۲۵ صفر ۱۴۴۸ هـ
7 October 2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان

مولانا فضل الرحمن، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ کی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو

پوسٹ بذریعہ: teamJUIswat • ۷ اکتوبر ۲۰۲۶
مولانا فضل الرحمن، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ کی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو

اسلام آباد: امیر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان مولانا فضل الرحمن، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ کی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو

6 اکتوبر 2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ و صلی اللہ علیہ وسلم على نبی الكریم وعلى آلہ وصحبہ اجمعین۔
پارلیمنٹ کے اندر حزب اختلاف کی جماعتوں کی ایک مختصر سی مشاورت تھی، راجہ ناصر عباس صاحب لیڈر آف دی اپوزیشن ان سینیٹ اور جناب اسد قیصر صاحب، سلمان اکرم راجہ صاحب یہ تشریف لائے ہیں، میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں اور جو اس وقت ملک کے اندر سیاسی صورتحال ہے اور جس طرح ہماری سیاست عدم توازن کا شکار ہے اور ہر طرف سے رویوں میں کئی شدت ہے اور حکمرانوں کا جو رویہ ہے حزب اختلاف کے خلاف اور ان کی جمہوری حقوق کے خلاف یہ سب ہمارے مد نظر ہیں اور اس حوالے سے مختلف تجویزیں سامنے آئی ہیں، جہاں تک اپوزیشن کے رہنماؤں کی حکومت سے مذاکرات ہوئے ہیں اس کا تعلق ہے، تو ظاہر ہے جی کہ سیاسی لوگ، جمہوری لوگ وہ مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں اور ہم ہر چند کے مذاکرات کا حصہ نہیں تھے لیکن اصولی طور پر ہم مذاکرات کے عمل سے اختلاف بھی نہیں کرتے اور جہاں تک میں نے معلومات حاصل کی یا انہوں نے جو کچھ رہنمائی کی ہماری، تو اس حوالے سے جو حکومتی رویہ ہے انہوں نے تو آئندہ کے لیے کسی مذاکرات کی گنجائش نہیں چھوڑی۔
لیکن ہم بہرحال سیاسی لوگ ہیں اور اگر حالات اس طرح بنتے ہیں کہ کچھ سنی جائے، کچھ مانی جائے، کچھ آپ مان جائیں، کچھ ہم مان جائیں، تو اس جذبے سے جب ہم بیٹھیں گے اور بات چیت ہوگی تو یہ ایک پولٹیکل لب و لہجہ میں ہونے چاہیے اور اس کے اندر کسی پس پردہ قوت کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے، سیاسی لوگ اپنی گفتگو کو، اپنے الفاظ کو، اپنے لب و لہجے کو سمجھتے ہیں اور وہ کسی جگہ جا کر وہ ایک اتفاق رائے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ لیکن ملک کے اندر سیاسی حوالے سے جو میانہ روی کا ایک روش ہوتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس طرف جائیں، اس حوالے سے ایک تجویز جو میرے سامنے میرے اکابرین، میرے دوستوں نے رکھی ہے کہ کیوں نہ ایک آل پارٹیز کونفرنس اس حوالے سے ہو جائے، تو میں نے کہا اس پر آپ بھی اپنے پارٹیوں سے مشاورت کر لیں اور ہم بھی اپنی جماعت کے ساتھ مشاورت کر لیتے ہیں تاکہ ایک مشترکہ مائنڈ سیٹ کے تحت ہم پھر آل پارٹیز کر سکیں اور ایک مشترکہ ایجنڈا ہم پھر قوم کو دے سکیں، جس طرح ایک جائنٹ اپوزیشن کے قیام کے وقت ہم نے کچھ ترجیحات طے کی تھی کہ ملک کی امن و امان کا صورتحال ہے، ملک میں مہنگائی کا مسئلہ ہے، ملک کی معیشت کا مسئلہ ہے، خطے کی صورتحال کا مسئلہ ہے، کشمیر کے اندر لوگ کی بے چینی کا مسئلہ ہے اور جتنے سیاسی قیدی اس وقت جیلوں میں ہیں ان کی رہائی کا مسئلہ ہے۔ تو اس طرح چار پانچ نکات ہم نے جائنٹ اپوزیشن کی تشکیل کے وقت بھی متعین کیے تھے، مزید جب آل پارٹیز ہوگی تو پھر تمام پارٹیوں کے مشاورت کے ساتھ ایک ایسا مشترکہ لائحہ عمل اور ایک مشترکہ حکمت عملی اور اس پر ایک ایسا ایجنڈا مرتب کرنا کہ جس کے اندر ملکی سیاست میں ایک میانہ روی آ جائے، ہم سب پاکستانی ہیں، ملک کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں اور کوئی یہ نہ سمجھے کہ بس میں ہی پاکستان کا وفادار ہوں اور میرے علاوہ سب جو ہیں وہ غدار ہیں یا ان کے وفاداری مشکوک ہے، ہم سب برابر کے پاکستانی ہیں، ہم ایک ملک کے مفاد کو مدنظر رکھ رہے ہیں اور اسی کی تحت ہم نے آگے بڑھنا ہے اور اگر ہم اپنے اپنے پارٹیوں سے مشاورت کے بعد ایک مشترکہ ذہن کے ساتھ آل پارٹیز کانفرنس کریں گے تو ایک میانہ رو، اعتدال کی سیاست پاکستان کے اندر تشکیل دی جا سکے گی اور ملکی مسائل کو ہم پھر مذاکرات کے ذریعے طے کر سکیں گے۔
تو یہ ایک ذہن ہمارا اس وقت مختصر سا بنا ہے اور مزید اپنے پارٹیوں سے مزید مشاورت کی گنجائش رکھی ہے، اس کے بعد پھر ان شاءاللہ جو مزید اقدام ہو وہ کریں گے، ہاں جہاں تک ہے لانگ مارچ کا تعلق، احتجاج کا تعلق، دیکھیں! ہم نے بھی لانگ مارچ کیے ہیں اور یہ ایک جمہوری حق ہے اور آج اگر پی ٹی آئی اسلام آنا چاہتی ہے یا وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے تو اصولی طور پر اس میں ہمیں، میں سمجھتا ہوں کہ رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ پارٹیوں کو، سیاسی جماعتوں کو، عوام کو اپنے اظہار رائے کا پورا حق ہونا چاہیے اور ظاہر ہے جی کہ ہم نے بھی ایسے حالات میں یہاں پر مارچ کیے ہیں لیکن جو پارٹیاں ایک دفعہ کمیٹڈ ہوتی ہے اور طے کرتی ہیں کہ ہم پرامن رہیں گے تو پھر ان پر اعتماد کرنا چاہیے اور ان کے احتجاج کو ہمیں آئین کے حدود میں رہتے ہوئے راستہ نہیں رکنا چاہیے۔ بہت بہت شکریہ

