا ہے، اور آپ اس کے ساتھ یہ رویے، یہ وہی رویہ ہے جو آپ نے بنگالیوں کے ساتھ رکھا اور بالآخر وہ آپ سے الگ ہو گئے، آپ کشمیریوں کو بھی اس طرف دھکیل رہے ہیں کہ وہ آخر میں پھر علیحدگی کی بات کریں گے، ایسے حالات پیدا کرتے ہو کہ وہ مجبور ہو جاتے ہیں اور پھر آپ قتل عام کریں ان کا اور کہیں کہ یہ قتل عام جائز ہے، اس لیے کہ وہ تو ایجنٹ ہیں۔ تمہارے رویوں سے رد عمل آتے ہیں۔ مجیب الرحمان پاکستان کی تحریک کا آدمی تھا، اس کا آپ نے کہاں پہنچایا، جی ایم سعید پاکستان کی تحریک کا آدمی تھا اس کو آپ نے کہاں پہنچایا، جی ایم سعید پاکستان کی تحریک کا آدمی تھا اس کو آپ نے کہاں پہنچایا۔
تو قوم کے ساتھ تھوڑا سا پیار اور ان کے حقوق کی بات کرنی چاہیے۔ ہم آپ کو ایک اچھی بات کہہ رہے ہیں، کوئی بری بات نہیں کہہ رہے ہیں، ہمارا کوئی کارکن نہیں لڑے گا آپ کے ساتھ، نہ ڈنڈا اٹھائے گا، نہ بندوق اٹھائے گا اور نائن الیون کے بعد سے لے کر آج چھبیس سال پچیس سال ہو رہے ہیں ہماری جماعت نے الحمدللہ تمام مذہبی مکتبہ فکر، مدارس، ہر مکتبہ فکر سے وابستہ ان کو آئین سے وابستہ کرنے میں کردار ادا کیا اور ہم آج بھی اس پر قائم ہیں۔ تمہاری شرارتیں، تمہاری اشتعال انگیزیاں وہ اب بھی ہمارے اندر اشتعال نہیں پیدا کرسکی، یہ تو آپ نے سنا ہوگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا؛ کہ بزدلی اور اسلام اکٹھے نہیں ہو سکتے، لیکن ہمارے بزرگوں میں ایک سیاستدان نے ایک اور لفظ بھی کہا کہ اشتعال اور اسلام اکٹھے نہیں ہو سکتے، تو مشتعل نہیں ہونا، ہاں جب گھر کے اندر آئیں گے تو پتہ چلے گا کہ تم میرے گھر میں آسکتے ہو یا نہیں آسکتے، ہم کبھی بھی ساتھیوں کو ہم نے جنگ کی ترغیب نہیں دینی، اپنی فوج سے لڑنے کی ترغیب نہیں دینی، اپنی پولیس سے لڑنے کی ترغیب نہیں دینی، ہم نے ملک کے اندر ایک پرامن معاشرے کی طرف لوگوں کو لے جانا ہے، اگر یہ ہمیں مشتعل بھی کرنا چاہیں گے تو ہم مشتعل نہیں ہوں گے، لیکن ایک حد ہوتی ہے اگر میرے گھر کے اندر تم جھانکو گے تو پھر اس آنکھ کو نیزے سے پھوڑ دیا جائے اور شریعت میں بھی اگر کوئی گھر کے اندر جھانکتا ہے اس کی آنکھ پھوڑنے کا کوئی قصاص نہیں ہے۔
تو آپ ہماری صفوں کو بھی نہیں توڑ سکیں گے ان شاءاللہ اور آپ نے ہمیں یہاں جگہ نہیں دی، جگہ مل گئی ہے، اللہ کی زمین بہت وسیع ہے، قرآن کہتا ہے کہ پھر اللہ کی زمین میں پھیل جاؤ کوئی تنگ تو نہیں ہے نا، ایک جگہ روکو گے تو دوسرے جگہ اللہ پیدا کرے گا۔ ان شاءاللہ 26 نومبر کو سرگودھا میں ملاقات ہوگی اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
‎ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
‎#teamJUIswat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پچھلی خبر اسلام آباد: اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ قائد جمعیۃ...