سوال و جواب
صحافی: مولانا صاحب مجھے بتائیے گا کہ ظاہر ہے یہ حکومت اپوزیشن میں آپ ہمیشہ سے رہے ہیں، آپ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ جس حکومت میں جے یو آئی نہ ہو وہ حکومت نہیں چلتی اور جس اپوزیشن میں جے یو آئی نہ ہو وہ اپوزیشن نہیں چلتی۔
مولانا صاحب: نہیں! میں نے یہ نہیں کہا تھا، میں نے کہا تھا کہ جے یو آئی کے بغیر حکومت بنتی نہیں ہے اگر بن جائے تو پھر چلتی نہیں۔

صحافی: دوسرا سر یہ ہے کہ آپ کی غیر موجودگی میں جو مذاکرات ہوئے ہیں آپ نے ایک فریق بات سنی ہے، اور ظاہر ہے دوسرا بھی وہ فریق تھا، کیا آپ سمجھتے ہیں آپ مطمئن ہیں کہ جو مذاکرات سبوتاژ ہوئے ہیں وہ حکومت اس کی ذمہ دار ہے اور کیوں؟
مولانا صاحب: میرے خلاف میں اس سوال کا جواب دینے میں مجھے وقت چاہیے، فوری طور پر میں اس کا جواب شائد نہ دے سکوں، لیکن اس کا جواب تلاش کرنا ہے۔

صحافی: مولانا صاحب! آپ نے آج بھی ڈی ائی خان کے اندر جو واقعہ ہوا ہے دہشت گردی کا، آپ کے سیاسی اختلافات اپنی جگہ، کیا آپ نہیں سمجھتے کہ پی ٹی آئی کو دہشت گردی کے حوالے سے، آپ نکات تو دیں، اگر آپریشن ہونے جاتا ہے یا پہلے بھی ہوئے، اس دہشت گردی کو روکنا تو ہے کسی طرح، تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کے اختلافات اپنی جگہ، آپریشن نہیں ہونا چاہیے؟ کیا وہاں جو جوان شہید ہو رہے ہیں، چاہے عوام ہیں، سیکیورٹی فورسز ہیں، تو سیاسی جماعتوں کو متحد نہیں ہونا چاہیے دہشتگردی کے خلاف؟
دوسرا صحافی: مولانا صاحب میرا بھی اس میں سوال شامل کر لیں کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی، عمائدین، مشران، تمام قبائلی عمائدین نے متفقہ طور پر ایک علامیہ جاری کیا کہ خیبر پختونخواہ میں قیام امن کے لیے کیسے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں؟ یہ کیوں اس اعلامیہ سے پیچھے ہٹ رہی ہیں ہماری ریاستی قوتیں؟
مولانا صاحب: ہاں دیکھیے! جہاں تک ہے آپریشنز کا تعلق لفظ آپریشن کو آپ چھوڑیے، بنیادی چیز یہ ہے کہ عام آدمی کو امن چاہیے، زندگی کا تحفظ چاہیے اور جان مال کا تحفظ چاہیے ان کو، دو ہزار دس سے ہم یہ آپریشنز دیکھ رہے ہیں خیبر پختونخواہ میں، سوات سے لے کر وزیرستان تک لوگوں سے علاقے خالی کرائے گئے ہیں، آج بھی ان علاقوں کے عوام اپنے ملک کے اندر ہجرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ تو اگر آج کسی آپریشن کی بات ہوتی ہے اور یہ اپنی جگہ پر کہ بد امنی ہے اور اس بد امنی کو قابو کرنا اس کو ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن ریاست سے یہ پوچھنا چاہتی ہے قوم کہ آپ دو ہزار دس سے جس آپریشن آپریشن آپریشن کی بات کر رہے ہیں اور مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کا، تو اس کے آپ مظہر بنتے جارے جا رہے ہیں، لہٰذا اگر آپریشن کی مخالفت کی جاتی ہے تو ماضی کے اس طویل دورانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے کہ آخر کیا فائدہ ہے ان آپریشنوں کا، صرف یہی کہ ہماری فوج کے جوان شہید ہوتے رہے اور ہم ملک میں لڑائیاں لڑتے رہے ان لڑائیوں کو کیا نتیجہ نکلا اور جب بھی کوئی ان سے بات کرتا ہے ہمیں تین مہینے دیجیے، اور تین کے بجائے تین سال گزر جاتے ہیں صورتحال اور خراب ہوتی چلی جاتی ہے، حکومتی رٹ ختم ہو جاتی ہے اور اب اس وقت تو یہ صورتحال ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں یہ پتہ نہیں کہ حکومت کس کی ہے؟ یعنی وہاں پر صوبائی حکومت کو بھی مفلوج کر دیا گیا ہے. ڈپٹری کمشنر جو ہے وہ حکومت کی اجازت کے بغیر دفعہ ایک سو چوالیس لگا رہے ہیں، ان کی اجازت کے بغیر کنٹینر لگا رہے ہیں اور راستے بند کر رہے ہیں۔
تو یہ پتہ نہیں چلا کہ وہاں پر حکومت ہے کس کی ہے جی، تو اس طریقے سے حکومتوں کو اور حکومت چلانے والی پارٹیوں کو مجبور ہو کر روڈوں پہ آنا، لانگ مارچ کے طرف جانا، کیا ضرورت پڑ گئی ان چیزوں کی اور ظاہر ہے کہ کچھ برے لوگ جو ہیں اس کا پورا فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔ تو ان ساری چیزوں کو احتیاط کے ساتھ ہمیں دیکھنا ہے۔

صحافی: مولانا صاحب! آپریشن نہیں ہوگا، ان کے ٹھکانوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا تو پھر حل کیا ہے؟ وہاں دہشت گردی کیسے ختم ہوگی؟ حالات کیسے بہتر ہوں گے؟
مولانا صاحب: اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک قومی سطح کی مشاورت کریں اور سب لوگ اپنے اپنی علاقوں کے حالات کو جانتے ہیں۔میں اپنے علاقے کے حالات کو جانتا ہوں، کے پی کے حالات کو جانتا ہوں، بلوچستان کے حالات کو جانتا ہوں، وہاں کیا صورتحال بنی، کیوں بنی، کیوں آگے بڑھی، اور اب کیوں قابل حل نظر نہیں آ رہی، ہم بیس پچیس سال سے دیکھ رہے ہیں۔ خدا کا خوف کرو کہ مزید ہمیں کس کس امتحان سے گزارا جا رہا ہے اور کب تک ہم دہشت گردی کا نام لے لے کر اور ان کی خلاف آپریشن کا نام لے لے کر قوم کو بلیک میل کرتے رہیں گے اور کیا اس سے ہم مقاصد حاصل کر رہے ہیں؟ کبھی ہمارا نشانہ آٹھارویں ترمیم ہوتا ہے، کبھی ہمارا نشانہ صوبائی خود مختاری ہوتا ہے، کبھی ہمارا نشانہ صوبوں کے جو معدنی ذخائر ہیں وہ ہوتا ہے، کبھی ہمارا نشانہ این ایف سی ایوارڈ ہوتا ہے اور ان چیزوں کو جب ہم ہضم نہیں کر سکتے تو پھر دہشت گردی ہے اور اس کے خلاف لڑنا ہے۔

صحافی: مولانا صاحب! یہ بتائیں کہ امن و امان کی جو خراب صورتحال ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ سیکیورٹی فورسز خاص کر فوج امن و امان کی صورت حال کی بہتری میں ناکام ہے اور ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ خیبر پخترخواہ نے جس طرح کا مؤقف دیا ہے اپریشن کے حوالے سے، تو آپ کا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کو پیغام کیا ہے؟
مولانا صاحب: میں آپ کی طرح جذباتی نہیں ہوں، میں صورت حال کو اعتدال پر لانے کے لیے راستہ بنا رہا ہوں اور میں ان بزرگوں کے ساتھ بیٹھ کر ان شاءاللہ اس کی اچھی صورت حال بنانے کی طرف ہم جائیں گے، میں آپ کے جذباتی سوالات کا جواب بڑے آرام اور اچھے انداز کے ساتھ دوں گا۔

صحافی: مولانا صاحب! مذاکرات تو ابھی ناکام ہوگئے ہیں، آپ کے ساتھ جو قیادت بیٹھی ہے ان کی اور حکومت سے مذاکرات، آپ کو امید کیا ہے؟ کیا مذاکرات اے پی سی سے پہلے شروع ہونے چاہیے، آپ تجویز کیا دیتے ہیں؟
مولانا صاحب: میں دس پندرہ روز کے بعد پہلی مرتبہ آج آیا ہوں پاکستان، یہ پہلی ہماری میٹنگ ہے تو یہ بلکل ایک اینیشل صورت حال ہے اور اس صورت حال کے بعد ہمیں آگے جانا ہے، تو ذرا تھوڑا سا مجھے مہلت بھی دی جائے کہ میں ذرا آگے کی پوزیشن دیکھ لوں کہ میں نے اگلا قدم جو ہے وہ کیسے زمین پر رکھنا ہے۔

صحافی: مولانا صاحب! صورت حال بد سے بدترین ہوتی جا رہی ہے ایسے حالات میں آپ ایک منجھے ہوئے زیرک سیاست دان ہے، آپ کو رول کے حوالے سے تو کہا گیا ہوگا ضرور، لیکن اگر آپ کو کہا جاتا تو پھر آپ اس حوالے سے مذاکرات میں اگر ڈائلاک دوبارہ کیا جاتا ہے، ہونا بھی چاہیے کیا آپ کردار ادا کریں گے؟
مولانا صاحب: اس سوال کا جواب تھوڑا سا مجھے مہلت دیجیے گا۔

صحافی: علامہ صاحب! یہ بتائے گا کہ حکومت اگر دوبارہ آفر کر دیتی ہے مذاکرات کی، کیا آپ کی مذاکراتی ٹیم وہی ہوگی یا پھر اس میں تبدیلی کریں گے یا آپ مزید ایڈ کریں گے؟
مولانا صاحب: اچھا بندوں کو آگے پیچھے کرنا بھی ہم آپ سے مشورہ کریں گے۔ بہت بہت شکریہ

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
‎ممبر زٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
‎#teamJUIswat

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پچھلی خبر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا مرکزی مجلس عمومی...